مرحوم کے ورثہ میں ایک بیوی، 7 بیٹیاں،ماں،2 چچے اور3 چچا زاد بھائی ہیں۔ ترکہ میں 4280000 بینک بیلنس ہے،مزید 4،4 مرلہ کی 6 دکانیں بھی ہیں۔مہربانی فرما کرشرعی تقسیم واضح فرمائیں۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے336برابرحصےبنا کران میں سے ہر بیٹی کو 32حصے(٪9.523)بیوی کو42حصے(٪12.5)والدہ کو 56 حصے(٪16.666) اور ہر چچا کو 7 حصے(٪2.083)دیے جائیں گے اور چچا زاد بھائیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
سوال میں مذکور4280000نقدی میں سےہر بیٹی کو407619.047روپے،بیوی کو53500روپے،والدہ کو 713333.333 روپے اور ہر چچا کو 89166.666 روپے دیے جائیں گئے۔
دوکانوں میں سے ہر بیٹی کو 2.285مرلہ،بیوی کو 3 مرلہ،والدہ محترمہ کو4 مرلہ اور ہر چچا کو 0.5مرلہ دیے جائیں گے۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفیہ ایضا
” فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.”
وفیہ ایضا
“وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ.”
وفی الففقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7775،7773،رشیدیہ)
“احوال البنت. . . . الثلثان للاثنتین فصاعداً اذا لم یکن معھن من یعصبھن.”
وفیہ ایضا
“احوال الزوجۃ . . . . الثمن مع الفرع الوارث الولدوولد الابن وان سفل. “
وفی الموسوعة الفقھیة: (3/42،43،علوم اسلامیة)
والعاصب بنفسہ فی الاصطلاح: ھو من یرث المال کلہ اذا انفرد او الباقی بعد الفرض وھو الذی یراد عند الاطلاق
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7799،7787،رشیدیہ)
وکذا فی کنز الدقائق(497،حقانیہ)

واللہ خیر الوارثین
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 142

ایک عورت جس کا نام شمائلہ ہے فوت ہوئی۔ اس کے ورثہ میں اس کا خاوند (زید) اور بیٹی (فاطمہ) اور ماں (عائشہ) موجود ہیں۔ اس نے ترکہ میں ”22“ مرلہ کی 5 دکانیں اور 10 ایکڑ زمین چھوڑی ، ابھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کا خاوند (زید ) انتقال کر گیا اور ورثہ میں اس کی ایک دوسری زوجہ (سعدیہ) ، باپ (عبد الرحیم) اور ماں (پروین ) ہیں۔ ابھی شمائلہ کی وراثت تقسیم نہ کی گئی تھی کہ اس کی بیٹی (فاطمہ) کا بھی انتقال ہوگیا، ورثہ میں بیٹی (رقیہ) اور دو بیٹے (علی، عثمان ) اور نانی (عائشہ) چھوڑیں۔ پھر شمائلہ کی ماں (عائشہ) کا بھی انتقال ہوگیا اور ورثہ میں خاوند (عبد الرحمٰن) اور دو بھائی( عبد الکریم ، عبدالقیوم) چھوڑے۔ مہربانی فرما کر شمائلہ کی وراثت کی شرعی تقسیم بتلادیں۔

الجواب حامداً ومصلیا

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحومہ کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:
1)

سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
2)

اس کے بعد مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔
3)

اس کے بعد مرحومہ نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔
4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا

