بیس رکعت تراویح کا کیا حکم ہے، یہ سنت ہے یا مستحب؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیس رکعت تراویح سنتِ مؤکدہ ہے ہیں اور اسی پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا اجماع اور اتفاق ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (2 /43 ،ایچ ایم سعید)
التراویح سنۃ ) مؤکدۃ لمواظبۃالخلفاءالراشدین
وفی الشامیة :(2/43،ایچ ایم سعید)
قولہ لمواظبۃ الخلفاءالراشدین) ای اکثرھم، لان المواظبۃ علیھا وقعت فی اثناء خلافۃ عمر رضی اللہ تعالی عنہ ، ووافقہ علی ذلک عامۃ الصحابۃ ومن بعدھم الی یومنا ھذا بلا نکیر، وکیف لا وقد ثبت عنہ ﷺ: ((علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضواعلیھا بالنواجذ))
وفی السنن الکبری للبیھقی:(2/698،بیروت)
عن ابن عباس قال کان النبی ﷺ یصلی فی شھر رمضان فی غیر جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر
وفی المؤطا لامام مالک:(98،قدیمی)
عن یزید بن رومان انہ قال کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلث و عشرین رکعۃ
وفی العرف الشذی علی ھامش الترمذی للعلامة انورشاہ الکشمیری:(1/286،رحمانیہ)
باب ما جاء فی قیام شھر رمضان۔ ای التراویح لم یقل احد من الائمۃ الاربعۃ باقل من عشرین رکعۃ فی التراویح والیہ جمہور الصحابۃ رضوان اللہ عنھم ۔۔۔۔۔۔ ثم ماخوذ الائمۃ الاربعۃ من عشرین رکعۃ ھو عمل الفاروق الاعظم واما فعل الفاروق فقد تلقاہ الامۃ بالقبول والستقر امرالتراویح فی السنۃ الثانیۃ فی عہد عمر رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔ اقول ان سنۃ الخلفاء الراشدین ایضا تکون حسنۃ الشریعۃ لما فی الاصول ان السنۃ سنۃ الخلفاء وسنتہ علیہ السلام وقد صح فی الحدیث علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین فیکون فعل الفاروق الاعظم ایضا سنۃ۔ ثم قیل ان شروع التراویح اول الیل من سنۃ عمر رضی اللہ عنہ واقول انہ من سنۃ النبیﷺ کما یدل حدیث الباب وحدیث عائشۃ وجابر وزید۔ثم ھل یجب بلوغ عشرین رکعۃ الی صاحب الشریعۃ ام یکفی فعل عمر ولا یطلب رفعہ الی صاحب الشریعۃ ففی التاتارخانیۃ سال ابو یوسف ابا حنیفۃ ان اعلان عمر بعشرین رکعۃ ھل کان لہ عہد منہ علیہ السلام قال ابو حنیفۃ ماکان عمر مبتدعاای لعلہ یکون لہ عہد فدل علی ان عشرین رکعۃ لا بد من ان یکون لہااصل منہ علیہ السلام ولم یبلغنا بالاسناد القوی
وکذا فی البدائع:(1/644،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (2 /117 ،رشیدیہ)
وفی السنن الکبری للبیھقی:(2/699،بیروت)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/227،رحمانیہ)
وکذافی السنن للترمذی:(221،دارالکتب العلیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /315 ،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1088،رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح:(1/411،قدیمی)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(1/411،قدیمی)
وکذافی المصنف لا بن ابی شیبة:(2/165،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی اعلاءالسنن:(7/66،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/04/3/13/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:168

ایک شخص نے سجدہ سے اٹھتے ہوئے ”سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ“ کہدیا تو کیا اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ جبکہ اس نے سجدہ سہو بھی نہیں کیا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص کی نماز ہوگئی ، کیونکہ سجدہ سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہنا سنت ہے اور سنت کے چھوٹنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔

لما فی غنیة المستملی:(455،رشیدیہ)
فلا یجب بترک السنن والمستحبات کالتعوذ والتسمیۃ والثناء والتامین وتکبیرات الانتقالات والتسبیحات
وفی البدائع:(1/407،رشیدیہ)
واما سائرالاذکار من الثناء والتعوذ وتکبیرات الرکوع والسجود وتسبیحاتھما فلا سہو فیھا عند عامۃ العلماء
وکذافی البنایہ: (2 /734،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة: (1 /126،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:( 1/ 519، رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (2 /174،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/309،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/178،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /389،فاروقیہ)
وکذافی کتاب الاصل المعروف بالمبسوط:(1/213،عالم الکتب)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:82

