الجواب حامداً ومصلیاً
کتب فقہ میں اس طرح کی وصیت کوچونکہ باطل قراردیا گیاہے ، لھذا اسے پورا کرنا لازم تو نہیں ، البتہ لازمی سمجھے بغیر اگر آسانی سے ہوسکے تو اس وصیت کو پورا کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔
لما فی المختصر فی فقہ الحنفی:(1/428،بشریٰ)
لو اوصی رجل بان یصلی علیہ فلان فقد ذکر فی العیون ان الوصیۃ باطلۃ وفی الفتاوی الخلاصۃ
وفی ردالمحتار:(2/221،سعید)
لو اوصی بان یصلی علیہ غیر من لہ حق التقدم او بان یغسلہ فلان لایلزم تنفیذ وصیتہ ولایبطل حق الولی بذالک
وفی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
وفی الکبری المیت اذا اوصی بان یصلی علیہ فلان فالوصیۃ باطلۃ وعلیہ الفتوی کذا فی المضمرات
وکذافی الدر المختار:(2/221،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(9/301،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/237،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(4/321،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(6/666،سعید)
وکذافی الھندیة:(6/95،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:55