اسکولوں ،کالجوں میں چھٹیوں کے دنوں کی بھی فیس وصول کی جاتی ہے حلانکہ ان دنوں میں پڑ ھائی نہیں ہوتی تو کیا چھٹیوں کے دنوں کی فیس لینا درست ہے؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

درست ہے۔

لما فی موسوعۃالفقھیۃ:(36/293،علوم اسلامیۃ)
قال الحنفیۃ:انہ ینبغی الحاق المدارس بالقاضی فی اخذ ما رتب لہ یوم بطالتہ واختلفوا فیہا،وان صح انہ یاخذ لانہا للاستراحۃ وفی الحقیقۃ تکون للمطالعۃ والتحریر،وفصل البیری من الحنفیۃ المسئلۃ:فقال :ان کان الواقف قدقدر للمدرس کل یوم درس فیہ مبلغا فلم یدرس یوم الجمعۃ والثلاثاء فلا یحل لھ ان یاخذ المبیع ویصرف ھذین الیومین الی مصارف المدرسۃ من المرمۃ وغیرھا،بخلاف مااذالم یقدرلکل یوم مبلغا فانہ یحل لہ الاخذ وان لم یدرس فیھا للعرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال ابن عابدین:ھذاظاھر فیما قدر لکل یوم درس فیہ مبلغا،اما لو قال یعطی المدرس کل یوم کذافینبغی ان یعطی لیوم البطالۃ المتعارفۃ
وفی الفتاتارخانیہ:(11/70،فاروقیہ)
“ولم ینقل عن محمد رحمہ اللہ علیہ تعالی ان القاضی ھل یاخذالرزق فی یوم العطلۃ؟ اختلف المتاخرون فیہ والصحیح انہ یاخذ”
وکذا الفتاوی الھندیہ:(4/416،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/570،دارالمعرفہ)
وکذافی الاشباہ والنطائر:(96،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(12/186،داراحیاءالتراث)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/329،فاروقیہ)
وکذافی شرح المجلہ:(1/78،رشیدیہ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(3/542،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440،2019/02/02
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :133

زید ماہِ جنوری یا فروری میں بھوسہ اسٹاک کر لیتا ہے، پھر کچھ مہینوں کے بعد اگست میں یا ستمبر میں نفع کے ساتھ فروخت کر دیتا ہے، کیا یہ ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں داخل ہو گا یا نہیں؟ وضاحت فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر بھوسہ اسٹاک کرنے سے اہلِ علاقہ کو پریشانی اور تنگی نہ ہوتی ہو تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔

لما فی الھدایة: ( 4/473،474، رحمانیہ )
ويكره الاحتكار في أقوات الآدميين والبهائم إذا كان ذلك في بلد يضر الاحتكار بأهله…فيكره إذا كان يضر بهم ذلك بأن كانت البلدة صغيرة، بخلاف ما إذا لم يضر بأن كان المصر كبيرا؛ لأنه حابس ملكه من غير إضرار بغيره،…وقال أبو يوسف رحمه الله كل ما أضر بالعامة حبسه فهو احتكار وإن كان ذهبا أو فضة أو ثوبا
وفی بدائع الصنائع: ( 4/308،309، رشیدیہ )
ويكره الاحتكار…فهو أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع عن بيعه وذلك يضر بالناس وكذلك لو اشتراه من مكان قريب يحمل طعامه إلى المصر وذلك المصر صغير وهذا يضر به يكون محتكرا وإن كان مصرا كبيرا لا يضر به لا يكون محتكرا
وکذافی سنن ابن ماجة فی کتاب التجارات: ( 345، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة: ( 4/306، دار الکتب العلمیہ )
وکذافی فیض القدیر فی الجامع الصغیر: ( 6/46، دار الکتب العلمیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 8/370، رشیدیہ )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 9/656، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/433، الطارق )
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 3/220، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی تبیین الحقائق: ( 6/27، مکتبہ امدادیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18فتوی نمبر :184

