متوفی کے 6بھائی،4بہنیں،ایک بیوہ،2بیٹیاں اور والد محترم حیات ہیں۔متوفی کی جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا:
بقیہ کل ترکہ کے 24 حصے کر کے بیوی کو3حصے(٪12.5)،والد کو5 حصے(٪20.83) اور ہر بیٹی کو 8 حصے(٪33.33) دیے جائیں گے۔

لما فی قولہ تعالی:(النساء:12)

فإن کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا أو دین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاٰیۃ

وقولہ تعالی:(النساء:11)

فإن کن نساء فوق اثنتین فلہن ثلثا ما ترک۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة

وفی السراجی:(6،شرکة علمیة)

أما الأب فلہ أحوال ثلث:الفرض المطلق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والفرض والتعصیب معا وذالک مع الابنۃ أو ابنۃ الابن۔۔۔۔۔۔۔۔

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/06/1443/2022/01/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:87

حاجی کریم بخش کا انتقال1992ء میں ہوا،مرحوم کی ایک بیوی (نیلوفر)،دو بیٹے(خالد اور عمر)اور دو بیٹیاں (فاطمہ اور رقیہ) زندہ تھیں ابھی میراث تقسیم نہ ہوئی تھی کہ مرحوم کے بیٹے خالد کا انتقال ہو گیا۔خالد کے ورثاء میں 5 بیٹے اور2 بیٹیاں ہیں۔مرحوم کے پاس 7 مرلے کا ایک پلاٹ تھا جس پر اس کے دونوں بیٹوں نے اپنی ذاتی کمائی سے عمارت تعمیر کی،والد کا اس تعمیر میں کوئی دخل نہیں تھا،پوچھنا یہ ہے کہ ان کے درمیان میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ نیز بیٹیوں کو صرف پلاٹ سے حصہ ملے گا یا عمارت سے بھی؟

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا

1

۔بقیہ کل ترکہ کے1728 حصے کر کے ان میں سے300 حصے(17.3611٪) کرم بخش کی بیوی نیلوفر کو،504حصے(29.1666٪) کرم بخش کے بیٹے عمر کو،252 حصے(14.5833٪)کرم بخش کی بیٹیوں رقیہ اور فاطمہ میں سے ہر ایک کو،خالد کے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو 70 حصے(4.050٪) اور خالد کی بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو35 حصے(2.025٪) دیے جائیں گے۔
اور 7 مرلےزمین کی63 سرسائیاں بنتی ہیں،لہذا نیلوفر کو10.9375 سرسائی،کرم بخش کے بیٹے عمر کو18.375 سرسائی،کرم بخش کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو9.1875 سرسائی،خالد کے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو2.5520 سرسائی اور خالد کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو1.2760 سرسائی دیں گے۔
ملاحظہ: چونکہ زمین میں سے ہر ایک کو بہت تھوڑا حصہ آیا ہےجو بظاہر کسی کام کا نہیں ۔اس کا حل یہ ہے کہ یہ سات مرلے بیچ کر ہر ایک کو فیصدی حصے کے اعتبار سے رقم دے دی جائے۔
2

۔بیٹوں نے چونکہ اپنی ذاتی کمائی سے وہ تعمیر کی ہے۔ان کے والد کااس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے،اس لیے اس تعمیر میں بہنوں کا حصہ نہیں ہو گا۔

 

لما فی قولہ تعالی:(النساء،11)
“فإن کان لہ إخوۃ فلأمہ السدس.”
و قولہ تعالی:(النساء،12)
“فإن کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ۔۔۔۔۔۔الایۃ.”
وفی المحیط البرہانی:(23/288،ادارة القرآن)
“وإن کان للمیت ابن فانہا تصیر عصبۃ بہ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویقسم المال بینہم للذکر مثل حظ الأنثیین۔۔۔۔۔.”
وفی البحر الرائق:(9/374،رشیدیة)
ومع الولد او ولد الابن وان سفل الثمن لقولہ تعالی:(فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم۔۔۔۔۔۔
وفی شریفیة:(21،قدیمی)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن لقولہ تعالی:(یوصیکم اللہ۔۔۔۔۔۔۔) فإنہ لمّا لم یتبین نصیب البنات عند الاجتماع مع الابن دل علی انہ یعصبہن

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/07/1443/2022/02/14
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:10

