خاوند اور بیوی کراچی میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر تھےکہ شوہر فوت ہو گیااور شوہر کی تدفین اپنے آبائی گاؤں پنجاپ میں ہوئی۔اب مسئلہ یہ ہے کہ عورت عدت کہاں گزارے کرائے والے مکان میں یا شوہر کے آبائی گھر میں؟واضح رہے کہ شوہر کے آبائی گھر میں بچوں کی تعلیم وتربیت کا نقصان ہوتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں یہ عورت اگر اپنے ذاتی مال سےمکان کا کرایہ ادا کرنے پر قادر ہے توکراچی والے گھر میں عدت گزارےگی ورنہ آبائی گھر منتقل ہونے کی اجازت ہے۔

لما فی المحیط البرھانی: (5/237،دار احیاء التراث العربی)
وتعتد المعتدۃ فی المکان الذی تسکنہ قبل مفارقۃ الزوج وقبل موتہ قال اللہ تعالیٰ(لاتخرجوھن من بیو تھن)واضافۃ الیھن باعتبار السکنی فی البیوت التی تسکن فیھا قبل المفارقۃ(ص،238) فان کانت مع زوجھا فی منزل بأجر فمات عنھا زوجھا فأجر المنزل علیھا فی مالھا
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/535،رشیدیہ)
علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت۔۔۔۔۔۔۔۔ان اضطرت الی الخروج من بیتھا بان خافت سقوط منزلھا أو خافت علی مالھا أو کان المنزل بأجرۃ ولا تجد ما تؤدیہ فی اجرتہ فی عدۃ الوفاۃ فلا بأس عند ذلک أن تنتقل وان کانت تقدر علی الاجرۃ لا تنتقل
و کذافی بدائع الصنائع : ( 3/ 325، مکتبہ رشیدیہ) و کذافی الھدایہ: (2 /170،رشیدیہ )
وکذافی تحفة الاحوذی : (4 /439،قدیمی کتب خانہ) وکذافی الصحیح المسلم:(2/322،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(2/163،رشیدیہ) وکذافی المبسوط:(6/33،دارالمعرفة بیروت لبنان)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(5/245،فاروقیہ) وکذافی تنویر الابصار مع الدر المختار:(5/229،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ:(5/446،رشیدیہ) وکذا فی کنز الدقائق مع البحر الائق:(4/259،بشرٰی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/02/08/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:14

ایک عورت عدت کے دوران گھر سےنکلی ہے تو محلے کے امام نے فرمایا ہے، کہ عدت توٹ گئی ہے اب آپ بتایئں کے عدت کا کیا حکم ہےٹوٹی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عدت نہیں ٹوٹی لیکن بلا عذر گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/244،فاروقیہ)
المعتدۃ من الطلاق لا تخرج من بیتھا لیلا ولا نھارا فأما المتوفی عنھا زوجھا فلا بأس بأن تخرج فی النھار
وفی الھندیة:(1/534،رشیدیہ)
ان کانت معتدۃ من نکاح صحیح وھی حرۃ مطلقۃ بالغۃ عاقلۃ مسلمۃ والحالۃ حالۃ الاختیار فانھا لا تخرج لیلا ولا نھارا سواء کان الطلاق ثلاثا او بائنا او رجعیا کذا فی البدائع المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا وبعض اللیل ولا تبیت فی غیر منزلھا کذا فی الھدایۃ
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/209،الطارق)
وکذافی المبسوط:(6/32،بیروت)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/553،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار:(5/227،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/256،رشیدیہ)
وکذافی مجع الانھر:(2/154،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/2023/19/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:126

اکرم نے آمنہ سے نکاح کیاایک سال پہلے،اب ایک سال کے بعد آپس میں ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو اکرم نے آمنہ کوایک طلاق رجعی دےدی،جبکہ آمنہ اس وقت حاملہ تھی،ایک ماہ بعد بچہ پیدا ہوگیا،تواکرم نے آمنہ سے رجوع کرنا چاہا بغیر نکاح کے اوراکرم کہتا ہے کہ چونکہ تین حیض کےاندر رجوع ہوسکتا ہےاور مجھے طلاق دیے ہوئےایک ماہ ہواہے مجھے رجوع کا حق حاصل ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ عورت کی عدت وضع حمل کے ساتھ تھی یا تین حیض،اکرم بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بچہ پیدا ہوتے ہی عورت کی عدت ختم ہوگئی اور طلاق رجعی ،طلاق بائنہ بن گئی،لہذادوبارہ نکاح کے بغیر عورت کو اپنے ساتھ رکھنا جائز نہیں۔