ایک ضعیف العمرشخص جو تقریبا ایک سال سے صاحب فراش ہے۔ بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہر طرح کی نقل و حرکت سے قاصر ہے، حتی کہ سر کے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ ذہنی کیفیت اس قدر متاثر ہے کہ نماز کے وقت کا بھی انہیں اندازہ نہیں ہوتا، چنانچہ کسی بھی وقت گھر والوں سے پوچھ لیتے ہیں کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے یا نہیں؟ اگر نماز کا وقت ہوگیا ہو تو گھر والے مریض کو تیمم کروانے کے بعد نیت بندھوا کہ ان کے ہاتھ خود ان کے سینے پر رکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ان کی نماز کے پوری ہونے یا نہ ہونے کا علم نہیں ہوتا۔نیز مریض کی یاد داشت بھی متاثر ہے اور بات چیت سے بھی قاصر ہے،لہذا اس مریض کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر یہ مریض اپنے مرض اور بڑھاپےکی وجہ سے اتنا متاثر ہے کہ سر کے اشارے سے بھی نماز ادا نہیں کر سکتا تو اس سے نماز کا حکم ساقط ہوجائے گا اور اس پر فدیہ بھی لازم نہ ہوگا۔

لما فی الھندیة: (1 /137،رشیدیہ )
واذا عجز المریض عن الایماء با الراس فی ظاہرالروایۃ یسقط عنہ فرض الصلاۃ ولا یعتبر الایماء بالعینین والحاجبین ۔۔۔۔۔۔ وان مات من ذالک المرض لا شیئ علیہ ولا یلزمہ فدیۃ
وفی البدائع:( 1/287 ،رشیدیہ )
ولوعجز عن الایماء- وھو تحریک الراس-فلا شیئ علیہ عندنا ۔۔۔۔۔۔ ثم اذا سقطت عنہ الصلاۃ بحکم العجز ، فان مات من ذالک المرض لقی اللہ تعالیٰ ولا شیئ علیہ لانہ لم یدرک وقت القضاء
وکذافی المحیط: (3 /28 ،بیروت )
وکذافی البحر:(2 /204 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیة:(2 /687 ،رشیدیہ )
وکذافی مجمع الا نھر: (1 /229 ،المنار )
وکذافی عمد ة الفقہ: (2 /406 ،زوار اکیڈمی )
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(2 /687 ،رشیدیہ )
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة: (1 /172 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/01/31/8/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:137

اگر کسی کو دعا ءِقنوت یاد نہ ہو تو وہ وتروں میں کونسی دعا پڑھے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس کو دعاء قنوت یاد نہ ہو وہ ” رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وّ فِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ “ پڑھے، یا تین مرتبہ ”اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ“ پڑھے،یا پھر تین مرتبہ ” یَارَبِّ “ پڑھےاور جلد از جلد مسنون دعا یاد کرے۔

لما فی الشامیہ:(2/7،سعید)
ومن لا یحسن القنوت یقول: ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ – الآیۃ: وقال ابواللیث یقول: اللھم اغفر لی یکررھا ثلاثا، وقیل یقول : یارب ثلاثا
و فی غنیة المتملی: (418،رشیدیہ)
ومن لا یحسن القنوت یقول: ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار، وقال ابواللیث یقول: اللھم اغفر لی یکررھا ثلثا، وقیل یقول: یارب ثلثا
وکذا فی مجمع الانھر:(1/92،المنار)
وکذافی فتاوی النوازل:(94،حقانیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /111 ،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/446،رشیدیہ)
و کذا فی البحرالرائق: (2/74،رشیدیہ)
وکذافی فقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/294،الطارق)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(1/280،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة:(1/106،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/1/3/10/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:194

