سوال

ایک آدمی کا لنڈے کا کاروبار ہے۔ سال پورا ہونے پر سامان کی قیمت لگاکر زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے ، لیکن سردیوں کے اختتام کی وجہ سے سامان کی قیمت فروخت ، قیمت خرید سے بھی کم ہوچکی ہے۔ تو کونسی قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کرے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ ادا کرنے کی تاریخ میں جو بھی قیمت فروخت ہو، بس وہ ادا کردی جائے۔

لما فی الدرالمختار:(2/286،سعید)
وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالا یوم الاداء وفی السوائم یوم الاداء اجماعا وھو الاصح
وفی ردالمحتار:(2/26،سعید)
وفی المحیط یعتبر یوم الاداء بالاجماع وھوالاصح فھو تصحیح للقول الثانی الموافق لقولھما ، وعلیہ فاعتبار یوم الاداء یکون متفقا علیہ
وفی الھندیة:(1/180،رشیدیہ)
تم الحول ثم زاد السعر او انتقص فان ادی من عینھا….وان ادی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب…..وعندھما یوم الاداء
وکذافی التاتار خانیة:(3/170،فاروقیہ)
وکذافی البدائع:(2/111،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/386،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/2021/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:131

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