سوال

قبر پر اَذان دینا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

قبر پر اَذان دینےکا کوئی ثبوت نہیں ہے،اسے فقہائے کِرام نے بدعت کہا ہے۔

لما فی الشامیة:(1/63،رشیدیة)
لا یسن الأذان عند ادخال المیت فی قبرہ کما ھوالمعتاد اَلان قد صرح ابن حجر فی فتاویہ بأنہ بدعۃ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(224،البشری)
 الأذان عند ادخال المیت فی القبر: بدعۃ
وکذافی الھندیة:(1/166،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(1/150،رشیدیة)
 وکذافی البحر الرائق:(2/343،رشیدیة)
وکذا فی منحة الخالق علی البحر الرائق:(1/445،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(1/721،رشیدیة)
وکذافی النھر الفائق:(1/404،قدیمی)
وکذا فی الصحیح لمسلم:(2/87،رحمانیة)
وکذا فی سنن أبی داؤد:(2/290،رحمانیة)

واللہ الموفق بالصواب

بندہ محمد اعظم کان اللہ لہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

8/8/1445 /2/3/2024

جلد نمبر :32 فتوی نمبر :44

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