ایک شخص کا انتقال ہوا ،ان کی اولاد نہ تھی ،والدین فوت ہو چکے ہیں ،بیوی کو عرصہ سےطلاق دے چکے تھے ،خود اکلوتے تھے ،کوئی بھائی بہن بھی نہیں ہے، انتقال سے کافی پہلے ہی اپنی قضاء نمازوں ،روزوں کی وصیت اپنے پھوپھی کے پوتوں کو کی تھی۔ اب رشتہ داروں میں صرف چچا کے پوتے اور پھوپھی کے پوتے ہیں ، ان کی میراث کیسے تقسیم ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

میت کے ترکہ میں سے تہائی مال تک اس کی وصیت پوری کی جائے گی اور بقیہ مال سے میت کے تجہیز وتکفین کے تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات اور قرض ادا کرنے کے بعد جو بچے ،چچا کے پوتے اس کے وارث ہوں گے،پھوپھی کے پوتوں کو میت کے ترکہ سے کچھ نہیں ملے گا۔

لما فی المبسوط:(29/174، دار المعرفة)
فأقرب العصبات الابن، ثم ابن الابن، وإن سفل، ثم الأب، ثم الجد أب الأب، وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب، ثم العم لأب وأم، ثم العم لأب، ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأم
وکذافی الھندیة:(6/451،رشیدیة)
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب
وکذا فی المبسوط:(30/6 ،دار المعرفة)
وکذا فی کنزالدقائق:( 502، حقانیة)
وکذا فی التنویر مع الدر:(6/795،سعید)
وکذافی الھندیة:(6/458،459،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الابحر:(4/503،504،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(9/382،397،رشیدیة)
وکذا فی التنویر مع الدر:(6/774،775،سعید)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(20/263،264،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(20/318،319،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/7/1442/2021/2/25
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:194

عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے اس نے تین بیٹے،تین بیٹیاں،ایک بیوی،3بھائی،چار علی بھائی ،پانچ بہنیں،چھوڑے، ترکہ:2ایکڑ زمین، دو دکانیں چھ مرلے کی، اور 5ہزارہے ورثاء میں میراث کی تقسیم کیسے ہو گی ؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی، وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
کل ترکہ کے72 برابرحصے بناکران میں سے 9حصے(%12.5)بیوی کو،7حصے(%9.72)ہر بیٹی کو، اور 14حصے (٪19.44)ہر بیٹے کو دے دیے جائیں۔سوال میں مذکور 5000 میں سےبیوی کو 625روپے،ہر بیٹی کو 486.11روپےاور ہر بیٹے کو 972.22 روپے ملیں گے۔
اور 2ایکڑزمین (16کنال) بنتی ہے اس میں سےبیوی کو 2 کنال،ہر بیٹے کو 3.11کنال اور ہر بیٹی کو 1.55کنال دی جائے گی۔سوال میں مذکور چھ مرلے کی دکانوں کا رقبہ (1620) اسکوائر فٹ ہے اس میں سے بیوی کو 202.5اسکوائر فٹ،ہر بیٹی کو 157.5،اور ہر بیٹے کو 315 اسکوائر فٹ ملیں گے ۔
نوٹ: فی مرلہ 270،اسکوائر فٹ کا شمار کیا گیا ہے۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10 /7773،7775،رشیدیہ)
التعصيب بالغير: مع الابن الذكر، فيأخذ الذكر ضعف الأنثى، سواء تعددت البنات أو تعدد الأبناء
وفیہ ایضا:(10/7773،7775،رشیدیہ)
أحوال الزوجة: الثمن:…. مع الفرع الوارث – الولد وولد الابن وإن سفل، سواء أكان منها أم من غيرها
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/31،32،علومِ اسلامیة)
حالات الزوجات….ان یکون فرضھا الثمن وذٰلک اذا کان للزوج فرع وارث منھا او من غیرھا …احول البنات…ان یکون معھن ابن صلبی أو ابناء ففی ھٰذہ الحالة یکون الجمیع عصبة للذکر مثل حظ الانثیین
وکذا فی الھندیہ:(6/450،451،رشیدیہ) وکذافی کنزالدقائق:(10/7773،حقانیہ)
وکذا فی المبسوط:(29/138،148،داراحیاء) وکذافی التنویرمع الدر:(6/775،769 سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:37

