سوال

ایک عورت نے چند وجوہ کی بنیاد پر عدالت سے خلع کی:(1)خرچہ نہ ملنے پر(2)سسر کے مارنے پر(3)شرعی پردہ کو نا پسند سمجھنے کی وجہ سے۔ساتھ ساتھ لڑکی کے اولیاء کی طرف سےصلح کی کوشش چار ماہ تک جاری رہی مگر صلح کی کوئی صورت پیدا نا ہو سکی تو مجبوراً عدالت کی طرف رجوع کر لیا،مقدمہ چلتا رہا،بالاخر فیصلہ کے وقت شوہر کو بھی بلا لیا گیا اور اس سے پوچھا گیاکہ تم اسے بسانا چاہتے ہو؟اس نے کہا میں بسانا چاہتا ہوں،لڑکی نے کہا میں اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی،اس پر عدالت نے نکاح فسخ کر دیا۔ اس لڑکی کے اولیاء نے اس کے شوہر سے مطالبہ کیاکہ اب وہ از خود بھی اسے طلاق دے دے!شوہر نے کہا میں اسے اس وقت تک طلاق نہیں دوں گا جب تک اس کے سر کے بال اس کے دانتوں کی طرح سفید نہ ہو جائیں اور نہ اسے بساؤں گا۔ کیا عدالت کے اس فیصلے سے نکاح ختم ہوا یا نہیں؟نیز اس معاملہ کو چار سال ہو چکے ہیں شوہر کا اب تک اس سے کوئی تعلق نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں،شوہر بیوی کو بسانے پرعدالت میں اپنی رضامندی ظاہر کر چکا ہے تو عدالت کے حکم سے نکاح ختم نہیں ہوا،شوہر کی موجودہ ضد تو اس بیان کی وجہ سے ہے جو بیوی نے جج کے سامنے دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی۔
بہر حال! یہ خاتون فی الحال آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش کی جائے ورنہ شوہر کو مجبور کر کےیاکچھ دے دلا کر طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر ایسا نہ ہو سکے تو دوبارہ عدالت کی طرف رجوع کیا جائے،اب عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ نافذ ہو گا۔

لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔ولانْ النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءة وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً بالتراضی بالخلع کالبیع
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(2/182،المنار )
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،قدیمی)
وکذا فی رد المحتار:( 5/90،رشیدیة)
وکذا فی النھرالفائق:(2/510،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/182،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/239،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/550،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:135

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