ساڑھےگیارہ کنال زمین ہے،ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ،اور والد صاحب نے دوسری شادی کی ہےجس میں سے 4بیٹے اور 1 بیٹی ہے،والد صاحب نے ہم دو بھائی اور دو بہنوں کو ایک کنال زمین دی ہے تو اب یہ ایک کنال ہم دو بھائیوں اور دو بہنوں میں کس طرح تقسیم ہو گی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بہتر تو یہ ہے کہ یہ ایک کنال آپ چاروں بہن بھائیوں میں برابر تقسیم ہو اورہر ایک کو 5 مرلے ملیں۔اور اگر حالات کے تقاضے کے مطابق ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے اس طرح ایک کنال زمین کے کل 6 حصے کر کےہر بھائی کو 2 حصے(٪33.33)یعنی 6.6مرلےاور ہر بہن کو 1 حصہ(٪16.66)یعنی 3.3مرلےدیے جائیں۔

 

لما فی الصحیح لمسلم:(2/46،47،رحمانیہ)
عن النعمان بن بشیر انہ قال:ان اباہ اتی بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال:انی نحلت ابنی ھذا غلاما کان لی،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :أکل ولدک نحلتہ مثل ھذا؟فقال:لا،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:فارجعہ
وقال النو وی فی شرح الصحیح لمسلم:(2/46،رحمانیہ)
اما قولہ نحلت فمعناہ وھبت،وفی ھذا الحدیث انہ ینبغی ان یسوی بین اولادہ فی الھبۃویھب لکل واحد منھم مثل الآخر ولا یفضل ویسوی بین الذکر والانثی،وقال بعض اصحابنا یکون للذکر مثل حظ الانثیین،والصحیح المشھور انہ یسوی بینھما لظاھر الحدیث،فلو فضل بعضھم او وھب بعضھم دون بعض فمذھب الشافعی ومالک وابی حنیفۃ انہ مکروہ لیس بحرام والھبۃ صحیحۃ
وکذا فی تکملہ فتح الملہم:(2/68،دارالعلوم کراتشی)
وکذا فی شرح معانی الآثار:(2/227،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:40

والد کا نام نور محمد چک نمبر 104فتح ،تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر،والدکی وراثت½ 12ایکڑ زرعی زمین۔½ 7ایکڑ چک کےایک طرف ہے اور 5ایکڑ چک کی دوسری طرف ہے،ٹھیکہ ساری زمین کا برابر ہی ملتا ہے۔ اولاد 4عدد بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں،والدہ کی وفات کے تقریبا 5سال بعد والد صاحب کا بھی انتقال ہو گیا ،اس کے بعد بھائیوں نے اکٹھے ہو کر بہنوں کو بلایا جو اپنے گھروں میں آباد تھیں کہ آپ والدکی وراثت سے حصہ لینا چاہتی ہیں؟تو بہنوں نے اپنا حصہ بھائیوں کو ہی دینا چاہا،اور عدالت میں تحصیلدار یا مجسٹریٹ تھا،اس کو بیان دے دیا،افسر نے پوچھا کہ کہ آپ نے پیسے لے لیے ہیں؟تو بہنوں نے مسکرا کر کہا ہاں!لے لیے ہیں ،اس طرح زرعی زمین چار بھائیوں کے نام ہو گئی ۔اوروالد صاحب کے نام جو بینک میں رقم تھی عدالت میں شرعی لحاظ سےتقسیم ہو گئی اور بہنوں نےوصول بھی کر لی۔ آج تقریبا 15یا16سال ہو گئے ہیں ،میں شادی،غمی اور خوشیوں کے ایام میں بہنوں کی خدمت کا خیال رکھتا ہوں ،لیکن پھر بھی شرعی لحاظ سے اگر کوئی کمی کوتاہی ہو گئی ہو تو میں بہنوں کو حصہ تک دینے کو تیار ہوں ۔میری راہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت حال میں بہنوں کا اپنا حصہ اس طرح بھائیوں کو دے دینا شرعا معتبر نہیں ہے،اس سے ان کا حق ختم نہ ہو گا،لہذا درج شدہ شرعی حصہ ان کو دے دیا جائےیا فریقین کی رضا مندی سے جو قیمت طے ہو وہ دے دی جائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں مرحوم والد کی کل جائیداد کے 12حصے کر کے ہر بیٹے کو 2 حصے(٪16.666)اور ہر بیٹی کو 1 حصہ (٪8.333)دیا جائے۔
سوال میں مذکور½ 12 ایکڑ زمین میں سے ہر بیٹے کو 16 کنال 13.33مرلے اور ہر بیٹی کو 8کنال 6.66مرلے دیے جائیں۔لہذا مقررہ حصہ سے جو زائد حصہ بھائیوں کے پاس ہے وہ بہنوں کا حق ہے وہ انہیں دینا ضروری ہے۔

مزید تفصیل کے لئے نقشہ ملاحظہ فرمائیں ۔

نمبرشمار، ورثاء عددی حصہ، فیصدی حصہ، زمین سے ملنے والا حصہ
1 بیٹی 1 ٪8.3333 8کنال6.66 مرلے
2 بیٹی 1 ٪8.3333 8کنال6.66 مرلے
3 بیٹی 1 ٪3333.8 8کنال6.66 مرلے
4 بیٹی 1 ٪3333.8 8کنال6.66 مرلے
5 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
6 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
7 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
8 بیٹا 2 ٪6666.16 16کنال13.33مرلے
میزان 8 12 ٪9996.99 99کنال19.96مرلے