بشیر کی وفات ہوئی ہے،جسکی 6 بیٹیاں اور7 بیٹے ہیں ایک زوجہ اورایک بھائی اور دوبہنیں ہیں ترکہ میں6 کنال زمین ہے، جبکہ9مرلے کا ایک رہائشی پلاٹ ہے،شرعی طریقہ سے میراث کی تقسیم سے مطلع فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم نے بوقت انتقا اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا، چاندی،زیور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے مکان،دکان، فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہویہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے۔
1

۔سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پرہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
2

۔اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سےوہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے،واضح رہے اگر مرحو م نےاپنی بیوی کامہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہی کیا تھاتو وہ بھی قرض شمار ہو گا،
3

۔اس کے بعد اگر میت نے غیر وارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔
4

۔ان تمام حقوق کیادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ ہو اس کو درج ذیل تفصیل کے مظابق تقسیم کیا جائے گا۔
بقیہ ترکہ کے160 برابر حصے کیے جائیں گے، ان میں سے20 حصے(٪5․12)بیوی کو،14حصے(٪75․8)ہر بیٹے کو،7حصے(375․4)ہر بیٹی کودے دیئے جائیں۔بھائی اور بہنیں محروم ہوں گی۔زرعی زمین 6کنال میں سے بیوی کو15 مرلے،ہر بیٹے کو5․10مرلے،ہر بیٹی کو25․5مرلے رہائشی پلاٹ کے 9 مرلےمیں سے بیوی کو75․303فٹ،ہر بیٹے کو625․212فٹ،ہر بیٹی کو312․106فٹ ملیں گے۔

نوٹ:رہائشی زمین کا مرلہ 270 مربع فٹ شمار کیا گیا ہے۔

لما فی السراجی:(1/7،شرکت علمیہ)
اما للزوجات فحالتان الربع ۔۔۔ عند عدم الولد وولد الابن وان سفل والثمن مع الولد اوولد لابن وان سفل
وفی السراجی:(1/7، شرکت علمیہ)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن
وفی الہندیہ:(6/448،رشیدیہ)
واذا اختلظ البنون والبنات عصب البنون البنات فیکون للابن مثل حظ الانثییین کذا فی تبیین
وکذافی المحیط البرہانی:(23/288،تراث العربی)
وکذافی الدرالمختار:(10/544،دارالمعرفہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(10/263،فاروقیہ)
وکذافی ردالمختار:(6/77،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/2021/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :121

فیض محمد نےوراثت میں 2ایکڑ اراضی چھوڑی ہے جس کے 2 بیٹے تین بیٹیاں ہیں،ان میں سے ایک طاہرہ وفات پا چکی ہے جس کی 2بیٹیاں تین بیٹے ہیں،ایک شوہر ہے۔شرعی طریقے سے تقسیم میراث سے آگہی فرمادیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم نے بوقت انتقا اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا، چاندی،زیور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے مکان،دکان، فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہویہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے۔1۔سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پرہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سےوہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے،واضح رہے اگر مرحو م نےاپنی بیوی کامہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہی کیا تھاتو وہ بھی قرض شمار ہو گا،3۔اس کے بعد اگر میت نے غیر وارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4۔ان تمام حقوق کیادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ ہو اس کو درج ذیل تفصیل کے مظابق تقسیم کیا جائے گا۔
مرحوم فیض محمد کےبقیہ ترکہ کے224 برابر حصےکیےجائیں گے،احمداورجمیل میں سے ہر ایک کو64 حصے(٪57․28)شفیقہ اورجمیلہ میں سےہر کو 32،حصے (٪29․14)جعفر کو،8حصے(٪57․3) وقاص ،اویس ہمزہ میں سےہر کو 6حصے(٪68ڙ2)اور راحلہ انیلہ میں سے ہر ایک کو 3حصے(٪33ڙ1) دیئے جائیں۔ زرعی زمین میں سے احمد اور جمیل میں سے ہر ایک کو 43ڙ91 مرلے، شفیقہ اور جمیلہ میں سے ہر کو71ڙ45 مرلےجعفر کو42ڙ11 مرلے،وقاص اویس ہمزہ میں سےہر ایک کو 57ڙ8مرلے ،انیلہ ،راحلہ میں سے ہر ایک کو29ڙ4 مرلے ملیں گے، جبکہ مرحومہ طاہرہ کے 2 بھائیو ں اور 2بہنوں کو مرحومہ کے ترکہ میں سے شرعا کوئی حصہ نہیں ملے گا ۔