ایک کمپنی دکانداروں کی میٹنگ کرتی ہے اور دکانداروں کو ایک پیکج دیتی ہے کہ اگر تم ہماری کمپنی کا بیج یا دوائی خریدو گے اور اس کی قیمت کی ادائیگی چھ ماہ قبل کرو گے تو ہم آپ کو %9 ڈسکاؤنٹ دیں گے یا اتنا ریٹ دیں گے، مثلا بیج کا ایک تھیلا جو کہ دس ہزار کا ہے ہم آپ کو =/9100 کا دیں گے اور دکاندار جب چھ ماہ قبل قیمت کی ادائیگی کرتا ہے تو کمپنی =/9100 کے حساب سے ایک بل بنا دیتی ہے کہ یہ بل دکھا کر چھ ماہ بعد اپنا بیج لے جانا ، کیا یہ معاملہ درست ہے

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ قسم کے معاملہ کو شریعت کی اصطلاح میں ” بیع سلم “ کہا جاتا ہے ۔ اور اس میں چند شرائط کا لحاظ کرنا ضروری ہوتا ہے، اگر معاملہ کرتے وقت ان شرائط کا لحاظ کیا جائے تو معاملہ درست ہے ورنہ نہیں۔ شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔
جو چیز فروخت کی جا رہی ہے مثلا بیج یا دوائی وغیرہ، اس کی قیمت معلوم ہو مثلا فی تھیلا 9100 کا، اس چیز کی جنس معلوم ہو، مثلا کون سا بیج یا دوائی وغیرہ، کوالٹی معلوم ہو اعلی درجہ کی ہے یا اوسط درجہ کی، مقدار اور وزن معلوم ہو مثلا اتنے تھیلے اور فی تھیلا اتنے کلو کا، سپردگی کی تاریخ اور جگہ معلوم / متعین ہو اور معاملہ طے ہو جانے کے بعد اسی مجلس میں مکمل قیمت کی فی الفور ادائیگی ہو۔

لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/3603، رشیدیہ )
تعریف السلم: السلم او السلف: بیع آجل بعاجل، أو بیع شیئ موصوف فی الذمۃ ای انہ یتقدم فیہ راس المال و یتأخر المثمن الآجل، و بعبارۃ اخری:ھو أن یسلم عوضا حاضرا فی عوض موصوف فی الذمۃ الی أجل
وفی المحیط البرھانی: ( 10/277، دار إحیاء تراث )
السلم لہ شرائط کثیرۃ: أحدھا بیان فنس المسلم فیہ، کقولنا: تمر جید، أو ردئ، و الثانی: بیان نوعہ … الثالث: بیان صفتہ… و الرابع: بیان قدرہ فی المکیلات بالکیل، و الموزونات بالوزن… لأن بدون بیان ھذہ الاشیاء یقع بینھما منازعۃ مانعۃ من التسلیم و التسلم.
وکذافی فقہ البیوع: ( 2/1160، 1158،معارف القرآن )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 5/3607، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاويد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1440، 2019/5/22
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :66

