اگر سو (100) روپے والی چیز ایک مہینہ ادھار پر ایک سو دس(110) روپے میں فروخت کی گئی لیکن وقت مقررہ آنے پر مشتری بائع سے کہے کہ ریٹ(120)کر لیں اور ایک مہینہ اور مہلت دے دیں اور فریقین اس عقد ثانی پر راضی ہو جائیں تو کیا یہ بیع جائز ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ سود ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔

لما فی فقہ البیوع: (1 / 545 ،معارف القرآن )
وإن زیادۃ الثمن من أجل الأجل ،و إن کان جائزا عند بدایۃ العقد، ولٰکن لا تجوز الزیاد ۃ عند التخلف فی الاداء فإنہ ربا فی معنیٰ  أتقضی أم تربی“ وذلک لأن الأجل، وإن کان منظورا عند تعیین الثمن فی بدایۃ العقد، ولاکن لما تعین الثمن فإن کلہ مقابل للمبیع، ولیس مقابل للأجل ولذلک لایجوز ”ضع و تعجل
وفی المبسوط: ( 12/117 ،دار المعرفة )
وإن من الربا أبوابا لا یکدن یخفین علی أحد منھا السلم فی السن ماکا نو ااعتادوا فی الجاھلیۃ أن الواحد منھم یسلم فی إبنۃ مخاض فإذاحل الأجل زادہ فی السن وجعلہ إبنۃ لبون لیزیدہ فی الأجل ثم یزیدہ إلا سن الحقۃوالجذ عۃ و فی ذلک نزل قولہ تعالیٰ: ﴿ولا تأکلواالربا أضعافا مضاعفۃ
وکذافی موسوعة الفقہیہ: ( 22/58 ،علوم اسلا میہ ) وکذا فی فیض الباری: (3 / 412 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (5 / 3704 ،رشیدیہ ) وکذا فی تفسیر المظہری: (1/548 ،رشیدیہ)
وکذا فی بدئع الصنائع: (4 / 400 ،رشیدیہ ) وکذا فی فتح الباری: (4 / 392 ،قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی فیض الباری: (3 / 412 ،رشیدیہ ) وکذا فی روح المعانی: (4 / 55 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی تفسیر القرطبی: (4 / 202 ، دار احیاء التراث) وکذا فی روح المعانی: (4 / 55 ،دار احیاء التراث )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/01/13/16/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:37

زید نے بکر کو جانور خرید کر پالنے کے لئے دیا،جس کی قیمت ساٹھ ہزار تھی، اور ساتھ یہ شرط لگا دی کہ اسکوفروخت کرکے ساٹھ ہزار پر جو نفع آئے گا،وہ نصف نصف تقسیم کیا جائے گا۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اگرنہیں تو اسکی جائز صورت کیا ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جانور ادھیے پر دینے کی مختلف صورتیں معاشرے میں رائج ہیں ان میں سے ایک صورت سوال میں بھی مذکور ہے۔ حنفی فقہاءکرام نے ان جیسی صورتوں کو نا جائز قرار دیا ہے۔اور جواز کا یہ حیلہ ذکر فرمایا ہے کہ مالک آدھا جانور دوسرے کو ہبہ کر دے یا آدھا فروخت کر کے قیمت معاف کر دے۔اس طرح دونوں اس کے نفع ونقصان میں شریک ہو جائیں گے۔اس لئے اول تو اس طرح کا کاروبار کرنے والے شخص کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔اور ناجائز صورتوں سے بچنا چاہئے،لیکن اگر اس طریقے پر عمل کرنا ممکن نہ ہویا بہت مشکل اور دشواری کا سامنا ہو تو بوقت مجبوری اپنا مسلک چھوڑ کر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالیٰ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے مروجہ صورتوں کے مطابق اَدھیارا کرنے کی گنجائش ہے۔جیسا کہ حکیم الامت،حضرت اقدس،مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ اور نامور فقیہ، حضرت اقدس مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم کا بھی اسی طرف رجحان ہے۔ جس کے لئے امداد الفتاوی(3/342،دار العلوم) اور جدید فقہی مسائل(1/275،زمزم)ملاحظہ کی جائے۔حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ اللہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔

کتب الیٰ بعضِ الاصحاب من فتاوی ابن ِ تیمیہ کتاب الاختیارات مانصہ ولو دفع دابتہ أو نخلہ الیٰ من یقوم لہ، الہ جزء من نمائہ صح وھو روایۃ عن أحمد

پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد نا جائز ہے ۔کما نقل فی السوال عن عالمگیریۃ،لیکن بنا بر نقل بعض اصحاب امام احمدرحمہ اللہ کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے۔پس تحرز احوط ہے اور جہاں ابتلاءشدید ہو توسع کیا جا سکتا ہے۔
اور ہندوستان کے نامور فقیہ ،حضرتِ اقدس مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں
“آج کل مویشیوں میں بٹائی پر لین دین اور ادھیا پر دینے کا عام رواج ہے،فقہاء حنابلہ کے یہاں اسکی اجازت ہے،احناف نے اسکو نا جائز قرار دیا ہے۔البتہ یہ حیلہ بتایا ہے کہ اسکا آدھا حصہ پرورش کرنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اورپھر اسکو قیمت سے بری الذمہ کردے،اس طرح جانور میں دونوں کی شرکت ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع دودھ اور بچوں میں دونوں شریک ہو جائیں گے۔

والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمنٍ ویبرئہ عنہ ثم ما یامر باتخاذاللبن والمصل فیکون بینھما وکذا لو دفع الدجاج علیٰ ان یکون البیض بینھما

راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس تکلف کے بجائے موجود زمانے میں عرف ورواج کی بنیاد پر حنابلہ کا نقطہ نظر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی فتاوی الھندیة:(4/446،رشیدیہ)
والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمن ،ویبرئہ عنہ ثم یامر باتخاذ اللبن والمصل فیکون بینھما
وفی المحیط البرھانی:(12/97،دار احیاء التراث)
والحیلۃ فی جنس ھذہ المسائل ان یبیع صاحب البیضۃ نصف البیضۃ،وصاحب الدجاجۃ والبقرۃ نصف الدجاجۃ والبقرۃ من المدفوع الیہ ویبرئہ عن ثمنہ ،اشتریٰ فیکون بینھما

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:17

میں نے کاروبار کی نیت سے کچھ عرصہ پہلے سونا خریدا تھا کہ جب مہنگا ہوگا تو اس کو بیچوں گا،اب آپ بتائیں کے میرا یہ کاروبار کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عام حالت میں تو اس طرح کا معاملہ جائز ہے،مگر خاص ان حالات میں جب مارکیٹ میں اس چیز کی قلت پیدا ہو جائےاور اس چیز کی قیمت میں نا قابل تحمل اضافہ ہونے لگے تو اس وقت یہ عمل ذخیرہ اندوذی کے زمرہ میں آئے گا جو کہ حدیث کی رو سے ایک قابل لعنت عمل ہے۔

لما فی الھدایہ:(3/113،رحمانیہ)
و من باع درھمین و دینارا بدرھم و دینارین جاز البیع
وفی الھندیة:(3/230،رشیدیہ)
اذا اشتری ذھبا بعشرۃ دراھم فباعہ بربح درھم جاز
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(3/95،رشیدیہ)
وکذافی مجع الانھر:(3/166،المنار)
وکذافی کنز الدقائق:(222،حقانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/463،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(3/535،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2022/28/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:119

پانی کی باری کوآگےکسی کو دینا یابیچنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

معتد بہ مقدار میں پانی کا آنا یقینی ہو تو جائز ہے۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/92،معارف القرآن)
ثم ان السرخسی ذکر ھذہ المسألۃ مرۃ اخری فی کتاب الشرب بأبسط مما ھھنا وذکر فی الأخیر قول المشایخ المتأخرین الذین أجازوا بیع الشرب للعرف ولم ینتقد قولھم بشیء فقال:(وبعض المتأخرین من مشایخنا رحمھم اللہ أفتی أن یبیع الشرب وان لم یکن معہ أرض للعادۃالظاھرۃ فی بعض البلدان وھذہ عادۃ معروفۃ بنسف قالوا:المأجور الاستصناع للتعامل وان کان القیاس یأباہ فکذلک بیع الشرب بدون الارض )
وفی الشامیة:(7/277،رشیدیہ)
قولہ: (وکذا بیع الشرب)أی:فانہ یجوز تبعا للأرض بالاجماع ووحدہ فی روایۃ وھو اختیار مشایخ بلخ لانہ نصیب من الماء
وکذافی فتح القدیر:(6/393،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(3/123،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(14/136،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/363،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(8/397،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(3/430،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:68

ایک ہزار کا بڑا نوٹ جو اب نہیں چلتا صرف اسٹیٹ بینک اسے لیتا ہے تو کیا اب اس نوٹ کو پانچ سو میں خریدسکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ہزار روپے کے بڑے نوٹوں کی مالیت ختم ہو چکی ہے،یہ نوٹ عام اشیاء کے حکم میں ہو گئے ہیں ،لہذا اب ہزار روپے کے بڑے نوٹ کو پانچ سو میں بیچنا جائز ہے۔

