ایک خاتون اپنے شوہرسے لڑ کر اپنے والدین کے گھر رہتی ہے ،اس کو5سال ہو چُکے ہیں، اس کا خاوند فوت ہو چُکا ہے، کیا اس خاتون پر عدت لازم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضرت مفتی صاحب!جی ہاں مذکورہ عورت پر بھی چار ماہ دس دن عدت لازم ہے۔

لما فی المبسوط :(6/31،بیروت)
ان عدۃ الوفاۃ معتبرۃ من وقت موت الزوج عندنا وہو قول ابن مسعود وابن عباس رضی اللہ عنہما وکان رضی اللہ یقول من حین تعلم بموتہ حتی اذا مات الزوج فی السفر فاتاہا الخبر بعد مضی مدۃ العدۃ عند علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یلزمہا عدۃ مستانفۃ لان علیہا الحداد فی عدۃ الوفاۃ
وفی الفتاوی التاتار خانیہ:(5/228،بیروت)
وعدۃ المتوفی عنہا زوجہا اذا کانت غیرحامل وہی حرۃاربعۃاشہروعشرایستوی فی ذالک الدخول وعدم الدخول
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/7193،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/531،)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/7191، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(2/406، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:41

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک صریح طلاق دی۔ 20 دن کے بعد اس عورت نے دوسرے آدمی سے نکاح کر لیا ۔ اس دوسرے آدمی نے ایک مہینہ بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ اب یہ عورت پہلے خاوند کے پاس آنا چاہتی ہے تو کیا جدید نکاح کرنا پڑے گا یا پہلا نکاح کافی ہے؟ دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے کوئی اور حکم تو اس کی طرف متوجہ نہ ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوران عدت دوسرے آدمی سے نکاح کرنا سخت گناہ کا سبب ہے اور ایسا نکاح فاسد ہے۔ اس نکاح کی وجہ سے نکاح میں مقرر مہر اور مہر مثلی میں سے جو کم ہو وہ مرد کے ذمہ عورت کو دینا لازم ہے اور جدائی کے بعد سے عورت پر اس دوسرے خاوند کی عدت لازم ہے۔
سوال میں مذکور مدت ایک ماہ 20 دن میں اگرعورت کی پہلے خاوند سے عدت(3 حیض) نہیں گزری تو خاوند اسے سابقہ نکاح کے ساتھ واپس لا سکتا ہے،تجدید نکاح کی ضرورت نہیں، لیکن اس صورت میں دوسرے خاوند کی وجہ سے لازم عدت گزرنے سے پہلے یہ خاوند عورت کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہیں کر سکتا۔
اور اگر مذکورہ مدت میں عورت پہلے خاوند کی عدت مکمل گزار چکی ہے تو اب دوسرے خاوند سے علیحدگی کے بعد اس کی وجہ سے لازم مکمل عدت گزارے گی پھر نئے نکاح کے ساتھ پہلے خاوند کے پاس آسکتی ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/280،رشیدیہ)
لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ و کذلک المعتدۃ کذا فی السراج سواء کانت العدۃ عن طلاق او وفاۃ
وفی الموسوعة الفقھیة:(36/219،علوم اسلامیہ)
نكاح معتدة الغير يعتبر من الأنكحة الفاسدة المتفق على فسادها ويجب التفريق بينهما …ويتفق الفقهاء على وجوب المهر في هذا النكاح بالدخول (أي بالوطء) وعلى وجوب العدة كذلك
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی :(289،310،البشری)
اذا طلق الرجل إمرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا ما دامت ھی فی العدۃ سواء رضیت بذلک او لم ترض فاذا راجعھا فی العدۃ فھی إمرأتہ …لا تصح الرجعۃ بعد مضی المدۃ… و یجوز ان ینکحھا نکاحا جدیدا برضاھا
وکذافی الھندیہ:(1/330،رشیدیہ) وکذافی الشامیہ:(5/204،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/266،رشیدیہ) وکذافی البحر الرائق:(4/241،رشیدیہ)
وکذافی کنز الدقائق:(105،حقانیہ) وکذافی البحر الرائق:(3/294،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:80

ایک شخص کا آبائی گھر ملتان ہے ،وہاں اس کا مکان بھی ہے ، لیکن وہ خود فیملی سمیت مستقل طور پر لیہ میں شفٹ ہوگیا ہے اور عرصہ بیس سال سے وہاں کرایہ کے مکان میں رہتا ہے ، بچے اور کاروبار سب وہیں پر ہے ، وہ ملتان اپنے والدین سے ملنے آیا ، تو اٹیک ہونے کی وجہ سے فوت ہوگیا ، اب کیا اس کی بیوی ملتان میں عدت گزارےیا لیہ میں؟بچوں کا کہنا ہے کہ لیہ میں عدت گزارے ورنہ ان کو بہت تنگی ہوگی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کی وفات کے وقت عورت جس گھر میں مستقل رہائش پذیر ہو، اسی گھر میں عدت گزارے گی، لہذا صورت مسئولہ میں مرحوم کی بیوی لیہ میں عدت گزارے گی نہ کہ ملتان میں۔

لما فی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
ومنزلھا الذی تومر بالسکون فیہ للاعتداد ھو الموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا وقبل موتہ سواء کان الزوج ساکنا فیہ او لم یکن
وفی ردالمحتار:(5/229،رشیدیہ)
والمرادبہ ما یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ والموت سواء کان مملوکا للزوج او غٰیرہ
وکذافی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذافی الھدایة:(3/407،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(6/34،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(4/269،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7201،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2020/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:106

