ایک گاڑی والا اڈے سے سواری بٹھاتا ہے اور اڈے سے باہر گاڑی والے کو وہ سواریاں دے دیتا ہے اور اس سے کمیشن لیتاہے پھر واپس اڈے ہی میں آکر دوبارہ اپنا نام لکھوا دیتاہے اور اس طرح اس کی باری جلدی آجاتی ہے اور جو گاڑیاں باہر گئی ہوتی ہیں ان کی باری دیر سے آتی ہے آیا اس طرح دوسری گاڑی والے سے کمیشن لے کر سواریاں اس کو دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

سواریاں دوسری گاڑی کو دے کر کمیشن لینا مجبوری کے وقت اور سواریوں کی رضامندی کی صورت میں جائز ہے۔اس کو مستقل کاروبار نہیں بنایا جاسکتا ۔اڈے میں آکر نام لکھوانے میں اگر دوسروں کا حق متا ثرنہ ہوتا ہو اور اڈے کے قوانین کے خلاف نہ ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں ۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:4/423،(الطارق)
“تفسخ الاجارۃ بالقضاء او الرضا بخیار شرط قبل القضاء الایام الثلاثۃ “.
وفی الھندیۃ:(4 458/،رشیدیۃ)
“وإذا تحقق العذر ومست الحاجة إلى النقض هل يتفرد صاحب العذر بالنقض أو يحتاج إلى القضاء أو الرضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أن العذر إذا كان ظاهرا يتفرد، وإن كان مشتبها لا يتفرد”.
وکذا فی المبسوط : 13/83(،دارالمعرفۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 4/58، رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/3161 ،رشیدیۃ)
وکذافی اعلا ء السنن :(16 /208،ادارۃ القرآن)
وکذا فی الشامیۃ:(9 /107و129،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440،2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر : 96

ایک شخص دکان کرایہ پر لیتا ہے ،اس میں چارپائیوں کا کاروبار کرتا ہے اور کرایہ یہ طے کرتا ہے کہ ایک چارپائی بکنے پر دس پرسنٹ مالک دکان کو دوں گا۔یہ معاملہ جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ معاملہ درست نہیں کیونکہ اس طرح کرایہ پوری طرح متعین نہیں ہوتا اور اس میں جھگڑے کے امکانات موجود ہیں۔

لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(9/9،رشیدیۃ)
“وشرطھا :کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جھالتھما تفضی الی المنازعۃ ۔”
ولما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/342،طارق)
“یشترط فی الاجارۃ ان تکون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جھالتھما تفضی الی المنازعۃ ۔”
وکذافی المصنف لابن ابی شیبۃ:(4/371،دارالکتب)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیۃ:(15/7،فاروقیۃ)
وکذافی المحیط البرھانی :(11/217،دار احیاء)
وکذافی مجمع الانھر:(3/512،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(7/507،رشیدیۃ)
وکذافی الھدایۃ:(3/296،رحمانیۃ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3822،رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط:(15/75،دارالمعرفۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر 77

اگر پرانے برتن دکان دار کو بیچے پھر اس کے ثمن پر قبضہ کیے بغیر اس ثمن سے نئے برتن خرید لیے ،تو یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟جبکہ بیع اول میں بیع ثانی کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں یہ بیع جائز ہے۔

لما فی”الھدایۃ”:(3/80،رحمانیۃ)
“والتصرف فی الثمن قبل القبض جائز لقیام المطلق وھوالملک ولیس فیہ غرر الا نفساخ با لھلاک لعدم تعیینھا بالتعیین بخلاف المبیع۔”
وفی”الھندیۃ”:(3/13،رشیدیۃ)
“والتصرف فی الاثمان قبل القبض والدیون استبدالا سوی الصرف والسلم جائز عندنا۔”
وکذافی”ردالمحتار علی الدرالمختار”(7/392،رشیدیۃ)
وکذافی”المبسوط”(14/2،دارالمعرفۃ)
وکذافی”اعلاءالسنن”(14/255،ادارۃ القرآن)
وکذافی”فتح القدیر”(6/479،رشیدیۃ)
وکذافی”بدائع الصنائع”(4/484،483،رشیدیۃ)
وکذافی”مجمع الانھر”(3/115،المنار)
وکذافی”فقہ الحنفی”(4/204،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