لما فی المحیط البرھانی:(23/288،داراحیاءتراث)
وان کان للمیت ابن،فانھا تصیر عصبۃ بہ،ویسقط اعتبار النصف والثلثین،ویقسم المال بینھم للذکر مثل حظ الانثیین
وفی الاشباہ والنظائر:(309،قدیمی)
“لو قال الوارث:ترکت حقی،لم یبطل حقہ،اذالملک لایبطل بالترک.”
وفی شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر:(2/388،ادارہ القرآن)
قولہ:لو قال الوارث:”ترکت حقی الخ “اعلم ان الاعراض عن الملک،او حق الملک،ضابطہ انہ ان کان ملکا لازما لم یبطل بذالک کما لو مات عن ابنین،فقال احدھما:ترکت نصیبی من المیراث لم یبطل لانہ لازم لایترک بالترک بل ان کان عینا فلا بد من التملیک،وان کان دینافلا بد من البراء
وکذا فی القرآن المجید:(سورہ النساء:11) وکذا فی السراجی:(8،شرکت علمیہ)
وکذا فی الھندیہ:(6/448،رشیدیہ) وکذا فی القدوری:(291،الخلیل)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440-2019/3/21
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:54

ایک شخص کی وفات ہوئی ہے اور اس کی تین بیویاں ہیں،ان میں سے دو کی اولاد نہیں اور ایک بیوی کا صرف ایک بیٹا ہے،جس بیوی کا ایک بیٹاہے اس نے ساری جائیداد مثلاً :گھر ،ٹریکٹر اورقریبی زمین سب پر قبضہ کیا ہوا ہے اور کہتی ہے کہ جو باہر کی زمین ہے اس میں سےآٹھواں حصہ صرف ہم تین بیویوں میں تقسیم ہوگا، باقی سب میری اور میرے بیٹے کی ہو گی،دوسری بیویوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔ ایسی صورت میں شرعی حکم واضح فرما کر ممنون فرمائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم کی تمام جائیداد یعنی گھر، ٹریکٹر ،زمین اور نقدی وغیرہ کا آٹھواں حصہ تینوں بیویوں میں برابر تقسیم ہوگا،باقی سب لڑکے کو ملے گا، ایک بیوی کا دوسروں کا حق دبانا جائز نہیں بلکہ حرام اور سخت گناہ ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/42،رحمانیہ)
عن سعید بن زید بن عمروبن نفیل ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من اقتطع شبرا من الارض ظلما طوقہ اللہ ایاہ یوم القیامۃ من سبع ارضین.
وکذا فی القرآن المجید:(النساء،12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(6/450،رشیدیہ)
“واما الثمن ففرض الزوجۃ اوالزوجات اذا کان للمیت ولد او ولدابن.
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(20/242،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(9/374، رشیدیہ)
وکذا فی الدر المختار:(10/544،دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (23/298، احیاء تراث العربی)
وکذا فی کنز الدقائق:(500،الحقانیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/233،امدادیہ)
وکذا فی السراجی:(7، شرکت العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
9،8، 1440،2019، 4، 15
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:198

عبد الرحمن کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں 20 ایکڑ زمین ، ایک کنال کا گھر ، 25 لاکھ بینک بیلنس ، 5 دوکانیں ( فی دوکان ایک مرلہ ) ایک ٹریکٹر اور ایک گاڑی تھی ، جبکہ اس کے ورثا ءمیں 4 بیٹے،2 بیٹیاں، بیوی ، 3 پوتے، 2 بھائی اور 3 بہنیں ہیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

مر حوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ ( جیسے:سونا ،چاندی ، زیورات، اور کپڑے وغیرہ )اور غیر منقولہ (جیسے :مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا ،بڑا جو بھی سا مان چھوڑا نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا تر کہ شمار ہو گا۔ اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے ،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیا جائے گا ، خواہ قر ض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے ، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نےمعاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قر ض شمار ہو گا۔
اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی ۔
(4) ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا
کل ترکہ کے 80 برابر حصے بنائے جائیں ،10 حصے یعنی اڑھائی ایکڑ (12.5فیصد)بیوی کو، 14 حصے (17.5فیصد ) ہر بیٹے کو اور 7 حصے (8.75فیصد )ہر بیٹی کو دیا جائے گا ۔
سوال میں مذکور رقم 2500000 روپے میں سے بیوی کو 312500 روپے ،ہر بیٹے کو 437500 روپے اور ہر بیٹی کو 218750 روپے ملیں گے ۔ بقیہ اشیا ء کو بھی مذکورہ بالا فیصدی حصہ کے مطا بق تقسیم کر لیا جائے ،پوتے ،بھائی اور بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

مزید وضاحت کے لیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں

نمبر شمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ زمین میں حصہ نقدی میں حصہ
1 بیوی 10 %12.5 2.5 ایکڑ 312500 روپے
2 بیٹی 7 %8.75 1.75 ایکڑ 218750 روپے
3 بیٹی 7 %8.75 1.75 ایکڑ 218750 روپے
4 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
5 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
6 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
7 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
میزان 7 80 %100 20 ایکڑ 2500000 روپے

لما فی السراجی: (7،شرکت علمیہ)
“اماللزوجات فحالتان ۔۔۔۔۔والثمن مع الولد ۔۔۔۔۔واما لبنات الصلب فاحوال ثلث :النصف للوحدۃوالثلثان للاثنتین فصاعد اومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبھن”
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (20/224،فاروقیہ)
“بنات الصلب لھن حالان سھم وتعصیب اذ لم یکن للمیت ابن فھو ۔۔۔۔ وان کان للمیت ابن تصیر عصبۃ وسقط اعتبار النصف والثلثین ویقسم المال بینھم للذکر مثل حظ الانثیین “
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/ 7773، رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : (6/448، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (23/ 288، تراث العربی ) وکذا فی مجمع الانھر : (4/511، المنار)
وکذا فی الدر المختار : (10/553، دارالمعرفہ ) وکذا فی البحر الرائق : (9/373، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق : (6/ 233، امدایہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440، 2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:79