مرحومہ شمائلہ کےترکہ کے128برابر حصے کیے جائیں ،جن میں سے 8 حصے (%6.25) سعدیہ کو، 16 حصے(%12.5) عبد الرحیم کو، 8 حصے(%6.25) پروین کو ، 12 حصے(%9.37) رقیہ کو ، 24 حصے (%18.75) عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو ، 18 حصے(%14.06)عبدالرحمٰن کواور 9 حصے(%7.03 ) عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔
سوال میں مذکور 10ایکڑ(80 کنال) زمین میں سے 5 کنال سعدیہ کو ، 10 کنال عبد الرحیم کو ، 5 کنال پروین کو ، 7.5 کنال رقیہ کو ، 15 کنال عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو ، 11.25 کنال عبد الرحمٰن کواور 5.625 کنال عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔
سوال میں مذکور 22 مرلے کی 5 دکانوں میں سے 1.375 مرلہ سعدیہ کو، 2.75 مرلہ عبد الرحیم کو، 1.375 مرلہ پروین کو، 2.062 مرلہ رقیہ کو، 4.125 مرلہ عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو، 3.093 مرلہ عبد الرحمٰن کو اور 1.546 مرلے عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن الکریم:(النساء:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ….وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفیہ ایضاً:( النساء: 12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10 /7907،رشیدیہ)
المناسخة مفاعلة من النسخ بمعنى النقل والتحويل. والمراد بها هنا: انتقال نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه فهي أن يموت من ورثة الميت الأول واحد أو أكثر قبل قسمة التركة
وفی التنویر مع شرحہ:(10 /547،رشیدیہ)
و للام ثلاثة احوال ، السدس مع احدھما او مع اثنین من الاخوة او من اخوات فصاعدا
وفی کنز الدقائق:(497،حقانیہ)
وللزوجة الربع و مع الولد و ولد الابن و ان سفل الثمن و للبنت النصف و للاکثر الثلثان و عصبھما الابن و لہ مثل حظھما
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/53،رحمانیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/42،43،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7773،7775،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر صدیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/2021/4/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 123

عول کے لغوی معانی ظلم وزیادتی کرنے،تنگ کرنےاور بلند کرنے کے آتے ہیں اور اصطلاح میں اصحاب الفرائض کے حصوں کی تعداد کا اصل مسئلہ سے بڑھ جانا’’عول‘‘ کہلاتاہےاور اس صورت میں ہر وارث کےمقررہ حصے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔یہاں سوال یہ ہےکہ مذکورہ با لا مسائل میں عول کے استعمال کی وجہ سے ہر ایک صاحب فرض کا حصہ کم ہو جاتاہے۔مثلا نقشہ نمبرایک میں زوج کا حصہ2/1کے بجائے7/3ہو گیا ہے جو کہ نصف سے کم ہے ۔نقشہ نمبر 2 میں زوج کا حصہ 2/1کے بجائے 1/3ہو گیا ہے نقشہ نمبر 3 میں زوجہ کا حصہ 4/1 کے بجائے 5/1ہو گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں بیان کردہ دوسرے ورثاء کے حصص بھی کم ہو جاتے ہیں ،لہذا معلوم ہو اکہ بذریعہ عول وراثت کی تقسیم میں کوئی غلطی موجود ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بذریعہ عول وراثت کی تقسیم میں کوئی غلطی نہیں ہے،بلکہ یہ طریقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کےعمل سے ثابت ہے،نیز عول کے ذریعےقرآن کریم کے بیان کردہ حصص میں کوئی کمی نہیں کی جاتی، بلکہ ہر وارث کے لئے اولاً وہی حصص متعین کیے جاتے ہیں،لیکن ترکہ کم ہونے کی وجہ سے تمام اصحاب فروض کو مکمل متعینہ حصہ دینا چونکہ ممکن نہیں ہوتا،اس لیے بعض کو محروم کر کے دوسروں کا حصہ مکمل کرنے کے بجائےبذریعہ عول سب کے حصص میں خاص تناسب سے کمی کر دی جاتی ہے،جیسا کہ اگر میت کے ذمے کثیر دین ہواور ترکہ کم ہوتو تمام قرض خواہوں کے واجب الوصول دیون میں خاص تناسب سے کمی کر کے بقیہ رقم ادا کر دی جاتی ہےاور یقیناً یہی عین انصاف ہے۔
آپ کے بقول اگر عول کے طریقہ میں غلطی ہے تو تقسیم میراث کا صحیح طریقہ آپ بتلادیں۔اگر کسی کو محروم کریں تو یہ اس کے ساتھ ظلم و نا انصافی ہو گی اور اس طرح نصوص کی مخالفت بھی لازم آئے گی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف فرما تھے دوران خطبہ کسی نے سوال کیا کہ ایک شخص ہے، اس نے ورثہ میں ایک بیوی دوبیٹیاں والد اور والدہ چھوڑے تو بیوی کو کتنا حصہ ملے گا،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فی الفور ساری تفصیل بتا دی کہ ترکہ کے 27 حصے کر کے بیوی کو تین حصے دیے جائیں گے،اس نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم میں تو بیوی کا حصہ ثمن بیان کیا گیا ہے اور آپ تسع دے رہے ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفی البدیہ جواب دیا ”صار ثمنھا تسعا“۔

