سوال

ایک عورت کو طلاق ہوئی ہے ،اس کی بیٹیاں کم عمرہیں ۔پوچھنا یہ ہے کہ ماں کب تک اپنی بیٹیوں کو پرورش وغیرہ کے لئے رکھ سکتی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نوسال تک۔

لما فی الموسوعة:(17/314،علوم اسلامیة)
و تظل الحضانۃ علی الأنثی قائمۃ حتی تبلغ بالحیض أو الا حتلام أو السن ، وھذا کما فی ظاھر الروایۃ ان کانت الحاضنۃ الأم أو الجدۃ ، أما غیر الأم والجدۃ فانہن أحق بالصغیرۃ حتی تشتھی ، و قدر بتسع سنین و بہ یفتی .و عن محمد أن الحکم فی الأم والجدۃ کالحکم فی غیرھما ، فتنتھی حضانۃ النساء مطلقا أما أو غیرھا ، علی الصغیرۃ عند بلوغھا حد الاشتھاء الذی قدر بتسع سنین ، والفتوی علی روایۃ محمد لکثرۃ الفاسد
وفی التنویر مع الدر :(3/566،سعید)
و الأم والجدۃ) لأم أو لأب (أحق بہا )بالصغیرۃ(حتی تحیض) ای تبلغ فی ظاھر الروایۃ…( و غیرھما أحق بہا حتی تشتھی) و قدر بتسع ،وبہ یفتی،وبنت احدی عشرۃ مشتہاۃ اتفاقا زیلعی (وعن محمد أن الحکم فی لأم و الجدۃ کذلک )وبہ یفتی لکثرۃالفاسد
وکذافی اللباب:(2/218،قدیمی)
وکذا فی التاتار خانیة:(5/273،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/243،دار احیاءتراث)
وکذا فی الھندیة:(1/542،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق :(4/287، رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/213،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/1202/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:143

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