محمد ارشد ولد محمد کرم بخش فوت ہو چکا ہے،اس کے والدین اس سے قبل فوت ہو چکے ہیں،مرحوم کے پانچ بھائی اور پانچ بہنیں زندہ ہیں،اس کی میراث میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا؟

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا:
بقیہ کل جائیداد کے15 حصے کر کےان میں سے 2،حصے(٪13.3333)ہر ایک بھائی کو دیں گےاور ہر بہن کو 1، حصہ (٪6.6666)دیں گے

لما فی شریفیة شرح سراجیة:(26،قدیمی)
ومع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن عصبۃ بہ لاستواءہم فی القرابۃ الی المیت قال اللہ تعالی:وإن کانوا إخوۃ رجالاً ونساء۔۔۔۔۔۔۔الایۃ فلم یقدر نصیب الأخوات فی حالۃالإختلاط۔۔۔۔۔۔۔۔۔فدل ذالک علی أنہن قد صرن عصبات معہم
وکذا فی المحیط البرہانی:(23/295،ادارة القرآن)
“إذا کان معہا بدرجتہا أخ لأب وأم تصیر عصبۃ بہ.”
وفی البحر الرائق:(9/378،رشیدیة)
“إذا کان معہا فی درجتہا أخ ذکر لأب وأم یصیر عصبۃ”

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2022/02/13
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:11

اگر کسی کا والد فوت ہو جائے اور اس کا دادا ابھی زندہ ہو تو کیا اس کا دادا اپنے بیٹے کی میراث کا مستحق ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! میت کا والد اس کی میراث کا مستحق ہو گا چاہے میت کی اولاد ہویا نہ ہو۔

لما فی شریفیة شرح سراجیة:(18،قدیمی)
أم الأب فلہ أحوال ثلث: الفرض المطلق۔۔۔۔۔وہو السدس وذالک مع الابن وابن الابن وان سفل والفرض والتعصیب معاً وذالک مع الابنۃ او ابنۃ الابن وان سفلت۔۔۔۔۔۔۔والتعصیب المحض وذالک عند عدم الولد وولد الابن وان سفل
وفی الفتاوی الہندیة:(6/448،رشیدیة)
الأول الأب،لہ ثلثۃ أحوال:الفرض المحض وہو السدس مع الابن أو إبن الابن وإن سفل والتعصیب المحض وذالک أن لا یخلف غیرہ فلہ جمیع المال بالعصوبۃ۔۔۔۔۔۔۔ والتعصیب والفرض معاً وذالک مع البنت و بنت الابن فلہ السدس فرضاً والنصف للبنت۔۔۔۔۔۔۔۔ والباقی لہ بالتعصیب
وکذا فی المحیط البرہانی:(23/299،دار إحیاء)
وکذا فی البحر الرائق:(9/367،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(20/243،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
08/06/1443/2021/02/10
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:167

کیا باپ اپنے بیٹے کو وراثت سے نکال سکتا ہے؟شریعت کی رو سے اس مسئلے کا جواب دیں؟نیز باپ کے انتقال کے بعد،اس نے جس بیٹے کو وراثت سے نکالا تھا،اب اس کی میراث کا حق دار ہے یا نہیں؟(2):ایک کاروبار میں دو بھائیوں کی شراکت داری ہے جس میں ان کے باپ کا کوئی پیسہ نہیں ہے،آیا اب اس کاروبار میں ان کی ماں اور بہن کا حصہ ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

باپ اولاد کو میراث سے محروم“عاق”نہیں کر سکتا،اگر کسی کو محروم کر دیا تب بھی وہ باپ کے مرنے کے بعد شرعاً اس کی میراث کا حق رکھتا ہے۔(2):چونکہ یہ مال انہیں دو بھائیوں کا ہے،ان کے والد کا نہیں ہے،اس لیے ان کی ماں اور بہن کا اس کاروبار میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

لما فی الدر المختار:(10/538،رشیدیة)
وموانعہ)علی ما ھھنا اربعۃ:(الرق۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ)(والقتل)۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ)(واختلاف الدین) وبعد اسطرٍ(و) الرابع(اختلاف الدارین)۔۔۔۔(حقیقۃ)۔۔۔۔(او حکماً).”
وفی الموسوعة الفقہیة:(3/22،علوم اسلامیة)
المانع: ما یلزم من وجودہ العدم
وموانع الارث المتّفق علیھا بین الائمۃ الاربعۃ ثلثۃ: الرق والقتل واختلاف الدین.واختلفو فی ثلثۃ اخری وھی: الردۃ واختلاف الدارین والدور الحکمی
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/4984،رشیدیة) وکذا فی تبیین الحقائق:(6/239،امدادیة)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(6/454،رشیدیة) وکذا فی البزازیة:(6/468،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:133

