ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا،تو ایک دوسرا شخص آ کروہ بھی نماز پڑھنے لگا ،تو نماز کے دوران ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے” الحمدللہ“ کہا،تو ساتھ والے نے اسکے جواب میں” یرحمک اللہ“ کہہ دیا۔ تو ان دونوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس شخص نے نماز کی حالت میں چھینک کے جواب میں” یرحمک اللہ“ کہااسکی نماز ٹوٹ گئی اور جس نے ”الحمدللہ“ کہا اسکی نماز ہو گئی۔

لما فی الھندیة: (1/ 98 ، رشیدیة)
رجل عطس فقال المصلی” یرحمک اللہ “تفسد صلاتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو عطس فقال لہ المصلی ”الحمدللہ“ لا تفسد لانہ لیس بجواب
وفی فتاوی قاضیخان: (1 / 136،رشیدیة )
ولو عطس المصلی فقال لہ رجل فی الصلاۃ ”الحمدللہ“ روی عن محمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال لاتفسد صلاتہ وان اراد بہ الجواب وان قال ” یرحمک اللہ “ فسدت صلاتہ لان الاول تحمید ولیس بجواب
وکذافی الھدایة: ( 1/ 213، بشری)
وکذا فی کتاب الفقہ : ( 1/ 261، حقانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلة: ( 2/1041 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 2/ 216، فاروقیہ)
وکذافی البنایة: (2 / 493، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة مع البنایة: ( 1/ 409،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق: ( 1/ 156 ، امدادیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1 / 120،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:40

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہرعصر اور مغرب عشاء کومدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کیا۔وکیع کی روایت میں ہیں(سعید نے کہا) میں نے ابنِ عباسؓ سے پوچھا،آپ نے ایسا کیوں کیا؟انہوں نے فرمایا،تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہےکہ ابنِ عباسؓ سے پوچھا گیا کہ حضور نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انہوں نے کہا، آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔مفتی صاحب اس حدیث سے تو یہ معلوم ہو رہا ہےکہ بغیر کسی عذر کے ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے کیا یہ صحیح ہے؟

 الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت مطہرہ میں چونکہ نمازوں کے اوقات متعین ہیں،جیسا کہ قرآن کریم میں ہے”إِنَّ الصَّلَاۃكَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِین كِتَابًا مَوْقُوتًا(سورت النساء/ 103) ترجمہ: بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے۔اور رسول اللہ نے بھی ایک وقت میں دو نمازوں کے جمع کرنے کو گناہ قرار دیا ہے۔سوال میں موجود حدیث بھی حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ سے مروی ہے اور ایک دوسری حدیث بھی حضرت ابنِ عباسؓ ہی کی حدیث ہے۔ترجمہ:رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کرے تو وہ گناہ کبیرہ کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے پاس آیا۔(جامع ترمذی:1/145،رحمانیہ)پس اگر حدیث ابنِ عباسؓ کو اپنے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے،تو یہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف اور متعارض ہو جائے گی،لہذا حدیث ابنِ عباسؓ کا ایسا معنی بیان کیا جائے گاجو ان اصولوں کے خلاف نہ ہو،مزید یہ کہ خود حضرت ابنِ عباسؓ سے بھی منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ ظہر اور عصر،اور مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی،اس حال میں کہ رسول اللہ نے ظہر کی نماز ظہر کے بالکل آخری وقت میں اورعصر کو عصر کے بالکل ابتدائی وقت میں پڑھا اور مغرب کی نماز کو آخری وقت میں اور عشاء کی نماز کو جلدی پڑھا(نیل الاوطار:3/246،دار الباز )اسی وجہ سے محدثین حضرات نے اسکو “جمع صوری” پر محمول کیا ہے۔یعنی ظہر کو بالکل آخری وقت میں اور عصر کو عصرکے بالکل ابتدائی وقت میں پڑھا جائےاور یہی صورت مغرب اور عشاء کی ہے،لہذا اس طرح دونوں حدیثوں پر عمل بھی ہو جاتاہے اور حدیث کا مرادی معنی بھی معلوم ہو جاتا ہے اورکسی حدیث کا انکار یا اس کا ترک کرنا بھی لازم نہیں آتا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/145،مکتبہ رحمانیہ)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال من جمع بین الصلو تین من غیر عذر فقد اتیٰ بابا من ابواب الکبائر
وفی صحیح التر مذی مع عارضةالاحوذی: (1/303،دار احیاءالتراث)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم قال من جمع بین الصلو تین من غیر عذر فقد اتیٰ بابا من ابواب الکبائر،قال علماءنا الجمع بین الصلوتین فی المطر والمرض رخصۃ وقال أبو حنیفۃ بدعۃ،وباب من أبواب الکبائر کما تقدم فی الحدیث وفیہ اخراج الصلاةعن أوقاتھا التی تثبت لھا ثبوتا متواترا وانما یکون الجمع بعرفۃ حیث نقل تواترا فیکون النسخ للشئ بمثلہ لا بما ھو أقل منہ
وفی حاشیة اعلاءالسنن: (2 /95،ادارة القرآن)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم الظہر والعصر جمیعاً بالمدینۃ فی غیر خوفٍ ولا مطرٍ۔۔۔۔۔۔ قلت،وقد روی ھذا عن الاعمش وھو ثقۃ،فھو محمول علی الجمع الصوری،وحملہ علی الجمع الحقیقی خلاف الجماع
وکذا فی عمد ةالقاری: (5 /30،داراحیاء التراث)
وکذافی فتح الباری: (2 /30،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی فیض الباری:(2/148، رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/327،رشیدیہ)
وکذافی جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی:(1/583،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/9،دار احیاء التراث)
وکذافی آثار السنن :(244،رحمانیہ)
وکذا فی سنن النسائی مع حاشیة الامام السندی:(1/112،رحمانیہ)
وکذا فی البخاری :(1/228، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی القرآن الکریم:(نسآء/103)
وکذافی نیل الاوطار: (3 /246،دار الباز مکة المکرمة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:18

