سوال

گزارش ہےکہ میری شادی ہمراہ محمداخترمورخہ2009-11-7کوسرانجام پائی تھی،تقریباًگیارہ سال بعدمحمداخترنےمجھےنوٹس طلاق اول مورخہ2020-1-13،نوٹس طلاق دوم مورخہ2020-2-20اورنوٹس طلاق سوم بھی دےدیا جوکہ مجھے،اپریل2021،کوموصول ہواجس کااندراج مصالحتی عدالت /ثالثی کونسل یونین کونسل نمبر8غلہ منڈی ساہیوال میں مورخہ 2021-5-28کوکروادیاگیا،مورخہ 2021-6-12کومیں نےاپنابیان روبروانچارج مصالحتی کونسل کو قلمبند کروادیا، لیکن محمداختر(فریق اول)کونسل مذکورہ کی جانب سےنوٹسزمورخہ 2021-6-12،2021-7-29،اور2021-8-26جاری ہونے کےباوجود دانستہ طورپرحاضرنہ آیا،لہذاانچارج مصالحتی کونسل نےیہ قرار دےدیاکہ عرصہ عدت پوراہوچکاہےاوربوجہ عدم پیروی فریق اول، مثل مورخہ 2021-8-28،کوداخل دفترکردی،جبکہ طلاق کےمؤثرہونےکاسرٹیفکیٹ جاری نہ کیا،جوکہ محض دفتری مجبوری کی وجہ سےشایدایساکیاگیاہے۔جس کی وجہ سےاب جناب والاسےگزارش ہےکہ اسلامی شریعت کی روسےاس بابت فتویٰ جاری فرمایاجائے،عین نوازش ہوگی۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

سوال کےساتھ جونوٹس لگائےگئےہیں ان میں مذکورہےکہ شوہرنےمورخہ2014-3-19کوطلاق دےکررجوع کرلیا تھا، لہذاشوہرکودوطلاق کااختیارباقی رہ گیاتھا،جب اس نےنوٹس بھیج کرمزیددوطلاق دےدیں توتین طلاق واقع ہوگئیں اورحرمت غلیظہ ثابت ہوگئی،اب حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔

(1)

لمافی القرآن الکریم
الطلاق مرّتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔۔۔۔۔فإن طلّقھافلاتحلّ لہ من بعد حتّٰی تنکح زوجاغیرہ فإن طلّقھا فلاجناح علیھماأن یتراجعا،الآیۃ

ترجمہ:”طلاق (زیادہ سےزیادہ )دوبارہونی چاہیےاس کےبعد(شوہرکےلیےدوہی راستےہیں)یاتوقاعدہ کےمطابق (بیوی) کو روکے رکھے(یعنی طلاق سےرجوع کرلے)یاخوش اسلوبی سےچھوڑدے…..پھراگرشوہر(تیسری)طلاق دیدےتووہ(مطلقہ عورت)اس کے لیےاس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اورشوہرسےنکاح نہ کرےہاں! اگروہ (دوسراشوہ بھی)طلاق دےدےتوان دونوں پرکوئی گناہ نہیں کہ وہ ایک دوسرےکےپاس (نیانکاح کرکے)دوبارہ واپس آجائیں۔
البقرۃ):229،230،آسان ترجمہ:ص113)

(2)

وفی الصحیح للبخاری:(2/300،رحمانیہ)
عائشۃرضی اللہ عنھا،أن رجلاً طلق امرأتہ ثلاثافتزوجت فطلق ،فسئل النبیﷺ اتحل للاول قال لا حتیٰ تذوق عسیلتھا کماذاق الاول

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہےکہ ایک صاحب نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دے دی تھیں، ان کی بیوی نےدوسری شادی کرلی پھردوسرے شوہرنےبھی (ہمبستری سےپہلے)انہیں طلاق دےدی تورسول اللہﷺ سےپوچھاگیا،کہ پہلاشوہرانکےلیےحلال ہے(کہ اس سےدوسری شادی کرلے)آنحضورﷺنےفرمایا:نہیں! یہاں تک کہ وہ(دوسرا شوہر)اس کےشہدکامزہ چکھے جیساکہ پہلےنےمزہ چکھاہے”۔

(3)

وفی سنن ابی داؤد:( 2/140،دار الکتب)
عن سہل بن سعدرضی اللہ عنہ، فی ہذا الخبر، قال: فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ:حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نےحضورﷺ کے سامنےتین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کونافذکردیا۔

(4)

“سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اذھبی فانت طالق ثلاثا” (جا تجھےتین طلاق ) عدت گزارنے کے بعدآپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا

لولا أنی سمعت جدی أو حدثنی أبی أنہ سمع جدی یقول: أیما رجل طلق امرأتہ ثلاثا مبہمۃأو ثلاثا عند الاقراء لم تحل لہ حتى تنكح زوجا غیرہ لراجعتھا
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔

(5)

وفی سنن دار قطنی
أن حفص بن المغیرۃ طلق امرأتہ فاطمۃ بنت قیس على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی كلمۃ واحدۃ ۔” فأبانہا منہ النبی صلى اللہ علیہ وسلم
(سنن الدارقطنی: 4/10، دار الکتب)

ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نےحضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔

(6)

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ موجود ہے

جاء رجل إلى علی رضی اللہ عنہ فقال: إنی طلقت امرأتی ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرہابین نسائك
(السنن الکبری للبیہقی: 7/548، دار الکتب، ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)

ترجمہ:ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کےپاس آکرکہنےلگا میں نےاپنی بیوی کوہزارطلاقیں دی ہیں۔آپ نےفرمایا تین طلاق سےتیری بیوی تجھ پرحرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔

(8)

وفی الشامیة:(4/442،رشیدیہ)
وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نویٰ اولم ینو،ثم المرسومۃلا تخلوأماان ارسل الطلاق بأن کتب:امابعدفأنت طالق، فکما کتب ھذایقع الطلاق تلزمھاالعدۃ من وقت الکتابۃ،وان علق طلاقھابمجیئ الکتاب بان کتب:اذجاءک کتابی فانت طالق فجاءھا الکتاب فقرأتہ اولم تقرأیقع الطلاق
(9)
وفی الفقہ الاسلامی :9ـ/6902،رشیدیہ)
کتابہ مرسومۃ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کأن یکتب الرجل الی زوجتہ قائلا الی زوجتی فلانۃ،امابعد فانت طالق ،وحکمھاحکم الصریح اذاکان اللفظ صریحا،فیقع الطلاق ولومن غیرنیۃ۔”
(10)
وفیہ ایضاً:(9/6903،رشیدیہ)
ویلزم الطلاق بمجردارسالہ مع رسول ولولم یصل،فمتی قال للرسول:اخبرہابأنی طلقتھا،لزمہ الطلاق
(11)
(وفی البدائع:3/295،رشیدیہ)
اماالطلقات الثلاث،فحکمھا الاصلی ھوزوال الملک وزوال حل المحلیۃایضاًحتیٰ لایجوز نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر
(12)
وفی المبسوط:(6/8،دارالمعرفت)
“ولاتحل لہ المرأۃ بعدماوقع علیہا ثلاث تطلیقات حتیٰ تنکح زوجاًغیرہ۔”

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443/2021/12/16
جلد نمبر :25 فتوی نمبر:166

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