الجواب حامداً ومصلیاً
خالص خون کی خرید و فروخت جائز نہیں ،البتہ اس کے ساتھ پانی اور دیگر آلائشیں وغیرہ کثیر مقدار میں مل جائیں تو پھر جائز ہے۔
لما فی الفتاوی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
واما العذرۃ ولا یجوز الانتفاع بھا ما لم تختلط با لتراب ویکون التراب غالباً وکذا بیع العذرۃ لا یجوز ما لم تختلط بالتراب ویکون التراب غالباً
وفی التنویر مع الشرح:(9/634، رشیدیہ)
کرہ بیع الذرۃ ) رجیع الٰادمی(خالصۃلا)یکرہ بل یصح بیع(السرقین)ای الزبل(خلافا للشافعی(وصح)بیعھا (مخلوطۃبتراب او رماد غلب علیھا)
وکذافی الھدایة:(4/472،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/214،علوم اسلامیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(21/25،علوم اسلامیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/308،311،312 ،معارف القرآن)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:61