الجواب حامداً ومصلیاً
اگر یہ رقم میت کے تہائی مال سے کم یا تہا ئی مال کے بقدر ہے تو اس وصیت کو پورا کیا جائے گا، لیکن اگر تہائی مال سے زیادہ ہو تو ورثہ کی اجا زت پر مو قوف ہو گی بشر طیکہ ورثہ بالغ ہوں ۔
لما فی المحیط البرھانی:(22/252،دار احیاء تراث)
اذا اوصی بثلث مالہ لأجنبی فھذہ الوصیۃ جائزۃ ولا یحتاج فیھا الی اجازۃ الورثۃ …..وان أوصی با کثر من ثلث مالہ لأ جنبی فھذہ الوصیۃ فیما زاد علی الثلث لا تجوز الا با جاز ۃ الوارث
وفی تنویر الا بصار وشرحہ:(6/650،ایچ ایم سعید)
وتجوز بالثلث لأجنبی )عندعدم المانع (وان لم یجز الوارث ذلک لاالزیادۃ علیہ الا ان تجیز ورثتہ بعد موتہ) . . .(وھم کبار)
وکذافی البحرالرائق:(9/246،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(19/381،فاروقیة)
وکذافی ملتقی الابحر:(4/418،المنار)
وکذافی الھندیة:(6/90،رشیدیة)
وکذافی المبسوط:(27/144،دارالمعرفة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/50،رحمانیة)
وکذافی البزازیة:(6/433،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/422،رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:89