لما فی السراجی:(1/7، شرکت علمیہ)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن
وفی الہندیہ:(6/448،رشیدیہ)
واذا اختلظ البنون والبنات عصب البنون البنات فیکون للابن مثل حظ الانثییین کذا فی تبیین
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:( 10/550،رشیدیہ)
وکذافی السراجی:(1 /14،شرکت علمیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(10/263،فاروقیہ)
وکذاالقرآن:(النساء /12،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:122

زید کے والد وفات پا گئےہیں۔اب زید کی4 حقیقی بہنیں، 3 حقیقی بھائی، والدہ اور دادی زندہ ہیں۔ زید کے والد نے 896700 روپے نقدی اور 3 ایکڑ زمین ترکہ میں چھوڑی ہے۔ شرعی تقسیم بتلا دیں۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تووہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے 288 برابر حصے بنا کر ان میں سے36 حصے (٪12.5) میت کی بیوی کو،48حصے (٪16.666) میت کی ماں کو، اور17حصے(٪5.902) ہربیٹی کو اور 34 حصے (11.805%) ہر بیٹے کودیں گے۔
سوال میں مذکور نقدی (896700)میں سے 112087.5روپے بیوی کو،149450روپے ماں کو،52930.208 روپےہر بیٹی کواور105860.416 روپے ہر بیٹے کوملیں گے۔
سوال میں مذکور زمین(3 ایکڑ) میں سے میت کی بیوی کو3 کنال، میت کی ماں کو 4 کنال ،ہر بیٹی کو 1.416 کنال اور ہر بیٹے کو2.833 کنال دیں گے۔

لمافی القرآن المجید:( النسآء:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن
وفیہ ایضاً:(النسآء:11)
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفیه ایضاً:(النسآء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ
و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10/7773،رشیدیہ)
التعصیب بالغیر :مع الابن الذکر فیاخذالذکر ضعف الانثی سواء تعددت البنات او تعدد الابناء
و فی الموسوعة الفقھیة:(3/31،علوم اسلامیہ)
للام فی المیراث ثلاث حالات اولھا ان ترث بطریق الفرض و یکون فرضھا السدس و ذلک اذا کان للمیت فرع
و فی کنز الدقائق:(497،حقانیة)
و للزوجة الربع و مع الولد و ولد الابن و ان سفل الثمن و للبنت النصف و للاکثر الثلثان و عصبھا الابن و لہ مثل حظھما
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10/7775،7787،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/36،37،علوم اسلامیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(497،حقانیة)

واللہ خیر الوارثین
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:176

 

زید فوت ہوگیا ہے اور ورثہ میں 5 بیٹیاں ،3 بیٹے، ایک دادی اور والد ہیں اور ترکہ میں 20 ایکڑ زمین،50 من گندم،6 تولہ سونا اور دس لاکھ بینک بیلنس ہے۔ میراث کی شرعی تقسیم کیا ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائےگا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے 3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا
کل ترکہ کے 66 برابرحصے بنائیں،ان میں سے11حصے(٪16.66)باپ کو،11حصے(٪16.66)دادی کو،8حصے (٪12.121)ہر بیٹے کواور4 حصے(6.06%) ہر بیٹی کو دے دیے جائیں۔
سوال میں مذکور بینک بیلنس (10 لاکھ )میں سےباپ کو166666.67روپے،دادی کو بھی166666.67روپے، ہر بیٹے کو 121212.12روپے اور ہر بیٹی کو 60606.06 روپےملیں گے۔20 ایکڑ زمین میں سےباپ کو 26.66کنال، دادی کو 26.66کنال ،ہر بیٹے کو 19.393کنال اور ہر بیٹی کو 9.696کنال دی جائیں گی۔50 من گندم میں سے باپ کو8.33 من، دادی کو8.33 من، ہر بیٹے کو6.06من اور ہر بیٹی کو3.03 من دی جائے گی۔سونے میں سے باپ کو 12 ماشے،دادی کو 12 ماشے، ہر بیٹے کو8.72 ماشے اور ہر بیٹی کو4.36 ماشے دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ
وفیہ ایضا
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفی سنن ابن ابی داؤد:(2/53،رحمانیہ)
عن ابی بریدۃ عن ابیہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم جعل للجدۃالسدس اذا لم تکن دونھا ام
وفی الموسوعة الفقھیة:(3/30،35،37،علوم اسلامیہ)
للاب فی المیراث ثلاث حالات: الاولی ان یرث بطریق الفرض فقط وذلک اذا کان للمیت فرع وارث مذکر. . . .میراثہ فی ھذہ الحالۃ السدس
وفیہ ایضا
ویکون فرضھا السدس تستقل بہ الجدۃ الواحدۃ وتشترک فیہ الجدات
وفیہ ایضا
احوال البنات. . . .ان یکون معھن ابن صلبی او ابناء ففی ھذہ الحالۃ یکون الجمیع عصبۃ للذکر مثل حظ الانثیین
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7754،7775،7790،رشیدیہ)
وفی التنویر مع الدر المختار:(10/554،548،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:177