ہماری والدہ محترمہ بشیراں بی بی کاانتقال ہواجن کی ملکیت میں(32,000روپے)تھے،ان کےورثہ میں تین بیٹےاجمل،صفدر،اختراورایک بیٹی کلثوم ہیں اورہمارےبھائی افضل کاانتقال والدہ سےپہلےہوچکاہے،اس وقت ہمارےوالدمحمدشفیع زندہ تھے،ابھی والدہ کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ والدصاحب محمدشفیع کابھی انتقال ہوگیا۔والدصاحب کےورثہ میں ہم تین بھائی اورہمشیرہ تھی۔ ہمارےبھائی افضل کی بیوی بھی زندہ ہےآیااس وراثت میں ہماری بھابھی کوکوئی حصہ ملےگایانہیں،براہ مہربانی ہماری یہ وراثت شرعی ورثہ میں تقسیم فرمادیں؟

الجواب حامداومصلیا

مرحومہ نےبوقت انتقال جائیدادمنقولہ(جیسےسونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اورکپڑےوغیرہ)یا غیرمنقولہ(جیسے مکان،دکان،فصل اورپلاٹ وغیرہ)غرض چھوٹابڑاجوبھی سامان چھوڑاہو،نیزمرحومہ کاقرضہ یاایسےواجبات جوکسی فردیاادارےکے ذمہ ہوں، یہ سب میت کاترکہ شمارہوگا،اس کےبعدمیت کےترکہ کےساتھ چندحقوق متعلق ہوتےہیں جنہیں بالترتیب اداکرناضروری ہے:1< میت کےدفن تک تمام ضروری مراحل پرہونےوالےجائزاورمتوسط اخرجات نکالےجائیں گے،اگرکسی بالغ وارث نےخودیاکسی اورنےبطوراحسان اداکردیےتونکالنےکی ضرورت نہیں۔2< اس کےبعداگرمیت کےذمہ کسی کاقرض ہوتوباقی بچےہوئےمال میں سےوہ قرض اداکیاجائےگا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے،واضح رہےکہ اگرشوہرنےبیوی کامہرادانہیں کیاتھاتووہ بھی قرض شمارہوگااورترکہ سےاداکیاجائےگا۔3 <اس کےبعداگرمیت نےکسی غیروارث کےلیےجائزوصیت کی ہوتوبقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت کوپوراکیاجائےگا،ان حقوق کی ادائیگی کےبعدجوبھی ترکہ بچے،خواہ زمین ہویازیور یانقدی ہو یافصل وغیرہ ہو،اُس کودرج ذیل تفصیل کےمطابق تقسیم کیاجائےگا:
مرحومہ بشیراں بی بی کےترکہ کےکُل 28برابرحصےکرکےہربیٹےکو8حصے(٪57(28.اوربیٹی کوچارحصے(٪29.14)دیےجائیں اوررقم سےہربیٹےکو.869142روپےاوربیٹی کو.424571روپےملیں گے۔مرحومہ کےترکہ سےآپ کی بھابھی کوکچھ نہیں ملےگا۔

لمافی التاتارخانیة:(20/224،فاروقیہ)
بنات الصلب لھنّ حالان:سہم وتعصیب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وان کان للمیت ابن فانہاتصیرعصبۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویقسم المال بینہم للذکرمثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً:(20/262،فاروقیہ)
“الزوج صاحب فرض علی کل حال،وفریضتہٗ النصف۔۔۔۔۔۔۔۔۔والربع اذاکان للمیت ولداوولدابن۔”

واللہ اعلم بالصواب
کتبہٗ:محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:159

ایک آدمی فوت ہواجس کی میراث بیس ایکڑزمین ہےاورورثہ میں چاربیٹے اور ایک بیٹی ہےتوبیٹی کوکتناحصہ ملےگا؟

الجواب حامداومصلیا

مرحوم نےبوقت وفات اپنی ملکیت میں جائیدادمنقولہ(جیسےسونا،چاندی،نقدی وغیرہ)یاغیرمنقولہ (جیسےمکان،دکان، زمین وغیرہ)غرض چھوٹابڑاجوسامان چھوڑاہو،نیزمیت کےقرضےیاایسےواجبات جوکسی فردیاادارےکےذمہ ہوں یہ سب میت کاترکہ شمارہوتےہیں۔
اس کے بعدمیت کےترکہ کےساتھ چندحقوق متعلق ہوتےہیں جنہیں ترتیب واراداکرناضروری ہے:
<1

