سوال

محاسن اسلام میں پڑھا،ایک روایت ہےکہ’’آپﷺکی آنکھیں مبارک بندہوتی تھیں،لیکن آپ کادل بیدارہوتاتھا‘‘اس کاکیامطلب ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ روایت مختلف کتابوں میں موجودہے،اس حدیث کامطلب یہ ہےکہ جناب نبی کریمﷺ اوراُمّتی کی نیندمیں فرق ہوتاہے:وہ یہ کہ نیندکی وجہ سےاُمتی کی آنکھیں اوردل دونوں مکمل طورپردنیوی معاملات سےغافل ہوجاتےہیں اورانسان کابدن پرجوکنٹرول اوراختیارہوتاہےوہ ختم ہوجاتاہے۔اورآپﷺکی آنکھیں اگرچہ سوجاتی تھیں،لیکن دل بیداررہتاتھااوربدن پرمکمل کنٹرول اوراختیارحاصل رہتاتھا۔اسی لیےاُمتی کی نیندتووضوتوڑدیتی ہےلیکن آپﷺکی نیندوضونہیں توڑتی۔نیزچونکہ انبیاءعلیہم السلام کےخواب وحی ہوتےہیں۔اس لیےآپﷺکاقلب مبارک بیداررہتاتھاتاکہ آپﷺ اس وحی کومحفوظ رکھ سکیں اورہرحال میں معارفِ الہیہ میں ترقی فرماتےرہیں۔

لما فی صحیح البخاری:(1/361،رحمانیہ)
عن ابی سلمۃبن عبدالرحمٰن انہ سأل عائشۃ کیف کانت صلٰوۃرسول اللہﷺفی رمضان فقالت:ماکان یزیدفی رمضان ولافی غیرہ علٰی احدٰی عشرۃرکعۃیصلی اربعًافلاتسأل عن حسنہنّ وطولھنّ ثم یصلی اربعًا فلاتسأل عن حسنہنّ وطولھنّ ثم یصلی ثلٰثافقلتُ یارسول للہ اتنام قبل ان تُوتِرقال:یاعائشۃانّ عینیّ تنامان ولاینام قلبی
وفی فیض الباری مع حاشیةالبدرالساری:(2/569،رشیدیہ)
قولہ:(وانّ عینیّ تنامان)الخ.وعندی ہذہ حکایۃعن حالتہ فی الیقضۃ
وفی حاشیتہ)قال ابن العربی فی’’العارضۃ‘‘(وھذا)بیان لخروجہﷺمن جملۃالآدمیین فی انّ نومہ ویقضتہ سواءفی حفظ حالہ،وصیانۃعبادتہ.وذلک ﺃن النوم آفۃیسلھااللہ علی العبدیخلع فیہاالسلطنۃالتی للنفس علی البدن،فیستریح من خدمتھافی ﺃغراضھاویقطع تلک العلاقۃالتی بینھما،فیبقی البدن مستریحا،حتی اذاشاءاللہ ربط العلاقۃبالیقضۃ، وردالاستشعارکماکان.فأخبرالنبیﷺﺃن النوم ﺇنمایحل عینہ لاقلبہ،فانّﺃحوالہ محفوظۃعندہ،لاخصیصۃخُصّ بھا
وفی عون المعبودشرح سنن أبی داوٗد:(1/175،قدیمی)
“وقال:کان النبیﷺمحفوظا،وقالت عائشۃ:قال النبیﷺ((تنام عینای ولاینام قلبی))
قال)ﺃی ابن عباس…(محفوظا)ﺃی عن النوم القلب(ولاینام قلبی)لیعیی الوحی الذی یأتیہ،ولذاکانت رؤیاہ وحیاً ولاینقض طھارتہ بالنوم،وکذاالأنبیاءلقولہﷺ:((ﺇنامعشرالأنبیاءتنام أعینناولاتنام قلوبنا
وکذافی صحیح ابن خزیمة:(1/169،شان اسلام)
وکذافی معالم السنن:(1/102،المعارف)
وکذافی السنن الکبری:(1/196،العلمیہ)
وکذافی بذل المجہود:(2/101،قدیمی)
وکذافی التعلیق الصبیح:(6/239،رشیدیہ)
وکذافی المصنف لعبدالرزاق:(3/38،اسلامی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1443/2202/2/5
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:143

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