ایک مدرسے میں موبائل پر پابندی کی وجہ سے طلبہ کے موبائل ضبط کیے گئے،تقریباًچھ سال ہو گئے ان میں سے کچھ کا پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ موبائل کس کے ہیں،اب آیاان موبائلوں کو بیچ کر ان کی رقم مدرسہ میں لگائی جا سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہر ممکن ذریعے سے مثلاًمدرسے کے ریکارڈ وغیرہ سے ان کے مالکان کا پتا کیا جائے اور ممکنہ پلیٹ فارمز پر اعلان بھی کرایا جائے یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ ان کے مالک نہیں آئیں گے تو ان موبائلوں کو بیچ کر ان کی رقم بطور صدقہ مدرسے یا پھر کسی کارخیر میں لگائی جا سکتی ہے،لیکن اگر بعد میں کوئی مالک آگیا اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہوا تو موبائل ضبط کرنے والے یا کروانے والے کو اسکی قیمت دینا پڑے گی۔

لما فی النھرالفائق: (3 /278 ،قدیمی کتب خانہ )
لقطۃالحل والحرم امانۃ ان اخذھا لیردھا علی ربھا واشھد وعرف الی ان علم ان ربھا لا یطلبھاثم تصدق فان جاء ربھا نفذہ او ضمن الملتقط
وفی الھندیہ: (2 /289 ،رشیدیہ )
ثم بعد تعریف المدۃ المذکورۃ الملتقط مخیر بین ان یحفظھا حبسہ وبین ان یتصدق بھا فان جاء صاحبھا فامضی الصدقۃ یکون ثوابھا وان لم یمضھا ضمن الملتقط اوالمسکین ان شاء لو ھلکت فی یدہ فان ضمن الملتقط لا یرجع علی الفقیر وان ضمن الفقیر لایرجع علی الملتقط
وکذافی الھدایہ: (2 /414 ،بشریٰ ) وکذافی التاتارخانیہ: (7 /424 ،فاروقیہ )
وکذافی الدارقطنی: (4 /108 ،العلمیہ ) وکذافی البحرالرائق: (5 /257 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصار وشرحہ: (6 /434 ،رشیدیہ ) وکذافی البنایہ: (6 /770 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (5 /299 ،رشیدیہ ) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/ 172 ،داراحیاء )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:79

احمد ھارون کا مقروض ہے،ھارون نے سعد کو مدرسہ کے تعاون کی اپیل کی ،احمدنے سعد کوپیسے دیئےتھے ،کہ ھارون کو دے دینا (قرض چکا دینا)چنانچہ اس نے ھارون کو پیسے دے دیئے ،سعد اپنے گمان کے مطابق احمد کا قرض چکا رہا ہے ،جبکہ ھارون اس رقم کو چندہ سمجھ کر وصول کررہا ہے،اور اس رقم کو مدرسہ کےامور میں خرچ کردیتا ہے پھر کچھ عرصہ بعد ھارون احمد کو فون کرتا ہے کہ میرا قرض تو ادا کردو ،اس نے جواب میں کہا کیا آپ کو سعد نے قرضہ ادا نہیں کیا ؟میں نے اس کو آپ کے پیسے دے دیئے تھے ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو پیسے مدرسہ میں خرچ ہوگئے وہ قرض تھا یا چندہ،اگر چندہ تھا تو قرض کس سے وصول کریں؟اگر قرض تھا تو مدرسہ سے کیسے وصول کریں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت مطہرہ میں کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں یہ خرچ کی ہوئی رقم چندہ نہیں بلکہ قرض شمار ہوگا اور یہ شخص مدرسہ کی موجود رقم سے اپنے خرچ کئے ہوئے پیسے لےلے ۔

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:73