الجواب حامداً ومصلیاً
اگر غلام سرور پر اس وقت اپنی بیماری کی وجہ سے واقعتاً جنون اور پاگل پن طاری تھا تو طلاق نہیں ہوئی ۔اوراگر اس وقت وہ نارمل حالت میں تھا تو ایک طلاق رجعی ہوگئی ہے ۔
لما فی ردالمحتار:(3/244،سعید)
والذی یظھر لی ان کلا من المدہوش والغضبان لایلزم فیہ ان یکون بحیث لایعلم مایقول بل یکتفی فیہ بغلبۃ الھذیان واختلاط الجد بالھزل کما ہو المفتی بہ
وفی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
ولایقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی علیہ والمدہوش ھکذا فی فتح القدیر
وکذافی الھدایة:(2/373،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(3/243،سعید)
وکذافی التنویر:(3/235،سعید)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :169