بعض دكان والے کتابیں كرائے پرديتے ہیں کرائےپرکتابیں لینادینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہمارےزمانے ميں کتابوں کوكرائےپرلينےدينےكاعرف ہےاس ليےاس کاجوازمعلوم ہوتاہےلیکن جہاں اس کاعرف نہیں وہاں یہ جائزنہیں۔

لما فی النتف فی الفتاوی: (348،سعید)
” ويجوزفي قول الشيخ الاجارةفي مصاحف القرآن والفقه ليقرﺃفيها ﺃو لينسخها اذا احتاج الي ذلك
وكذافی بدائع الصنائع: (4 /18،رشیدیہ) وکذافی مجمع الانھر : (3/534،المنار)
وکذا فی التاتارخانیہ:(15/133،فاروقیہ) وکذا فی المبسوط : (16/32 ،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(3/115،رشیدیہ) وکذا فی البحرالرائق :(8/35،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی :(11/349،داراحیاء) وکذا فی تبیین :(5/125،امدادیہ)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :175

ايك آدمی نے کسی سے قرض لیا اور قرض لے کر بھول گیا جب قرض خواہ نے مطالبہ کیا تو وہ کہتا ہے کہ مجھے تو یا د ہی نہیں تو اس کا كياحکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اس صورت میں اگر قرض خواہ گواہ پیش کر دے ،تو اسی کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا،ورنہ مقروض سے قسم لی جائےگی۔

لما فی السنن الکبری :(10/427،دارالکتب العلمية)
عن ابن أبي مليكة، قال: كنت قاضيا لابن الزبير على الطائف , فذكر قصة المرأتين , قال: فكتبت إلى ابن عباس , فكتب ابن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” لو يعطى الناس بدعواهم لادعى رجال أموال قوم ودماءهم , ولكن البينة على المدعي , واليمين على من أنكر .
وفی بدائع الصنائع :(5/336،رشیدیہ)
“واما حجۃ المدعی والمدعی علیہ فالبینۃ حجۃ المدعی والیمین حجۃ المدعی علیہ لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام: البینہ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ.”
وکذا فی تکملة البحر الرائق:(7/336،رشیدیہ)
“وکذا فی حاشية ابن عابدین:(7/411،سعید)
وکذا فی تبیین الحقائق :(4/294،امدادیہ)
وکذا فی درر الحکام شرح مجلة الاحکام:(1/73،العربية)
وکذا فی الھندية:(4/3،رشیدیہ)
وکذا فی البزازية :(5/305 رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(17/28،دارالمعرفة)
وکذا فی شرح المجلة:(1/215،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440، 2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :72

پھلدار درختوں کو کرائے پر دینا کیسا ہے ،مثلا پانچ سال کے لیے یاد رہے کہ درختوں کے ساتھ ساتھ زمین بھی دی ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

زمین کے تابع بنا کر تو درختوں کو کرائے پر دے سکتے ہیں، البتہ محض درخت کرائے پر دینا جائز نہیں۔

لما فی التحریر المختار:(9/14،دارالمعرفة)
وحیلتہ ان یواجر الارض البیضاء التی تصلح للزراعۃ فیما بین الاشجار باجر مثلھا وزیادۃ قیمۃ الثمار ثم یدفع رب الارض الاشجار معاملۃ الیہ علی ان یکون لرب الارض جز ء من الف جزء ویامرہ ان یضع ذالک الجزء حیث اراد،لان مقصود رب الارض ان تحصل لہ زیادۃ الاجر المثل بقیمۃ الثمار ومقصود المستاجر ان یحصل لہ ثمار الاشجار مع الارض وقد حصل مقصودھما بذلک فیجوز.
وفی الھندية:(446،رشیدیہ)
فالحیلۃ فی ذلک ان یدفع الزرع الیہ معاملۃ ان کان الزرع لرب الارض علی ان یعمل المدفوع الیہ فی ذلک بنفسہ …ثم یواجر الارض…وکذلک الحیلۃ فی الشجر ا والکرم معاملۃ.
وکذا فی المحیط البرھانی :(11/340،بيروت)
وكذا فی التاتارخانية:(15/120،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(3/107،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/38،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(16/32،دارالمعرفة)
وکذا فی الخانية علی ھامش الھندية:(2/303،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3804،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :159

ايك آدمی نے دو لا کھ روپے کسی کو قرض دیا ایک سال کے لیے ، کیا اب وہ اس سے ایک ماہ یا دو ماہ بعد مطالبہ کر سکتا ہے ؟ جبکہ مقروض نے ان پیسوں سے کوئی چیز خرید لی ہو جسے اس نے سال کے اندر بیچ کر قرض ادا کرنا تھا یا اس سے کچھ اور رقم اپنے پاس سے ملا کر گاڑی خرید لی جسے کرائے پر چلاتا ہو اب اس کو بیچے تو خاصہ نقصان ہوگا۔

