ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا،تو ایک دوسرا شخص آ کروہ بھی نماز پڑھنے لگا ،تو نماز کے دوران ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے” الحمدللہ“ کہا،تو ساتھ والے نے اسکے جواب میں” یرحمک اللہ“ کہہ دیا۔ تو ان دونوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس شخص نے نماز کی حالت میں چھینک کے جواب میں” یرحمک اللہ“ کہااسکی نماز ٹوٹ گئی اور جس نے ”الحمدللہ“ کہا اسکی نماز ہو گئی۔

لما فی الھندیة: (1/ 98 ، رشیدیة)
رجل عطس فقال المصلی” یرحمک اللہ “تفسد صلاتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو عطس فقال لہ المصلی ”الحمدللہ“ لا تفسد لانہ لیس بجواب
وفی فتاوی قاضیخان: (1 / 136،رشیدیة )
ولو عطس المصلی فقال لہ رجل فی الصلاۃ ”الحمدللہ“ روی عن محمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال لاتفسد صلاتہ وان اراد بہ الجواب وان قال ” یرحمک اللہ “ فسدت صلاتہ لان الاول تحمید ولیس بجواب
وکذافی الھدایة: ( 1/ 213، بشری)
وکذا فی کتاب الفقہ : ( 1/ 261، حقانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلة: ( 2/1041 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 2/ 216، فاروقیہ)
وکذافی البنایة: (2 / 493، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة مع البنایة: ( 1/ 409،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق: ( 1/ 156 ، امدادیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1 / 120،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:40

اگر دادا کی زندگی میں ہی اس کا ایک بیٹا فوت ہو گیا ،تو کیا دادا کے فوت ہونے کی صورت میں یتیم پوتوں کو اس کے ترکہ سے حصہ ملے گا؟ کیا دادا اپنی زندگی میں اپنے یتیم پوتوں کو صحت و تندرستی کی حالت میں اپنی جائیداد میں سے کچھ ہبہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر دادا کے فوت ہونے کے وقت دادا کا کوئی اور بیٹا زندہ ہو ،تو یتیم پوتوں کو دادا کی جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا۔ورنہ یتیم پوتوں کو دادا کے ترکہ سے حصہ ملے گا۔

دادا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے اپنے یتیم پوتوںکو ہبہ کر سکتا ہے بلکہ یتیم پوتوں کے لئے دادا کو اپنی زندگی میں جائیداد وغیرہ ضرور ہبہ کرنا چاہیے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 10/ 560، رشیدیہ)
أحدھما: أ نہ یحجب الاقرب ممن سواھم الابعد ،لما مر أ نہ یقدم الاقرب فالاقرب اتحدافی السبب ام لا،والثانی : ان من ادلی بشخص لا یرث معہ کابن الابن لا یرث مع الابن
وفی شرح المجلہ: (3 / 385، رشیدیہ)
من وھب لاصولہ وفروعہ او لاخیہ او اختہ او لاولادھما او لعمہ او لعمتہ شیئافلیس لہ الرجوع
وکذافی السراجی: ( 14،شرکت علمیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 20/263 ، فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (23 / 307، دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الھندیة: ( 4/ 374،رشیدیہ )
وکذا فی المبسوط: ( 12/ 48 ،دار المعرفة )
وکذا فی الھندیة: ( 4/ 391 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 14/ 421،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن کلاچوی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/12/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:39

اگر عورت کو روزہ کی حالت میں حیض آ جائے تو اسکا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور اسکی قضاء واجب ہے۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار: (1 / 533، رشیدیہ)
ولو شرعت تطوعاً فیھما فحاضت قضتھما(ولو شرعت تطوعاًفیہما )أی فی الصلاۃ والصوم،أما الفرض ففی الصوم تقضیہ دون الصلاۃ
وفی الفقہ الحنفی: ( 1/ 119،المکتبة الطارق )
ویحرم الصوم علی الحائض فرضاً کان أو نفلاً،ولو کانت صائمۃ ورأت الدم قبل الغروب بفترۃ وجیزۃ فسد صوم ھذاالیوم ویجب علیھا قضاءہ فرضاًکان أو نفلاً،لأن النفل یلزم بالشروع
وکذافی المبسوط: 3 / 152 ،دار المعرفة )
وکذا فی الھدایة: (1 / 114 ، بشری)
وکذا فی فتاوی التاتارخانیة: (1 /479 ،فاروقیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /401 ،دار احیاء ترث العربی )
وکذا فی فتاوی الھندیة: (1 / 38 ، رشیدیة)
وکذا فی العنایة: (1 / 168 ، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلة: (1 / 625 ، رشیدیة )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: ( 18/ 318،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان کلاچوی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:38