کہ محمود ولد محمد بشیروفات پاگئےہیں ان کی وراثت تقریبا 7 کنال 8 مرلےہیں جس میں بیوہ ساجدہ اورمحمود کی تین بہنیں اور ایک چچا یعقو ب دعویدارہیں کہ ہم کو یہ وراثت مل جائے،توآپ یہ تحریر فرما دیں کہ ان کوشرعی طور پروراثت کیسے تقسیم ہو گی اور کون وراثت کے حق دارہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 36 برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 9حصے (٪25)بیوی کو ، 8 حصے (٪22․22 )ہر بہن کو ، 3حصے (٪33․8) چچا کو دیے جائیں گے ۔
سوال میں مذکور زمین میں سے بیوی کو 37 مرلے، ہر بہن کو89․32 مرلے اور چچا کو 33․12 مرلے ملیں گے۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بیوی 9 ٪25 37 مرلے
2 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
3 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
4 بہن 8 ٪22.22 32.89 مرلے
5 چچا 3 ٪8.33 12.33 مرلے
میزان 5 36 ٪99.99 148 مرلے

لما فی تبیین الحقائق : ( 6 / 236 ، امدادیہ )
والأخوات لأب وأم كبنات الصلب عند عدمهن) أي عند عدم البنات وبنات الابن حتى يكون للواحدة النصف، وللثنتين الثلثان، ومع الإخوة لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {قل الله يفتيكم في الكلالة إن امرؤ هلك ليس له ولد وله أخت فلها نصف ما ترك وهو يرثها إن لم يكن لها ولد فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان مما ترك.
لما فی البحر الرائق : ( 9 / 381 ، رشیدیہ )
وعصبة أي من يأخذ الكل) أي إذا انفرد وما أبقته أصحاب الفروض… فنقول العصبة نوعان : عصبة بالنسب وعصبة بالسبب فالعصبة بالنسبة ثلاثة أنواع عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى
فیہ ایضا : ( 9 / 383 ، رشیدیہ )
والأحق الابن، ثم ابنه، وإن سفل ثم الأب، ثم أب الأب، وإن علا ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم الأعمام، ثم أعمام الأب، ثم أعمام الجد على الترتيب
وکذا فی الھندیة :(6 / 447 ، 450،451،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : ( 23/284،298،308،داراحیاءترات العربی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : ( 20/218،242،224،فاروقیة)
وکذافی مجمع الانھر : (4 /493،503،المنار)
وکذافی الشامیة : (10/528،550،دارالمعرفة)
وکذافی المبسوط :(29/155،147،دارالمعرفة)
وکذافی السراجی :(2،14،7،شرکت علمیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7727،7773،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد علیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعة الحسن ساہیوال
14/5/1440 ،2019/1/21
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:100

عبداللطیف اور عبد الصمد دو بھائی تھے ، اور ان کی ایک بہن ہے ، عبد اللطیف کی اولاد یا بیوی وغیرہ نہیں ہے۔ جبکہ عبد الصمد کی ایک بیٹی ہے، دونوں بھائیوں میں سے عبد الصمد کا پہلے انتقال ہو گیا، بعد میں عبد اللطیف بھی اپنی آخرت سدھار گئے۔ عبداللطیف جب تک زندہ رہے انہوں نے اپنے بھائی کی جائیداد میں سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کیا۔ عبداللطیف کے انتقال کے بعد ان کے بھانجے ( مذکورہ بہن کے بیٹے ) نے ان کے مکان پر قبضہ کر لیا اور عبدالصمد کے مکان، جس میں ان کی بیوہ اور یتیم بیٹی رہائش پذیر ہیں، اس میں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر رہا ہے اور عدالت میں اس کا دعوی بھی کیا ہوا ہے۔ عبدالصمد مرحوم کا ملکیتی مکان ( جس میں ان کی بیوہ اور بیٹی ہیں ) 6 مرلے کا ہے، جس میں سے 4 مرلے بیوہ کے حق مہر کے ہیں۔ اب ان دونوں مکانوں کی ان کے مستحق ورثاء میں تقسیم فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم عبدالصمد نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان، دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا۔ خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
مرحوم عبدالصمد کے کل ترکہ کے 8 برابر حصے کر دیےجائیں،ان میں سے1 حصہ (%12.5) مرحوم کی بیوہ کو، 4 حصے (%50) مرحوم کی بیٹی کو، 1 حصہ (%12.5) مرحوم کی بہن کو اور 2 حصے (%25) مرحوم کے بھائی عبداللطیف کو دے دیے جائیں۔
سوال میں مذکور مرحوم کے 6 مرلہ مکان میں سے مرحوم کی بیوہ کے 4 مرلے حق مہر نکالنے کے بعد باقی ماندہ 2 مرلہ (18 سرسائی) مکان میں سے 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی) مرحوم کی بیوہ کو، 1 مرلہ ( 9 سرسائی ) مرحوم کی بیٹی کو، 0.25 مرلہ (2.25سرسائی) مرحوم کی بہن کو اور 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی ) مرحوم کے بھائی عبداللطیف کو ملیں گے۔

