سوال

ایک آدمی نوکری کی کوشش کر رہا ہے،جہاں بھی جائے رشوت مانگتے ہیں،رشوت دے کر نوکری لینا کیسا ہے؟اگر رشوت نہ دے تو نوکری ملتی نہیں۔اگر رشوت دے کر نوکری لے لی تو اس کی تنخواہ جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

عام حالات میں رشوت دے کر نوکری لینا نا جائز اور حرام ہے،البتہ نوکری ایسی ہو کہ جس کا یہ شخص سب سے زیادہ اہل ہو،وہ نوکری اس شخص کے علاوہ کو ملنے کی صورت میں عامّۃ الناس کے حقوق ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کے حصول میں کچھ دینے کی گنجائش ہے۔
بہر صورت،اگر وہ شخص نوکری کا اہل ہو اور اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہو تو تنخواہ لینا جائز ہو گا۔

لما فی السنن الکبری:(1/235،دار الکتب العلمیة)
واخبرنا ابن الفضل انبأ عبد اللہ ابن جعفر ثنا یعقوب ابن سفیان ثنا زید ثنا عبد الملک ابن عبد الرحمن عن محمد ابن سعید عن ابیہ وہب ابن منبہ قال :لیست الرشوۃ التی یأثم فیہا صاحبہا بأن یرشو فیدفع عن مالہ ودمہ إنما الرشوۃ التی تأثم فیہا أن ترشو لتعطی ما لیس لک
وفی البحر الرائق:(6/441،رشیدیة)
وذکر الأقطع أن الفرق بین الہدیة والرشوۃ :أن الرشوۃ ما یعطیہ بشرط أن یعینہ۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) ومنہا :ای من الرشوۃ إذا دفع الرشوۃ خوفاً علی نفسہ او مالہ فہو حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع وکذا اذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/311،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(11/79،فاروقیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/439،رشیدیة)
وکذا فی النہر الفائق:(3/ 598،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرہانی:(12/192،دار احیاء التراث)
وکذا فی البحر الرائق:(7/506،رشیدیة)
وکذا فی رمز الحقائق:(2/116،ادارة القرآن)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/175،امدادیة)
وکذا فی البنایة:(8/7،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(8/42،رشیدیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(275،حقانیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/05/1443/2021/12/06
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:24

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