 

عصبہ کی عدم موجودگی میں زوج یا زوجہ پررد کیوں نہیں ہوتا؟

الجواب بعون الملک الوھاب

اصحاب فروض کو ان کا متعینہ حصہ دینے کے بعد، بچنے والے ترکہ کے سب سے زیادہ مستحق، رحم و قرابت والے رشتہ دار ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: “و اولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “(الاحزاب:6)
”ترجمہ:اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دار، دوسرے مؤمنون اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر( میراث کے معاملےمیں) زیادہ حق رکھتے ہیں۔“(آسان ترجمہ قرآن:884)
اور زوجین کے درمیان چونکہ قرابت و رحم والا رشتہ نہیں، لہذا یہ اس بقیہ مال کے مستحق نہیں ۔ نیز اصحاب فروض کا میت سے رشتہ قرابت کا ہے جبکہ زوجین کا آپس میں رشتہ، نکاح کی وجہ سے ہے لہذا یہ رشتہ ضعیف ہے ،تو متعینہ حصص کی تقسیم کے بعد زائد مال کے مستحق قوی رشتہ رکھنے والے یعنی اصحاب فروض ہوں گے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7826،رشیدیہ)
قولہ تعالی “واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “فانہ یفید ان ذوی الارحام الاقرباء الی المیت اولی بالترکۃ ممن عداھم ـ ـ ـ ـ ولما کان الزوجان لیسا من الاقرباء لم تشملھما الآیۃ فلا یاخذان بالرد شیئا لان میراثھما بسبب آخرغیر الرحم و القرابۃ وھو الزوجیۃ
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار :(4/394،رشیدیة)
ان میراث الزوجین علی خلاف القیاس لان وصلتھما بالنکاح و قد انقطعت بالموت وما ثبت علی خلاف القیاس نصا یقتصر علی مورد النص ولا نص فی الزیادۃ علی فرضھما
وکذافی البحر الرائق :(9/412،رشیدیہ) وکذافی الجوھرة النیرة:(2/661،قدیمی)
وکذافی حاشیة السراجی :(69،البشری) وکذافی تبیین الحقائق :(6/242،امدادیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/50،علوم اسلامیہ ) وکذافی الشامیہ:(10/570،رشیدیة)
وکذافی شریفیہ شرح سراجیہ للعلامہ جرجانی :(75،قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن:(18/403،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/27/1442/13/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:40

پانچ بھائی ہیں ، ان میں سے بڑے بھائی کی شادی ہوگئی ، پھر اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی ۔ بعد میں یہ بڑا بھائی فوت ہوگیا، جبکہ اس کے والدین حیات ہیں اور زمین وغیرہ ابھی انہیں کی ملکیت میں ہے، بھائیوں میں تقسیم نہیں ہوئی۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس بڑے بھائی کی بچی اس میراث کی حق دار ہوگی جو بڑے بھائی کو والدین کی طرف سے ملنی تھی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کی وفات کے وقت اگر ان کے حقیقی بیٹوں میں سے کوئی حیات ہوا تو یہ پوتی میراث کی حق دار نہ ہوگی۔

لما فی التاتارخانیة:(20/225،فاروقیہ)
ان کان للمیت ابن فلا شئ لبنت الابن
وفی الفتاوی الھندیة:(6/448،رشیدیہ)
فإن کان فی أولاد الصلب ذکر فلا شئ لأولاد الإبن ذکورا کانوا أو اناثا
وکذافی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(10/7777،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/212،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(23/289،بیروت)
وکذافی السراجی:(20،البشری)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/39،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:175

