سوال

لوگ صدقہ وخیرات کرتے ہیں مثلاً کچھ پکا کر ہمسایوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں تقسیم کر دیتے ہیں حالانکہ بہت سارے ہمسائے اور رشتہ دار صدقہ وخیرات کے مستحق نہیں ہوتے،کیا اس طرح سے صدقہ وخیرات کرنا درست ہے؟اگر نہیں تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

نفل صدقہ وخیرات ہمسائیوں اور رشتہ داروں کو دینا درست ہے،اس کے لیے ان کا مستحق ہونا ضروری نہیں۔البتہ ان میں سے ضرورتمندوں کو ترجیح دینا چاہیئے۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(26/331،علوم اسلامیة)
لا اختلاف بین الفقہاء فی جوز التصدق علی الأقرباء والأزواج صدقۃ التطوع بل صرح بعضہم: بأنہ یسن التصدق علیہم ولہم أخذہا ولو کانوا ممن تجب نفقتہ علی المتصدق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقالﷺ:الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وعلی ذی الرحم ثنتان:صدقۃ وصلۃ
وفیہ ایضاً:(26/332،علوم اسلامیة)
الأصل أن الصدقہ تعطی للفقراء والمحتاجین وہذا ہو الأفضل کما صرح بہ الفقہاء وذالک لقولہ تعالی:أو مسکینا ذا متربۃ.الآیۃ واتفقوا علی أنہا تحل للغنی لأن صدقۃ التطوع کالہبۃ فتصح للغنی والفقیر
وکذا فی فتح القدیر:(9/57،رشیدیة)
۔۔۔۔والتصدق علی الغنی لا ینافی القربة
وکذا فی الشامیة:(2/360،رشیدیة)
وکذا فی الکفایة:(9/17،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(4/406،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(12/92،دار المعرفة)
وکذا فی التاتارخانیة:(14/498،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/212،ادارة القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:176

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