الجواب باسم ملھم الصواب

اخلاقاً اس شخص کو سال سے پہلے قرض واپسی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے ،البتہ شرعاً اسے یہ مطالبہ کرنے حق حاصل ہے۔

لما فی جامع الترمذی :(1/377، رحمانیہ)
” عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ من انظر معسرا او وضع لہ اظلہ اللہ یوم القیامۃ تحت ظل عرشہ یوم لا ظل الا ظلہ.”
وفی اعلاء السنن :(41/522، ادارةالقرآن)
قال ابن بطال: اختلف العلماءفی تاخیر الدین فی القرض الی اجل ،فقال ابو حنیفۃ و اصحابہ:سواء کان القرض الی اجل اوالی غیر اجل لہ ان یاخذہ متی احب.
وکذا فی الموسوعة:(33/128،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ : (7/402،سعید)
وکذا فی البحرالرائق:( 6/202،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3788،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/215، طارق)
وکذا فی الھندية:(3/202، رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(9/387،فاروقیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(6/484، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :179

گنے كی فصل جو پک چکی گئی ہو اس کو اسی طرح کھڑی حالت میں بیچ سکتے ہیں یا اس کو کاٹ کر بیچنا ضروری ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

گنے کی فصل کو کھڑی حالت میں بیچنا یا خریدنا جائز ہے بشرطیکہ فوری کاٹ لیا جائے،ہاں اگر فروخت کنندہ بغیر کسی شرط کےچھوڑنے پر راضی ہو جاتا ہے تو یہ بھی درست ہے،لیکن زمین پر چھوڑنے کی شرط کے ساتھ خریدو فروخت ناجائز ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3474،رشیدیہ)
فان کان البیع قبل بدو صلاح الذرع اوالثمر،فھناك حالات:ان کان البیع بشرط القطع جاز ویجب القطع للحال الا باذن البائع، وان کان البیع مطلقا عن الشرط جاز……وان کان بشرط الترک فالعقد فاسد باتفاق علماء الحنفیۃ لانہ شرط لا یقتضیہ العقد.
وفی المحیط البرھانی:(5/502،داراحیاء تراث)
واما بیع الزرع والرطبۃ والحشیش اذا باع الزرع وھو بقل،ان باعہ ان یقطعہ المشتری او علی ان یرسل دابتہ فیھا لیاکل جاز،لانہ شرط ما یقتضیہ العقد ،وان باعہ علی ان یترکہ حتی یدرک لا یجوز،لانہ شرط ما لا یقتضیہ العقد.
وکذا فی التاتارخانیة:(8/323،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(5/502،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(7/85،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/12،قدیمی)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ:(1/440،قدیمی)
وکذا فی الھدایة:(3/31،رشیدیہ)
وکذا فی اللباب:(/201،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :91

کہ گندم کے سیزن میں ٹریکٹر اور تھریشر والے جب کسی زمیندار کی گندم نکالتے ہیں تواجرت اسی گندم میں سےوصول کرتے ہیں،کیا یہ اجرت وصول کرنا درست ہے، اگر درست نہیں تو جواز کی صورت بتلادیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

محنت کرنے والے کی محنت سے حاصل ہونے والی چیز ہی کو اجرت میں لینا جائز نہیں،اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ یہ طے نہ کیا جائے کہ اسی حاصل شدہ گندم سے ہی اجرت دی جائے گی،بلکہ مطلقا کہہ دیا جائے کہ اتنی گندم آپ کو دی جائے گی،اگرچہ بعد میں اسی حاصل شدہ گندم میں سے اجرت دے دی جائے۔

لما في الهندية:(4/444، رشیدیہ)
صورة قفيز الطحان أن يستأجر الرجل من آخر ثورا ليطحن به الحنطة على أن يكون لصاحبها قفيز من دقيقها أو يستأجر إنسانا ليطحن له الحنطة بنصف دقيقها أو ثلثه أو ما أشبه ذلك فذلك فاسد والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزا من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة أو يشترط ربع هذه الحنطة من الدقيق الجيد لأن الدقيق إذا لم يكن مضافا إلى حنطة بعينها يجب في الذمة والأجر كما يجوز أن يكون مشارا إليه يجوز أن يكون دينا في الذمة ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط.
وفی خلاصة الفتاوی:(3/113، رشیدیہ)
“والحیلة ان یشترط صاحب الحنطة قفیزا من الدقیق الجید ولا یقول من ھذاالدقیق وکذا فی تزریةالکدس والقطن.”
وکذا فی تنوير الابصار مع شرحه:(6/57،سعید)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/46،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/333،داراحیاء)
وکذا فی التاتارخانیة (15/114،فاروقیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:(3 /539،المنار)
وکذا فی تکملة البحر الرائق(8/42،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(5/129،امدادیہ)
وکذا فی التاتار خانية:(4/401،فاروقية)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5 /3824،رشیدية)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :14

