قیام ہرنمازمیں فرض ہے یانہیں؟مثلافرضوں میں،سنتوں میں،وترمیں اورنفلوں میں.

الجواب حامداً ومصلیاً

فرضوں،وتراورفجرکی سنتوں میں قیام فرض ہے،دیگرسنتوں اورنفلوں میں فرض نہیں ہے۔

لما فی نورالایضاح مع شرحہ علی ھامش حاشیة الطحطاوی: (402 ،قدیمی )
یجوزالنفل)انماعبربہ لیشمل السنن المؤکدۃ وغیرھافتصح اذاصلاھا(قاعدامع القدرۃ علی القیام) وقدحکی فیہ اجماع العلماءوعلی غیرالمعتمد یقال:الاسنۃ الفجرلماقیل بوجوبھاوقوۃ تاکدھا
وفی الشامیة: (1 /444 ،سعید )
ومنھاالقیام)بحیث لومدیدیہ لاینال رکبتیہ ومفروضہ وواجبہ ومسنونہ ومندوبہ بقدرالقراءۃ فیہ (فی فرض) وملحق بہ کنذروسنۃ فجرفی الاصح (لقادرعلیہ)وعلی السجود،فلوقدرعلیہ دون السجودندب ایماؤہ قائدا
وکذافی الھندیة: (1 /69 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (1 /111 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (1 /509 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: ( 1/ 202 ،الطارق )
وکذافی مجمع الانھر: ( 1/ 130 ،المنار )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /104 ،امدادیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /202 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/23/9/1/1444
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر:162

ایک دن میری ظہرکی پہلی چارسنتیں رہ گئیں،فرضوں کے بعدمیں نے پہلے چارسنت پڑھ لیں اورپھردو۔بعدمیں مجھے اس کا خیال آیاکہ پہلے تودوسنتیں پڑھنی تھیں اب چارسنتوں کودوبارہ پڑھناضروری ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اصل طریقہ تویہی ہے کہ ایسی صورت میں فرضوں کے بعدپہلے دورکعت پڑھیں اورپھرچاررکعت،لیکن اگرکبھی اس کے خلاف ہوجائے توپھردوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /112 ،رشیدیة )
واماالاربع قبل الظھراذافاتتہ وحدھابان شرع فی صلاۃ الامام ولم یشتغل بالاربع فعامتھم علی انہ یقضیھابعدالفراغ من الظھرمادام الوقت باقیاوھوالصحیح ھکذافی المحیط،وفی الحقائق یقدم الرکعتین عندھماوقال محمدرحمہ اللہ یقدم الاربع وعلیہ الفتوی کذافی السراج الوھاج
وفی الشامیة: (2 /621 ،دارالمعرفة )
ان خاف فوت رکعۃ یترکھاویقتدی (ثم یاتی بھا)علی انھاسنۃ(فی وقتہ)ای:الظھر(قبل شفعہ)عندمحمد،وبہ یفتی، اقول:وعلیہ المتون،لکن رجح فی الفتح تقدیم الرکعتین
وکذافی التاتارخانیة: (2 /302 ،فاروقیة ) وکذافی الجوھرة النیرة: (1 /188 ،قدیمی )
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /235 ،داراحیاء ) وکذافی اعلاءالسنن: (7 / 137 ،ادارة القرآن )
وکذافی تحفة الاحوذی: (2 /512 ،قدیمی ) وکذافی غنیة المتملی: (399 ،رشیدیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /301 ،رشیدیة )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:179

ایک آدمی کی پانچ نمازیں قضا ہوگئی ایک دن کی اب آیا یہ شخص ترتیب کے ساتھ ایک وقت میں پانچوں نمازیں پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرمذکورہ شخص کی بلوغت کے بعدان پانچ نمازوں کے علاوہ اورکوئی نماز قضا نہیں ہوئی تویہ شخص ”صاحب ترتیب“ہے،اس کے لیے قضا نمازیں ترتیب سے پڑھنالازم ہے اوراگر”صاحب ترتیب“نہ ہوتوپھرجب چاہے اورجیسے چاہے پڑھے۔

لما فی الھدایة: (1 /244 ،بشری )
ولوفاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء،کما وجبت فی الاصل؛لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم شغل عن اربع صلوات یوم الخندق،فقضاھن مرتبا،ثم قال ،صلوکمارایتمونی اصلی،الاان تزید الفوائت علی ست صلوات؛لان الفوئت قد کثرت فیسقط الترتیب فیمابین الفوائت نفسھا،کمایسقط بینھا وبین الوقتیۃ
وفی البنایة: (2 / 708 ،رشیدیة )
ولوفاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء کماوجبت فی الاصل)ارادبھذاان بیان الترتیب کماانہ فرض بین الوقتیۃ والفائتۃفکذلک بین الفوائت نفسھا،الاان یزید علی ست
وکذافی الفقہ الاسلامی: (2 /1156 ،رشیدیة ) وکذافی الھندیة: (1 /123 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: (2 /65 ،ایچ،ایم سعید ) وکذافی المبسوط: ( 1/ 154 ،دارالمعرفة )
وکذافی التاتارخانیة: (2 /445 ، فاروقیة) وکذافی فتح القدیر: (1 /507 ،رشیدیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /214 ،المنار ) وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /304 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/1444/5/17
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:133