اگر سو (100) روپے والی چیز ایک مہینہ ادھار پر ایک سو دس(110) روپے میں فروخت کی گئی لیکن وقت مقررہ آنے پر مشتری بائع سے کہے کہ ریٹ(120)کر لیں اور ایک مہینہ اور مہلت دے دیں اور فریقین اس عقد ثانی پر راضی ہو جائیں تو کیا یہ بیع جائز ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ سود ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔

لما فی فقہ البیوع: (1 / 545 ،معارف القرآن )
وإن زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،و إن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولٰکن لا تجوز الزیاد ۃ عند التخلف فی الاداء فإنہ ربا فی معنیٰ  أتقضی أم تربی“ وذلک لأن الأجل، وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد، ولاکن لما تعین الثمن فإن کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابل للأجل ولذلک لایجوز ”ضع و تعجل
وفی المبسوط: ( 12/117 ،دار المعرفة )
وإن من الربا أبوابا لا یکدن یخفین علی أحد منھا السلم فی السن ماکا نو ااعتادوا فی الجاھلیۃ أن الواحد منھم یسلم فی إبنۃ مخاض فإذاحل الأجل زادہ فی السن وجعلہ إبنۃ لبون لیزیدہ فی الأجل ثم یزیدہ إلا سن الحقۃوالجذ عۃ و فی ذلک نزل قولہ تعالیٰ: ﴿ولا تأکلواالربا أضعافا مضاعفۃ
وکذافی موسوعة الفقہیہ: ( 22/58 ،علوم اسلا میہ ) وکذا فی فیض الباری: (3 / 412 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (5 / 3704 ،رشیدیہ ) وکذا فی تفسیر المظہری: (1/548 ،رشیدیہ)
وکذا فی بدئع الصنائع: (4 / 400 ،رشیدیہ ) وکذا فی فتح الباری: (4 / 392 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی فیض الباری: (3 / 412 ،رشیدیہ ) وکذا فی روح المعانی: (4 / 55 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی تفسیر القرطبی: (4 / 202 ، دار احیاء التراث) وکذا فی روح المعانی: (4 / 55 ،دار احیاء التراث )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:37

زید نے بکر کو جانور خرید کر پالنے کے لئے دیا،جس کی قیمت ساٹھ ہزار تھی، اور ساتھ یہ شرط لگا دی کہ اسکوفروخت کرکے ساٹھ ہزار پر جو نفع آئے گا،وہ نصف نصف تقسیم کیا جائے گا۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اگرنہیں تو اسکی جائز صورت کیا ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جانور ادھیے پر دینے کی مختلف صورتیں معاشرے میں رائج ہیں ان میں سے ایک صورت سوال میں بھی مذکور ہے۔ حنفی فقہاءکرام نے ان جیسی صورتوں کو نا جائز قرار دیا ہے۔اور جواز کا یہ حیلہ ذکر فرمایا ہے کہ مالک آدھا جانور دوسرے کو ہبہ کر دے یا آدھا فروخت کر کے قیمت معاف کر دے۔اس طرح دونوں اس کے نفع ونقصان میں شریک ہو جائیں گے۔اس لئے اول تو اس طرح کا کاروبار کرنے والے شخص کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔اور ناجائز صورتوں سے بچنا چاہئے،لیکن اگر اس طریقے پر عمل کرنا ممکن نہ ہویا بہت مشکل اور دشواری کا سامنا ہو تو بوقت مجبوری اپنا مسلک چھوڑ کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے مروجہ صورتوں کے مطابق اَدھیارا کرنے کی گنجائش ہے۔جیسا کہ حکیم الامت،حضرت اقدس،مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور نامور فقیہ، حضرت اقدس مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کا بھی اسی طرف رجحان ہے۔ جس کے لئے امداد الفتاوی(3/342،دار العلوم) اور جدید فقہی مسائل(1/275،زمزم)ملاحظہ کی جائے۔حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔

کتب الیٰ بعضِ الاصحاب من فتاوی ابن ِ تیمیہ کتاب الاختیارات مانصہ ولو دفع دابتہ أو نخلہ الیٰ من یقوم لہ، الہ جزء من نمائہ صح وھو روایۃ عن أحمد

پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد نا جائز ہے ۔کما نقل فی السوال عن عالمگیریۃ،لیکن بنا بر نقل بعض اصحاب امام احمدرحمہ اللہ کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے۔پس تحرز احوط ہے اور جہاں ابتلاءشدید ہو توسع کیا جا سکتا ہے۔
اور ہندوستان کے نامور فقیہ ،حضرتِ اقدس مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں
“آج کل مویشیوں میں بٹائی پر لین دین اور ادھیا پر دینے کا عام رواج ہے،فقہاء حنابلہ کے یہاں اسکی اجازت ہے،احناف نے اسکو نا جائز قرار دیا ہے۔البتہ یہ حیلہ بتایا ہے کہ اسکا آدھا حصہ پرورش کرنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اورپھر اسکو قیمت سے بری الذمہ کردے،اس طرح جانور میں دونوں کی شرکت ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع دودھ اور بچوں میں دونوں شریک ہو جائیں گے۔

والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمنٍ ویبرئہ عنہ ثم ما یامر باتخاذاللبن والمصل فیکون بینھما وکذا لو دفع الدجاج علیٰ ان یکون البیض بینھما

راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس تکلف کے بجائے موجود زمانے میں عرف ورواج کی بنیاد پر حنابلہ کا نقطہ نظر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی فتاوی الھندیة:(4/446،رشیدیہ)
والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمن ،ویبرئہ عنہ ثم یامر باتخاذ اللبن والمصل فیکون بینھما
وفی المحیط البرھانی:(12/97،دار احیاء التراث)
والحیلۃ فی جنس ھذہ المسائل ان یبیع صاحب البیضۃ نصف البیضۃ،وصاحب الدجاجۃ والبقرۃ نصف الدجاجۃ والبقرۃ من المدفوع الیہ ویبرئہ عن ثمنہ ،اشتریٰ فیکون بینھما

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:17

ایک آدمی اپنی زمین کی پیداوار میں دوسرے آدمی کو شریک کرنا چاہتا ہے،اس طور پر کہ بیج کھاد اور سپرے وغیرہ کے خرچ میں دونوں برابرکے شریک ہونگے اور کام صرف زمین والا کرے گا،اور پیداوار میں بھی دونوں برابر کے شریک ہو نگے تو کیا یہ صورت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکور صورت تو جائز نہیں ہے۔البتہ درج ذیل صورتوں میں سےکوئی صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔

(1)

زمین اور بیج ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے کے ذمہ بیل یعنی ٹریکٹر وغیرہ کا خرچ اور کام ہو۔

(2)

زمین ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے آدمی کی طرف سے بیج ،بیل اور کام ہو۔

(3)

زمین ،بیج اور ٹریکٹر وغیرہ کا خرچ ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے آدمی کی طرف سے صرف کام ہو۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار ورد المحتار: (9/463،رشیدیہ)
وبطلت)فی أربعۃ وجوہ (لو کان الارض والبقر لزید،أو البقر والبذر لہ والآخران للآخر)وأما الثانی فلان الارض لا یمکن جعلھا تبعا لعملہ کذالک
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 9/ 462، مکتبہ رشیدیہ)
وکذا)صحت(لو کان الارض والبذرلزید والبقر والعمل للآخر)أو الارض لہ والباقی للآخر(أوالعمل لہ والباقی للآخر)فھذہ الثلاثۃ جائزۃ
و کذافی شرح المجلة: (4 /378،رشیدیہ )
و کذافی فتاوی قاضیخان : (6 /104، رشیدیہ)
و کذافی شرح المجلة:(4/379،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/261،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(23/22،دارالمعرفة بیروت لبنان)
وکذا فی الھدایہ:(4/54،بشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/08/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:13

خاوند اور بیوی کراچی میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھےکہ شوہر فوت ہو گیااور شوہر کی تدفین اپنے آبائی گاؤں پنجاپ میں ہوئی۔اب مسئلہ یہ ہے کہ عورت عدت کہاں گزارے کرائے والے مکان میں یا شوہر کے آبائی گھر میں؟واضح رہے کہ شوہر کے آبائی گھر میں بچوں کی تعلیم وتربیت کا نقصان ہوتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں یہ عورت اگر اپنے ذاتی مال سےمکان کا کرایہ ادا کرنے پر قادر ہے توکراچی والے گھر میں عدت گزارےگی ورنہ آبائی گھر منتقل ہونے کی اجازت ہے۔