میں نے ایک ڈرائیور کو فون کیا کہ فلان جگہ جانا ہے کتنا کرایہ لو گے،اس نے کہاکہ بارات ہے؟ میں نے کہا :جی۔ اس نے کہا جتنا کرایہ ایسی گاڑی یعنی چھوٹی گاڑی جو بارات کے ساتھ جائے گی وہ لےگی مجھے بھی اتنا دے دینا ۔ اب بارات میں اس جیسی اور دو گاڑیاں وہاں گئیں،ایک کا کرایہ 1200،اور دوسری کا 1300تھا ،اب سوال یہ ہےکہ اس طرح معاملہ کرنا درست ہے؟ اگر درست ہے تو مذکورہ صورت میں اس کو کتنا کرایہ دیا جائے گا؟ جب کہ ڈرائیور 1300 مانگتاہے۔

الجواب با سم ملھم الصواب

صورت مذکورہ میں یہ عقد فاسد ہو جائے گا،اور اس جیسی گاڑیاں بارات کی صورت میں اتنی مسافت کا جتنا کرایہ لیتی ہیں اس میں سے جومتوسط کرایہ ہو گا وہ دیا جائے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:(11/328،داراحیاءتراث)
وکذلک اذا تکاری دابۃ بمثل ما یتکاری بہ اصحابہ، کانت الاجارۃ فاسدۃ،قالوا:وھذا اذا لم یکن مایتکاری اصحابہ مثل ھذہ الدابۃ معلوما، بل کان مختلفا، بان کان ذلک بعض اصحابہ یکری مثل ھذہ الدابۃ بالعشرۃ وبعضھم یکری باقل من ذلک وبعضھم باکثر من ذلک،فعلیہ وسط من ذلک یرید بہ ان اجر مثل ھذہ الدابۃ یختلف باختلاف الاحوال، قد یکون عشرۃوقدیکون اکثر من عشر ۃ،وقدیکون اقل من عشرۃ، فعلیہ الوسط من ذلک نظرا من الجانبین،ومراعاۃ لکلا الطرفین.
وفی المبسوط للسرخسی:(15/181،دارالمعرفة)
وان تکاری بمثل ما یکاری بہ اصحابہ او بمثل مایتکاری بہ الناس فعلیہ اجر مثلھا لان المسمی مجھول فالناس یتفاوتون فی ذلک، فمن بین مسامح ومستقص
وکذا فی الھندية:(4/442،رشیدية) وکذا فی التاتارخانية:(15/108،فاروقية
وکذا فی الدرالمختار:(6/5،سعید) وکذا فی الولوالجية:(3/349ِ،الحرمین شریفین)
وکذا فی تکملةالبحرالرائق:(7/530،رشیدية) وکذا فی المدونة الکبری:3/481، دارالکتب )
وکذا فی تبیین الحقائق:(5/121،امدایة) وکذا فی الھدایة:(3/291،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/6/1440، 2019-2-20
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :4

ميری آڑهت كی دكان ہے۔ ایک صاحب مجھ سے قرض لیتے رہتے ہیں،اور بسا اوقات کوئی سامان مثلا:راشن یا کھاد وغیرہ بھی میں خرید کر ان کو دیتا ہوں،پھر فصل آنے پر حساب کر لیتے ہے،اب ان صاحب کو پٹرول کی ضرورت ہے۔ایک پٹرول پمپ والے سے میرے معاملات پہلے ہی چل رہے ہیں،اگر میں یوں کروں کہ جب ان صاحب کو پٹرول کی ضرورت ہو تو میں پمپ والے کو پرچی لکھ دوںکہ ان صاحب کو مطلوبہ مقدار میں پٹرول دے دیں اور جو موجودہ ریٹ ہو اس پر فی لٹر 2روپے نفع ان صاحب سے لے لیا کروں، یہ صورت درست ہے یا نہیں،اگر نہیں تو کوئی اور آسان صورت بتلا دیں جس میں ان صاحب سے پٹرول پر نفع لے سکوں،کیونکہ انہوں نے ادھار خریدنا ہے اور میں نے نقد ادائیگی کرنی ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ صورت درست نہیں ہے،اس لیے کہ پٹرول آپ کے قبضے میں نہیں آیا اور کسی چیز کا قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے،اس کی آسان صورت یہ ہے کہ آپ فروخت کرنے سے پہلے یا تو بذات خود آپ اس پر قبضہ کر لیں،یا اپنے وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرائیں،یا آپ اس صاحب کو جو کہ خرید ار ہے قبضہ کرنے کا وکیل بنائیں وہ آپ کی طرف سےقبضہ کرے اور پھرآپ کو کسی ذریعے سے اطلاع کرے اس کے بعد آپ اس کو فروخت کریں۔

