سوال

ایک آدمی بینک میں سرکاری ملازم ہے ، اس کا کام یہ ہے کہ وہ بینک سے پیسے نکلواکر اپنے افسروں کو دیتا ہے جن میں سود کے پیسے بھی ہوتے ہیں ۔ کیا اس آدمی کے لیے یہ ملازمت جائز ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم العالیہ نے ایک سوال کے جواب میں ایسی جامع بات ارشاد فرمائی ہے ، جس سے صورت مسئولہ کا حکم واضح ہوجاتا ہے کہ یہ ملازمت جائز نہیں، اس لیے ذیل میں بعینہ ان کی عبارت نقل کی جاتی ہے
”دراصل بینک کی ملازمت ناجائز ہونے کی دو وجہیں ہوسکتی ہیں ، ایک وجہ یہ ہے کہ ملازمت میں سود وغیرہ کے ناجائز معاملات میں اعانت ہے ، دوسرے یہ کہ تنخواہ حرام مال سے ملنے کا احتمال ہے ، ان میں سے پہلی وجہ یعنی حرام کام میں مدد کا جہاں تک تعلق ہے ، توشریعت میں مدد کے مختلف درجات ہیں ، ہر درجہ حرام کا نہیں ، بلکہ صرف وہ مدد ناجائز ہے جو براہ راست حرام کام میں ہو ،مثلا سودی معاملہ کرنا ، سود کا معاملہ لکھنا ، سود کی رقم وصول کرنا وغیرہ ، لیکن اگر براہ راست سودی معاملہ میں انسان کو ملوث نہ ہونا پڑے ، بلکہ اس کام کی نوعیت ایسی ہو جیسے چپڑاسی ، ڈرائیور یا جائز ریسرچ وغیرہ ، تو اس میں چونکہ براہ راست مدد نہیں ہے ،اس لیے اس کی گنجائش ہے ۔
جہاں تک حرام مال سے تنخواہ ملنے کا تعلق ہے ، اس کے بارے میں شریعت کااصول یہ ہے کہ اگر ایک مال ، حرام اور حلال سے مخلوط ہو اور حرام مال زیادہ ہو تو اس سے تنخواہ یا ھدیہ لینا جائز نہیں ، لیکن اگر حرام مال کم ہو تو جائز ہے ۔ بینک کی صورت حال یہ ہے کہ اس کا مجموعی مال کئی چیزوں سے مرکب ہے ، 1- اصل سرمایہ 2- ڈپازیٹرز 3- سود اور حرام کاموں کی آمدنی 4-جائز خدمات کی آمدنی ، اس سارے مجموعے میں صرف نمبر3 حرام ہے ، باقی کو حرام نہیں کہا جاسکتا ، اور چونکہ ہر بینک میں نمبر1 اور نمبر 2کی اکثریت ہوتی ہے ، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مجموعے میں حرام غالب ہے ، لہذا کسی جائز کام کی تنخواہ اس سے وصول کی جاسکتی ہے۔
یہ بنیاد ہے جس کی بناء پر علماء نے فتوی دیا ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس میں خود کوئی حرام کام نہ کرنا پڑتا ہو ، جائز ہے البتہ احتیاط اس میں ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے۔

لما فی فتاوی عثمانی :(3/395،396،معارف القرآن ، کراچی)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18 /7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:138

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