اگر دادا کی زندگی میں ہی اس کا ایک بیٹا فوت ہو گیا ،تو کیا دادا کے فوت ہونے کی صورت میں یتیم پوتوں کو اس کے ترکہ سے حصہ ملے گا؟ کیا دادا اپنی زندگی میں اپنے یتیم پوتوں کو صحت و تندرستی کی حالت میں اپنی جائیداد میں سے کچھ ہبہ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر دادا کے فوت ہونے کے وقت دادا کا کوئی اور بیٹا زندہ ہو ،تو یتیم پوتوں کو دادا کی جائیداد سے حصہ نہیں ملے گا۔ورنہ یتیم پوتوں کو دادا کے ترکہ سے حصہ ملے گا۔

دادا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے اپنے یتیم پوتوںکو ہبہ کر سکتا ہے بلکہ یتیم پوتوں کے لئے دادا کو اپنی زندگی میں جائیداد وغیرہ ضرور ہبہ کرنا چاہیے۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 10/ 560، رشیدیہ)
أحدھما: أ نہ یحجب الاقرب ممن سواھم الابعد ،لما مر أ نہ یقدم الاقرب فالاقرب اتحدافی السبب ام لا،والثانی : ان من ادلی بشخص لا یرث معہ کابن الابن لا یرث مع الابن
وفی شرح المجلہ: (3 / 385، رشیدیہ)
من وھب لاصولہ وفروعہ او لاخیہ او اختہ او لاولادھما او لعمہ او لعمتہ شیئافلیس لہ الرجوع
وکذافی السراجی: ( 14،شرکت علمیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 20/263 ، فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (23 / 307، دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الھندیة: ( 4/ 374،رشیدیہ )
وکذا فی المبسوط: ( 12/ 48 ،دار المعرفة )
وکذا فی الھندیة: ( 4/ 391 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: ( 14/ 421،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن کلاچوی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/12/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:39

میرا بھائی محمد خان عرف بلوچ ولد نور محمد قوم جٹ یار چک نمبر187بلوانہ تحصیل چک جھمرہ ضلع فیصل آباد مورخہ6ستمبر2021کو قضاء الہی سے فوت ہو گیا اس کی دو بیویاں اور سات بیٹیاں ہیں اس کے نام رقبہ 19ءمیں 4 کنال11مرلے تھا اور 23ء میں رقبہ5کنال اور 9مرلےتھامربعہ19ءکا میری اجازت سے رقبہ4کنال11مرلےفروخت کر دیاِ۔ہم پانچ بھائی تین بہنیں اپنے والد صاحب کی اولاد میں تھےتین بہنیں اور چار بھائی قضائے الہی سے فوت ہو گئے میں نےبھائی محمد خان کو باربار کہا اور کہلایا کہ بھائی اپنا رقبہ اپنی زندگی میں یا فروخت کر دو یا اپنی بیویوں یا اپنی بیٹیوں کے نام انتقال رجسٹری کر دو،اگرمیں پہلے فوت ہو گیا تو خیر،اگرتم پہلے فوت ہو گئے تو رقبہ کچھ میرے نام وراثتی انتقال پر درج ہو جایئگا، کیا پتہ میری اولاد تیری اولاد کو دیوے یا نہ، بہرحال یہ مورخہ2021۔9۔6 کو فوت ہو گیا، مورخہ2022۔9۔3 کو وراثتی انتقال ہواتو 1 کنال2 مرلہ میرے نام اس کے بڑے بھائی محمدحسین کے رقبہ ہوا۔باقی رقبہ2 بیویوں اور7 بیٹیوں کےنام انتقال ہو گیا۔عالیجاہ جو رقبہ22مرلے میرے نام ہوا ہےکیا یہ شرعی میرا حق ہے یاقانونی حق ہے؟اس میں میں گناہ گارتو نہیں ہو جاتا،اب چند لوگ اس لالچ میں ہیں کہ رقبہ2 بیویوں سے اور 7 بیٹیوں سے خرید لیں بلکہ30 مرلے خرید بھی لیا ہے،یہ لوگ اس لالچ میں آکرمحمد خان عرف بلوچ کو اہل تشیع بنواکر جورقبہ محمد حسین کے نام22مرلے انتقال ہو گیاوہ بھی واپس کروالیں۔عالیجاہ میں خداوند کریم کو حاضر ناضر کرکے حلفاًبیان کرتا ہوں کہ ہماری نسل سےبھی کوئی اہل تشیع نہیں میرے باپ پیر حضرت فضل حق شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ جلال پورشریف کے خادم مرید تھے ہم سب بہن بھائی تمام رشتہ دار حضور پیر سیال لجپال سیالوی رحمۃ اللہ علیہ سیال شریف دربار اقدس کے خادم،غلام، مرید ہیں مع بھائی محمد خان، بیویاں، بچے۔ جو لوگ لالچ میں آ کر میرے بھائی کواہل تشیع بنانا چاہتےہیں، یہ گناہ گار ہیں کہ نہیں؟باقی میرے بھائی کے روح کو تکلیف ہو گی یا بھائی کو بھی کوئی گناہ ملے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وراثت میں جو آپ کو حصہ ملا ہے،یہ آپ کا شرعی حق ہے۔باقی جو لوگ آپ کے بھائی پر بغیر ثبوت کے شیعہ ہونے کاالزام لگا رہے ہیں،یہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کر رہے ہیں،ان کو چاہیے کہ یہ اپنے قول سے باز آجائیں اور معافی مانگ لیں۔

