ایک آدمی اپنی زمین کی پیداوار میں دوسرے آدمی کو شریک کرنا چاہتا ہے،اس طور پر کہ بیج کھاد اور سپرے وغیرہ کے خرچ میں دونوں برابرکے شریک ہونگے اور کام صرف زمین والا کرے گا،اور پیداوار میں بھی دونوں برابر کے شریک ہو نگے تو کیا یہ صورت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکور صورت تو جائز نہیں ہے۔البتہ درج ذیل صورتوں میں سےکوئی صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔

(1)

زمین اور بیج ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے کے ذمہ بیل یعنی ٹریکٹر وغیرہ کا خرچ اور کام ہو۔

(2)

زمین ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے آدمی کی طرف سے بیج ،بیل اور کام ہو۔

(3)

زمین ،بیج اور ٹریکٹر وغیرہ کا خرچ ایک کی طرف سے ہو اور دوسرے آدمی کی طرف سے صرف کام ہو۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار ورد المحتار: (9/463،رشیدیہ)
وبطلت)فی أربعۃ وجوہ (لو کان الارض والبقر لزید،أو البقر والبذر لہ والآخران للآخر)وأما الثانی فلان الارض لا یمکن جعلھا تبعا لعملہ کذالک
وفی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 9/ 462، مکتبہ رشیدیہ)
وکذا)صحت(لو کان الارض والبذرلزید والبقر والعمل للآخر)أو الارض لہ والباقی للآخر(أوالعمل لہ والباقی للآخر)فھذہ الثلاثۃ جائزۃ
و کذافی شرح المجلة: (4 /378،رشیدیہ )
و کذافی فتاوی قاضیخان : (6 /104، رشیدیہ)
و کذافی شرح المجلة:(4/379،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/261،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(23/22،دارالمعرفة بیروت لبنان)
وکذا فی الھدایہ:(4/54،بشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/08/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:13

زمین کو زراعت پر دینے کی صورت میں اگر بیج اس شرط پر کسی نے دیا کہ پیداوار تقسیم کرنے سے پہلے وہ بیج کو نکال دے گاباقی جو بچے گا رب الارض اور مزارع کے درمیان تقسیم ہوگا تو کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکورہ صورت ناجائز ہے لیکن اگر کسی نے ایسا کر لیا تو جس کا بیج ہے فصل اس کو دے دی جائےگی اور دوسرے کو علاقے کے اصول کے مطابق کام کی اجرت دی جائے گی۔

لما فی شرح المجلة: (4 / 374،رشیدیہ )
لا تصح المزارعۃ وعلی ھذا اذا شرطا لاحدھما البذر لنفسہ وان یکون الباقی بینھما لا تصح المزارعۃ لجواز ان لا تخرج الارض الا قدر البزر
وفی المبسوط: ( 23/ 32، دار المعرفہ)
واذا اشترطا ان یرفع صاحب البذر بذرہ من الریع والباقی بینھما نصفان فھو فاسد
وکذافی الھدایة: ( 4/ 55،بشرٰی )
وکذا فی البزازیة : (3 /175 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی : ( 5/106 ،طارق )
وکذا فی مجمع الانھر: ( 4/ 141 ،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 5/280 ، امدادیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ : (3 / 10 ،حقانیہ )
وکذا فی الخلاصتہ الفتاوی: ( 4/ 191، رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: (10 /589 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022 /11/3/8/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:101

ایک آدمی حکومتی اجازت کے بغیر چالیس سال ایک غیرآباد زمین کاشت کرتارہا، اور حکومت نے اسے کچھ نہیں کہا، کیا حکومت کا کچھ نہ کہنا اس آدمی کے لئے اجازت شمار ہوگا؟ اور کیا حکومت چالیس سال بعد اس سے زمین واپس لے سکتی ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں کاشت کار کو حکومت کا جانتے ہوے بھی کچھ نہ کہنا اجازت سمجھاجائے گا، لیکن چونکہ کاشت کار اس زمین کا مالک نہیں، اس لئے حکومت جب بھی چاہے اس سے زمین واپس لے سکتی ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(19/74،ط: داراحیاء التراث العربی)
و من احیی ارضاً میتۃ فھی لہ احیاھا باذن الامام او بغیر اذنہ عند ابی یوسف و محمد، و عند ابی حنفیۃ رحمھم اللہ تعالیٰ لایکون لہ الا اذا احیاھا باذن الامام، ھما احتجا بظاھر قولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “من احیی ارضاً میتۃ فھی لہ” و ابوحنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ یقول: الحدیث محمول علی ما اذا کان الاحیاء باذن الامام، عرف ذالک بقولہ علیہ السلام: لیس للمرء الا ماطابت بہ نفس امامہ
وفی بدائع الصنائع:(5/284،ط: رشیدیہ)
فالملک فی الموات یثبت بالاحیاء باذن الامام عند ابی حنیفۃ، و عند ابی یوسف و محمد رحمھم اللہ تعالیٰ یثبت بنفس الاحیاء، و اذن الامام لیس بشرط، و جہ قولھما قولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “من احیی ارضاً میتۃ فھی لہ، و لیس لعرق ظالم فیہ حق . . . و لابی حنیفۃ علیہ الرحمۃ ماروی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ قال: “لیس للمرء الا ماطابت بہ نفس امامہ” . . . و اما الحدیث فیحتمل انہ یصیر بہ شرعاً، و یحتمل انہ اذن جماعۃ باحیاء الموات بذالک النظم، و نحن نقول بموجبہ فلایکون حجۃ مع الاحتمال
وکذافی شرح الوقایة:(2/63-64،ط: رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(4/476،ط: رشیدیہ)
وکذافی ترجیح الراجح بالروایة فی مسائل الھدایة:(2/309،ط: مکتبہ دارالعلوم حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(5/386،ط: رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(23/167،ط: دارالفکر)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(2/242،ط: علوم اسلامیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/347،ط: فاروقیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(244،ط: قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلدنمبر:24 فتوی نمبر:163