اور مرحوم عبداللطیف کو اپنے بھائی عبدالصمد مرحوم کی طرف سے ملنے والے حصے ( 0.5 مرلہ ) اور اس کے اپنے ذاتی ترکے (مکان وغیرہ ) کو جمع کر کے کل ترکہ مرحوم کی بہن کو دے دیا جائے۔
لہذا مذکورہ صورت میں بھانجا، عبدالصمد مرحوم کے مکان میں سے شریعت کی رو سے اپنی والدہ کے حصے 0.25 مرلے (2.25 سرسائی ) کا اور اس کی والدہ کو اپنے مرحوم بھائی عبداللطیف کی طرف سے ملنے والے حصے 0.50 مرلے ( 4.5 سرسائی ) کا اپنی والدہ کے حکم پر مطالبہ کر سکتا ہے، جو کہ دونوں ملا کر 0.75 مرلہ ( 6.75 سرسائی ) بنتا ہے۔ جبکہ مرحوم عبدالصمد کی بیوہ اور بیٹی کو عبداللطیف مرحوم کی جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا

عبدالصمد مرحوم کے تقسیمِ ترکہ کا نقشہ۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بیوی 1 ٪12.5 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی )
2 بیٹی 4 ٪50 1 مرلہ ( 9 سرسائی )
3 بہن 1 ٪12.5 0.25 مرلہ ( 2.25 سرسائی )
4 بھائی 2 ٪25 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی )
میزان 4 4 ٪100 2 مرلہ ( 18 سرسائی )

عبداللطیف مرحوم کے تقسیمِ ترکہ کا نقشہ

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنے والا حصہ
1 بہن 1 ٪100 مکان اور 0.5 مرلہ ( 4.5 سرسائی )
میزان 1 1 ٪100 = = = = =

لما فی القرآن المجید: (النساء ،11 )
“یوصیکم اللہ فی أولادکم ……و ان کانت واحدۃ فلھا النصف.( الآیۃ)”
وفیہ أیضاً: (النساء، 12 )
“فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ. ( الآیۃ)”
وفی السراجی فی المیراث: ( 10، مکتبہ شرکت علمیہ )
“أما للأخوات لأب وأم فاحوال خمس النصف للواحدۃ و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ و مع الأخ لأب و أم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن بہ عصبۃ لاستواءھم فی القرابۃ الی المیت.”
وفیہ أیضاً: ( 27 ، مکتبہ شرکت علمیہ )
ما فضل عن فرض ذوی الفروض و لا مستحق لہ یرد علی ذوی الفروض بقدر حقوقھم ثم مسائل الباب علی اقسام اربعۃ احدھا ان یکون فی المسألۃ جنس واحد ممن یرد علیہ عند عدم من لا یرد علیہ فاجعل المسئلۃ من رؤسھم
وکذافی اعلاء السنن: ( 18/394، ادارة القرآن )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447، رشیدیہ )
وکذافی التنویر و الدر مع الشامیة: ( 10/532، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 20/224،216، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:109

میری والدہ میرے بچپن میں ہی وفات پا گئی تھیں، والد صاحب نے دوسری شادی کر لی، دوسری والدہ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ والد صاحب بھی وفات پا گئے، والد صاحب نے 5 مرلہ کا مکان اور 6 مرلہ کا پلاٹ میری سوتیلی والدہ کے نام کروا دیا تھا۔ میری سوتیلی والدہ بھی وفات پا گئی ہیں، میری سوتیلی ماں کے 3سوتیلے بھائی اور 1سوتیلی بہن ہے، یعنی میری سوتیلی ماں کی والدہ ( میری سوتیلی نانی ) کے دوسرے شوہر سے 3 بیٹے اور 1 بیٹی ہے، جبکہ ہم ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ جائیداد کی تقسیم کس ترتیب سے ہو گی؟ رہنمائی فرمادیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان، دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا۔ خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکہ کے 4 برابر حصے کر دیےجائیں اور ہر ماں شریک بھائی اور بہن کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے۔
سوال میں مذکور مرحومہ کے 5 مرلہ مکان میں سے ہر ماں شریک بھائی اور بہن کو 1.25 مرلہ دے دیے جائیں،اور 6 مرلہ کے پلاٹ میں سے ہر ایک کو 1.50 مرلہ دے دیے جائیں۔ مرحومہ کے سوتیلے بیٹے اور بیٹیوں کو جائیداد میں سے شریعت کی رو سے حصہ نہیں ملے گا۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ 5 مرلہ مکان 6 مرلہ پلاٹ
1 ماں شریک بھائی 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
2 ماں شریک بھائی 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
3 ماں شریک بھائی 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
4 ماں شریک بہن 1 ٪25 1.25 مرلہ 1.50 مرلہ
میزان 4 4 ٪100 5 مرلہ 6 مرلہ

لما فی السراجی فی المیراث: ( 7، شرکت علمیہ )
“و أما لاولاد الأم فأحوال ثلث السدس للواحد و الثلث للاثنین فصاعدا ذکورھم و إناثھم فی القسمۃ و الاستحقاق سواء.”
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 10/7770، 7769، رشیدیہ )
“لأولاد الأم و یسمون بنی الأخیاف أحوال ثلاثۃ:… الثانیۃالثلث: للاثنین فصاعدا، ذکورا أو إناثا… ذکورھم و إناثھم فی القسمۃ و الاستحقاق سواء.”
وکذافی القرآن الکریم: (النسآء، الآیة: 12 )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447،رشیدیہ )
وکذافی السراجی فی المیراث: ( 27، شرکت علمیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 6/447، رشیدیہ )
وکذافی التنویر و شرحہ فی رد المحتار: ( 10/532، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 20/216، فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:62