نماز کے دوران اگربلغم آجائے تو اسے نگل سکتے ہیں یا تھوکنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز کے دوران آنے والی بلغم نگلنے میں کوئی حرج نہیں۔ تا ہم اگر تھوکنا ہو تو پھر اگر نمازی مسجد میں ہے تو کم سےکم حرکت کرتے ہوئے کسی کپڑے یا ٹشووغیرہ میں تھوک دے اور اگر وہ مسجد کے علاوہ کہیں ہے تو بائیں طرف یا قدموں کے نیچےتھوک سکتا ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/124،رحمانیہ)
عن أنس بن مالك، أن النبی صلى اللہ علیہ وسلم رأى نخامۃ فی القبلۃ، فشق ذلك علیہ حتى رُءِیَ فی وجہہ، فقام فحکہ بیدہ، فقال: إن أحدكم إذا قام فی صلاتہ فإنہ یناجی ربہ، أو إن ربہ بینہ وبین القبلۃ، فلایزقن أحدكم قبل قبلتہ، ولكن عن یسارہ أو تحت قدمہ ثم أخذ طرف ردائہ، فبصق فیہ ثم رد بعضہ على بعض، فقال:أویفعل ھکذا
وفی فتح الباری:(1/672،قدیمی)
وبزق تحت رجلہ ودلک ۔۔۔۔۔۔ ولو کا نت تحت رجلہ مثلاً شیئ مبسوط او نحوہ تعین الثوب، ولو فقد الثوب مثلاً فلعل بلعہ اولی من ارتکاب المنھی عنہ
وفی الصحیح للمسلم:(1/249،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری (رضی اللہ عنہ) ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رای نخامۃ فی قبلۃ المسجد فحکھا بحصاۃ ثم نھی ان یبزق الرجل عن یمینہ وامامہ ولکن یبزق عن یسارہ او تحت قدمہ الیسری
وکذا فی البدائع:(1/507،رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(2/453،التجاریہ )
وکذافی فتح الملہم:(3/396،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/967،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(348،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
سید ممتاز شاہ بخاری
2023/1/2/9/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 198

کسی ویڈیویا آڈیو میں ریکارڈ شدہ آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہےیا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں۔

لما فی الھندیة:(1/132،رشیدیہ)
ولا تجب اذا سمعھا من طیر ھوالمختار۔۔۔۔۔۔وان سمعھا من الصدی لا تجب علیہ کذا فی الخلاصۃ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/287،طارق)
ولا تجب السجدۃ علی السامع، الا اذا سمعھا سماع تلاوۃ صحیحۃ، فلا تجب بالسماع من مجنون او نائم او طیر او صبی غیر ممیز
وکذا فی البدائع:(1/440،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(2/95،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/462،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/362،بیروت)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/184،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(485،قدیمی)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/324،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/6/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:87

ایک شخص کی انگلی زخمی ہے اور اس پر پٹی لگی ہوئی ہے، اس آدمی نے وضو کیا اوروہ ہاتھ بھی دھویا لیکن جس انگلی پر پٹی تھی اس پر مسح نہیں کیا اور نماز پڑھ لی تو کیا نماز درست ہوگئی یا وہ شخص دوبارہ وضوکرےاور اس انگلی پر مسح کر کے دوبارہ نماز ادا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر پٹی پر مسح نقصاندہ نہیں تھا ، پھر بھی چھوڑدیا تو وضو نہیں ہوا ،لہذا نماز بھی نہ ہوئی۔ اس لیے وہ شخص دوبارہ وضو کرے اور پٹی پر مسح کرکے دوبارہ نماز ادا کرے۔

لما فی ردالمحتار:(1/517،رشیدیہ)
ویترک المسح کالغسل ای یترک المسح علی الجبیرۃ کما یترک الغسل لما تحتھا ، وھذا ھوالرابع ۔قولہ:(ان ضر) المراد الضرر المعتبرلا مطلقۃ،لان العمل لا یخلو عن أدنی ضرر وذالک لا یبیح الترک عن((شرح المجمع))۔ قولہ:(والا لا یترک) ای:علی الصحیح المفتی بہ کما مر
وفی البحرالرائق:(1/321،رشیدیہ)
فاعلم انہ لا خلاف فی انہ اذاکان المسح علی الجبیرۃ یضرہ انہ یسقط عنہ المسح لان الغسل یسقط بالعذر فالمسح اولٰی، وانما الخلاف فیما اذا کان لایضرہ ففی المحیط: ولو ترک المسح علی الجبائر والمسح یضرہ جاز، فان لم یضرہ لم یجز ترکہ، ولا تجوزالصلاۃبدونہ عند ابی یوسف،ومحمد ولم یحک فی الاصل قول ابی حنیفۃ
وکذا فی البدائع :(1/90،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/53،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(1/603،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/53،امدایہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(1/502،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/359،بیروت)
وکذافی الولوالجیہ:(1/64،الحرمین شریفین)
خوکذافی الدرالمنتقی فی شرح الملتقی:(1/76،مکتبة المنار)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار:(1/517،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:88