لما فی القرآن الکریم: ( سورت النساء/ 112)
وَمَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْئَۃً أَوْ إِثْمًا ثُمّ یَرْمِ بِہ ِ بَرِیْئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُھْتَانًا وَّ إِثْمًا مُّبِیْنًا
وفی بدائع الصنائع : ( 5/ 534، مکتبہ رشیدیہ)
أما سبب وجوبہ:فارتکاب جنایۃ لیس لھا حدٌّ مقدر فی الشرع ،سواء کانت الجنایۃ علیٰ حق اللہ کترک الصلاۃ والصوم ونحو ذلک، أو علیٰ حق العبد بان آذی مسلماً بغیر حق بفعل او بقول یحتمل الصدق والکذب، بان قال لہ یا خبیث،یا فاسق، یا فاجر،یا کافر
وفی الھدایہ مع فتح القدیر : (5 /332،رشیدیہ )
وکذا اذا قذف مسلما بغیر الزنا فقال یا فاسق او یا کافر او یا خبیث او یا سارق) ومثلہ یا لص او یا فاجر او یا زندیق۔۔۔۔۔۔یا منافق یا یہودی عُزِّر ھکذا مطلقا فی فتاویٰ قاضی خان
وفی السنن الکبریٰ: (8 /440،دارالکتب العلمیہ )
وأخبرناأبوعمروالادیب،أنبأأبوأحمد ألغطریف أنبأ أبو یعلیٰ، ثنا عبیداللہ القواریر ی، ثنا أبو عوانہ ،عن عبدالملک ِ بن عمیر،عن شیخ من اھل الکوفۃقال:سمعت علیاً یقول إنکم سألتمونی عن الرجل یقول للرجل یاکافر، یافاسق ،یا حمار ،ولیس فیہ حدٌّ، وإنما فیہ عقوبۃ من السلطان فلا تعودوا فتقولوا
وکذافی الصحیح المسلم:(2/322،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(2/163،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(9/126،دارالمعرفۃبیروت لبنان)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(6/409،فاروقیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(4/69،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی الھدایہ مع البنایہ:(6/364،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ :(2/300،بشرٰی)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(10/549،رشیدیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ: (4 /126،دارالکتب العلمیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/1444/9/10/2022
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:29

ایک شخص کی صرف ایک بیٹی ہے اور اس کے علاوہ بھتیجے بھی ہیں۔اب وہ شخص اپنی سائری جائیداد اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹی کے نام کرنا چاہتا ہے ، تو کیا اس کا اپنی بیٹی کے نام ساری جائیداد کرنا درست ہے؟ جبکہ وہ شخص پہلے اپنے بھتیجوں کو بھی کچھ نا کچھ دے چکا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر وہ شخص اپنے دیگر ورثاء(بھتیجوں) کو مناسب حصہ دے چکا ہے تو اس کے لیے اپنی بقیہ جائیداد اپنی بیٹی کے نام کرنا درست ہے اور اس شخص کی طرف سے یہ اپنی بیٹی کے لیے ھبہ ہوگا۔