لما فی الشامیہ: (3 /313 ،سعید)
و)فی حق(الحاصل)مطلقاولوأمۃ أوکتابیۃ أومن زنا بأن تزوج حبلی من زنا ودخل بھاثم مات أوطلقھا تعتد بالوضع جواھر الفتاوی(وضع)جمیع(حملھا)
وفی احکام القران للشیخ المفتی محمد شفیعؒ:(5/77،ادارةالقران)
قال تعالی:(وَأُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ)قال أبوبکر:لم یختلف السلف والخلف بعدھم أن عدۃ المطلقۃ الحامل أن تضع حملھا
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (5 /228 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /527 ،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ: (1 /550 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(2/401،رشیدیہ)
وکذافی القرآن الکریم:(الطلاق/4)
وکذا فی فتح القدیر: ( 4/ 281 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر 29 فتوی نمبر:134

ایک عورت کا شوہرفوت ہوگیا ،اب وہ اسی گھر میں ساس سسرکےساتھ رہتی ہے اس کے بچےابھی چھوٹےہیں اوراس گھرمیں اب اس کا دل نہیں لگتا،وہ چاہتی ہے کہ عدت اپنے میکے میں گزارلےاور اس کے میکے کاگھراس سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہےکیاوہ اپنےوالدین کےگھرعدت گزارسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وہ اسی گھر میں عدت گزارے گی،دل نالگنے کی وجہ سےخاوند کے گھرکونہیں چھوڑسکتی۔

لما فی البحرالرائق: (4 /259 ،رشیدیہ)
قولہ:(وتعتدان فی بیت وجبت فیہ إلاأن تخرج أو ینھدم)أی معتدۃالطلاق والموت یعتدان فی المنزل المضاف إلیھمابالسکنی وقت الطلاق والموت ولایخرجان منہ إلالضرورۃلماتلوناہ من الآیۃ
وفی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /536 ،سعید)
ومعتدۃموت تخرج فی الجدیدین وتبیت)أکثر اللیل(فی منزلھا)لأن نفقتھاعلیھافنحتاج للخروج،حتی لوکان عندھاکفایتھاصارت کالمطلقۃفلایحل لھاالخروج فتح۔۔۔۔۔(طلقت)أومات وھی زائرۃ(وفی غیرمسکنھاعادت إلیہ فورا)لوجوبہ علیھا(وتعتدان) أی معتدۃطلاق وموت(فی بیت وجبت فیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(2/153،امدادیہ)
وکذافی لمختصرالقدوری:(188،الخلیل)
وکذا فی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذا فی الھدایة:(2/407،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/154،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(2/85،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:54

ایک شخص جائیدادتقسیم کرکےچھوٹے بیٹے کے ہاں قیام پزیر تھا،پھر بیمار ہوا تو بڑے بیٹے کے پاس چلا گیا، جب ٹھیک ہوتا ہےتو چھوٹے بیٹے کے پاس چلا جاتاہےاوربیماری میں بڑے بیٹے کے پاس ہی فوت ہوگیااور بیوی بھی ساتھ بڑےبیٹے کے پاس تھی،توبیوی اب عدت کس بیٹے کے گھرگزارے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحت کے زمانے میں چھوٹے بیٹے کے پاس رہتا تھااور بیماری کے عذر سے بڑے بیٹے کے پاس جاتاتھا،اس سے معلوم ہوااصل والد صاحب کی رہائش چھوٹے بیٹے کے پاس ہی تھی،البتہ بیماری کے عذر سے بڑے بیٹے کے پاس جاتاتھا،لھذاصورت مسئولہ میں بیوہ کو چھوٹے بیٹے کے گھر ہی عدت گزارناچاہیے۔

