سوال

جمعہ کے دو خطبوں کے در میان ہاتھ اٹھاکر دعا کرناجائز ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ہاتھ اٹھا کر دعا کر نا تو جائز نہیں ،البتہ دل ہی دل میں دعا کر لی جائے۔

لما فی التنویر :(2/158،سعید )
اذا خرج الامام) )….فلاصلاۃ ولا کلام الی تمامھا )وقال ابن عابدین تحت (قو لہ ولا کلام ) …وقال البقالی فی مختصرہ واذا شرع فی الد عاء لایجوز لقوم رفع الیدین ولا تأ مین باللسان جھرا فان فعلوا ذلک أثموا وقیل اساءوا ولا اثم علیھم والصحیح ھو الاول و علیہ الفتوٰی وکذا لک اذا ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یجو ز ان یصلو ا علیہ بالجھر بل بالقلب وعلیہ الفتوٰی
وفی الفقہ الا سلامی و اد لتہ :(2/1316،رشید یة)
ویکرہ تحر یما عند الحنفیۃ الکلام من قریب او بعید، ورد السلا م ، وتشمیت العاطش ،وکل ماحرم فی الصلاۃ حرم فی الخطبۃ ، فیحرم أکل وشرب وکلام ، ولو تسبیحا او امرا بمعروف ،بل یجب علیہ أن یستمع و یسکت
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(203،البشری)
وکذا فی حاشیة الطحطا وی علی مرا قی الفلاح:(518،قدیمی)
وکذا فی التاتار خانیة:(2/576،فا رو قیہ )
وکذا فی الھند یة:(1/147،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(2/463،دار احیاء تراث)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/341،الحقا نیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/320،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:(2/259،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2021/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:117

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