درج ذیل مسئلہ(میراث ) میں رہنمائی فرمادیں۔1)مسمّی محمد امجد مرحوم کا 2005میں انتقال ہوا ،ان کے انتقال کے وقت ان کی ملکیت میں ایک کنا ل کا گھر ،4مرلہ کا پلاٹ (مشترکہ میں ان کا حصہ 4 مرلہ ہے)،ایک مشترکہ دکان جس میں ان کا حصہ تقریبا 2 سرسائی ہے اور 5۔3 ایکڑ زمین تھی۔ اور ان کے ورثاء میں 3بھائی (فقیر حسین،حامد اورخالد مسعود) ایک بہن ،ایک متبنی بیٹا ،بیوی ،بھائی حامد کے 2بیٹے اور 4 بیٹیاں ،دوسرے بھائی خالد مسعود کی 2 بیٹیاں اور 4 بیٹے ، ایک بھائی (طاہر جن کا 2004 میں انتقال ہو گیاتھا )کی 2 بیٹیاں موجود تھیں ۔ اور ایک بھائی فقیر حسین کا پچھلے سال (2017) میں انتقال ہوگیا ہے اور ان کی زوجہ و اولاد میں سے کوئی موجود نہیں ۔ان (امجد مرحوم ) کی وراثت کس طرح تقسیم ہو گی۔2)ان میں سے ایک وارث اپنے حق شرعی سے زیادہ کا مطالبہ کررہا ہے ، اس کا کیا حل کیا جائے۔3)جبکہ ہمارا قانون “متبنی “کی وراثت کو تقسیم کرتا ہے تو کیا شریعت بھی اسے وارث تسلیم کرتی ہے ۔کیونکہ مرحوم کی بعض جا ئیداد قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے متبنی کے نام وراثتی طور ٹرانسفر ہو چکی ہے ، تو کیا اب اس جائیداد کو شریعت کے مطابق تقسیم کرنے کے لیے (متبنی کی) ولدیت تبدیل (یعنی کاغذات کے اندر حقیقی والد کا نا م درج) کرانا ضروری ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات
نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 140برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 42 حصے (٪30)بھائی حامد کو ، 42 حصے (٪30)بھائی خالد کو ، 35حصے (٪25) بیوہ کو اور 21حصے (٪15)بہن کو دیے جائیں گے ۔
بھائی طاہر ، جن کا 2004میں انتقال ہوا ہے وہ یا ان کی اولاد اس وراثت کی حق دار نہیں ۔
اور مرحوم امجدکے ترکہ میں سے فقیر حسین (مرحوم)کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء کو دے کر مسئلہ بالا تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور ایک کنا ل کے گھر میں سے دونوں بھائیوں میں سےہر بھائی کو 6مرلے، بیوی کو 5 مرلے اور بہن کو 3 مرلے ملیں گے۔
ساڑھے تین(3.5)ایکڑ زمین میں سے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 8کنال 8مرلے ، بیوی کو 7کنال جبکہ بہن کو 4کنال 4مرلے ملیں گے ۔
اور مذکورہ مشترک پلاٹ (4مرلے)میں سے ہر بھائی کو 1.2مرلے ، بیوی کو 1 مرلہ اور بہن کو 0.6 مرلہ ملیں گے۔
اسی طرح دکان میں مرحوم کے حصہ (2سرسائی یا اس کی قیمت) کو اوپر ذکر کردہ فیصدی حصہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے ۔الجواب باسم ملہم الصواب
مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی ،زیور اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ ( جیسے مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو ، نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا ۔
اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں ۔ جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے ۔1: سب سے پہلے میت کے دفن تک کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے بطور احسان اپنی طرف سے اس کا نظم کردیا تو ترکہ سے یہ اخراجات
نکالنے کی ضرورت نہیں ۔2:اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیاجائے گا ۔خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے ۔واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اوربیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیاتھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا ۔3:اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی ۔4:ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیوریا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیاجائے گا۔
کل ترکے کے 140برابر حصے کیےجائیں گے ، جن میں سے 42 حصے (٪30)بھائی حامد کو ، 42 حصے (٪30)بھائی خالد کو ، 35حصے (٪25) بیوہ کو اور 21حصے (٪15)بہن کو دیے جائیں گے ۔
بھائی طاہر ، جن کا 2004میں انتقال ہوا ہے وہ یا ان کی اولاد اس وراثت کی حق دار نہیں ۔
اور مرحوم امجدکے ترکہ میں سے فقیر حسین (مرحوم)کو ملنے والا حصہ ان کے ورثاء کو دے کر مسئلہ بالا تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور ایک کنا ل کے گھر میں سے دونوں بھائیوں میں سےہر بھائی کو 6مرلے، بیوی کو 5 مرلے اور بہن کو 3 مرلے ملیں گے۔
ساڑھے تین(3.5)ایکڑ زمین میں سے دونوں بھائیوں میں سے ہر ایک کو 8کنال 8مرلے ، بیوی کو 7کنال جبکہ بہن کو 4کنال 4مرلے ملیں گے ۔
اور مذکورہ مشترک پلاٹ (4مرلے)میں سے ہر بھائی کو 1.2مرلے ، بیوی کو 1 مرلہ اور بہن کو 0.6 مرلہ ملیں گے۔
اسی طرح دکان میں مرحوم کے حصہ (2سرسائی یا اس کی قیمت) کو اوپر ذکر کردہ فیصدی حصہ کے اعتبار سے تقسیم کرلیا جائے ۔

نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ

28 کنال 4مرلے دکان مکان1کنال
1 بھائی 42 ٪30 8کنال8مرلے 1.2مرلہ ٪30 6مرلے
2 بھائی 42 ٪30 8کنال8مرلے 1.2مرلہ ٪30 6مرلے
3 بیوی 35 ٪25 7کنال 1مرلہ ٪25 5مرلے
4 بہن 21 ٪15 4کنال4مرلے 0.6مرلہ ٪15 3مرلے
میزان 4 140 ٪100 28کنال 4مرلے ٪100 20مرلے

