سوال

اگر کوئی آدمی مرنے سے پہلے یہ وصیت کرجائے کہ میرا جنازہ فلاں بزرگ سے پڑھوانا، تو کیا اس پر عمل کرنا ضروری ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

کتب فقہ میں اس طرح کی وصیت کوچونکہ باطل قراردیا گیاہے ، لھذا اسے پورا کرنا لازم تو نہیں ، البتہ لازمی سمجھے بغیر اگر آسانی سے ہوسکے تو اس وصیت کو پورا کرنے کی بھی گنجائش ہے ۔

لما فی المختصر فی فقہ الحنفی:(1/428،بشریٰ)
لو اوصی رجل بان یصلی علیہ فلان فقد ذکر فی العیون ان الوصیۃ باطلۃ وفی الفتاوی الخلاصۃ
وفی ردالمحتار:(2/221،سعید)
لو اوصی بان یصلی علیہ غیر من لہ حق التقدم او بان یغسلہ فلان لایلزم تنفیذ وصیتہ ولایبطل حق الولی بذالک
وفی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)
وفی الکبری المیت اذا اوصی بان یصلی علیہ فلان فالوصیۃ باطلۃ وعلیہ الفتوی کذا فی المضمرات
وکذافی الدر المختار:(2/221،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(9/301،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/237،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(4/321،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(6/666،سعید)
وکذافی الھندیة:(6/95،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:55

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