لما فی الدرالمختار: (5 /696 ،ایچ ایم سعید)
وفی الخانیۃ لا باس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانھا عمل القلب وکذا فی العطایاان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ فسوی بینھم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیہ الفتوی ولو وھب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم
وفی الھندیة: (1 /391 ،رشیدیہ)
ولو وھب رجل شیئالاولادہ فی الصحۃ ، واراد تفضیل البعض علی البعض فی ذالک لاروایۃ لھذا فی الاصل عن اصحابنا۔ وروی عن ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ علیہ: انہ لا باس بہ اذاکان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین، وان کانا سواء یکرہ، وروی المعلی عن ابی یوسف علیہ الرحمہ: انہ لا باس بہ اذالم یقصد بہ الاضرار، وان قصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل مایعطی للابن وعلیہ الفتوی
وکذافی البدائع:(5/175،رشیدیہ)
وکذافی شرح المجلة:(3/362،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق: (7 /490 ،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/4013،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (14 /462 ،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: (14 /423 ،فاروقیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (12 /553 ،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة :(3/279،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/25/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:154

طاہرشاہ نامی ایک شخص فوت ہوگیا اور اس کے ورثاء میں ایک زوجہ(بیوی)، چار بیٹے اور تین بیٹیاں تھی جبکہ مرحوم کا ترکہ ایک رہائشی مکان اور کچھ زمینوں پر مشتمل تھا۔زمینوں کی تقسیم تو ابھی تک نہیں کی گئی البتہ مکان ورثاء نے آپس میں تقسیم کرلیا ہے۔تمام ورثاء کے باہمی مشورہ سے چاروں بھائیوں کو ایک ایک حصہ دینے کے لیے مکان کے چار حصے کیے گئے، جبکہ میت کی بیوی اور بیٹیوں کے لیے خود میت کی بیوی ( ورثاء کی والدہ ) نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر بھائی کے ذمہ ایک بہن ہے جس کو وہ اپنے مکان کے حصے میں سے حصہ دے گا، لہذا تین بھائیوں کہ ذمہ تین بہنوں کا حصہ ہوگیا جبکہ چوتھے بھائی کے ذمہ والدہ کا حصہ ہے مثلا: زید کے ذمہ ساجدہ، خالد کے ذمہ عابدہ، بکر کےذمہ زاہدہ اور عمر کے ذمہ اس کی والدہ کا حصہ ہے۔ اب ان چار بھائیوں میں سے جو بھی اپنا حصہ بیچے گا یا اگر نہیں بیچتا تو اس کی قیمت لگا کر اپنی اس مقررہ بہن کو حصہ دے گا۔ یہ سارا معاملہ ورثاء کے والدہ کی سرپرستی میں تمام ورثاء کی باہمی رضا مندی سے طے پایا ہے۔ پھر ان چار بھائیوں میں سے زید نے اپنے حصہ کا مکان بیچ دیا ہے۔اب مطلوبہ امر یہ ہے کہ زید اپنے اس مکان میں سے صرف اپنی اس متعلقہ بہن (ساجدہ) کو حصہ دے گا یا تمام بہنوں کو حصہ دینا پڑے گا؟ واضح رہے کہ ہر بھائی کے ذمہ ایک بہن کا حصہ لگانے میں بہنوں کی رضا مندی شامل ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زید اپنے مکان میں سے صرف اپنی بہن ساجدہ کو حصہ دے گا۔

لما فی الھندیة: (4 /268،رشیدیہ )
اذا کانت الترکۃ بین ورثۃ فاخرجوا احدھم منھا بمال اعطوہ ایاہ والترکۃ عقار او عروض صح قلیلا کان ما اعطوہ او کثیرا
وفی السراجی:( 76 ،شرکة علمیہ )
ومن صالح علی شیئ من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح ثم اقسم ما بقی من الترکۃ علی سھام الباقین
وکذا فی الجوھرة:(2 /12، ) وکذا فی البنایہ:(9 /344 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: (4 /279،المنار ) وکذافی المحیط: (23 /325 ،بیروت )
وکذا فی البدائع: (5 /170 ،رشیدیہ ) وکذا فی الشامیہ :(10 /602 ،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیة:(14 /311 ،فاروقیہ ) وکذا فی المبسوط: (20 /181،دارامعرفہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: (5 /126،امدادیہ ) وکذا فی البحرالرائق :(8 /36 ،رشیدیہ )
وکذافی المبسوط: (20 /181،دارالمعرفہ) وکذا فی حاشیة الشلبی علی تبیین الحقائق: (5 /26،امدادیہ )

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/01/31/8/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:136