میت کےدفن تک تمام ضروری مراحل پرہونےوالےجائزاورمتوسط اخراجات نکالےجاتےہیں ،اگرکوئی بالغ وارث یاکوئی اوراپنی طرف سےاحساناًاداکردےتوپھرنہیں نکالےجاتے۔
2>

اگرمیت کےذمہ کسی کاقرض ہوتوباقی مال سےاس کواداکیاجاتاہے،نیزاگرمرنےوالےاپنی بیوی کامہرادانہیں کیاتھااوربیوی نےخوش دلی سےمعاف نہیں کیاتھاتووہ بھی قرض شمارہوتاہے۔
3<

اگرمیت نےکسی غیروارث کےلیےجائزوصیت کی ہوتوبقیہ ترکہ کی تہائی تک اس وصیت کوپوراکیاجاتاہے۔
4>

ان تمام حقوق کی ادائیگی کےبعدجوبچےوہ تقسیم کیاجاتاہے۔
صورت مسئولہ میں تقسیم اس طرح ہوگی:مرحوم کےترکہ کےنو برابرحصےکرکےہرایک بیتےکودوحصے(٪22.22)اوربیٹی کوایک حصہ(٪11.11)دیےجائیں گے۔
بیس ایکڑزمین میں سےہربیٹےکو(5.5535)کنال اوربیٹی کو(.77717)کنال ملیں گی۔

البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وعصبھماالابن ولہ مثل حظہما)معناہ اذااختلط البنون والبنات عصب البنات فیکون للابن مثل حظہما۔
وفی السراجی:(8،شرکت علمیہ )
“ومع الابن للذکرمثل حظ الانثیین وھویعصبہن۔”

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:160

ایک شخص فوت ہوااوراس کی بیوی بھی فوت ہوچکی ہے،اس کی اولادمیں سےایک بیٹی بھی فوت ہوگئی ہے،جبکہ اس کی پانچ بیٹیاں اوردوبیٹےحیات ہیں جب اس کی جائیدادتقسیم ہوگی توکیااس کی جوبیٹی فوت ہوگئی ہےاس کی اولادکوحصہ ملےگایانہیں اورجوبیٹی فوت ہوگئی ہےاس کی اولادمیں ایک بیٹافوت ہوگیاہےکیااس بیٹےکی اولادکوحصہ ملےگا؟

الجواب حامداومصلیا

اگربیٹی والدسےپہلےفوت ہوگئی ہےتواس کواپنےوالدکی جائیدادسےاوراس کی اولادکواپنےناناکی جائیدادسےحصہ نہیں ملے گا،اگربعدمیں فوت ہوئی ہےتووالدکی جائیدادمیں سےبیٹی کوحصہ ملےگااورپھربیٹی کی جائیدادسےاس کی اولادکوحصہ ملےگا۔

لمافی الفقہ السلامی :(10/7707،رشیدیہ)
یشترط لثبوت الحق فی المیراث ثلاثۃ شروط:وھی موت المورث،وحیاۃالوارث،ومعرفۃجہۃالقرابۃ}وفی صفحۃ الآتیۃ {حیاۃ الوارث:لابدایضامن تحقق حیاۃ الوارث بعدموت المورث،اماحیاۃ حقیقیۃمستقرۃ اوالحاقہ بالاحیاءتقدیراً
وکذافی ردالمحتار:(10/525،رشیدیہ)
وکذافی السراجی:(8،شرکت علمیة)
وکذافی الہندیة:(6/458،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی الہندیة:(6/448 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی؛23/288،ادارةالقرآن)
وکذافی التاتارخانیة:( 20/317،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:112

غلام حسین کی بیٹی کشورناز1981میں فوت ہوئی اور2003میں غلام حسین کی وفات ہوئی تواب مرحوم غلام حسین کی میراث میں سےاس کی مرحومہ بیٹی کشورنازکی اولادکوحصہ ملےگایانہیں؟جبکہ غلام حسین کی اولاداوربہن بھائی بھی موجودہیں۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں چونکہ غلام حسین مرحوم کی اولاداوربہن بھائی موجودہیں۔لہذامرحومہ کشورنازکی اولادکومرحوم غلام حسین کی میراث سےحصہ نہیں ملےگا۔