لما فی المحیط البرھانی: (5/237،دار احیاء التراث العربی)
وتعتد المعتدۃ فی المکان الذی تسکنہ قبل مفارقۃ الزوج وقبل موتہ قال اللہ تعالیٰ(لاتخرجوھن من بیو تھن)واضافۃ الیھن باعتبار السکنی فی البیوت التی تسکن فیھا قبل المفارقۃ(ص،238) فان کانت مع زوجھا فی منزل بأجر فمات عنھا زوجھا فأجر المنزل علیھا فی مالھا
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/535،رشیدیہ)
علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت۔۔۔۔۔۔۔۔ان اضطرت الی الخروج من بیتھا بان خافت سقوط منزلھا أو خافت علی مالھا أو کان المنزل بأجرۃ ولا تجد ما تؤدیہ فی اجرتہ فی عدۃ الوفاۃ فلا بأس عند ذلک أن تنتقل وان کانت تقدر علی الاجرۃ لا تنتقل
و کذافی بدائع الصنائع : ( 3/ 325، مکتبہ رشیدیہ) و کذافی الھدایہ: (2 /170،رشیدیہ )
وکذافی تحفة الاحوذی : (4 /439،قدیمی کتب خانہ) وکذافی الصحیح المسلم:(2/322،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(2/163،رشیدیہ) وکذافی المبسوط:(6/33،دارالمعرفة بیروت لبنان)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(5/245،فاروقیہ) وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(5/229،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(5/446،رشیدیہ) وکذا فی کنز الدقائق مع البحر الائق:(4/259،بشرٰی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/02/08/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:14

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہرعصر اور مغرب عشاء کومدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کیا۔وکیع کی روایت میں ہیں(سعید نے کہا) میں نے ابنِ عباسؓ سے پوچھا،آپ نے ایسا کیوں کیا؟انہوں نے فرمایا،تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہےکہ ابنِ عباسؓ سے پوچھا گیا کہ حضور نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انہوں نے کہا، آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔مفتی صاحب اس حدیث سے تو یہ معلوم ہو رہا ہےکہ بغیر کسی عذر کے ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے کیا یہ صحیح ہے؟

 الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت مطہرہ میں چونکہ نمازوں کے اوقات متعین ہیں،جیسا کہ قرآن کریم میں ہے”إِنَّ الصَّلَاۃكَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِین كِتَابًا مَوْقُوتًا(سورت النساء/ 103) ترجمہ: بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے۔اور رسول اللہ نے بھی ایک وقت میں دو نمازوں کے جمع کرنے کو گناہ قرار دیا ہے۔سوال میں موجود حدیث بھی حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ سے مروی ہے اور ایک دوسری حدیث بھی حضرت ابنِ عباسؓ ہی کی حدیث ہے۔ترجمہ:رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کرے تو وہ گناہ کبیرہ کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے پاس آیا۔(جامع ترمذی:1/145،رحمانیہ)پس اگر حدیث ابنِ عباسؓ کو اپنے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے،تو یہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف اور متعارض ہو جائے گی،لہذا حدیث ابنِ عباسؓ کا ایسا معنی بیان کیا جائے گاجو ان اصولوں کے خلاف نہ ہو،مزید یہ کہ خود حضرت ابنِ عباسؓ سے بھی منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ ظہر اور عصر،اور مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی،اس حال میں کہ رسول اللہ نے ظہر کی نماز ظہر کے بالکل آخری وقت میں اورعصر کو عصر کے بالکل ابتدائی وقت میں پڑھا اور مغرب کی نماز کو آخری وقت میں اور عشاء کی نماز کو جلدی پڑھا(نیل الاوطار:3/246،دار الباز )اسی وجہ سے محدثین حضرات نے اسکو “جمع صوری” پر محمول کیا ہے۔یعنی ظہر کو بالکل آخری وقت میں اور عصر کو عصرکے بالکل ابتدائی وقت میں پڑھا جائےاور یہی صورت مغرب اور عشاء کی ہے،لہذا اس طرح دونوں حدیثوں پر عمل بھی ہو جاتاہے اور حدیث کا مرادی معنی بھی معلوم ہو جاتا ہے اورکسی حدیث کا انکار یا اس کا ترک کرنا بھی لازم نہیں آتا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/145،مکتبہ رحمانیہ)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال من جمع بین الصلو تین من غیر عذر فقد اتیٰ بابا من ابواب الکبائر
وفی صحیح التر مذی مع عارضةالاحوذی: (1/303،دار احیاءالتراث)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم قال من جمع بین الصلو تین من غیر عذر فقد اتیٰ بابا من ابواب الکبائر،قال علماءنا الجمع بین الصلوتین فی المطر والمرض رخصۃ وقال أبو حنیفۃ بدعۃ،وباب من أبواب الکبائر کما تقدم فی الحدیث وفیہ اخراج الصلاةعن أوقاتھا التی تثبت لھا ثبوتا متواترا وانما یکون الجمع بعرفۃ حیث نقل تواترا فیکون النسخ للشئ بمثلہ لا بما ھو أقل منہ
وفی حاشیة اعلاءالسنن: (2 /95،ادارة القرآن)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم الظہر والعصر جمیعاً بالمدینۃ فی غیر خوفٍ ولا مطرٍ۔۔۔۔۔۔ قلت،وقد روی ھذا عن الاعمش وھو ثقۃ،فھو محمول علی الجمع الصوری،وحملہ علی الجمع الحقیقی خلاف الجماع
وکذا فی عمد ةالقاری: (5 /30،داراحیاء التراث)
وکذافی فتح الباری: (2 /30،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی فیض الباری:(2/148، رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/327،رشیدیہ)
وکذافی جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی:(1/583،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/9،دار احیاء التراث)
وکذافی آثار السنن :(244،رحمانیہ)
وکذا فی سنن النسائی مع حاشیة الامام السندی:(1/112،رحمانیہ)
وکذا فی البخاری :(1/228، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی القرآن الکریم:(نسآء/103)
وکذافی نیل الاوطار: (3 /246،دار الباز مکة المکرمة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:18