لما فی الھدایة:(2/407،رشیدیہ)
وعلی المعتدۃان تعتدفی المنزل الذی یضاف الیھابالسکنی حال وقوع الفرقۃوالموت
وفی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
ومنزلھاالذی تؤمربالسکون فیہ للاعتدادھوالموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا وقبل موتہ
وکذافی شرح الوقایہ:(2/153،امدادیہ)
وکذافی لمختصرالقدوری:(188،الخلیل)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/154،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(2/85،الحرمین شریفین)
وکذافی البحرالرائق: (4 /259 ،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /536 ،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:55

بائنہ یا مغلظہ طلاق یافتہ عورت دورانِ عدت شوہر کے گھرالگ کمرے میں سوئے یا ایک ہی کمرے میں سوسکتی ہے؟ اگر دوسرا کمرہ نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں مطلقہ الگ کمرے میں سوئے۔
اگر گھر میں ایک ہی کمرہ ہو تو اس میں پردہ لٹکاکر مطلقہ کے لئے جگہ الگ کرلی جائے۔ لیکن اگر خاوند کی طرف سے اندیشہ ہو کہ وہ پردہ کی پرواہ نہیں کرے گا تو کسی ایسی عورت کا انتظام کرلینا بہتر ہے جو خاوند کو مطلقہ سے دور رکھ سکے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو خاوند پر لازم ہے کہ وہ عدت کا دورانیہ گھر سے باہر گزارے۔ اور اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہو تو مطلقہ اپنی عدت کسی اور جگہ گزارے۔

لما فی المحیط البرھانی: (5/237، ط: دار احیاء التراث العربی)
وإذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجاباً حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة، فإن كان الزوج فاسقاً يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلاً آخر احترازاً عن المعصية، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى
و فی الھندیہ: (1/535، ط: رشیدیہ)
وإذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجاباً حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة، فإن كان الزوج فاسقاً يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلاً آخر احترازاً عن المعصية، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى
و کذا فی المبسوط للسرخسی (5-6/36، ط: دار المعرفہ)
و کذا فی التنویر مع الدر (3/537، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی شرح الوقایہ (2/153، ط: امدادیہ)
و کذا فی ملتقی الابحر (2/155 الی 156، ط: المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/156، ط: المنار)
و کذا فی الدر المنتقی (2/155 الی 156، ط: المنار)
و کذا فی البنایہ للعینی (5/449، ط: رشیدیہ)
و کذا فی شرح العینی علی کنز الدقائق (1/302، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
06/07/1442/2021/02/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:94

مطلقہ بائنہ یا مغلظہ عدت کہاں گزارے؟ شوہر کے گھر یا کسی اور جگہ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں مطلقہ اپنی عدت شوہر کے گھر پوری کرےگی، جہاں طلاق سے پہلے رہاکرتی تھی۔ لیکن اگر کسی وجہ سے وہاں رہنا ممکن نہ ہو تو پھر وہاں عدت گزارے جہاں آسانی سے رہائش کا بندوبست ہوسکے۔

لما فی الھدایہ: (2/407، ط: رشیدیہ)
و علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ و الموت
و فی بدائع الصنائع: (3/325، ط: رشیدیہ)
و منزلھا الذی تؤمر بالسکون فیہ للاعتداد و ھو الموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا و قبل موتہ
و کذا فی شرح الوقایہ (2/153، ط: امدادیہ)
و کذا فی الفتاوی الولوالجیہ (2/85 الی 86، ط: مکتبہ الحرمین الشریفین)
و کذا فی کنز الدقائق (148، ط: حقانیہ)
و کذا فی البحرالرائق (4/259، ط: رشیدیہ)
و کذا فی ملتقی الابحر (2/154، ط: المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/155، ط: المنار)
و کذا فی التنویر مع الدر (3/536، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی المختصر للقدوری (188، ط: مکتبہ الخلیل)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
06/07/1442/ 2021/02/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:95

بائنہ یا مغلظہ طلاق یافتہ عورت دورانِ عدت شوہر سے پردہ کرے گی یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسئولہ میں مطلقہ اپنے خاوند سے پردہ کرے گی۔