لما فی المصنف لابن ابی شیبہ:(6/260،بیروت)
حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن رجل لم يسمه قال:ما رأيت رجلا كان أحسب من علي سئل عن ابنتين وأبوين وامرأة فقال:”صار ثمنها تسعا” قال أبو بكر فهذه من سبعة وعشرين سهما للابنتين ستة عشر وللأبوين ثمانية وللمرأة ثلاثة
وفی الفتاوى الهندية:(6/468،رشیدیہ)
العول هو زيادة السهام على الفريضة فتعول المسألة إلى سهام الفريضة ويدخل النقصان عليهم على قدر حقوقهم لعدم ترجيح البعض على البعض كالديون والوصايا إذا ضاقت التركة عن إيفاء الكل فإنها تقسم عليهم على قدر أنصبائهم ويدخل النقص على الكل كذا هذا كذا في الاختيار شرح المختار
وکذافی اعلاء السنن:(18/403،404،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة السراجی:(52،بشری)
وکذافی الشریفیة:(57،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7820،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(20/273،فاروقیہ)
وکذافی الشامیة:(10/570، رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/410، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/48،علوم اسلامیہ)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(6/414،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 65

ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں،والدین وفات پا گے ہیں والدین کی طرف سے میراث میں ملنے والی زمین بھائیوں نے آپس میں تقسیم کر لی اور بہنوں کو کچھ نہ دیا،بہنوں سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے حصہ کیوں نہیں لیا تو جواباً انہوں نے کہا کہ ہم نےمعاف کر دیا ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ بہنوں کہ اس طرح معاف کرنے سے ان کا حق معاف ہو جائے گا؟ یا زمین ان کے نام کردینے کے بعد ان کا معاف کرنا معتبر ہو گا

الجواب حامداً ومصلیاً

بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا بدترین گناہ ہے،آج کل یہ قبیح رسم چل پڑی ہے کہ بہنوں کو حصہ نہیں دیا جاتا اور ان کے مطالبہ کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے،اس لیے عموماً بہنیں رواج سے مجبور ہو کریا بھائیوں کی قطع تعلقی کے خوف سے کہہ دیتی ہیں کہ ہم نے معاف کر دیا حالانکہ ان کی دلی رضا مندی نہیں ہوتی،اس لیے میراث تقسیم کر کے بہنوں کو ان کا حصہ سپرد کر دیا جائے پھر وہ چاہیں تو اپنی خوشی سے واپس کر دیں۔

لما فی القرآن الکریم:(النسآء،11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،الحسن)
عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين
وفی الاشباہ والنظائر:(2/388،ادراة القرآن)
لو قال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ اذا الملک لا یبطل بالترک
وکذافی صحیح البخاری:(1/332،قدیمی)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/272،261،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی الاکلیل علی مدراک التنزیل وحقائق التاویل:(2/539،بیروت)
وکذافی نظم الدرر:(2/220،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریہ)
وکذافی شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر:(2/388،389،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:33