احمد علی کا انتقال ہوا،جس کے ورثاءمیں ایک زوجہ(حمیدہ) ،تین بیٹے(راشد،قاسم،اختر) اور دو بھائی(اشرف،امجد) ہیں۔احمد علی کاترکہ دس ایکڑ زمین اور 2لاکھ نقدی ہے،ابھی ترکہ تقسیم نہ ہوا تھاکہ احمد علی کے بیٹےقاسم علی کا انتقال ہو گیا جسکےورثاء میں ایک بیوی (مجیدہ)دوبیٹے (آصف ،انور)والدہ اور دو بھائی (راشد،اختر)زندہ ہیں ترکہ کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
کل ترکہ کے 1152 برابر حصے کیے جائیں گے جن میں سے 200 حصے (٪17.4) حمیدہ کو،راشد اور اختر میں سے ہر ایک کو336حصے (٪29.16) ،قاسم (مرحوم) کی بیوی مجیدہ کو42 حصے (٪3.64) اور آصف انور میں سے ہر ایک کو 119 حصے (٪10.32)ملیں گے۔مرحوم احمد علی کے ترکہ میں سے قاسم علی (مرحوم) کو ملنے والا حصہ اس کے ورثاء کو دے کر مسئلہ تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور رقم میں سےحمیدہ کو 34722.22روپے،راشد،اختر میں سے ہر ایک کو 58333.33 روپے، مجیدہ کو 7291.67 روپے اورآصف ،انور میں سے ہر ایک کو 20659.72روپے ملیں گے۔
زمین میں سےحمیدہ کو 13.9کنال،راشد اور اختر میں سے ہر ایک کو 23.33کنال،مجیدہ کو 2.91کنال،اور آصف،انورمیں سے ہر ایک کو8.26کنال دی جائیں گی۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی التنویروشرحہ:(10/550،رشیدیہ)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7907،رشیدیہ)
والمراد بها هنا: انتقال نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منہ ،فهي أن يموت من ورثة الميت الأول واحد أو أكثر قبل قسمة التركة
وکذا فی التنویر وشرحہ:(10/547،رشیدیہ)
وللأم) ثلاثة أحوال (السدس مع أحدهما أو مع اثنين من الأخوة أو) من (الأخوات) فصاعدا
وکذا فی المبسوط:(29/148،دارالمعرفہ) وکذا فی البحر الرائق:(9/380،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیة:(20/224،فاروقیہ) وکذا فی السراجی فی المیراث:(18،بشری)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/298،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/5/1442/2021/1/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 113

عبد الواحد فوت ہوا ہے، اس کہ ورثہ میں دوبیویاں،دو بیٹے،تین ماں شریک بہنیں اور ایک چچا ہیں۔ اس کے ترکہ میں 17 لاکھ نقدی،14 ایکڑ زمین ہے۔یہ ترکہ مذکورہ ورثہ میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے16برابرحصےبنا کران میں سے1حصہ(٪6.25)ہربیوی کو7حصے(٪43.75)ہربیٹےکو دے دیے جائیں ماں شریک بہنوں اور چچا کو کچھ نہیں ملے گا۔
سوال میں مذکور17 لاکھ نقدی میں سےہر بیوی کو 106250روپے اور ہر بیٹے کو 743750 روپے دیے جائیں گئے۔
چودہ ایکڑ زمین میں سے ہربیوی کو 7کنال اور ہر بیٹے کو49 کنال دیں گے۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی التنویر:(10/544،رشیدیہ)
فیفرض للزوجۃ فصاعداً الثمن مع ولد او ولد ابن
وفی الففقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7770، رشیدیہ)
حجبھم یسقطون مع وجود الفرع الوارث الولد وولد الابن وان سفل
وفی التاتارخانیہ:(20/241،فاروقیہ)
الاخت لام صاحبۃ سھم اذا لم یکن للمیت ولدوابن ولد وان سفلت ولا اب ولا جد اب الاب وان علا واذا کان للمیت واحد من ھؤلاء فلا سھم لھا
وکذا فی البحرالرائق:(9/374،379،382،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذا الموسوعةالفقھیة:(3/41،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(10/7798،رشیدیہ)

واللہ خیر الوارثین
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:59