سوال

ایک شخص نے زمین غصب کرکے بیچ دی ۔ اب توبہ کرکے اس کی قیمت مالک کو لوٹانا چاہتاہے ، اب زمین کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے ، مالک آج کے ریٹ کے حساب سے قیمت کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ غاصب کہتا ہے جتنے کی میں نے بیچی تھی اتنے پیسے دوں گا۔ شرعاً کونسی قیمت لازم ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں غصب کے دن کی قیمت لازم ہوگی ، لیکن آج کل غصب کے عام ہونے کی بناء پر ، اس جرم کے سدباب کے لیے اگر قاضی تعزیرا زمین کی موجودہ قیمت کا ضامن بنائے تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔

لما فی الھندیة:(2/168،رشیدیہ)
الاصل فی وجوب التعزیر ان کل من ارتکب منکرا او آذی مسلما بغیر حق بقولہ او بفعلہ یجب التعزیر
وفیہ ایضاً:(5/128،رشیدیہ)
الغاصب اذا استھلک المغصوب وھو من ذوات القیم کان الرای للقاضی ، فیقضی علیہ بما کان انظر للمغصوب منہ کذا فی فتاوی قاضیخان
وکذافی الفقہ الاسلامی:(6/4803،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختارمع التنویر:(6/183،سعید)
وکذافی درالمحتار:(6/183،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(8/217،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(4/79،المنار)
وکذافی الھندیة:(5/119،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:63

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