لما فی الشامیة:(7/567،رشیدیہ)
تعین بہ)أی:بالتعیین لان ھذہ الدراھم فی الاصل سلعۃ وانما صارت أثمانا بالاصطلاح،فاذا ترکوا المعاملۃ بھا رجعت الی اصلھا
وفی فقہ البیوع:(2/733،معارف القرآن)
و حجۃ ھذا القول أن ھناک فرقا کبیرا بین الذھب و الفضۃ و بین النقود الورقیۃ من حیث ان الذھب و الفضۃ تعتبر أثمانا منذ اول نشأتھا حتی الآن، ولذلک قیل: انھا أثمان خلقیۃ، وان صفۃ الثمنیۃ فیھا لا تبطل بالعرف و لاصطلاح أما النقود الورقیۃ فانھا صارت أثمانا بالاطلاح وثمنیتھا لیست دائمۃ فیمکن فی أی حین أن تبطل ثمنیتھا بمحض إصدار حکم من الحکومۃ أنھا لم تعد عملۃ قانونیۃ
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(15/30،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحرالرائق:(6/335،رشیدیہ)
وکذافی الفاوی التاتارخانیة:(10/4،فاروقیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/588،دار العلوم کراچی)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/161،دار العلوم کراچی)
وکذافی الھدایة:(3/115،رحمانیہ)
وکذافی تیین الحقائق:(4/141،امدادیہ)
وکذافی مجع الانھر:(3/168،المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/2/2023/1/3/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:64

 

ایک شخص گندم خریدتا ہے ، اس طریقے سے کہ ابھی گندم کی قیمت پانچ ہزار روپے مَنْ ہے اور اس نے ایڈوانس پیسے دے دیئے اور اسے کہا کہ تین ماہ بعد مجھے تین ہزار روپے کے حساب سے گندم دینا تو کیا یہ معاملہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس شخص نے درج ذیل باتوں کا لحاظ رکھا ہو تو یہ صورت جائز ہے، مکمل قیمت ایڈوانس دی ہو ، گندم کی قسم ، کوالٹی ،وزن وصولی کی تاریخ اور جگہ سب کچھ واضح طور پر متعین اور معلوم ہو یعنی کسی بھی چیز میں جھگڑے کا خطرہ نہ ہو،اگر ان میں سے کسی ایک بات کا بھی خیال نہ رکھا گیا تو یہ محض ایک وعدہ ہوگا،مقررہ تاریخ آنے پر دوبارہ نئے سیرے سے معاملہ کرنا ہوگا۔ نوٹ: واضح رہے ایسا معاملہ سودی خوری کے حیلے کے طور پر کرنا گناہ ہے۔

لما فی الھدایة: (3 /140، بشری)
ولا یصح المسلم عند أبی حنیفۃ الا بسع شرائط : جنس معلوم کقولنا:حنطۃ او شعیرو نوع معلوم کقولنا: سقیۃ او بخسیۃ وصفۃ معلومۃ کقولناجید او ردی،ومقدارمعلوم کقولنا:کذا کیلا بمکیال معروف او کذا وزنا وأجل معلوم،والاصل فیہ ما روینا، والفقہ فیہ ما بینا و معرفۃ مقدار رأس المال اذاکان یتعلق العقد علی مقدارہ، کالمکیل ولموزون والمعدود تسمیۃ المکان الذی یوفیہ فیہ اذا کان لہ حمل ومؤنۃ
وفی فقہ البیوع: (2 /1137 ،،معارف القرآن )
الوعد أو المواعدۃ بالبیع لیس بیعا، ولا یترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ المبیع ولا وجوب الثمن و اذا وقع الوعد او المواعدۃ علی شراء شیء او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علی الواعد دیانۃ ان یفی بہ،ویعقد البیع حسب وعدہ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (5 /3604 ،رشیدیہ )
وکذا فی کنز الدقائق : ( 255 ،حقانیہ )
وکذافی الدرالمختار مع ردالمحتار: (7 /580 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (4 /333 ،الطارق )
وکذافی الموسوعة الفقہیة: (44 /97 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی القدوری: (346 ،البشری )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1 /502 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
ضیاء الرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:58

میں نے ایک شخص سے قرض مانگا ہے دوسرا شخص کہتا ہے کہ میری رقم اکاؤنٹ میں ہے اس کو نکالنے کے چارجز لگیں گے اگر آپ ادا کر سکتے ہیں تو میں آپ کو قر ض دینے کیلئےتیار ہوں اور میں اس شرط پر قرض لینے کو راضی ہوں تو یہ معاملہ سودی تو نہیں ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں کوئی ایسا طریقہ اختیارکیا جائے جس میں یہ چارجز ادا نہ کرنے پڑیں لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو مذکورہ معاملہ کرنے کی بھی گنجائش ہےیہ معاملہ سودی نہیں ہے کیونکہ یہ چارجز رقم وصولی کے ہیں ،نہ کہ قرض دینے والے کا ذاتی نفع۔