2) ہرمسلمان کو شریعت کے مطابق ترکہ کی تقسیم پر راضی ہونا چاہے ۔کسی وارث کا اپنے حق سے زیادہ کا مطالبہ درست نہیں ۔ایسے وارث کو آپس میں سمجھا بجھا کر یا بااثر افراد کے ذریعے معاملے کو حل کرلیا جائے ۔کچھ دے دلا کر صلح بھی کی جا سکتی ہے ،ورنہ باقی ورثاء قانونی چارہ جوئی کا حق بھی رکھتے ہیں ۔3)متبنی پر لازم ہے کہ شرعی ورثاء کو ان کا حصہ دے دےاور جائیداد ان کے نام ٹرانسفر کر دے۔ شرعی طور پر اس کام کے لیے نام تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ، لیکن متبنی کا اپنے والد کی جگہ کسی اور کانام لکھنا سخت گناہ ہے ،اسے جلد از جلد تبدیل کرالے۔

لما فی التنویر وشرحہ مع رد المحتار :(10/ 550و552،دار المعرفہ)
“ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم)”
وبعد صفحتین:
“فقال :(ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن)”
وفی تفسیر الطبری:(10/ 75الجزء21،ط:دار المعرفہ)
“قوله: (وَما جَعَلَ أدعِياءَكُمْ أبْناءَكُمْ) يقول: ولم يجعل الله من ادّعيت أنه ابنك، وهو ابن غيرك ابنك بدعواك.”
وکذا فی تسہیل السراجی:(65،السعید)
وکذا فی روح المعانی):21/146،دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی الشامیہ:(12/272،دار المعرفہ)
وکذا فی سنن الترمذی:(1/383،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی(7/205،دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7248،رشیدیہ)
وکذا فی مشکاۃ المصابیح :(1/259،رحمانیہ)
وکذا فی الترغیب و الترھیب:(1/42، دار احیاء التراث العربی)

 

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:68

 

باپ اپنی زندگی میں اپنے مال کو تقسیم کرتا ہے کسی بیٹی کو زیادہ دیتا ہے ایک بیٹے کوکم دیتا ہے اور اپنے عالم بیٹے کو ان کے برابر دیتاہے اور ایک حصہ بیچ دیتا ہے کیا اس طرح کرنا درست ہے ؟باپ کو اختیار ہے یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

زندگی میں ہر شخص کو اپنے مال میں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہےباپ کے لیےبہترتو یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد کو برابر حصہ دے اور کسی کو کسی عذر کی وجہ سےزیادہ بھی دیا جا سکتاہے مثلا اولاد میں سے کوئی تحصیل علم میں مشغول ہویامالی اعتبار سے کمزور ہویا کمانے سے عاجز ہواور کوئی حصہ بیچنا چاہےتو بیچ بھی سکتاہے ۔

لما فی الصحیح للبخاری: ( 1/ 352 ،قدیمی )
حدثنا حامد بن عمر، حدثنا أبو عوانة، عن حصين، عن عامر، قال: سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما، وهو على المنبر يقول: أعطاني أبي عطية، فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية، فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله، قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟»، قال: لا، قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»، قال: فرجع فرد عطيته
وفی الھندیة: (4 /391 ،رشیدیہ )
” ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية
وفی الشامیة: (8/454،سعید)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز واثم
وکذا فی التاتارخانیة : (14 /462 ،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (5/4012،رشیدیہ)
وکذا فی الصحیح لمسلم: (2/47،رحمانیہ)
وکذا فی تکملة فتح الملھم: (2/68،دار العلوم)
وکذا فی خلاصةالفتاوی: (4/400،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (5/182،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440،2019-04-01
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :110

