سوال

ہمارے والد صاحب کے انتقال کے بعد ہمیں میراث میں ایک پلاٹ ملا، جسے ہم بھائیوں نے مشورے سے بیچ دیا ۔پلاٹ کی رقم ملنے سے پہلے مجھے پلاٹ کی رقم سے زیادہ قرض لینے کی ضرورت پڑ گئی، تو کیا اب مجھ پر حج فرض ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں جب تک آپ  قرض کے علاوہ ،حج کے لیے مطلوب رقم کے مالک نہیں بنے گے آپ پر حج فرض نہیں ہوگا۔

لمافی  الھندیة: (1 /217  ،رشیدیہ)
ومنھا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ)۔۔۔۔۔۔۔وتفسیر ملک الزاد والراحلۃان یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ وھو ماسوی مسکنہ۔۔۔۔۔۔۔وسوی مایقضی بہ دیونہ
وفی تنویرالابصار مع الدرالمختار وردالمحتار:(2 /461،سعید)
فضلا عما لا بد منہ)کما مر فی الزکاۃ (قولہ کما مر فی الزکاۃ)ای من بیان مالا بد منہ من الحوائج الاصلیہ کفرسہ وسلاحہ و ثیابہ وعبید خدمتہ وآلات حرفتہ واثاثہ و قضاء دیونہ
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/50،51،449،طارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلة:(3/2090،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/536،المکتبة الحقانیة)
وکذا فی البدائع:(2/296،97،رشیدیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(20/ادارةالقرآن)
وکذا فی ارشادالساری: (44 /فاروقیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/361،قدیمی)
وکذا فی النھرالفائق: (2 /56،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمان عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

2022/12/6/11/5/1444

جلد نمبر :28 فتوی نمبر : 171

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