ایک آدمی فوت ہو گیا ہے اس کی چاربیٹیاں،چار بیٹے،دوبھائی اورایک بیوی ہے اور اس نے بارہ کنال زمین چھوڑی ہے،اس کی تقسیم کیسے ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادمنقولہ(جیسے سونا،چاندی،زیورات اورکپڑے وغیرہ)اورغیر منقولہ(جیسے دوکان،مکان اورفصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑاجو بھی سامان چھوڑاہو،نیز مرحوم کا قرضہ اورایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں،یہ سب ترکہ شمار ہوگا۔اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر خرچ ہونے والے جائز اورمتوسط اخراجات نکالےجائیں گے اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کردیا تو ترکہ سےیہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا، خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال ہی خرچ ہو جائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔(3)اس کے بعد اگر میت نے کسی غیروارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادئیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ وہ درج ذیل طریقے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحوم کی کل جائیداد کے چھیانوے برابر حصے کرکے ہر بیٹی کو7حصے،ہر بیٹے کو 14حصے اوربیوی کو12حصے دئیے جائیں۔
سوال مذکورمیں 12کنال زمین میں سے ہر بیٹی کو0.875کنال،ہر بیٹے کو1.75کنال اوربیوی کو 1.5کنال زمین ملے گی ۔

 

ما فی القرآن الکریم: (النسآء :11 )
فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بھا اودین
وفی القرآن الکریم: (النسآء:10 )
للذکر مثل حظ الانثیین
وکذافی السراجی: (8 ،شرکت علمیہ )
واماالبنات الصلب فاحوال ثلث النصف للواحدۃ الثلثان للانثیین فصاعدۃ ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھویعصبھن
وکذا فی الھندیة: (6 /450 ،رشیدیة )
واماالاثنان من السبب فالزوج والزوجۃفللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن والربع مع الولد اوولد الابن و للزوجۃ الربع عند عدمھماوالثمن مع احدھما والزوجات والواحدة یشترکن فی الربع والثمن
وکذا فی الشامیة: (10 /550 ،رشیدیة )
الاقرب جھۃ ثم الاقرب درجۃ ثم الاقوی قرابۃ فاعتبارالترجیح اولابالجھۃ عندالاجتماع،فیقدم جزءہ کالابن وابنہ علی اصلہ کالاب وابیہ ویقدم اصلہ علی جزءابیہ کالاخوۃ لغیرام وابنائھم
وکذا فی تنویرالابصار: (10 /544 ،رشیدیة )
وکذا فی التاتارخانیة: (20 /224 ،فاروقیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:120

ایک شخص نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی کرواکراسے الگ کاروبار بھی کروادیا ،اس شخص کی دس ایکڑ زمین ہے،جس میں اس کاچھوٹا بیٹا کاشت کاری کرتا ہےاور اس بیٹے نے اس کے علاوہ بھی زمین ٹھیکے پر لی ہوئی ہے،اب دونوں زمینوں کی آمدن سے اس کے والد نے مزید زمین بھی خریدی،اب یہ زمین جو والد نے بعد میں خریدی ہے،والد کی وفات کے بعد بڑے بیتے کا اس میں حق ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی اپنی زندگی میں کسی کو اپنی جائیداد میں سے کچھ دیتا ہے تو اس کو تبرع واحسان شمار کیا جائیگا نہ کہ میراث،اس لیے کہ میراث کسی کے مرنے ے بعد اس کے چھوڑے ہوئے مال کو کہتے ہیں ،لہذاصورت مسئولہ میں بڑے بیتے کوباپ کی وفات کے بعد اس کی وراثت میں سے دوسرے ورثاء کے ساتھ برابر حصہ ملے گا،چھوٹا بیٹا جو باپ کی زمین میں کاشت کاری کرتا رہا تو اسے باپ کا معاون شمار کیا جائے گااور تمام زمین والد کی ہی ہوگی،البتہ والد کو چاہیئے کہ چھوٹے بیتے کو بھی بڑے بیتے کے کاروبار کے بقدر جائیداد یا رقم وغیرہ اپنی زندگی میں ہی دے دے تاکہ برابری ہوسکے

لما فی الھندیة : ( 1/ 396 ،رشیدیہ )
ولودفع الی ابنہ مالا فتصرف فیہ الابن یکون للاب اذا دلت دلالة علی التملیک کذا فی الملتقط رجل دفع الی ابنہ فی صحتھا لایتصرف فیہ ففعک وکثرذلک فمات الاب ان اعطاہ ھبة فالکل لہ وان دفع الیہ لان یعمل فیہ للاب فھو میراث
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 3/4013 ، رشیدیہ)
اما عن حکم التسویۃ فی العطیۃ فقال جمھورالعلماء لا تجب التسویۃ بل تندب ،فان فضل بعض الورثۃ صح وکرہ،وحملواالامر بالتسویۃ فی الاحادیث علی الندب،لان الانسان حرالتصرف بمالہ لوارث او غیرہ
وکذافی الشامیة: (4 /325 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الحنفی : (5 /52 ،طارق )
وکذافی شرح المجلة: (4 /319 ،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیة: (14 /462 ،فاروقیہ )
وکذافی البحرالرائق: ( 7/490 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (9 /209 ،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
احتشام مجیدغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:94

عبدالرحمن صاحب کا انتقال ہوا، پسِ ماندگان میں دو بیویاں،چھ بیٹے، چار بیٹیاں، دو بھائی اور ایک چچا چھوڑا، ترکہ میں چار لاکھ نقد اور تین بیگھے زمین چھوڑی ہے۔ شریعت کی روشنی میں مرحوم کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ (سونا، چاندی، زیور، کپڑے وغیرہ) اور غیرمنقولہ (دکان، مکان وغیرہ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا، اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں، جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے: (1) سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا انتظام کردیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔ (2) اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیاجائے گا، خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے کسی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا۔ (3) اس کے بعد اگر میت نے کسی غیروارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائیگی۔
ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد کل جائیدادِ منقولہ و غیرمنقولہ کے 128 برابر حصے کیے جائیں گے، جن میں سے16 حصے (٪6.25)ہر بیوی کو،14حصے ( ٪10.937) ہر بیٹے کو اور 7حصے ( ٪5.468) ہر بیٹی کو ملیں گے۔
اور نقد و زمین میں سے 25000 روپے ، 15 مرلہ ہر بیوی کو، 43750روپے،26.25مرلہ ہر بیٹےکواور 21875روپے 13.125مرلہ ہر بیٹی کو ملیں گے، بھائی اور چچا محروم ہوں گے۔

 

ا فی السراجی فی المیراث:(18، ط: البشریٰ)
اما للزوجات فحالتان: الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد و ولد الابن و ان سفل، و الثمن مع الولد او ولد الابن و ان سفل
و فی السراجی فی المیراث: (19، ط: البشریٰ)
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ، و مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین و ھو یعصبھن
و فی المختصر للقدوری: (290، ط: مکتبہ الخلیل)
و الثمن للزوجات مع الولد او ولد الابن
و فی المختصر اللقدوری: (291، ط: مکتبہ الخلیل)
و الابن و ابن الابن و الاخوۃ یقاسمون اخواتھم للذکر مثل حظ الانثیین
و کذا فی کنز الدقائق: (498، ط: حقانیہ)
و کذا فی کنز الدقائق: (500، ط: حقانیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/288، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/298، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/307، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (20/224، ط: فاروقیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:99

 

میت کے بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتے کو میراث دینا کسی دوسرے امام مثلاً امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ وغیرہ کے نزدیک جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کو میراث دینا کسی امام کے نزدیک بھی جائز نہیں۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ: (3/43، ط: علوم اسلامیہ)
و اذا تعددت العصبات و تعددت جھاتھم فانہ یقدم من کان من جھۃ البنوۃ کما سبق فاذا تعددوا و کانوا من جھۃ واحدۃ قدم اقربھم درجۃ فیقدم الابن علی ابن الابن
و فی بدایہ المجتھد و نھایہ المقتصد: (730، ط: قدیمی)
و اجمعوا علی ان الاخوۃ الشقائق و الاخوۃ للاب یحجبون الاعمام․․․و الابناء یحجبون بنیھم و الآباء اجدادھم
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (3/47، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی موطا للامام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ (526، رحمانیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (10/7799، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (10/7811-7815، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/07/1442/ 2021/03/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:38