نماز شروع کرتے وقت ایک شخص نے زبان سے دو رکعت فرض کی نیت کی لیکن تکنیر کے بعد یاد آیا کہ میں عصر کی نماز پڑھ رہا ہوں،اب وہ شخص دل میں چار رکعت کی نیت کر لیتا ہے تو کیا اسکی نماز درست ہوگئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر صرف زبان سے غلطی ہوئی ہےتو نماز ہوگئی اور اگر دل میں دو ہی کا ارادہ تھا تو نماز لوٹانی پڑے گی۔

لما فی فتح القدیر: (1/273 ،رشیدیہ )
فاذا ذکرہ بلسانہ کان عونا علی جمعہ ثم رایتہ فی التجنیس قال:والنیۃ بالقلب لانہ عملہ،والتکلم لا معتبربہ
وفی التاتارخانیہ: (2 /43 ،فاروقیہ )
وسئل ایضاً عمن یقول بلسنہ عند الشروع فی الصلاۃ قبل التکبیر”درآمدم بنماز“اویقول”اقتداءکردم بامام“ھل یصح ھذا وانہ اخبار عن الماضی؟قال:المعتبر قصد القلب،فان کان من قصدہ انہ یدخل فی صلاۃ نفسہ او شرع فی الصلاۃ متابعا للامام فیھا یکفیہ ذلک،ولایضرہ خلل اللفظ کما لا یضرہ عدم اللفظ
وکذافی شرح الحموی: (1 /157 ،ادارہ القرآن )
وکذافی التاتارخانیہ: (1 /40 ،فاروقیہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /66 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 / 201 ،الطارق )
وکذافی النھر الفائق: (1 / 187 ، قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الھدایہ: (1 /158 ،بشریٰ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /330 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (2 /156 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444/9/11/2022
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:78

ایک طرف سلام پھیرنے کے بعدبات کرلی تونمازکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں سلام واجب ہیں لہذاواجب چھوڑنے کی وجہ سے نمازلوٹاناضروری ہے۔

لما فی الشامیة: (2 /199 ،رشیدیة )
ولفظ السلام)مرتین،فالثانی واجب علی الاصح
وفی الفقہ الحنفی: ( 1/ 209 ،الطارق )
الواجب ماکان دون الفرض وفوق السنۃ ولاتفسد الصلاۃ بترکہ،ویجب اعادۃ الصلاۃبترک واجب من واجباتھاعمدا،واذاترکہ سھوایجب اعادتھا ان لم یسجدلہ سجودالسھو،ویجب علیہ الاعادۃ فی وقت الصلاۃاوخارجہ،واذالم یعدالصلاۃ واصرعلی ذلک یکون فاسقا آثما وواجبات الصلاۃ ثمانیۃ عشر، وھی۔۔۔۔۔۔۔الثامن عشرلفظ السلام مرتین
وکذافی الھندیة: (1 /72 ،رشیدیة ) وکذافی الھدایة: (1 /187 ،بشری )
وکذافی فتح القدیر: (1 /328 ،رشیدیة ) وکذافی التجرید: (2 /611 ،محمودیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /201 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (2 /337 ،رشیدیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (251 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:93

میں ایک دفعہ نمازپڑھارہاتھادرمیان میں یادآیاکہ میراوضونہیں ہے میں نے نمازتوڑدی وضوکیاپھرآیااب آیاتکبیردوبارہ کہنی پڑے گی یاپہلی پراکتفاء کریں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلی تکبیرکافی ہے دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /53 ،رشیدیة )
حضرالامام بعد اقامۃ المؤذن بساعۃ اوصلی سنۃ الفجربعدھالایجب اقامتھا
وفی الدرالمختار: (1 / 400 ،سعید )
صلی السنۃ بعدالاقامۃ اوحضرالامام بعدھالایعیدھا
وکذافی بدائع الصنائع: (1 / 374 ، رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر: (1 /118 ،المنار )
وکذافی فتح القدیر: (1 /258 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: (1 / 400 ،سعید )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /187 ،رشیدیة )
وکذافی فی الفقہ الاسلامی: (1 /720 ،رشیدیة )
وکذا فی التاتارخانیة: (2 /144 ،فاروقیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/23/1/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:167

