سوال

قسطوں پر کوئی چیز مہنگے داموں میں بیچنا جائز ہے یا نہیں؟اگر جائز ہے تو کن شرائط کیساتھ جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

قسطوں پر کسی چیز کو مہنگے داموں میں بیچنا تین شرائط کیساتھ جائز ہے(1) چیز کی قیمت معلوم ہو (2)ادائیگی کی مدت معلوم ہو (3)ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں مروجہ جرمانہ کی شرط نہ ہو۔

لما فی فقہ البیوع : ( 1/ 539 ،معارف القرآن )
 البیع بالتقسیط: وکما یجوز ضرب الاجل لاداءالثمن دفعۃ واحدۃ،کذلک یجوز ان یکون اداء الثمن باقساط بشرط ان تکون آجال الاقساط ومبالغھامعینۃ عند العقد وقد یسمی” البیع با لتقسیط
وفی بحوث فی قضایافقھیة معاصرة: ( 1/ 12 ،معارف القرآن )
 اما الائمۃ الاربعۃ وجمھور الفقھاءوالمحدثین فقد اجازوا البیع الموجل باکثر من سعر النقدبشرط ان یبت العاقدان بانہ بیع موجل باجل معلوم وبثمن متفق علیہ عند العقد
وکذافی الفقہ الحنفی: ( 4/ 224 ،طارق )
وکذا فی فقہ البیوع  : ( 1/ 545 ،معارف القرآن )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 5/3461  ،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة : ( 3/3  ،رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق: (5 / 437 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة : (7 /14  ،دار المعرفة)

واللہ اعلم بالصواب

محمد مجیب الرحمن عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

18/9/1444/9/4/2023

جلد نمبر :30 فتوی نمبر :20

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