اجمل درانی صاحب کا انتقال ہوا، ورثہ میں ایک بیوی، چار بیٹیاں، تین بھائی اور ایک نانی چھوڑی ہے۔ ترکہ میں 20 ایکڑ زمین چھوڑی ہے۔ شریعت کی روشنی میں موصوف کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ (سونا، چاندی، زیور، کپڑے وغیرہ) اور غیرمنقولہ (دکان، مکان وغیرہ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا، اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں، جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے: (1) سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا انتظام کردیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔ (2) اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیاجائے گا، خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجاے، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے کسی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا۔ (3) اس کے بعد اگر میت نے کسی غیروارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائیگی۔
ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد کل جائیدادِ منقولہ و غیرمنقولہ کے 72برابر حصے کیے جائیں گے، جن میں سے9 حصے (٪12.5) بیوی کو، 12حصے (٪16.666) ہر بیٹی کو،1 حصہ (٪1.388)ہر بھائی کو اور12 حصے (٪16.666) نانی صاحبہ کو ملیں گے۔
اور زمین میں سے 20 کنال بیوی کو، 26.666 کنال ہر بیٹی کو، 2.222 کنال ہر بھائی کو اور 26.666 کنال نانی صاحبہ کو ملیں گے۔

 

لما فی السراجی فی المیراث:(18، ط: البشریٰ)
اما للزوجات فحالتان: الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد و ولد الابن و ان سفل، و الثمن مع الولد او ولد الابن و ان سفل
و فی السراجی فی المیراث: (19، ط: البشریٰ)
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ، و مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین و ھو یعصبھن
و فی السراجی فی المیراث: (36، ط: البشریٰ)
اما العصبۃ بنفسہ: فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی، و ھم اربعۃ اصنفاف: جزء المیت، و اصلہ، و جزء ابیہ، و
جزء جدہ، الاقرب فالاقرب، یرجحون بقرب الدرجۃ، اعنی اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم و ان سفلوا، ثم اصلہ ای الاب ثم الجد ای اب الاب و ان علا، ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم و ان سفلوا …الخ
و فی السراجی فی المیراث: (30، ط: البشریٰ)
و للجدۃ السدس، لام کانت او لاب واحدۃ کانت او اکثر . . .الخ
و کذا فی المختصر للقدوری: (290، ط: مکتبہ الخلیل)
و کذا فی المختصر للقدوری: (291، ط: مکتبہ الخلیل)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/288، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/298، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی کنز الدقائق: (498، ط: حقانیہ)
و کذا فی کنز الدقائق: (500، ط: حقانیہ)

 

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:100

زاہدہ کا انتقال ہوا اس نے ورثاء میں شوہر (صادق) ،بیٹی (ساجدہ)اور ماں (عابدہ )چھوڑیں ۔زاہدہ کا ترکہ 2ایکڑزمین اور نقدی3لاکھ ہے ۔ابھی ترکہ تقسیم نہ ہوا تھا کہ اس کے شوہر (صادق) کا انتقال ہوگیا جس کے ورثاء میں تین بیٹیاں (حامدہ ، ذاکرہ،خاشعہ )اورساس (عابدہ ) ہیں ۔ اب ان میں میراث کی تقسیم کیسے ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحومہ کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ 3)اس کے بعد مرحومہ نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحومہ زاہدہ کے ترکہ کے 48 برابر حصے کرکے ، ساجدہ کو 27 حصے(٪56.25)،عابدہ کو9حصے (٪18.75)،حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 4حصے (٪8.333) دیے جائیں گے ۔
سوال میں مذکور زمین میں سے ساجدہ کو 9کنال، عابدہ کو3کنال ، حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 1.33کنال دی جائیں گی۔نقدی میں سے ساجدہ کو168750روپے، عابدہ کو56250روپے، حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 25000روپے دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن الکریم:(النساء:11،12)
فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی الھندیة :(6/448، رشیدیة)
وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان
وفیہ ایضا:(6/450،رشیدیہ)
وأما الربع ففرض صنفين فرض الزوج إذا كان للميت ولد أو ولد ابن
وفیہ ایضا:(6/451،رشیدیہ)
وأما السدس ففرض سبعة أصناف: فرض الأب إذا كان للميت ولد أو ولد ابن، وفرض الجد كذلك عند عدم الأب، وفرض الأم إذا كان للميت ولد أو ولد ابن أو اثنان من الإخوة والأخوات
وکذا فی المبسوط:(29/139،144،148دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/288،292،302داراحیاء)
وکذافی التاتارخانیة:(20/230،224،262فاروقیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7769،7774،7787رشیدیة)
وفی تنویرالابصار مع شرحہ:(6/772،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:146