29/4/1440،2019/1/6
جلدنمبر :17 فتوی نمبر 75

ہم جس کمپنی سے زرعی ادویات لیتے ہیں انہوں نے ایک سکیم نکالی ہے جس میں انہوں نے تیس ہزار مالیت کا ایک کوپن رکھا ہے ،جوشخص تیس ہزار دے کر وہ کوپن خریدے گا اس کو چند منتخب ادویات میں سے کوئی ایک دوائی جو وہ چاہے گا فری دیں گے ،اس کے علاوہ کوپن کی ایک مقررہ تاریخ پر قرعہ اندازی ہو گی ،جس میں مختلف قسم کے انعامات نکلیں گے جس کی تفصیل منسلکہ ورق پر موجود ہے ،جن کوپن ہولڈرز کا کوئی انعام نہیں نکلے گا ان کو بھی کمپنی والے کوئی نہ کوئی انعام ضرور دیں گے۔آیا اس طرح کی انعامی سکیم میں حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خریدار اگر کوپن خرید کر سکیم میں حصہ لیتا ہے اوراسے ان ادویات کی ضرورت ہے ،بیچنے کے لیے یا اپنے استعمال کے لیے اور کوپن میں جو ادویات دی جاتی ہیں، انعام کی وجہ سے ادویات کی قیمت میں اضافہ بھی نہیں کیا جاتااور خریدار اپنی ضرورت کی وجہ سے ادویات خریدتا ہے تو اس سکیم میں حصہ لینا جائز ہے اور اگر صرف انعام کی غرض سے کوپن خریدتا ہے ،ادویات کی ضرورت نہیں ہے تو سکیم میں حصہ لینا درست نہیں،اس میں جوے کا شبہ ہے ۔اگر انعام کی وجہ سے ادویات کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو سکیم میں حصہ لینا حرام ہے یہ قمار (جوے ) میں داخل ہے۔نوٹ:واضح رہے کہ اس طرح کی سکیمیں بعض کمپنیاںسود اور جوے میں الجھانے کے لیے نکالتی ہیں ، لہذا حتی الوسع ان سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

لمافی” بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ “:(2/159،معارف القرآن)
“الشرط الاول : ان یقع شراءالبضاعۃ بثمن مثلہ ،ولا یزاد فی ثمن البضاعۃ من اجل احتمال الحصول علی الجوائز وھذا لانہ ان زاد البائع علی ثمن المثل ،فالمقدار الزائد انما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائز ۃ المحتملۃ فصارت الجائز ۃ بمقابل مالی فلم تبق تبرعا وان ھذا المقابل المالی انما وقع بہ المخاطرۃ فصارت عملیۃ قمارا۔۔۔۔۔ان یکون المشتری یقصد شراءالمنتج للانتفاع بہ ، ولا یشتریہ لمجرد ما یتوقع من الحصول علی الجائزۃ ، لانہ ان لم یکن یقصد شراءالمنتج ،فان ما یبذلہ من الثمن ،انما یبذلہ من اجل الجائزۃ فکان فیہ شبھۃ المخاطرۃ ،فلا یخلو من شبہ القمار۔”
وکذافی القرآن المجید:(سورۃ المائدۃ :90)
وکذافی تفسیر المظہری:(1/266،رشیدیۃ)
وکذافی درالمختار مع رد المحتار:(7/255،256،رشیدیۃ)
وکذافی احکام القرآن :(2/653،قدیمی )
وکذافی جامع البیان:(2/208،دارالمعرفۃ)
وکذافی صفوۃالتفاسیر :(1/366،دار احیاء)
وکذافی الھدایۃ:(3/55،رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1440،2019/1/9
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 81