الجواب حامداً ومصلیاً
شوہر کی وفات کے وقت عورت جس گھر میں مستقل رہائش پذیر ہو، اسی گھر میں عدت گزارے گی، لہذا صورت مسئولہ میں مرحوم کی بیوی لیہ میں عدت گزارے گی نہ کہ ملتان میں۔
لما فی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
ومنزلھا الذی تومر بالسکون فیہ للاعتداد ھو الموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا وقبل موتہ سواء کان الزوج ساکنا فیہ او لم یکن
وفی ردالمحتار:(5/229،رشیدیہ)
والمرادبہ ما یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت سواء کان مملوکا للزوج او غٰیرہ
وکذافی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذافی الھدایة:(3/407،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(6/34،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/269،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7201،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2020/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:106