ایک آدمی کا انتقال ہوا۔اس کے ورثہ میں ایک بیوی،دو بیٹے،ایک بیٹی،چار بہنیں اور پانچ بھائی ہیں۔اس کے ترکہ میں پانچ لاکھ روپے،دس ایکڑ زمین اور ایک مکان ہے۔یہ ترکہ مذکورہ ورثہ میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے 40برابر حصے بنا کر ان میں سے 5حصے(٪12.5)بیوی کو،14حصے(٪35)ہر بیٹے کو اور7حصے (٪17.5)بیٹی کو دیں گے۔
سوال میں مذکور نقدی میں سےبیوی کو62,500روپے،ہر بیٹے کو 175,000روپےاور بیٹی کو 87,500 روپے ملیں گے۔
10 ایکڑ زمین سےبیوی کو 10 کنال(سوا ایکڑ)،ہر بیٹے کو 28 کنال(ساڑھے تین ایکڑ)اور بیٹی کو 14 کنال(پونے دو ایکڑ)دیں گے۔
اسی طرح مکان یا اس کی مالیت کے 40حصے کر کے 5حصے بیوی کو،7بیٹی کو اور 14 حصے ہر بیٹے کو دیں گے۔بھائیوں اور بہنوں کو میت کی مذکر اولاد موجود ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں ملے گا۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ ۚفَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی السراجی فی المیراث:(18،البشری کراچی)
امّا للزّوجات فحالتان :الرّبع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد وولد الابن وان سفل،والثّمن مع الولد او ولدالابن وان سفل
وفیه ایضاً:(19،البشری کراچی)
وامّا لبنات الصّلب فاحوال ثلاث: النّصف للواحدۃ،والثّلثان للاثنتین فصاعدۃ ،ومع الابن للذّکر مثل حظّ الانثیین وھو یعصّبھن
وکذا فی الھندیہ:(6/448.450،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذا فی المبسوط:(29/138.148،دارالمعرفہ بیروت)
وکذا فی تنویر الابصار:(6/770.775،ایچ.ایم.سعید کراچی)

واللہ خیر الوارثین
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:55

تقسیمِ ترکہ سے پہلے میت کے بیٹے اپنی بہن کی شادی میت کے ترکہ سے کرنا چاہتے ہیں اور سب ورثہ اس پر راضی بھی ہیں،تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

کر سکتے ہیں،بشرطیکہ تمام ورثہ عاقل،بالغ ہوں۔

لما فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/405،رشیدیة کوئٹہ)
وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا اذا کانوا بالغین.فان کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ
وفی الھندیة:(5/344،رشیدیة کوئٹہ)
وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا اذا کانت الورثۃ بالغین فان کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ
وفیه ایضاً:(6/91، رشیدیة کوئٹہ)
وفی کل موضع یحتاج الی الاجازۃ انما یجوز اذا کان المجیز من اھل الاجازۃ نحو ما اذا اجازہ وھو بالغ عاقل صحیح
وکذافیه ایضاً:(2/444، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التاتارخانیة:(18/176،فاروقیة کوئٹہ)
وکذافی التنویر مع شرحه:(6/656،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی الفقه الاسلامی وادلته:(10/7542، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:164

عبد الوارث فوت ہوا ہے، اس کہ ورثہ میں دو بیٹے تین ماں شریک بہنیں ،دوبیویاں، اور دو چچا ہیں۔ میت کہ ترکہ میں 20 لاکھ نقدی،اور دس کنال زمین ہے ۔ترکہ کی شرعی تقسیم بیان فرمائیں؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے ،دوکان،مکان ،فصل وغیرہ)غرض جوبھی چھوٹا،بڑا سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعداگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو،یافصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے16برابرحصےبنا کران میں سےایک حصہ(٪6.25)ہربیوی کواور 7حصے(٪43.75)ہرایک بیٹےکو دے دیے جائیں ماں شریک بہنوں اور چچا کو کچھ نہیں ملے گا۔
سوال میں مذکور20 لاکھ نقدی میں سےہر بیوی کو 125000روپے اور ہر بیٹے کو 875000 روپے دیے جائیں گے۔
اور دس کنال زمین میں سے ہربیوی کو12∙5مرلہ اور ہر بیٹے5∙ 8۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصیّۃٍتُوصُونَ بِھاأَوْ دَیْنٍ
وفی التنویر:(10/544،رشیدیہ)
فیفرض للزوجۃ فصاعداً الثمن مع ولد او ولد ابن
وفی الھندیة:(6 /450، رشیدیہ)
و یسقط أو لاد الام بالولدوان کان بنتا و ولدالابن والاب والجد بالاتفاق
وفی التاتارخانیہ:(20/241،فاروقیہ)
الاخت لام صاحبۃ سھم اذا لم یکن للمیت ولدوابن ولد وان سفلت ولا اب ولا جد اب الاب وان علا واذا کان للمیت واحد من ھؤلاء فلا سھم لھا
وکذا الموسوعةالفقھیة:(3/36،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(10/7798،رشیدیہ)

واللہ خیر الوارثین
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1442/2021/4/29
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:125

