الجواب حامداً ومصلیاً
منفرد اگر سری نماز میں تین یا تین سے زائد آیات جہرا پڑھ لے تو ظاہرالروایت کے مطابق سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ یہ قول اوسع ہے ، علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ، البتہ بعض فقہاء نے اس صورت میں سجدہ سہو واجب قرار دیا ہے ۔ یہ قول احوط ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں اوسع قول کے مطابق نمازیں درست ہوگئیں ہیں ، تاہم احوط قول کا تقاضا یہ ہے کہ ان نمازوں کا اعادہ کرلیا جائے ۔
لما فی ردالمحتار:(2/81،سعید)
قولہ والجہر فیما یخافت فیہ) فی العبارۃ قلب ، وصوابھا والجھر فیمایخافت لکل مصل وعکسہ الامام وھذا ما صححہ فی البدائع والدرر ومال الیہ فی الفتح وشرح المنیۃ والبحر والنھر والحلیۃ علی خلاف مافی الھدیۃ والزیلعی وغیرھما من ان وجوب الجھر والمخافتۃ من خصائص الامام دون المنفرد
وفیہ ایضا:(2/81،سعید)
والحاصل ان الجھر فی الجھریۃ لایجب علی المنفرد اتفاقاوانما الخلاف فی وجوب الاخفاء علیہ فی السریۃ وظاہرالروایۃ عدم الوجوب کما صرح بذالک فی التاتار خانیۃ عن المحیط وکذا فی الذخیرۃ وشروح الھدایۃ کالنھایۃ والکفایۃ والعنایۃ ومعراج الدرایۃ وصرحوا بان وجوب السھو علیہ اذا جھر فیما یخافت روایۃ النوادر فعلی ظاہر الروایۃ لاسھو علی المنفرد اذا جھر فی مایخافت فیہ وانماھو علی الامام فقط
وفی المبسوط للسرخسی:(1/222،بیروت)
وان کان منفردا فلیس علیہ سجود السھو بھذا)اما فی صلاۃ الجھر ھو مخیر بین الجھر والمخافتۃ واما فی صلاۃ المخافتۃ فجھر المنفرد بقدراسماعہ نفسہ وھو غیر منھی عن ذالک فلھٰذا لایلزمہ السھو
وکذافی منحة الخالق:(2/171،)
وکذافی الھندیة:(1/128،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2/396،فاروقیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/456،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:92