ہماری ایک کمپنی ہے جو مختلف چیزیں تیار کر کے دیتی ہے ، ہمارا طریقہ یہ ہے کہ مثلا موٹر سائیکل کی قیمت (36000) کا 60 فیصد گاہک سے پیشگی وصول کرتے ہیں ، اور گاہک کو متعین تاریخ پر موٹر سائیکل دینے کا وعدہ کرتے ہیں ، ہم موٹر سائیکل کے پرزے (پارٹس ) چائنہ سے لا کر فٹنگ کر کے موٹر سائیکل تیار کر تے ہیں ، متعین تاریخ پر جب گاہک آئے گا تو ہم اسے کہتے ہیں کہ یہ تمہاری موٹر سائیکل ہے ۔ اب اس کو اختیار دیتے ہیں کہ یا تو کل قیمت کا بقیہ 40 فیصد ادا کر کے اپنی موٹر سائیکل لے جائے ، اور اگر چاہے تو 40 فیصد ادا نہ کرے اور موٹر سائیکل ہمارے ہاتھ فروخت کر دے ، ہم اسے تقریبا تین ہزار روپے نفع دیتے ہیں ۔ اگر وہ موٹر سائیکل ہمارے ہاتھ فروخت کر دے تو اب پھر گاہک کو اختیار دیتے ہیں کہ چاہے اپنی ساری رقم (60 فیصد قیمت ، اور تین ہزار نفع) وصول کر کے معاملہ ختم کر دے ، او راگر چاہے تو صرف نفع لےکر 60 فیصد قیمت ہمارے ہاتھ چھوڑ دے ، اور آئندہ کے لئے پھر اسی طرح کا معاملہ جاری رکھے ۔ آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ اس طرح کا روبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور اگر ناجائز ہے تو جائز صورت کیا ہو گی ؟ جس پر آسانی سے عمل ہو سکے ۔ امید ہے تفصیل سے بیان فرمائیں گے۔

الجواب و باللہ التوفیق
سوال میں مذکور طریقے سے معاملہ کرنا درست نہیں ہے ، اس لیے کہ جب کسٹمر بقیہ 40 فیصد رقم ادا کیے بغیر وہ چیزیعنی موٹر سائیکل وغیرہ دوبارہ کمپنی کو بیچتا ہے تو وہ چیز پر قبضہ کیےبغیر دوبارہ کمپنی کو بیچ دیتا ہے ، اور خود قبضے سے پہلے چیز کو بیچنا شرعا جائز نہیں ۔
اس کی جائز صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کمپنی، خریدار کو موٹر سائیکل دیتے وقت بقیہ 40 فیصد رقم وصول کر لے اور موٹر سائیکل،خریدار کے مکمل قبضے اور تصرف میں دے دے ،یعنی موٹر سائیکل کی چابی اور کاغذات خریدار کے حوالے کر دے ۔ پھر کمپنی ، خریدار سے یہ موٹر سائیکل زیادہ قیمت پر واپس خرید لے ۔ مثلا موٹر سائیکل کی اصل قیمت مبلغ= /36000 ہے تو کمپنی ، خریدار کو تین ہزار نفع دے کر مبلغ =/39000 کا خرید لے ۔ اس صورت میں کمپنی کا موٹر سائیکل پر اور بیچنے والے کا قیمت پر قبضہ کرنا ضروری ہے ۔
پھر اگر نیا معاملہ کرنا چاہیں تو کسٹمر 60 فیصد رقم ایڈوانس جمع کروا دے اور متعین تاریخ پر مذکورہ بالا طریقے سے معاملہ کر لیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ہر مرتبہ بتائے گئے طریقے کے مطابق ہونا چاہیے ، یعنی پہلے مرحلے میں خریدار ، موٹر سائیکل پر اور کمپنی ، رقم پر قبضہ کرے ۔ اور دوسرے مرحلے میں خریدار ، رقم پر اور کمپنی ، موٹر سائیکل پر قبضہ کرے ورنہ یہ معاملہ درست نہ ہو گا۔

لما فی الھدایة : (3/78 ، رحمانیہ )

“و من اشتری شیئا مما ینقل و یحول لم یجز لہ بیعہ حتی یقبضہ لانہ نہی عن بیع ما لم یقبض و لان فیہ غرر انفساخ العقد علی اعتبار الھلاک.”

