سوال

اگرکسی شخص نےمزاح کےوقت،بطورمزاح اپنی بیوی کوکہ دیاکہ تجھےطلاق ہے،توکیااس کےان الفاظ کی وجہ سےطلاق واقع ہوجائےگی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!ایک طلاق رجعی واقع ہوجائےگی۔

لما فی الموسوعةالفقہیة:(29/16،اسلامیہ)
وقداتفق الفقہاءعلی صحۃطلاق الہازل،وھو:من قصداللفظ،ولم یردبہ مایدل علیہ حقیقۃاومجازا،وذلک لحدیث النبیﷺ:((ثلاث جدھن جد،وھزلھن جد؛النکاح والطلاق والرجعۃ))ولأن الطلاق ذوخطرکبیرباعتباران محلہ المرأۃ،وھی انسان،والإنسان اکرم مخلوقات اللہ تعالی،فلاینبغی أن یجری فی أمرہ الھزل،ولأن الھازل قاصدللفظ الذی ربط الشارع بہ وقوع الطلاق،فیقع الطلاق بوجودہ مطلقا
وفی الشامیة:(3/238،سعید)
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبداأومکرھا)…(أوھازلا)لایقصدحقیقۃکلامہ.
قولہ :أوھازلا)ای فیقع قضاءودیانۃ
وفی المحیط البرھانی:(4/392،ادارةالقرآن)
وطلاق الھازل واللاعب واقع،وکذلک الرجل یریدان یتکلم بکلام فسبق لسانہ بالطلاق،فالطلاق واقع. وفی’’المنتقی‘‘ قال: ابوحنیفۃ لایجوزالغلط فی الطلاق
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6886،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(3/160،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(3/426،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/168،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(4/396،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(6/177،دارالمعرفة)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(2/75،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1443/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:113

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