الجواب حامداً ومصلیاً
یہ طریقہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔لیکن اگر خریدار کو ملاوٹ کا صاف صاف بتادیا جائےاور کسی طرح بھی جھوٹ،دھوکہ دہی اور غلط بیانی نہ کی جائے تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔
لما فی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّبرجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع ،فاخبرہ فاوحی ٰ الیہ ان ادخل یدک فادخل یدہ فیہ ،فاذا ھو مبلول، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل لیس منّا من غش
وفی الصحیح لمسلم:(3/13،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر
وکذافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیہ) وکذافی سنن ابن ماجہ:(287،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(2/665،رحمانیہ) وکذافی رد المحتار:(4/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة:(4/317،رار الکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/96،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی معجم الاوسط للطبرانی:(3/239،مکتبة المعارف)
واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/5/1440/2021/212/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:58