الجواب حامداً ومصلیاً
پہلے دن اہل میت کے قرابت داروں اور اہل محلہ پر حق ہے کہ وہ کھانے وغیرہ کانظم کریں اور عام طور پر ہوتا بھی ایسے ہی ہے،اس طرح کی سہولت کے ہوتے ہوئےاگر اہل میت خود اصرار کریں کہ ہم خود کھانے کا انتظام کریں گےتو مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہو گا،البتہ اگر میت کے گھر دور دراز سے مہمان آئے ہوئے ہوں اور دوسرے اقرباء کی طرف سے کھانے کا انتظام نہ ہو تو میت کے گھر والے ان کے لیے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1578،رشیدیہ)
أما صنع أهل البيت طعاماً للناس، فمكروه وبدعة لا أصل لها؛ لأن فيه زيادة على مصيبتهم، وشغلاً لهم إلى شغلهم، وتشبهاً بصنع أهل الجاهلية. وإن كان في الورثة قاصر دون البلوغ، فيحرم إعداد الطعام وتقديمه. . . . وان دعت الحاجۃ ذلك، جاز، فإنه ربما جاءهم من يحضر ميتهم من القرى والأماكن البعيدة، ويبيت عندهم ولا يمكنهم إلا أن يضيفوه
وفی الموسو عة الفقھیة:(12/290،علوم اسلامیہ)
ویکرہ ان یضع اہل المیت طعاما للناس لان فیہ زیادۃ علی مصیبتھم وشغلا علی شغلھم وتشبھاباہل الجاہلیۃ
وفی مجمع الأ نھر:(1/288،المکتبة المنار)
ویستحب لجیران اہل المیت والأقرباء تھیئۃ الطعام لھم بشبعھم یومھم ولیلتھم
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق للشیخ الشلبی:(1/246،امدادیہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیہ:(4/81،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/246،امدادیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/151،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/168،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(2/240،سعید)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:70