و فیہ ایضا : ( 3/58 ، رحمانیہ )

“و من اشتری جاریۃ بالف درھم حالۃ او نسیئۃ فقبضہ ثم باعھا من البائع بخمس مائۃ قبل ان ینقد الثمن لا یجوز البیع الثانی ”

و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ : ( 5/3463 ، رشیدیہ )

قال الحنفیۃ : لا یجوز التصرف فی المبیع المنقول قبل القبض ، لان النبی صلی اللہ علیہ و سلم نھی عن بیع ما لم یقبض و النھی یوجب فساد المنھی عنہ ولانہ بیع فیہ غرر الانفساخ بھلاک المعقود علیہ

و کذا فی البحر الرائق : ( 6/136،137 ،رشیدیہ )
و کذا فی رد المحتار علی الدر المختار : ( 7/268 ، رشیدیہ )
و کذا فی فقہ البیوع : ( 1/550،551 ،معارف القرآن )
و کذا فی فتح القدیر : ( 6/397 ، رشیدیہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 4/427 ، رشیدیہ )
و کذا فی المحیط البرھانی : ( 9/381 ، دار احیاء تراث العربی )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :59

آج کل جو کپاس کے خریدار ہوتے ہیں وہ وزن کے دوران فی من ایک کلو یا دو کلو کاٹتے ہیں اور اس طرح کرنا ان خریداروں کا ضابطہ ہے مثلا ایک آدمی کی 20 مَن 20 کلو کپاس چنائی کے وقت ہوئی لیکن جب اس نے آگے آڑھتیوں کو بیچی تو انہوں نے فی من ایک کلو کاٹا تو 20 من کپاس کا وزن ہوا ۔ یہاں 2 سوال ہیں ، (1 ) کیا خریداروں کا ایسا کرنا جائز ہے ؟ (2 ) بائع 20 مَن کا عشر کا ادا کرے گا یا 20 مَن 20 کلو کا ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر خرید و فروخت کی مذکورہ صورت منڈیوں میں رائج اور معروف ہے ، اور بیچنے والا اور خریدار دونوں اس طرح معاملہ پر متفق اور راضی ہوں ، اور اس میں کوئی ظلم و زیادتی نہ ہو تو خرید و فروخت جائز ہے ۔ اور عشر کا تعلق چونکہ زمین سے حاصل شدہ پیداوار سے ہے اس لئے اگر وہ فصل بیچی جائے تو 20 مَن کا عشر ادا کیا جائے اور اگر گھریلو استعمال کے لئے رکھی جائے تو ساڑھے بیس مَن کا عشر اداکیا جائے ۔

لما فی درر الحکام شرح مجلة الحکام:(1/46 ،المکتبة العربیة )
“والحاصل ان استعمال الناس غیر المخالف للشرع و لنص الفقھاء یعد حجۃ .”
و فیہ ایضا :1/44،المکتبة العربیة
“العادۃ محکمۃ یعنی ان العادۃ عامۃ کانت او خاصۃ تجعل حکما لاثبات حکم شرعی .”
و کذا فی القرآن المجید:(سورة النساء،29)
و کذا فی سنن ابن ماجہ:( 275 ، رحمانیہ)
و کذا فی السنن الکبری :(6/160 ، دارالکتب )
و کذا فی اصول الافتاء و آدابہ :(262 ، معارف القران )
و کذا فی درر الحکام شرح مجلة الحکام:(1/106،المکتبة العربیة )
و کذا فی الھدایة:( 1/219 ، المیزان )
و کذا فی رد المحتار علی الدرالمختار:(3/317 ، رشیدیہ )
و کذا فی المحیط البر ھانی :(3/290 ، دار احیاء تراث العربی )
وکذا فی البحر الرائق :(2/416 ، رشیدیہ )
و کذا فی بدائع الصنائع : ( 2/185 ، رشیدیہ )

و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/04/1440 ، 2018/12/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :60