میں ایک عرصے سے فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے بعد اور سورۃ ملاتا رہا ہوں لا علمی کی وجہ سے تو اب ان نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں آپ کی نمازیں ہو گئی ہیں ،لیکن سنت طریقہ یہ ہے کہ صرف فاتحہ پڑھی جائے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/310،بیروت)
و اذا قرأ فی الاخریین من الظھر او العصر الفاتحۃ و السورۃ ساھیا، فلا سھو علیہ ،ھو المختار
وفی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
ولو قرأ فی الاخریین الفاتحۃ و السورۃ لا یلزمہ السہو وھو الاصح
وکذافی الفتاوی التاتار خانیة:(2/392،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/516،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(460،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/200،قدیمی)
وکذافی فتاوی النوازل:(101،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/4/2023/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:18

فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد غلطی سے کوئی اور سورۃ ساتھ ملا دی تو کیا اب سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی نہیں۔

لما فی الھندیة:(1/126،رشیدیہ)
ولو قرأ فی الاخریین الفاتحۃ و السورۃ لا یلزمہ السہو وھو الاصح
وفی المحیط البرھانی:(2/310،بیروت)
و اذا قرأ فی الاخریین من الظھر او العصر الفاتحۃ و السورۃ ساھیا، فلا سھو علیہ ،ھو المختار
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/392،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/831،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(101،حقانیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/167،رشیدیہ)
وکذافی بدئع الصنائع:(1/406،رشیدیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدر المختار:(2/186،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/200،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/4/2023/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:17

میں اپنے بیٹے کے گھر گئی ہوئی ہوں اور شرعی سفر بھی بنتا ہے اور میری وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہے تو اب میری نماز کا کیا حکم ہےقصر ہوگی یا پوری؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قصر ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1/139،رشیدیہ)
ولا یزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ او قریۃ خمسۃ عشر یوما او اکثر—– وان نوی الاقامۃ أقل من خمسۃ عشر یوما قصر
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار:(2/125،سعید)
ینوی اقامۃ نصف شھر )حقیقۃ او حکما —– (بموضع واحد(صالح لھا)من مصر او قریۃ او صحراء دارنا و ھو من اھل الاخبیۃ (فیقصران نوی) الاقامۃ (فی أقل منہ)ای فی نصف شھر
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(425،قدیمی)
وکذافی غنیة المتملی:(539،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/388،بیروت)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/164،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/261،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/217،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/4/2023/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:16

نابینا آدمی کی امامت کا کیا حکم ہے درست ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابینا کی امامت مکروہ تنزیہی ہے،مگر جب اس سے زیادہ علم والا کوئی اور نہ ہو تو پھر اس کی امامت بہتر ہے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(302،قدیمی)
و کرہ امامۃ العبد)۔۔۔۔۔۔۔( ولأعمی) لعدم اھتدائہ الی القبلۃ وصون ثیابہ عن الدنس وان لم یوجد افضل منہ فلا کراھۃ
وفی البحر الرائق:(1/610،رشیدیہ)
وقید کراھۃ امامۃ الاعمی فی المحیط وغیرہ بان لا یکون افضل فان کان افضلھم فھو اولی وعلی ھذا یحمل تقدیم ابن ام مکتوم لانہ لم یبق من الرجال الصالحین للامامۃ فی المدینۃ احد افضل منہ حینئذ
وکذافی المحیط البرھانی:(2/179،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(1/560،سعید)
وکذافی البسوط:(1/41،بیروت)
وکذافی الفوہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1206،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المستملی:(514،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/387،رشیدیہ)
وکذافی اللباب:(90،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2023/1/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:15