ایک عورت اپنی عدت کے دوران اپنی بیٹی اور بیٹوں کے گھر جاسکتی ہے؟واضح رہے کہ اس عورت اور اس کی اولاد کاگھر ایک چاردیواری کے اندر ہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر ان گھروں میں اجانب اور غیر محارم (مثلاًبیٹے اور بیٹیوں کے سسرال میں سے)نہیں رہتے تو عورت دوران عدت ان گھروں میں جاسکتی ہےورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلته:(9/7202،رشیدیة)
ولا تخرج المعتدۃإلی صحن الدار التی فیھا منازل الأجانب عنہا،لأنہ کالخروج إلی الشارع۔فإن لم یکن فی الدار منازل للأجانب ،بل بیوت أو غرف ،جازلھا الخروج الی الصحن الدار ،ولا تصیر بہ خارجۃ عن الدار ولھا أن تبیت فی أی غرفۃ شاءت منھا
وفی المبسوط للسّرخسی:(6/36،دارالمعرفة)
وللمعتدۃ أن تخرج من بیتھا الی الدار وتبیت فی أی بیوت الدار شاءت لأن جمیع الدار منزل واحد وعلیھاأن تبیت فی منزلھا ۔۔۔۔۔۔إلا أن یکون فی الدار منازل غیرھم فحینئذ لاتخرج الی تلک المنازل لان صحن الدار ھنا بمنزل السکۃ وبالوصول إلیہ تصیر خارجۃ من منزلھا وھی ممنوعۃ من ذلک فی العدة۔
وکذافی فتح القدیر:(4/310،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/36،رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق :(2/488،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/535،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/246،فاروقیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(5/337،داراحیاتراث)
وکذافی ردالمختار علی الدرالمختار:(5/228،رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:64

طلاق کےبعدعدت کاخرچ دیناشوہرکےذمہ لازم ہے یانہیں؟

الجواب حامداومصلیا

عدت کےدوران معتدہ کاخرچ شوہرپرلازم ہے۔لیکن اگرمعتدہ شوہرکےگھرعدت نہ گزارےیاشوہرکی نافرمان ہوتواس کاخرچ شوہرپرلازم نہیں۔

لمافی المبسوط لشمس الدین السرخسی:(5/201،بیروت)
قال )ولکل مطلقة بثلاث اوواحدۃالسکنی والنفقۃ،مادامت فی العدۃاماالمطلقۃ الرجعیۃفلانھافی بیتہ منکوحۃ لہ کما کانت من قبل وانما اشرف النکاح علی الزوال عندانقضاءالعدۃ وذلک غیرمسقط للنفقۃ کما لو آلی منھااوعلق طلاقھابمضی شھرفاماالمبتوتۃ فلھا النفقۃ والسکنی ما دامت فی العدۃ عندنا
وفی المحیط البرھانی:(4/328،بیروت)
“قال:المعتدۃ اذاخرجت عن بیت العدۃ تسقط نفقتھاھکذاروی عن الضحاک مطلقا:فھذا عندنا ما دامت علی النشوز.”
وکذافی الھندیة:(1/557،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/419،رشیدیة)
وکذا فی ردالمحتار:(5/340،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7404،رشیدیة)
وکذا فی التجرید:(10/5395،محمودیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/399،408،فاروقیة)
وکذا فی البحر الرائق:(4/338،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر:(2/189،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1443-03-25/2021-11-01
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:108

کہ ایک عورت کی عدت وفات 15 رمضان کے دن شروع ہوئی ،اس کی عدت وفات کب ختم ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً

یہ عورت ا یک سو تیس دن عدت گزارے گی۔

لما فی القرآن الکریم:
”والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً یتربصن بانفسھنّ اربعھ اشھر وعشراً․“
وفی الھندیہ :(1/529،رشیدیہ)
عدۃ الحرۃفی الوفاۃ اربعۃاشھروعشرۃ ایام سواء کانت مدخولاً بھا اوّلا مسلمۃ او کتابیۃ تحت مسلم صغیرۃ او کبیرۃاو آیسۃ وزوجھا حرّ او عبد حاضت فی ھذہ المدۃ او لم تحض ولم یظھر حبلھا کذا فی فتح القدیر، ھذہ العدۃ لا تجب الا فی نکاح صحیح کذا فی السراج الوھاج،المعتبر عشر لیال وعشرۃ ایام عند الجمھور
وفی المبسوط:(6/30،دارالمعرفہ بیروت)
فاما عدۃ الوفاۃ فانھا لا تجب الا عن نکاح صحیح ویستوی فیھ المدخول بھا وغیر المدخول بھا صغیرۃ کانت او کبیرۃ حتیٰ اذا کانت حرۃ مسلمۃ او کتابیۃ تحت مسلم فعدتھا ما قال اللہ تعالیٰ :والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاً یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر وعشراً
وکذا فی احکام القرآن :(1/564،قدیمی کتب خانہ)         وکذا فی صحیح البخاری:(2/315،رحمانیہ)
وکذا فی التنویروالدر:(5/190،رشیدیہ)          وکذا فی بدائع الصنائع :(3/309،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(5/228،فاروقیہ)          وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(29/314،علوم اسلامیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(4/281،رشیدیہ)                وکذا فی الھدایہ:(2/162،البشریٰ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/222،رشیدیہ)          وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7181،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
18/3/1443-202110//25
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:76