ایک آدمی نمازمیں آخری قاعدہ کےاندرتشہدپڑھ رہاتھااوراس کی توجہ تشہدسے ہٹ گئی،اس نے دوبارہ تشہدشروع کردیاتونمازکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نمازہوگئی۔

لما فی الھندیة: (1 /127 ،رشیدیة )
ولوکررالتشھد فی القعدۃ الاولی فعلیہ السھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوکررفی القعدۃ الثانیۃ فلاسھوعلیہ
وفی البحرالرائق: (2 /172 ،رشیدیة )
ولوکررالتشھد فی القعدۃ الاخیرۃفلاسھوعلیہ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (461 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة: (2 /392 ،فاروقیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /315 ،داراحیاء )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /177 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (1 /521 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /193 ،امدادیة )
وکذافی التجنیس والمزید: (2 /144 ،بیروت )
وکذا فی غنیة المتملی: (460 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/8/17/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:24

ایک آدمی عام دنوں میں نماز کا اہتمام نہیں کرتا،کچھ داڑھی بھی کترواتا ہےاس کے پیچھے تراویح پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا آدمی فاسق ہے اور اسکے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے اس آدمی کو چاہیئے کہ سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔

لما فی الھدایہ: (1/198 ،بشریٰ )
ویکرہ تقدیم العبد،لانہ لا یتفرغ للتعلم۔والاعرابی لان الغالب فیھم الجھل۔والفاسق،لانہ لایھتم لامر دینہ
وفی التاتارخانیہ: (2 /250 ،فاروقیہ )
ویکرہ ان یکون الامام فاسقا،ویکرہ للرجال ان یصلوا خلفہ
وکذافی النھرالفائق: (1 /242 ،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /334 ،رشیدیہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /85 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 / 265 ،الطارق )
وکذافی فتح القدیر: (1 / 390 ، رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ: (1 /368 ،حقانیہ )
وکذافی بحر الرائق: (1 /610 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (2 /391 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444 /9/11/2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:59

ایک شخص نے ظہر سے پہلے چارسنتیں نہیں پڑھیں پھرظہرکے بعدچارسنتوں کی نیت سے نمازشروع کی اوردوپڑھ کرسلام پھیردیاتویہ دورکعتیں کیاشمارہوں گی؟نفل یادوسنتیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوسنتیں شمارہوں گی۔

لما فی الھندیة: (1 /65 ،رشیدیة )
ویکفیہ مطلق النیۃ للنفل والسنۃ والتراویح ھوالصحیح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولایشترط نیۃ عددالرکعات
وفی مجمع الانھر: ( 1/ 198 ،المنار )
ولونوی اربعا)ای اذاشرع فی اربع رکعات من النفل (وافسد)فی الشفع الثانی (بعدالقعوداوقبلہ)ای افسدھا فی الشفع الاول قبل القعود(قضی رکعتین)فقط
وکذافی التاتارخانیة: (2 / 44 ،فاروقیة ) وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /201 ،الطارق )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /7 ،رشیدیة ) وکذافی کتاب الفقہ: (1 /189 ،حقانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /775 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (2 /116 ،رشیدیة )
وکذا فی النھرالفائق: (1 /188 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/17/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:132

امام صاحب نے عشاء کی نمازمیں چوتھی رکعت میں قعدہ کیا اورپھر کھڑے ہوگئے اورپانچویں رکعت پڑھی اورسجدہ سہو بھی کیااوران کے ساتھ ایک مسبوق بھی تھاتوکیامسبوق اورباقی آدمیوں کی نماز ہوجائےگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسبوق کی نمازفاسدہوگئی،باقیوں کی نمازہوگئی،البتہ جوشخص پانچویں رکعت میں شامل ہوااس کی اقتداءصحیح نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /92 ،رشیدیة )
ولوقال الامام الی الخامسۃ فتابعہ المسبوق ان قعد الامام علی رأس الرابعۃ تفسد صلاۃ المسبوق
وفی البحرالرائق: (2 /186 ،رشیدیة )
اذاقعدالامام فی الرابعۃ قدر التشھد وقام الی الخامسۃ ساھیاواقتدی بہ رجل لایصح اقتداءہ ولوعادالی القعدۃ لانہ لماقام الی الخامسۃ فقد شرع فی النفل فکان اقتداء المفترض بالمتنفل
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /113 ،داراحیاء ) وکذافی الشامیة: (2 /669 ،رشیدیة )
وکذافی التاتارخانیة: (3 /98 ،فاروقیة ) وکذافی تنورالابصار مع الدر: (2 /422 ،بیروت )
وکذافی البحرالرائق: (1 /662 ،رشیدیة ) وکذافی خلاصة الفتاوی: (169 ،رشیدیة )
وکذا فی البحرالرائق: (2 /186 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:28