کہ فرض نماز کے لیے اور جمعہ کی نماز کے لیے کتنے مقدیوں کا ہونا شرط ہے،جس سے جماعت درست ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فرض نماز کے لیے امام کے علاوہ ایک مقتدی اور جمعہ کی جماعت کے لیے امام کے علاوہ تین مقتدیوں کا ہونا شرط ہے

لما فی المحیط البرھانی: (2 /446 ،دارأحیاءتراث العربی )
والشرط الرابع الجماعۃ،فظاھر قولہ تعالیٰ:(فَاسْعَوْاإلی ذِکْرِاللہِ) فھذاخطاب للجماعۃ،ولأنھاسمّیت جمعۃ،وفی ھذاالاسم مایدل علی اعتبارالجماعۃفیہا،ثم إن العلماءرحمھم اللہ تعالیٰ اختلفوافیما بینہم فی تقدیرالجماعۃ،قال أبوحنیفۃ ومحمدرحمھمااللہ تعالیٰ:ھم ثلاثۃنفرسوی الإمام،وعن أبی یوسف رحمہ اللہ تعالی فی غیرروایۃالأصول اثنان سوی الإمام
وفی الھندیہ: (1 /148 ،الرشیدیہ )
ومنھاالجماعۃوﺃقلھاثلاثۃسوی الامام کذافی التبین
وکذافی بدائع الصنائع : (1 /600 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع : (1/385 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /273 ،فاروقیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (2 /344 ، رشیدیہ)
وکذافی کنزالدقائق مع البحرائق: (2 /262 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (3/27 ، رشیدیہ )
وکذافی المبسوط: (2 /24 ،دارالمعرفہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /148 ،الرشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:32

 

اگر بیٹا جماعت کروائےتوماں،باپ،بہن اوربھائی ایک صف میں کھڑےہوسکتےہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں،امام کے پیچھےپہلےمرد کھڑےہوں اورعورتیں اس سےپچھلی صف میں کھڑی ہوں۔

لما فی الھندیة: (1 /88 ،رشیدیہ)
وان کان معہ رجل وامرأۃأقام الرجل عن یمینہ والمرأۃخلفہ وان کان رجلان وامراۃاقام الرجلین خلفہ والمراۃ ورأھما۔۔۔۔۔( بعدالصفحۃ)محاذاۃالمرأۃالرجل مفسدلصلاۃ
وفی الشامیہ: (2 /368 ،رشیدیہ)
قولہ:(اماالواحدۃفتتأخر)فلوکان معہ رجل أیضا یقیمہ عن یمینہ والمراۃخلفھماولورجلان یقیمھما خلفہ والمراۃخلفھما
وکذا فی البحرالرائق: (1 /616 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/202،بیروت)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/163،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/268،طارق)
وکذا فی کنزالدقائق:(29،حقانیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/200،بشرٰی)
وکذا فی البدائع:(1/392،رشیدیہ)
وکذافی مختصرالقدوری:(116،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:47

فی جیدھا حبل من مسد کو فی دینھا حبل مسد پڑھ دیا تو نماز کا حکم؟

 

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں نمازفاسد ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: (1 /80 ،رشیدیہ)
وان تغیر المعنی نحوأن یقرأان الابرارلفی جحیم وان الفجار لفی نعیم فاکثر المشایخ علی انھا تفسد وھوالصحیح ھکذا فی الظھیریۃ
وفی المحیط البرھانی:(2/73،بیروت)
وإن کان یغیر المعنی،یفسد صلاۃ بلا خلاف نحو ان یقرأ:الذین آمنواوکفرواباللہ ورسولہ أولئک ھم الصدیقون
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /96 ،فاروقیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان:(1/152،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1037،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /473 ،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(1/268،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/112، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 193