ايك شخص نےمجهےكہاکہ میری گاڑی فروخت کروادومیں نےکہامجھےکمیشن کتنادوگے؟اس نےکہاکہ کمیشن تونہیں دوں گا،البتہ یوں کرلوکہ اس کی مالیت تقریباً 4لاکھ روپےہے،میں اس کے3لاکھ70ہزارلوں گا،اس سےزیادہ جتنے کی فروخت کرلووہ تمہارےہیں،اس طرح معاملہ درست ہےیانہیں؟یہ بھی واضح رہےکہ اس گاڑی کی مارکیٹ میں4لاکھ یااس سےاوپرقیمت بہت آرام سےلگ جائےگی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح یہ معاملہ درست نہیں ہے،البتہ اس کی صحیح صورت یہ ہوسکتی ہےکہ گاڑی والاایجنٹ سےیہ کہہ دےکہ مجھے صافی تین لاکھ سترہزارروپےچاہییں، اس سے اوپرمثلاًاگرتین لاکھ نوےہزارکی بکوادوتوبیس ہزارآپ کاہوگایا پورے چارلاکھ کی بکوا دوگے توتیس ہزار آپ کاکمیشن ہوگا،اس طرح کوئی ایک رقم طےکرلیں توعقددرست ہوجائےگا۔

لما فی الدرالمختار: ( 9/77،رشیدیہ)
(تفسدالاجارۃبالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسدالبیع)ممامر(یفسدھا)کجہالۃ ماجور،اواجرۃ،اومدۃاوعمل
وفی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/24،رشیدیہ)
(تفسدالاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسدالبیع)ممامر(یفسدھا)کجہالۃ ماجوراواجرۃاومدةاوعمل
وکذافی الفقه الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 4/385،الطارق)
وکذا فی التبیین الحقائق: (5/121،امدادیہ)
وکذافی الشامية: ( 9/78، رشيديه)
وکذا فی البحرالرائق: (7/530،رشيديه)
وکذافی شرح المجلة: ( 2/538،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/9/1440۔2019/5/15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :51

ايك آدمی دکان سے سیکنڈہینڈموبائل خریدتاہےلیکن وہ شرط لگاتاہےکہ مجھےایک ہفتہ کااختیارہےکیایہ شرط درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

درست ہے۔

لما فی فقہ البیوع: (2 / 904 ، معارف القرآن)
” فا لراجح أن الخياريجوزلمافوق ثلاثةايام ويمكن ان تختلف المدةمن مبيع الي مبيع آخر . “
وفی شرح المجلة: ( 2/ 234، رشيدية)
(يجوزأن يشترط الخيار بفسخ البيع أوإجازته)۔۔۔۔(مدة معلومة)أعم من أن تكون مدة الخيارثلاثةأيام أوأكثروهذا إختيارمن المجلةلقول الامامين وبه قال احمدلأنه شرع نظرا للمتعاقدين للاحترازعن الغبن وقدلايحصل ذلك في الثلاث فيكون مفوضااليهما
وکذافی عمدةالرعاية : ( 3/ 18،رحمانيه )
وکذا فی القول الراجع : (2 / 13، )
وکذا فی الهندية:(3/38،رشیدیه)
وکذا فی الشامية:(4/565،سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/110،الطارق)
وکذا فی حاشيةالطحطاوي:(3/28،رشیديه)
وکذا فی المحيط البرهاني:(10/3،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
كتبہ ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26 /3/2019
1440/7/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :126

ہماری دکان پرجوملازم کام کرتےہیں ان کےآنےکاوقت تومتعین ہےلیکن چھٹی کاوقت متعین نہیں،بس جب تک کام ہوگاوہ دکان پررہیں گے،کسی دن جلدی چلےجاتےہیں اورکسی دن دیرسےجاتےہیں،یہ معاملہ شرعاًدرست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی درست ہےکیونکہ یہاںمدت میں جہالت ملازم ومالک کےدرمیان جھگڑے کاباعث نہیں بنتی۔

