الجواب حامداً ومصلیاً
حالت احرام میں چہرہ ڈھانپنا ممنوع ہے ، لیکن کسی ناگزیر عذر کی وجہ سے ایسا کرنے پر انشاءاللہ گناہ نہیں ہوگا، تاہم جزاء واجب ہوگی ۔ چنانچہ ایک دن یا ایک رات کے بقدر ، پورا یا چوتھائی چہرہ ڈھانپنے کی وجہ سے یا تو دم لازم ہوگا یعنی حدود حرم میں ایک بکری/بکرا ذبح کرنا ہوگا یا چھ مسکینوں کو فی کس سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت دینا ہوگی یا تین روزے رکھنے ہوں گے ۔ اوراگر ایک دن /رات کی مقدار سے کم چہرہ ڈھانپا ، تو صدقہ لازم ہوگا یعنی سوا دوکلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہوگی یا ایک دن روزہ رکھنا ہوگا ۔
اور سینی ٹائزر اگر خوشبو والا نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہے ۔ اور اگر خوشبو والا ہو اور خوشبو غالب ہو اور اس کو دونوں ہاتھوں پر لگایا تو دم واجب ہوگا ، البتہ اگر خوشبو مغلوب ہو یا اس کا استعمال کامل عضو پر نہ ہو ، تو صدقہ واجب ہوگا ۔
لما فی الفقہ الاسلامی:(3/2291،رشیدیہ)
فلایجوز ان یضع علی راسہ ووجہہ عمامۃ ولاخرقۃ…… الا لحاجۃ کمداواۃ او حر او برد ، فیجوز التغطیۃ وتجب الفدیۃ
وفیہ ایضاً:(3/2298،رشیدیہ)
وان استھلک الطیب فی المخالط لہ….. کان استعمل فی دواء واکلہ جاز ولافدیۃ
وفی غنیة الناسک:(1/88،علوم اسلامیہ)
وتغطیۃ الراس والوجہ کلہ او بعضہ کالعارض والانف والفم والذقن بثوب …..او نحو ذالک ممایقصد بہ التغطیۃ بعذر او بغیر عذر الا ان صاحب العذر غیرآثم
وفی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)
ولوغطی المحرم راسہ او وجہہ یوما فعلیہ دم وان کان اقل من ذالک فعلیہ صدقۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2296،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/546،سعید)
وکذافی ردالمحتار:(2/546،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/439،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:19