لما فی الشامیہ:(7/413،بیروت)
قولہ (کل قرض جر نفعا حرام) أی اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وان لم یکن النفع مشروطا فی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ
وفی الفح القدیر:(6/272،رشیدیہ)
وأجرۃ الکیال و وزان المبیع و ذراعہ و عادہ)ان کان البیع بشرط الکیل والوزن أو الذرع أو العد (علی البائع)لان علیہ إیفاء المبیع ولا یتحقق ذلک الا بکیلہ ووزنہ و نحوہ و أجرۃ وزان الثمن علی المشتری باتفاق الأمۃ الاربعۃ لانہ یحتاج الی تسلیم الثمن و تمییزہ عنہ فکانت مؤنتہ علیہ
وکذافی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(3/105،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/40،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(6/204،رشیدیہ
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4/220،طارق)
وکذافی الھدایہ:(3/45،بشری)

 

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/2/2023/13/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:10

میرے پاس ایک اچھی نسل کی بکری ہے اور وہ حاملہ ہے تو لوگ مجھ سے ابھی سے اس کے بچے خریدنے کا مطالبہ کررہے ہیں تو کیا میں ان کو ابھی سے بیچ سکتا ہوں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی نہیں۔

لما فی الھدایة:(3/77،بشری)
ولا بیع الحمل ولا النتاج لنہی النیی صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحبل وحبل الحبلۃ ولان فیہ غررا
وفی صحیح البخاری:(1/382،رحمانیہ)
عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی عن بیع حبل الحبلۃ وکان بیعا یتبایعہ اھل الجاھلیۃ کان الرجل یبتاع الجزور الی ان تنتج الناقۃ ثم تنتج التی فی بطنھا
وکذافی القدوری:(323،بشری)
وکذا فی البنایہ: (7 /199،رشیدیہ)
وکذا فی کنز الدقائق: (238 ،حقانیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق: (4 /44 ،امدادیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 386 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (6 /121 ،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/80،المنار)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار :(7/237،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ضیاءالرحمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/31/7/6/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:158

گندم کی پسوائی کے لیے اجیر کا اسی آٹے میں سے اجرت کی مد میں آٹا کاٹنا کیسا ہے؟

الجواب ومنہ الصدق واصواب

گندم پیسنے کی اجرت میں اسی گندم سے بنا ہوا آٹا ، دینے کی شرط نہ ہو تو یہ صورت جائز ہے، پھر چاہے وہی آٹا اجرت میں دیا جائے یا کوئی اور آٹا۔

لما فی الھندیة:(4/444،رشیدیہ)
والحیلۃ فی ذالک لمن اراد الجواز ان یشترط صاحب الحنطۃ قفیزا من الدقیق الجید ولم یقل من ھذہ الحنطۃ او یشترط ربع ھذہ الحنطۃ من الدقیق الجید لان الدقیق اذا لم یکن مضافا الی حنطۃ بعینھا یجب فی الذمۃ والاجر کما یجوز ان یکون مشار الیہ یجوز ان یکون دینا فی الذمۃ ثم اذا جاز یجوز ان یعطیہ ربع دقیق ھذہ الحنطۃ ان شاء کذا فی المحیط
وفی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة:(5/35،رشیدیہ)
وحیلۃ الجواز فیہ ان یشترط للطحان قفیزا جیدا من دقیق ولا یضیفہ الی ھذالدقیق وکذا فی تذریۃ الکدس و حلج القطن ثم یعطیہ من ذالک فیجوز
وکذافی البحر:(8/41،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(9/360،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(6/57،ایچ ایم سعید)
وکذا فی تبیین الحقائق: (5/30،امدادیہ )
وکذافی المحیط البرھانی:(11/33،بیروت)
وکذا فی الدر المختار:(6/57،ایچ ایم سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(15/114،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الشلبی علی ھامش التبیین :(5/130،امدادیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:195

سودی بینک کو دوکان کرایہ پر دینا جائز ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز نہیں۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدہ:2)
وَتَعَاوَنُوْاعَلی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَان
وفی تکملة فتح الملہم:(1/619،دارالعلوم کراچی)
ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لایجوز، فان کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ او الحساب، فذلک حرام لوجھین :الاول:اعانۃ علی المعصیۃ، والثانی:اخذالاجرۃ من المال الحرام فان معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا،وامااذا کان العمل لاعلاقۃ لہ بالربا فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال،جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال
وکذا فی البدائع:(4/39،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(5/343،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/186،المنار)
وکذا فی سنن ابی داؤود :(2/118،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/346،بیروت)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1021،معارف القرآن)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(9/92،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:(14/482،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
سید ممتاز شاہ بخاری غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/6/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 81