لمافی الھندیة:(6/459،رشیدیة)
وذووالارحام اربعۃاصناف)صنف ینتمی الی المیت وھم اولادالبنات واولادبنات الابن(بعداسطر)وانمایرث ذووالارحام اذالم یکن احدمن اصحاب الفرائض ممن یردعلیہ ولم یکن عصبۃ
وفی المحیط البرھانی:(23/343،ادارۃالقرآن)
قال عامۃاصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ذووالارحام یرث بعضھم من البعض،وانھم مؤخرون عن اصحاب الفرائض والعصبات لایرثون مع احدمنھم الامع الزوج والزوجۃ.
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(20/317،فاروقیة)
وکذا فی التنویرمع الدر:(10/576،بیروت)
مجمع الانھر:(4/496،المنار)
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/241،242،امدادیة)
وکذافی البحرالرائق:(9/397،رشیدیة)
وکذافی شرح العینی:(2/521،ادارۃالقرآن)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(4/396،رشیدیة)
وکذافی الجوھرۃالنیرۃ:(2/665،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
2021-12-04/1443-04-28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:120

محمد اکبر فوت ہو گیا،اس کے تین بیٹے اصغر،محمد عمران،فہیم،دو بیٹیاں سلمہ اور جمیلہ اور بیوی رقیہ ہے پھر تقسیم میراث سے پہلے محمد اکبر کا بیٹا محمد عمران فوت ہوگیااور محمد عمران کے دو بیٹے محمد اقبال اور محمد شریف اور ایک بیٹی صباء ہے۔اب ان میں میراث کیسے تقسیم ہوگی اور ہر وارث کو کتنا حصہ ملےگا؟

الجواب حامداومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال جو بھی مال و جائیداد منقولہ (جیسے سونا،چاندی، نقدی،زیورات،برتن اور کپڑے)و غیر منقولہ (جیسےدوکان ، مکان ،پلاٹ وغیرہ )غرض جو بھی چھوٹا بڑا سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا اگر کسی کے ذمہ قرضہ ہے یا مرحوم کےواجبات اگر کسی فرد یا ادارے کی ذمہ ہوں تو وہ سب بھی مرحوم کا تر کہ شمار ہو گا۔
اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں ترتیب وار ادا کرنا ضروری ہے:(1)میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جاتے ہیں،اگر کوئی بالغ وارث یا کوئی اپنی طرف سے احساناًادا کر دے تو پھر نہیں نکالے جاتے۔ (2)اگر میت کےذمہ کسی کاقرض ہو تو باقی مال سےاس کو ادا کیا جاتا ہے،اگرچہ سارا مال خرچ ہو جائے ،نیز اگر مرنے والے نے اپنی بیوی کامہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے خوش دلی سے معاف نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوتا ہے۔ (3)اگر میت نے کسی غیر وارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جاتا ہے۔ (4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ ہواس کو درج ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔
مرحوم کے کل ترکہ کے 192برابر حصے کئے جائیں گے،ان میں سے 42 حصے(٪21.875)اصغر کو،42 حصے (٪21.875)فہیم کو،21حصے(٪10.937)سلمہ کو،21حصے(٪10.937)جمیلہ کو،31حصے(٪16.145)رقیہ کو،14حصے (٪7.291)اقبال کو ،14حصے(٪7.291)محمدشریف کو،7حصے(٪3.645)صباءکو دیے جائیں گے۔

مزید تفصیل کے لئے نقشہ ملاحظہ فرمائیں۔
نمبر شمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ
1 رقیہ 31 ٪16.15
2 اصغر 42 ٪21.88
3 فہیم 42 ٪21.88
4 سلمہ 21 ٪10.94
5 جمیلہ 21 ٪10.94
6 اقبال 14 ٪7.30
7 محمد شریف 14 ٪7.30
8 صباء 7 ٪3.65
میزان 8 192 ٪100

 

 

لمافی الھندیة:(6/448،رشیدیہ)
واما النساء فالاولی البنت ولھا النصف اذاانفردت وللبنتین فصاعدا الثلثان…………واذا اختلط البنون والبنات عصب البنون والبنات فیکون للابن مثل حظ الانثیین
وکذافی البحر الرائق:(9/374،رشیدیہ)
وللزوجۃ الربع ای للزوجۃ نصف ما للزوج فیکون لھا الربع حیث لا ولد ومع الولد الابن وان سفل الثمن

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14،9،1443/2022،4،16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:11