پٹرول پمپ کی مسجد میں نماز جمعہ ہو رہی تھی مسجد سے باہر کچھ لوگوں نے بارش کی وجہ سے پانچ صفیں چھوڑ کر چھت کے نیچے نماز ادا کی تو کیا ان کی نماز ادا ہو گئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جو صفیں مسجد سے باہر ہیں ان کی نماز نہیں ہوئی کیونکہ صفوں کے درمیان اتصال نہیں پایا گیا۔

لما فی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(2/401،رشیدیہ)
ویمنع من الاقتداء)۔۔۔۔۔۔۔(فی الصحراء) او فی مسجد کبیر جدا کمسجد القدس (یسع صفین) فاکثر الا اذا اتصلت الصفوف فیصح مطلقا
وفی البحرالرائق:(1/635،رشیدیہ)
و لو اقتدی بالامام فی الصحراء وبینھم ما قدر صفین فصاعدا لا یصح الاقتداء
وکذافی الھندیة:(1/88،رشیدیہ)
وکذافی غنیة المستملی:(525،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1249،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/362،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/192،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/270،الطارق)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(292،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:60

ایک شخص اپنے گھر سے مسافت سفر واقع جیل میں قید ہوا ،اس کو معلوم ہے کہ تین ماہ بعد رہا ہونا ہےتو اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں قیدی مکمل نماز ادا کرے گا۔

لما فی الموسوعة الفقہیة : (4 /222 ،علوم اسلامیہ )
الاسیرالمسلم فی ایدی الکفاران عزم علی الفرار من الاسر عند التمکن من ذلک،وکان الکفار أقاموا بہ فی موضع یریدون المقام فیہ المدۃ التی تعتبر اقامۃ،ولا تقصر بعدھا الصلوۃ لزمہ ان یتم الصلاۃ
وفی المحیط البرھانی: (2 /395 ،بیروت )
ولاسیر من المسلمین فی ایدی اھل الحرب ھم لہ قاھرون ، ان أقاموا بہ فی موضع یریدون ان یقیموا بہ خمسۃ عشر یوما فعلیہ ان یکمل الصلاۃ
وکذافی التاتار خانیة : (2 /503 ،فاروقیہ )
وکذا فی الولوالجیة: (1 /134 ،الحرمین شریفن )
وکذا فی فتح الملھم: (4 /60 ،دار العلوم کراچی )
وکذا فی الھندیة: (1 /139 ،رشیدیہ )
وکذا فی فتاوی قاضی خان: (1 /166 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة: (2 /502 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2 /1367 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:59

امام جب رکوع کی حالت میں ہواور مسبوق نماز میں شریک ہوا تو تکبیر تحریمہ کیلئے قیام ضروری ہے یا رکو ع میں جاتے ہوے تکبیر ِتحریمہ کہہ لے تو کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تکبیر ِتحریمہ کیلئے قیام شرط ہے،لہذا رکوع میں جاتے ہوئے اس طرح تکبیر تحریمہ کہنا کہ لفظ ”اللہ“ قیام میں اور لفظ ” اکبر“ رکوع میں جا کر ادا ہویہ درست نہیں اور نہ آدمی کی اس طرح نماز میں شرکت درست ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/337،رشیدیہ)
ثم شرط صحۃ التکبیر أن یوجد فی حالۃ القیام فی حق القادر علی القیام سواء کام اماما او منفردا او مقتدیا حتی لو کبر قاعدا ثم قام لا یصیر شارعا ولا وجد الامام فی الرکوع او السجود او القعود ینبغی ان یکبر قائم ثم یتبہ فی الرکن الذی ھو فیہ ولو کبر للافتتاح فی الرکن الذی ھو فیہ لا یصیر شارعا لعدم التکبیر قائم مع القدرۃ علیہ
وفی البحر الرئق:(1/508،رشیدیہ)
ولو قال المصنف فرضھا التحریمۃ قائما لکان اولی لان الافتتاح لا یصح الا فی حالۃ القیام حتی لو کبر قاعدا ثم قام لا یصیر شارعا لان القیام فرض حالۃ الافتتاح کما بعدہ ولو جاء الی الامام وھو راکع فحنی ظھرہ ثم کبر ان کان الی القیام اقرب یصح وان کان الی الرکوع اقرب لا یصح
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/202،الطارق)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/53،فاروقیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/194،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/37،بیروت)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/216،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/67،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(2/158،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیا ء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلدنمبر:29 فتوی نمبر:65

صلوۃ الحاجت میں سجدہ کی حالت میں اپنی زبان میں یعنی اردو یا پنجابی میں دعا کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اکثر اکابر علماء کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں غیر عربی زبان مین دعا کرنا مکروہ تحریمی ہے۔مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں۔قاموس الفقہ:(3/413،زمزم)،فقہی مقالات:(3/تا127113،میمن اسلامک)احسن الفتاوی:(10/390، سعید)،فتاوی حقانیہ:(3/209،جامعہ دار العلوم حقانیہ)،عمدة الفقہ:(4/104،زوار اکیڈمی)، اعلاءالسنن:(4/149،ادارة القرآن)، ماخوذ از تبویب:(جلد:3/فتوی:336)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:62