لما فی جامع الترمذی : (1/364،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام قال سالت رسولﷺ فقلت یاتینی الرجل، فیسئلنی من البیع ما لیس عندی ابتاع لہ من السوق ،ثم ابیعہ قال لا تبع ما لیس عندک
وفی الصحیح لمسلم:(2/5،قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسولﷺ من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یقبضہ،قال ابن عباس واحسب کل شیئ بمنزلۃ الطعام
وفی تنویر الابصار مع شرحہ: (5/147،سعید)
“(فلا یصح) اتفاقا ککتابۃ واجارۃو (بیع منقول) قبل قبضہ ولو من بائعہ۔”
وكذا في سنن ابي داود: (2/138،رحمانیہ) وکذا فی فتح القدیر:(6/471،رشیدیہ)
وکذا فی المستدرک:(2/171،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(6/194،رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/333،معارف القرآن) وکذا فی مجمع الانھر:(3/113،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :7

ہمارا درزی کا پیشہ ہے، جو لوگ ہم سے سوٹ سلواتے ہیں عموما ان کے دیے ہوئے کپڑوں میں سے کم وبیش کچھ نہ کچھ مقدار بچ جاتی ہے۔ کبھی ہمیں دینا بھول جا تا ہے اور وہ بھی نہیں پوچھتے اور کبھی وہ شاگردوں سے سوٹ لے کر چلے جاتے ہیں اور بچے ہوئے کپڑے کا میرے علم میں بھی نہیں ہوتا ہے؟ لہذا کپڑے کی وہ کتنی مقدار ہوگی کہ اگر ہم وہ رکھنا چاہیں تو بلا اجازت رکھ لیں؟ اور اگر ہم اپنے “وزٹنگ کارڈ” وغیرہ پر لکھ دیں کہ “اپنا بچا ہوا کپڑا واپس لے سکتے ہیں ۔” اس صورت میں بھی وہ واپس نہ لیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ناقابل استعمال کپڑے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور قابل استعمال کپڑا آپ گاہک کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرسکتے، البتہ اجازت کے لیے یہ بھی کافی ہے جو آپ نے وزٹنگ کارڈ وغیرہ کی صورت تحریر کی ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ: (15 /298 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
23133-:-م: اذا دفع الی خیاط کرباسا، فخاطہ قمیصا وبقی منہ قطعۃ، فسرقت القطعۃ فھو ضامن.
وفی شرح المجلہ: (1/264 ، رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی۔ ای لا یحل فی کل الاحوال عمدا او خطا او نسیانا، جدا او لعبا، ان یاخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ تعالی ولم یبحہ، لان حقوق العباد محترمۃ لا تسقط بعذر الخطا والنسیان والھزل وغیرہ
وکذافی المحیط البرھانی: (11 /365 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی سنن ابی داؤد : (2 /146 ،رحمانیہ )
وکذافی عون المعبود: ( 9/238 ،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 4/ 455 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیہ : ( 9/305 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :161

چھوٹے بچے سے اگر کسی کا نقصان ہو جائے تو ضمان آئے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں، آئے گا۔

لما فی التنویر و شرحہ مع الشامیہ: ( 9/ 246 ،دار المعرفہ )
(وإن أتلفوا) أي هؤلاء المحجورين سواء عقلوا أو لا درر (شيئا) مقوما من مال أو نفس (ضمنوا) إذ لا حجر في الفعلي ۔۔۔وفي الأشباه: الصبي المحجور مؤاخذ بأفعاله فيضمن ما أتلفه من المال للحال.
وفی الفتاوی الھندیہ: ( 6/30 ،رشیدیہ )
” رجل أمر صبيا بقتل دابة إنسان، أو بخرق ثوبه، أو بأكل طعامه ففعل فضمانه على الصبي في ماله، ويرجع بذلك على الآمر.
وکذافی مجمع الضمانات: ( 736 ،حقانیہ-پشاور )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (4 /2968 ،رشیدیہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (27 /33 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی شرح المجلہ : (3 /520 ،رشیدیہ )
وکذافی درر الحکام : (2 /670 ،المکتبہ العربیہ-کوئٹہ )
وکذافی الاشباہ والنظائر: ( 270 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23-07-1440، 2019-03-31
جلد نمبر:18 فتوی نمبر :118