اگر ایک آدمی والدین سے لڑائی جھگڑا کرکے اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی اور شہر میں چلا گیا ہو ، اور اس لڑائی کی جڑ اس کی بیوی ہو ، بعد میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا اورمیراث میں اس کا بھی حصہ تھا جو اسے مل گیا یعنی والد کے گھر میں تمام بہن بھائیوں کا نام رجسٹرڈ ہوگیا تھا ۔ پھر وہ شخص بیرون چلاگیا اور اس کے تین بچے اور بیوی اسلام آباد میں تھے اور والد کی وراثت والا گھر کسی دوسرے شہر میں تھا جس میں اس کی والدہ اور دوسرے بہن بھائی تھے۔ پھر اس شخص کی اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے صلح ہوگئی ، لیکن بیوی کی نہیں ہوئی ۔ پھر اس شخص نے بیرون سے اپنی والدہ کو رقم بھیجی کہ وہ اس کے لیے پلاٹ خریدے ۔ اس کی والدہ نے وہ پلاٹ اپنی مطلقہ بیٹی کے نام سے پاکستان میں خریدا تاکہ بعد میں اس کی بیوی کوئی مسئلہ نہ پیدا کردے ، اس بات کا اس شخص کو بھی پتہ تھا ، لیکن اس نے اپنی مطلقہ بہن کو حق ملکیت نہیں دیا تھا اور والدہ سے کہا تھا کہ جب وہ پاکستان آئے گا تو قانونی طور پر اسے اپنے نام کروائے گا لیکن اب اس شخص کا پاکستان آکر انتقال ہوچکا ہے ۔ والد کی باقی وراثت میں اس کے بیوی بچے اپنا حصہ لے چکے ہیں کیونکہ قانوناً وہ گھر ان کے والد کے تھے ۔ لیکن اب (1)کیا اس پلاٹ پر بہن کا حق ہے جس کے نام پر وہ پلاٹ خریدا گیا ؟ (2)کیا وہ اس پلاٹ کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال کرسکتی ہے ؟ (3)اس شخص کی والدہ اور بہن بھائیوں کی خواہش ہے کہ یہ پلاٹ مرحوم کے بیوی ،بچوں کو نہ دیں ؟ (4) کیا اس پلاٹ پر درس بناکر مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ کیا جاسکتا ہے ؟ (5)اور کیا اس کی بہن کی وفات کے بعد (جوکہ مطلقہ ہے اور کوئی اولاد بھی نہیں) یہ پلاٹ اس کے ترکہ میں شامل ہوگا ؟ مرحوم کے بیوی بچے چونکہ شرپسند ہیں اور اس کے بہن بھائیوں کو ان سے اپنی عزت ، جان اور مال کا بھی خطرہ ہے کیونکہ مرحوم کی وفات کے بعد اس کی بیوی اور بچوں نے مرحوم کے بہن بھائیوں پر قتل کا مقدمہ کردیا تھا جس پر بہن بھائیوں کو شدید ذہنی، جسمانی اور مالی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ بہن بھائی بالکل بےقصور تھے اورمرحوم کے بچے اپنے والد کی قبرکشائی پر بضد تھے ۔ اور والدہ سے مرحوم نے تین لاکھ قرض بھی لیا تھا جو اس نے واپس نہیں کیا اور وفات کے بعد وارثین بھی نہیں دیا ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

مرحوم نے وقتی ضرورت یا مصلحت کے پیش نظر پلاٹ اپنی بہن کے نام لگوایا ، مالک بنانا مقصود نہ تھا ، لہذا اس پلاٹ پر بہن کا حق نہیں ، بلکہ مرحوم ہی اس کا مالک تھا ۔(2)بہن اس کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال نہیں کرسکتی۔(3)بہن بھائی مرحوم کے بیوی، بچوں کو اس پلاٹ سے محروم نہیں کرسکتے۔(4)چونکہ یہ پلاٹ بہن کی ملکیت نہیں ہے ، اس لیے اس کے مرنے کے بعد اس کا ترکہ شمار نہیں ہوگا ۔(5)مرحوم کے وفات پاتے ہی چونکہ یہ پلاٹ ورثاء کی ملکیت میں آچکا ہے ، اس لیے ان کی رضامندی (جبکہ وہ تمام بالغ ہوں)کے بغیراس پلاٹ یا اس کی قیمت کو صدقہ،خیرات وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ہے ۔
البتہ اگر مرحوم اپنی والدہ کا مقروض تھا ، تو والدہ اپنے قرض کے بقدر پلاٹ کاحصہ یا رقم لے سکتی ہیں ۔

لما فی الدر المختار:(6/463،سعید)
اعلم ان اسباب الملک ثلاثۃ ناقل کبیع وھبۃ وخلافۃ کارث واصالۃ وھو الاستیلاء حقیقۃ …او حکمابالتھیئۃ
وفی ردالمحتار:(4/508،سعید)
الثالثۃ ، لوکان مقبوضا فی ید المشتری امانۃ لایمکہ بہ
وفی الھدایة:(3/360،رحمانیہ)
ویباع فی الدین النقود ثم العروض ثم العقار یبدا بالایسر فالایسر لما فیہ من المسارعۃ الی قضاء الدین مع مراعاۃ جانب المدیون
وفیہ ایضاً:(4/651،رشیدیہ)
ولاتجوز بمازاد علی الثلث ……الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم
وکذافی الھندیة:(3/567،رشیدیہ)
وکذافی شرح الاشباہ والنظائر:(3/133،ادارةالقرآن)
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/279،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(5/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:177

سرفراز نامی شخص کا انتقال ہوا ۔ اس نے ورثا ء میں ایک بیٹا (خالد ) ، چار بیٹیاں ، میمونہ ، سکینہ ،پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ پھر بیٹی میمونہ کا انتقال ہوا اس نے ورثاء میں ایک بھائی (خالد)اور تین بہنیں سکینہ ،پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ پھر سکینہ کا انتقال ہوا ۔ جس نے ورثاء میں ایک بھائی (خالد ) دو بہنیں پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ مرحوم سرفراز کا ترکہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوا ۔اس کا ترکہ اس کے مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا/ بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد مرحوم کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ 3)اس کے بعد مرحوم نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحوم سرفراز کی کل جائیداد کے 60 برابر حصے کرکے زندہ رہ جانے والے ورثاء میں سے خالد کو 30حصے (٪50)، پروین کو 15حصے (٪25)اور زاہدہ کو 15حصے (٪25)دیے جائیں۔

فی القرآن الکریم:(النساء:11)
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً :(سورة النساء/آیة،176)
وان کانوا اخوۃ رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الانثیین
وفی السراجی:(1/8،شرکت علمیہ)
واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ …….ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً:(1/32،شرکت علمیہ)
ولوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ کزوج وبنت وام فمات….. قبل القسمۃ…. فالاصل فیہ ان تصحح مسئلۃ المیت الاول وتعطی سھام کل وارث من التصحیح ، ثم تصحح مسئلۃ المیت الثانی وتنظر بین مافی یدہ من التصحیح الاول وبین التصحیح الثانی
وکذا فی التنویر:(6/801،سعید)
وکذا فی التنویر مع الدر:(6/775،سعید)
وکذافی السراجی:(1/10،شرکت علمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیر الدین بن شین گل عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/7/1442/2021/3/13
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:6

ایک آدمی کے ورثاء میں صرف ایک بہن ، چھ بھانجے اور چار بھانجیاں ہیں ۔ مکمل ترکہ بہن کو ملے گا یا بھانجے اور بھانجیوں کو بھی ملے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مکمل ترکہ بہن کو ملے گا ، کیونکہ ذوالفروض اور عصبات نہ ہو ں تو باقی بچ جانے والا ترکہ ذوی الفروض پر لو ٹایا جاتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(10/7741،رشدیہ)
ذووالارحام وھم اقارب المیت الذین لیسو ذوی فروض ولاعصبۃ ….ویرث ھؤلاءاذا لم یکن للمیت احد من اصحاب الفروض
وفی الھندیة:(6/459،رشیدیہ)
وانما یرث ذووالارحام اذالم یکن احد من اصحاب الفروض ممن یر دعلیہ ولم یکن عصبۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(10/7737،رشیدیہ)
وکذافی الشریفیہ:(1/8،شرکت علمیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/219،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/791،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(4/496،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:136