ایام حیض میں طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں،حیض کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے۔اگرچہ ایسا کرنے والا گناہ گار بھی ہوتا ہے۔

لما فی الھدایہ: (2/81،بشری)

واذاطلق الرجل امراتہ فی حالۃ الحیض،وقع الطلاق،لان النھی عنہ لمعنیً فی غیرہ، وھو ما ذکرنا فلا ینعدم مشروعیتہ، ویستحب لہ ان یراجعھا
وفی المبسوط: ( 5،6/ 16، مکتبہ دار المعرفہ)
قال)واذا طلق امر أ تہ وھی حائض فقد أ خطأ السنۃ، والطلاق واقع علیھا
وکذافی بدائع الصنائع: (3/149،رشیدیہ) ،وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/384،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/384،فاروقیہ)،وکذافی الھدایہ مع فتح القدیر:(3/462،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(5/17،رشیدیہ)،وکذا فی کنز الدقائق مع البحر الرائق:(3/421،رشیدیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(4/423،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/3/1444/2/10/2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:36

جنابت کی حالت میں قرآن سننا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جنابت کی حالت میں قرآن کو بغیر چھوئے دیکھنا اور سننا جائز ہے۔

لما فی الفتوی الھندیة(1/39،مکتبہ رشیدیہ)
ولا یکرہ للجنب والحائض والنفساء النظر فی المصحف
وفی بدائع الصنائع : ( 1/ 149، مکتبہ رشیدیہ)
وأما الاحکام المتعلقۃ بالجنابۃ فما لا یباح للمحدث فعلہ من مس المسحف بدون غلافہ ومس الدراھم التی علیھا القرآن ونحو ذلک لا یباح للجنب من طریق الاولی
وکذا الکتاب المصنف: (1 /374،دار الکتب العلمیہ) وکذافی فتح الباری: (1 /529،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الھدایة:(1/62،المیزان) وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/258،البشری)
وکذافی المبسوط:(2/5،دارالمعرفۃبیروت لبنان) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/466،فاروقیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/349، رشیدیہ)
وکذا فی العنایہ:(2/15،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ :(1/258،بشرٰی)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(1/349،رشیدیہ)
وکذافی جامع الترمذی: (1 /129،رحمانیہ)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربع:(1/105،مکتبہ حقانیہ)
وکذافی الجوھرة النیرہ:(1/90،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/539،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیہ:(18/321،علوم الاسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:46