سوال

آج کل دھان کا موسم ہے اور کچھ لوگ دھان مکس کر کے بیچتے ہیں۔مثلاایک آدمی دھان کی ایک قسم “سپری “خریدتا ہے جسکی قیمت تقریبا۔/ 1450 روپے ہے اور دوسری طرف دھان کی دوسری قسم “1509”خرید لیتاہے،جس کی قیمت تقریبا ۔/2800روپے ہے۔اب وہ شخص دھان کی دونوں قسموں کوملا کررکھ لیتا ہے جس سے بالکل پتہ نہیں چلتا کہ دھان مکس ہے یا نہیں ۔ پھر وہ غلہ منڈی میں لاکر ڈھیری کردیتا ہے اور بولی ہوتی ہے اور بولی میں چونکہ بڑے بڑے خریدار ہوتے ہیں ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دھان میں خریدوں اور وہ دھان پھر۔/2800 روپے کے حساب سے سیل ہوجاتا ہے۔ جبکہ خریدار دھان کی سمجھ بوجھ ربھی کھتا ہے اور بعض اوقات پتہ نہیں چلتا اور نقصان خریداروں کا بھی نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کا بالکل پتہ نہیں چلتا۔اس طرح دھان جب فیکٹریوں میں جاتا ہے وہ بھی دھان کا چاول بنا کر ایک دو قسم ملا کر بیچتے ہیں تاکہ زیادہ نفع ہو۔اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ طریقہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔لیکن اگر خریدار کو ملاوٹ کا صاف صاف بتادیا جائےاور کسی طرح بھی جھوٹ،دھوکہ دہی اور غلط بیانی نہ کی جائے تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّبرجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع ،فاخبرہ فاوحی ٰ الیہ ان ادخل یدک فادخل یدہ فیہ ،فاذا ھو مبلول، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل لیس منّا من غش
وفی الصحیح لمسلم:(3/13،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر
وکذافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیہ) وکذافی سنن ابن ماجہ:(287،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(2/665،رحمانیہ) وکذافی رد المحتار:(4/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة:(4/317،رار الکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/96،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی معجم الاوسط للطبرانی:(3/239،مکتبة المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/5/1440/2021/212/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:58

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