میرا نام عطاءاللہ ہے ،اور میں ہڑپہ کا رہائشی ہوں ۔میری بہن کی شادی 1994میں عبداللہ نامی شخص سے ہوئی جوکہ عارف والا کے قریب چک 39/E.Bمیں کارہائشی تھا اور ہمارا دور کا رشتہ دار تھا ۔میری بہن کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے جوکہ پیدائش کے چند ماہ بعد یکے بعد دیگرے فوت ہوگئے اس کے بعد ایک بیٹی 1997 میں پیدا ہوئی ابھی وہ چارماہ کی تھی کہ اس کی والدہ یعنی میری بہن فوت ہوگئی۔میرے بہنوئی کااور کوئی بھائی بہن یا قریبی رشتہ دار نہ تھا وہ اکیلا39/E.Bمیں میں رہتا تھا ۔ اس کی کوئی جائیداد نہ تھی حتی کہ رہائش کی جگہ بھی کسی زمیندار کی ملکیت تھی وہ ٹھیکہ وغیرہ پر زمین لیتاتھا اور بھینس وغیرہ رکھتا تھا جس سے اس کی گزر بسر ہوتی تھی ۔میری بہن کی وفات کے بعد اس کی بیٹی ہمارے پاس رہی ہم نے اس کی پرورش کی ، میری ایک چھوٹی بہن ہے وہ اس کی دیکھ بھال کرتی رہی ذرا بڑی ہونے پر اسے اسکول داخل کروادیااور اس نےF.Aتک تعلیم حاصل کی ۔اس دوران اس کا باپ یعنی میرا بہنوئی عبداللہ نےبیٹی کا کوئی خیال نہ کیا اور نہ ہی خرچہ وغیرہ دیا ۔صرف ایک دفعہ اس نے دوہزار روپے دیا۔ میری بہن کی وفات کے بعد عبداللہ کی خواہش تھی کہ میں اپنی چھوٹی بہن کا رشتہ ا س سے کردوں ، مگر ہم نے انکار کیا ۔اس بات کا بھی اسے رنج تھا اور اس نے ہم سے یا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہ رکھا اور کبھی ہماری غمی خوشی پر بھی نہ آیا البتہ ہمیں اس کا پتہ چلتا رہتا تھا اور ہم کئی بار اس کے پاس بھی گئے۔ جب اس کی بیٹی جوان ہوئی اور کالج میں داخلہ لینا تھا تو اس کے باپ کے شناختی کارڈ کی ضرورت تھی تو ہم اس کے پاس گئے اور گاؤں والوں کے کہنے پر بڑی مشکل سے اس نے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دی ۔بنیادی طور پر عبد اللہ ضدی،کنجوس طبع کا مالک تھا ۔وہ ان پڑھ تھا اور دین سے کوسوں دور تھا ۔ اس کے گھر کے بالکل ساتھ مسجد تھی ،جو کہ بڑی جامع مسجد تھی ۔اس کی شکل وشباہت بھی دین کے بر عکس تھی یعنی داڑھی وغیرہ نہ تھی ۔اور اس نے کبھی مسجد کی خدمت نہ کی تھی ۔اس نے کبھی دس روپے بھی مسجد کو نہ دیے تھے۔ ہم نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بہن کو جہیز دیا تھا اور کچھ سونا ہم نے ڈالا تھا البتہ زیادہ زیور اس نے شادی کے موقع پر ڈالا تھا۔ ہماری بہن کی وفات کے بعد ہم نے جہیز کا سامان اور سونا واپس نہیں لیا تھا کیونکہ وہ جہیز کا سامان پر ماسوائے سونا کے واپس کرنے پر تیار تھا مگر میرا مطالبہ سونے کا بھی تھا کہ واپس کرے ۔ہمارا خیال تھا کہ جب بچی کی شادی ہوگی تو یہ سب اس کو مل جائے گا ،تقریبا بیس سال میں وہ ایک دو دفعہ ہمارے پاس ہڑپہ آیا۔اور ہم کئی بار گئے ،اس کی بیٹی کو بھی ساتھ لے گئے تھے ۔ دو چار سال پہلے پتا چلا کہ وہ بیمار ہے تو ہم اس کے پاس گئے تھے، دو چار ماہ قبل پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار ہے، ہم اس کے پاس گئے اس کی بیٹی بھی ساتھ تھی اور اسے کار میں ڈال کر ہڑپہ لے آئے ،دس بارہ دن وہ ہمارے پاس ٹھہرا وہ بالکل لاغر تھا کیونکہ اسےT.Bتھی ۔اس دوران اس کے گاؤں کےبھی کچھ لوگ اس کا پتہ کرنے ہمارے پاس ہڑپہ آئے ،اس سے ہم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا کچھ ہے ؟تو وہ صحیح نہیں بتاتا تھا ۔البتہ اس نے کہا کہ آپ کو مل جائے گا لیکن دینے پر رضا مند نہیں ہوتا تھا کہ میری باقی زندگی کیسے گزرے گی؟ جب میں ٹھیک ہو جاؤں گا تو یہ استعمال کروں گا اور یہ بھی کہتا تھا کہ میرے بعد سب کچھ بچی کو مل جائے گا۔ لیکن موقع پر دینے سے گریز تھا ۔اسے مرنے کا یقین نہ تھا ، اور مال سے پیارتھا ۔ جب ہم اسے 39/E.Bمیں سے لے کر آئے تو اس کا یہاں دل نہ لگتا تھا اور ہمیں کہا کہ مجھے واپس چھوڑ آؤ۔ ہم اسے واپس اس کے گاؤں چھوڑ آئے ۔ وہ کبھی کسی کے گھر اور کبھی کسی کے گھر رہتا تھا ۔ کیونکہ اس کا کوئی بھی قریبی رشتہ دار نہ تھا البتہ گاؤں کے لوگ اچھے تھے اور کوئی نہ کوئی اسے اپنے پاس رکھ لیتاتھا۔ جن کے پاس ہم اسے چھوڑکر آئے تھے وہ بھی اس سے تنگ تھے کیونکہ وہ مریض ہونے کے ساتھ ساتھ بدمزاج بھی تھا۔ وہ کب تک برداشت کرتے بالآخر وہ اسے ساہیوال چیک کرانے کے بہانے کار میں ڈال کر ہمارے پاس ہڑپہ چھوڑنے آئے مگر وہ واپس جانے پر اصرار کرتا رہا ۔ تو انہوں نے کہاکہ ہم آج رات ہڑپہ کے علاقے میں کسی دوست کے پاس ہیں کل صبح آپ کو لے جائیں گے ۔وہ یہ بہانہ کرکے چلے گئے اور اگلی صبح واپس نہ آئے ۔ تو پھر دو تین دن کے بعد اس نے کہا کہ خرچہ میں کرتا ہوں اور مجھے واپس چھوڑآؤتو ہم اسے پھر واپس 39/E.Bمیں کسی اور کے گھر جہاں اس نے کہا چھوڑ آئے اب تقریبا دوماہ بعد اس نے کئی گھر تبدیل کیے اسی دوران تقریبا بیس روز قبل گاؤں کےخالد نامی شخص نےجس کے پاس اس کا مال تھا فون کیا کہ اب عبداللہ راضی ہوگیا ہے آپ آئیں مال لے جائیں مگر ہم نہیں گئے کیونکہ وہ پہلے بھی کہتاتھا مگر مال نہیں دیتا تھا ۔ آج سے تقریبا پندرہ دن قبل خالد وغیرہ نے اس کا مال اور روپے گن کر واپس کردیے تو وہ مال مشتاق نامی شخص کے پاس لے گیا ۔ اس سے قبل مسجد کے امام اور زمان نامی شخص کے پاس بھی مال رکھنا چاہا مگر انہوں نے نہ رکھا تو عبداللہ نے مشتاق کے پوتے اسامہ کو ساتھ لیا موٹر سائیکل پر دو کلومیٹر دور گاؤں 31/E.Bکے حاجی سرور ارائیں کے حوالے کردیا۔ بقول اسامہ کے عبداللہ نے سرور کو کہا کہ یہ مال آپ رکھیں، حاجی سرور جس کا گاؤں میں مدرسہ ہے ۔ اب مال رکھنے کے تقریبا دس دن بعد فون آیا کہ عبداللہ فوت ہوگیا ہے ۔ اب کیا کرنا ہے؟ ہم نے پوچھا کہ اس نے کیا وصیت کی تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس نے کہا تھا کہ مجھے وہاں نہ بھیجنا اور یہیں دفن کردینا ۔ پھر ہم گئے اور جنازہ کروایا اور دفن کردیا۔ تو اس وقت لوگوں نے کہاکہ اس کا مال سرور کے پاس ہے، کچھ مال غلام فرید کے پاس ہے جس کے گھر وفات ہوئی ۔ اور کچھ مال یوسف جھجھے کے پاس ہے۔ جو انہوں نے دے دیا ہے۔گاؤں کے کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ اس نے کہا ہو کہ میرا مال مسجد یا مدرسے کو دے دینا۔ تین دن کے بعد ہم حاجی سرور کے پاس گاؤں کے معززین اور نمبر دار کو لے کر گئے۔ اسامہ بھی ساتھ تھا۔ گاؤں والوں نے حاجی سرور کو کہا کہ عبداللہ کی بیٹی ، اس کا ماموں اور خالو آئے ہیں، یہ مال اب بیٹی کا ہے کہ آپ کی بیوی کے پاس اپنی خالہ کے ساتھ بیٹھی ہے ۔آپ یہ واپس کردیں تو حاجی سرور نے کہا کہ میں یہ مال واپس نہیں کرتا کیونکہ عبداللہ نے کہا تھا کہ میرے بعد مال مدرسے کو دے دینا۔ تو ہم نے حاجی سرور سے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ آپ کے پاس ہے؟ تو اس نے کہا کہ کوئی گواہ نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ اسامہ ہے جو عبداللہ کے ساتھ آیا تھا ۔ وہ تھا؟ اس نے کہا وہ ساتھ تھا۔ تو اسامہ سے پوچھا کہ جب آپ مال رکھنے آئے تھے تو کیا بات ہوئی ؟ تو اسامہ نے بتایا کہ عبداللہ نے کہا تھا کہ آپ یہ مال رکھیں اور آپ نے ہی کرنا ہے جو کریں۔ تو حاجی سرور نے کہا کہ اگر یہ مال مدرسے کو دے دیں؟ تو عبداللہ نے کہا کہ آپ نے ہی کرنا ہے جیسے چاہیں۔ عبداللہ کا مدرسے کو مال دینے کا ہرگز ارادہ، نہ تھابلکہ اسے حاجی سرور پر یہ اعتماد تھا کہ میرا مال ضائع نہیں ہوگا اور اگر میں بچ گیا تو مجھے یہ مل جائے گا۔ عبداللہ نے اپنی بیٹی کا ذکر حاجی سرور کو نہیں کیا تھا۔ اب حاجی سرور سے یہ بات طے ہوئی ہے کہ جیسے مفتی صاحب فتوی دیں ویسے کریں گے۔ اب کیا کرنا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت حال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرحوم عبد اللہ نے حاجی سرور کو اپنے مال کا وکیل بنا کر اسے ہر قسم کے تصرف کا حق دے رکھا تھا اور حاجی سرور کے مدرسے ،سے متعلق بات کرنے پر اس کا یہ کہنا “آپ نے ہی کرنا ہے جو کرنا چاہیں ” یہ اس مال سے متعلق وصیت ہے اور یہ وصیت ایک تہائی مال تک نافذ ہوگی ۔ لہذا بندے اور اللہ کے درمیان جو معاملہ ہے اس کے لحاظ سے ورثاء اس مال کا دوتہائی(3/2) اپنے پاس رکھ لیں اور ایک تہائی(3/1)حاجی سرور کے حوالے کردیں ۔
فتوی کی رو سے جو حکم تھا وہ تحریر کر دیا گیا ۔ اب اگریہ معاملہ عدالت میں جائے تو گواہی پوری نہ ہونے کی وجہ سے قاضی اس اعتبار سے فیصلہ تبدیل بھی کرسکتا ہے۔

لما فی سورۃ النساء:(58)
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا۔۔۔۔۔”
و فی شرح المجلۃ:(3/294،رشیدیۃ)
“المادۃ802۔]اذا مات المودع تسلم الودیعۃ لوارثہ[“
وفی التاتار خانیۃ:(19/381،فاروقیۃ)
“رجل اوصی بجمیع مالہ للفقراء ، او لرجل بعینہ لا تجوز الا من الثلث۔۔۔”
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /354، رشیدیة)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ مع رد المحتار:(8 /526 ،دارا لمعرفۃ)
وکذا فی درر الحکام :(2/330،المکتبۃ العربیۃ)
وکذا فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ:(154،قدیمی)
وکذا فی المبسوط:(11/131،130، دار المعرفة)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(43/33، علو م اسلامیۃ)
وکذافی کذا فی التاتار خانیۃ:(16/ 51،فاروقیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1440
9/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :82