الجواب حامداومصلیا
پہلے مرحلے میں پیارومحبت سے خوب سمجھا یا جائے اور بہترین انداز سے تر غیب دی جائے ۔دوسرے مرحلے میں ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور تیسرے مرحلے میں بستر الگ کر دیا جائے ،اگر کوئی صورت بھی مفید نہ ہو تو آخری مرحلے میں بالکل مجبور ہو کر معمولی سا مارابھی جاسکتاہے ،جس سے جسم پر نشانات نہ پڑیں۔
لما فی البحرالرائق :(5/82،رشیدیة)
وظہر ان الزوج لایجب علیہ ضرب زوجتہ اصلا و ظہر بہ ایضا ان لہ ضربہافی اربعۃ مواضع لکن وقع الاختلاف علی جواز ضربہا علی ترک الصلاۃ فذکر ھناک تبعا لکثیر انہ یجوز وفی النہایۃ تبعا لمافی کافی الحاکم انہ لایجوز لہ لان المنفعۃ لاتعود الیہ بل الیہا ولیس فی کلام المصنف مایقتضی انہ لیس لہ ضربہا فی غیر ھذہ اربعۃ اشیاء ولہذا قال الولوالجیی فی فتاواہ للزوج ان یضر ب زوجتہ علی اربعۃ اشیاء وما فی معناہ ففی قولہ وما فی معناہ افادۃ عدم الحصر مھما فی معناہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(7/5607 ،رشیدیة)
والزوج لہ تعزیر زوجتہ فی امر النشوز واداء حق اللہ کاقامۃ الصلاۃ وصیام رمضان بما یراہ مناسبا فی اصلاح زوجتہ من زجر لان کل ہذہ من باب انکارالمنکر والزوج من جملۃ المکلفین بالامر بالمعروف والنہی عن المنکر
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/298،الحرمین )
وکذا فی التنویر مع الدروالرد:(4/78،ایم ،سعید )
وکذا فی شرح ملتقی الابحر :(2/375،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(7/337،رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:143