سوال

میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں ہمیں اکثر ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا پڑتا ہےکہیں پندرہ یوم یا اس سے زائد ،کہیں پندرہ یوم سے کم قیام ہوتا ہے لیکن اس دوران یقینی طور پر معلوم نہیں ہوتا کتنے دن کا قیام ہو گا، اس دوران نماز پوری پڑھنا ہو گی یا قصر کرنا ہو گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر وہ شہر مسافت ِ سفر(78 کلومیٹر)پر واقع ہو تو اگر آپ وہاں 15 دن ٹھہرنے کی نیت کریں گے تو پوری نماز پڑھیں گے،  ورنہ اگر آپ آج ،کل پر جانے والی کیفیت میں دو ماہ بھی گذار دیں  تو قصر ہی پڑھیں گے۔

لمافی البحرالرائق: ( 02/230  ،رشیدیة )
وقیّد بنیۃ الاقامۃ لانہ لودخل بلداً ولم ینو انہ یقیم فیھا خمسۃ عشر یومًاو انمایقول غدًااخرج او بعد غد اخرج حتّی بقی علی ذلک سنین قصر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واطلق النیۃ فشمل الحکمیۃ کمالو وصل الحاج الی الشام وعلم ان القافلۃ انما تخرج بعد خمسۃ عشر یومًاوعزم ان لایخرج اِلا معھم لایقصرلانہ کناوی الاقامۃ
وفی الھندیة: (01 /139  ،رشیدیة )
ولایزال علی حکم السفرحتی ینو الاقامۃ فی بلدۃ اوقریۃ خمسۃ عشر یوماًاو اکثرکذا فی الھدایۃ ۔۔۔۔۔۔۔ولو بقی فی المصر سنین علی عزم انہ اذا قضی حاجتہ یخرج ولم ینو الاقامۃخمسۃ عشریوماًقصر .کذا فی التھذیب
وکذافی الدرالمختار مع ردالمحتار: ( 02/  729، بیروت)
وکذا فی غنیة المستملی: (539  ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (02 /1347  ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب

ابومحمدتنویرحسین عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

13/08/1445/24/2/2024

جلد نمبر:32 فتوی نمبر :24

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