لما فی التاتارخانية: ( 15/281،فاروقيه)
“والاجارة علي العمل اذاكان العمل معلوماصحيحة بدون بيان المدت.”
وفی الهندية: ( 4/411،رشيديه)
“فان كان مجهولا جهالةمفضية الي المنازعةيمنع صحة العقدوالافلا.”
وکذافی الفقه الحنفی: ( 4/385،الطارق)
وکذا فی تبیین الحقائق: (5/121،امدادیہ)
وکذافی حاشية الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 4/24، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: ( 7/530،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: ( 5/3812،رشیدیہ)
وکذا فی شرح المجلہ: ( 2/538،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440،2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :12

: مرتہن اپنے دین کی وصولی کے لیے مرہونہ شیئ کو راہن کی اجازت کے بغیر فروخت کرسکتا ہے ؟ یا را ہن سے اجا زت لینا ضروری ہے؟اگر اجازت لینا ضروری ہے تو رہن رکھنے کا فا ئدہ کیا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عام حالات میں تو مرتہن مرہونہ شیئ کو راہن کی اجازت کے بغیر فرو خت نہیں کر سکتا بلکہ راہن کی اجازت ضروری ہے اور رہن رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے معا ملہ پختہ ہو جاتاہے اور مرتہن كو اپناحق وصول ہونےکا اطمینان حاصل ہو جا تا ہے لیکن اگر راہن انکا ری ہو جا ئے،نہ توحق کی ادائیگی کرے اور نہ مرہونہ شیئ کو فروخت کر نےکی اجازت دے توپھر مرتہن ،حا کم یاقا ضی کے حکم سےفروخت کرسکتا ہے۔

لما فی بدا ئع الصنا ئع:(5/212،رشیدیہ)
“ولیس لہ [مرتہن]ان یبیع الرہن بغیر اذن الراہن لان الثا بت لہ لیس الا ملک الحبس.”
وفی الشا مية:(6/502 ،سعید)
“یجبر علی بیعہ فاذا امتنع با عہ القا ضی او امینہ للمر تہن واو فاہ حقہ والعھدۃ علی الراہن.”
وکذافی مجمع الا نھر:(4/294،المنار)
وکذافی شر ح المجلة:(3/188،رشیدية)
وکذافی الہند ية :(5/468،رشیدية)
وکذا فی الفتا وی التا تا ر خا نية:18/569،فا رو قیہ)
وكذا فی المحیط البرھانی:(18/91،دار احیا ء)
وکذافی المبسوط:(21/63،دارالمعر فة)
وکذا فی مجمو عة الفتاوی :(4/183، رشیدية)
وکذا فی الفقہ الاسلا می وادلة:(6/4309رشیدية)

واللہ تعالی اعلم با لصواب
ایثارالقا سمی غفر لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440 ، 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :159

ايك شخص دوسرےكواپناپراناٹريكٹربیچتاہےاورکہتاہےکہ چھ ماہ بعدتم مجھےاسی کمپنی کانیاٹریکٹرلےکر دےدینا۔یہ معاملہ شرعادرست ہے

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ معاملہ شرعادرست نہیں،البتہ اس طرح کامعاملہ اگرنقدہوتوجائزہے

لما فی التنویر: ( 7/،422 ،423،رشیدیہ)
(وان وجداحدھما)ای القدروحدہ اوالجنس(حل الفضل وحرم النساء)ولومع التساوی حتی لوباع عبدالعبدالی اجل لم یجزلوجودالجنسیۃ.
وفی خلاصةالفتاوی: (3 /102، رشیديه)
“وان وجداحدھماوعدم الآخراماالکیل اوالوزن حل التفاضل وحرم النساءاماالجنس بانفرادہ حل التفاضل وحرم النساءعندنا.
وکذافی الهداية: ( 3/83، رحمانيه)
وکذا فی مجمع الانهر: (3 /121،المنار )
وکذافی الفقه الحنفی: (4 /234،الطارق )
وکذا فی البحرالرائق: ( 6/213، رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: ( 5/3712، رشیدیہ)
وکذا فی التا تارخانية: ( 8/348، فاروقيه)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1440 ،19/3/2019
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :13