سوال

کام کاج کی چھٹی کرنی چاہیئے یا نہیں؟ اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کی پہلی اذان کے بعد کام کاج کی چھٹی کرنا واجب ہے۔اس کے علاوہ اوقات میں انسان کو اپنی حاجات ، ضروریات اور طبیعت کے موافق چھٹی کرنا جائز ہے۔

لما فی القرآن الکریم والفرقان الحمید:(الجمعة:9)
یا ایھاالذین آمنو اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعو االی ذکر اللہ وذرو االبیع
وفی الصحیح المسلم:(1/339،رحمانیہ)
ان عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وابا ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدثاہ انھما سمعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول علی اعواد منبر ہ لینتھین اقوام عن ودعھم الجمعات او لیختمن اللہ علی قلوبھم ثم لیکونن من الغافلین
وکذافی الفتح الباری شرح صحیح البخاری:(1/214،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/435،داراحیاء تراث)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1279،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/317،الطارق)
وکذافی رد المحتار:(3/5،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/149،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:39

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