لما فی التنویر مع الدر: (3/537- 538، ط: ایج ایم سعید)
و لابد من سترۃ بینھما فی البائن لئلا یختلی بالاجنبیۃ، و مفادہ ان الحائل یمنع الخلوۃ المحرمۃ …و حسن ان یجعل القاضی بینھما امراۃ ثقۃ …قادرۃ علی الحیلولۃ بینھما.و فی المجتبی الافضل الحیلولۃ بسترو لو فاسقاًفبامراۃ
و فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر: (2/231، ط: رشیدیہ)
قولہ: و لابد من سترۃ بینھما فی البائن …قولہ: و فی المجتبی الافضل الحیلولۃ بستر ای لو عدلا …و ھذا مقابل قول المصنف “و لابد من سترۃ بینھما فی البائن” و الظاھر الاول لظھور وجھہ
و کذا فی البحر الرائق (4/261، ط: رشیدیہ)
و کذا فی ردالمحتار (3/538، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی ملتقی الابحر( 2/156- 157، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/156، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی الدر المنتقی (2/155- 156، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی المحیط البرھانی (5/237، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی الھندیہ (1/535، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط للسرخسی (5-6/36، ط: دارالمعرفہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/07/1442/ 2021/03/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:108

اس عورت کے بارے میں کہ جسے تین طہروں میں تین طلاقیں دی گئیں ہوں، اس کی عدت کب سے کب تک شمار ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی عدت پہلی طلاق کے بعد سے تین حیض گزرنے تک ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع: (3 /142، رشیدیہ)
اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضیٰ من عدتھا حیضتان،… فاذا حاضت حیضۃ اخریٰ فقد مضیٰ عدتھا
وفی الھندیہ: (1 /532 ، رشیدیہ)
رجل قال: لامراتہ. . . کلما حضت و طھرت فانت طالق، فحاضت ثلاث حیض کانت العدۃ من وقت الطلاق الاول
وکذافی البحر الرائق: (3/420، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی: (2/119، رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر و مجمع الانھر: (2/149-150، مکتبہ المنار)
و کذا فی المبسوط للسرخسی: (6/4، دار المعرفہ بیروت)
و کذا فی سنن النسائی: (2/99، رحمانیہ)
و کذا فی سنن ابن ماجہ: (145، قدیمی)
و کذا فی المعجم الکبیر للطبرانی: (4/605، دار الکتب العلمیہ بیروت)
و کذا فی المصنف لابن ابی شیبہ: (4/60، دار الکتب العلمیہ بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/ 2020/12/01
جلدنمبر:22 فتوی نمبر:48

ایک غریب خاتون کا شوہر فوت ہوگیا،عدت کے دوران اس کا جوتے بالکل ٹوٹ گئے،یہ خاتون نئے جوتے پہن سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہر وہ چیز جو زیب وزینت سے تعلق رکھتی ہو ،معتدہ شرعی طورپر اسے استعمال نہیں کرسکتی ،البتہ معتدہ کے لئے اپنی ضرورت کی چیز استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں ،صورتِ مسؤلہ میں جوتا ایک ہمہ وقت کی ضرورت ہے،لہٰذا ٹوٹنے کی صورت میں وہ ایسا جوتا خرید کر پہن سکتی ہے جو زیب وزینت سے خالی ہو۔

لمافی الھندیة:(1/533،رشیدیة)
على المبتوتة والمتوفى عنها زوجها إذا كانت بالغة مسلمة الحداد في عدتها….وإنما يلزمها الاجتناب في حالة الاختيار أما في حالة الاضطرار فلا بأس بها إن اشتكت رأسها أو عينها فصبت عليها الدهن أو اكتحلت لأجل المعالجة فلا بأس به ولكن لا تقصد به الزينة كذا في المحيط
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/249،فاروقیة)
والمتوفى عنها زوجها يلزمها الحداد في عدتها إذا كانت بالغة مسلمة …. وإنما يلزمها الاجتناب عن ھٰذہ الاشیاء حالة الاختيار أما في حالة الاضطرار فلا بأس بها
وکذا فی المبسوط:(6/58 ،دار المعرفة)
وکذافی الشامیة:(3/531،سعید)
وکذا فی فتح القدیر:(3/302،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7204، رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/330،رشیدیة)
وکذافی ملتقی الابحر:(2/152،المنار)
وکذا فی النھرالفائق:(2/192،دار احیاء)
وکذا فی البحر الرائق:(4/252، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/1442/2020/12/6
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:7