میں کہ ایک شوروم والا کہتاہے کہ گاڑی مجھ سے خریدو،انشورنس فری کوئی ادائیگی نہیں کرنی ہوگی ۔اگر آپ قسطوں پر لیتے ہیں تو ایک مرتبہ 6000روپے ادا کرنے ہوں گے ،اس کے بعد آپ کی گاڑی انشورنس پہ ہو جائے گی ،تو کیا ایسا معاملہ کرنا درست ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ انشورنس سود اور جوَّا سے مرکب ہے ،یہ دونوں بدترین گناہ ہیں ۔لہذا سوال میں ذکر کردہ دونوں صورتوں میں سےپہلی میں چونکہ خریدار براہ راست خود ملوث نہیں اس لیے فی نفسہ یہ معاملہ بیع تو درست ہے مگر شوروم کا مالک ان دو گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ضرور گناہ گار ہوگا، البتہ دوسری صورت میں چونکہ دونوں فریق ملوث ہیں اس لیے دونوں گناہ گار ہوں گے۔

لما فی قولہ تعالی فی سورۃ البقرۃ: (278)
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ ⸳”
و فی قولہ تعالی فی سورۃ المائدۃ: (90)
“يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ⸳”
وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/25،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریۃ:(3/117،رشیدیۃ)
وکذا فی التنویر والشامیۃ:(7/417الی419،دارالمعرفۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3418و3763، رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(9/186،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/539،مکتبۃ معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1440
2/2/2019
جلدنمبر :17 فتوی نمبر:112

ایک عورت فوت ہوئی اس نے ایک شیر خوار بچہ چھوڑا اس بچے کو ایک ایکڑ زمین میراث میں ملی عورت کے بھائیوں نے وہ زمین اپنے اپنے پاس رکھ لی اس کے چار بھائی تھے ۔ بیس سال گزرنے کے بعد اس بچے نے جبکہ وہ عاقل بالغ ہو چکا تھا مطالبہ کیا۔ اب عورت کے بھائیوں نے کہا کہ تم ایک ایکڑ کاٹھیکہ جو کہ 48000ہے لے لیا کرو اس کے ماموؤں کی زمین مختلف جگہ پر ہے کسی کا ٹھیکہ 48000ہزار، کسی کا 50000ہزار اور کسی کا 55000ہزار ہے ،اور اس لڑکے کی زمین سب میں مشترک ہے متعین نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح ٹھیکہ لینا درست ہے یاوہ لڑکا اپنی زمین لے کر پھر کسی کو ٹھیکہ پر دے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت میں فریقین یعنی بچہ اور اس کے ماموں زمین کے ٹھیکہ کی جس متعینہ رقم پر متفق ہو جا ئیں تو معاملہ درست ہو جائے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(4/448،رشیدیۃ)
“وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.”
وک‍ذا فی بدائع الصنائع:(4 /25، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(9 /100، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4 /386،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(11 /342،دار احیاءالتراث)
وکذافی تنویر الابصاروشرحہ مع رد المحتار:(9 /80،79 ،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(8 / 36،رشیدیة)
وکذا فی التجرید :(7/3655،محمودیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقیۃ:(1/277،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی المبسوط:(16/32ِدار المعرفۃ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1440
15/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :107

شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہمیں بتلائیں کہ کراچی سے ساہیوال تک سامان بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری ہماری ہے یا کمپنی والوں کی؟ یہ بات بھی واضح رہے کہ ہم قیمت کی ادائیگی سامان وصول ہونے کے بعد کرتےہیں ۔ اور ان کا نمائندہ ہر ماہ ہمارے پاس آڈر لینے بھی آتا ہے

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورتحال میں آپ تک سامان بحفاظت پہنچانا کمپنی والوں کی ذمہ داری ہے، شرعا وعرفا وہ اس بات کے پابند ہیں ۔اور اگر سامان آپ تک بحفاظت نہ پہنچے تو اس کی ذمہ دار کمپنی ہے، آپ نہیں ۔ لہذا یہ سارا نقصان کمپنی برداشت کرے گی۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 2/ 139 ،رحمانیہ )
“حدثنا زهير بن حرب۔۔۔حتى ذكر عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم تضمن، ولا بيع ما ليس عندك». “
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (9 /34 ،علوم اسلامیہ )
” فإذا هلك المبيع كله قبل التسليم بآفة سماوية، فإنه يهلك على ضمان البائع، لحديث: نهى عن ربح ما لم يضمن . “
وفی د رر الحکام شرح مجلۃ الاحکام: (1 /275 ،المکتبہ العربیہ-کوئٹہ )
(المادة 293) المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. وكذلك إذا تلف المبيع في يد من سلم إليه المبيع باتفاق الطرفين ليحفظه إلى أداء الثمن فلا يترتب شيء على المشتري بل ينفسخ البيع ويعود الضرر والخسارة على البائع ۔۔۔ لان المبیع مالم یسلم الی المشتری فھو فی ضمان البائع .

 

وکذافی شرح المجلۃ: ( 1/223الی 225 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الشامیہ: (7 /103 ،دارالمعرفہ )
وکذافی فقہ البیوع: (2 /1202 ،مکتبہ معارف القرآن )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 4/102 ،الطارق )
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: (2 /157 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الفتا وی الھندیہ: (3 /19 ،رشیدیہ-کوئٹہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :97

پوچھنا یہ ہے کہ بعض علاقوں میں یہ مروج ہے کہ سینگ والی بکری کے سینگ جلاتے ہیں اور بعض کاٹتے ہیں جس سے قیمت میں بھی اور جانور کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اورمقصود بھی یہی ہوتاہے۔ آیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟2)ایک آدمی دوسرے سے بکرے کا گوشت خریدتا ہے گائے کے گوشت کے بدلے مثلا ایک کلو گوشت بکرے کا لے کر دو کلو گوشت گائے کا دیتا ہے تو کیا یہ طریقہ درست ہے؟اگر بکرے کے گوشت کا تبادلہ بکرے کے گوشت کے ساتھ کیا جائے کمی بیشی کے ساتھ تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض قیمت میں اضافے کے لیے جانور کے ساتھ اس طرح کا ظلم درست نہیں۔2)گائے کے گوشت کا بکرے کے گوشت کے ساتھ کمی بیشی سے تبادلہ نقد کی صورت میں جائز ہے، ادھار جائز نہیں۔ جبکہ بکرے کے گوشت کا بکرے کے گوشت سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں۔

لما فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 2/ 161 ، رحمانیہ)
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، ۔۔۔عن شداد بن أوس، قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته»
وفی بدائع الصنائع : ( 4/ 410 ،رشیدیہ )
وإن اختلف الأصلان اختلف اللحمان فيجوز بيع أحدهما بالآخر متساويا، ومتفاضلا بعد أن يكون يدا بيد، ولا يجوز نسيئة لوجود أحدوصفي علة ربا الفضل وهو الوزن .
وکذافی العنایہ علی ھامش فتح القدیر: ( 7/ 25، رشیدیہ) وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (2 / 568،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (3/120 ،رشیدیہ ) وکذافی التنویر و شرحہ مع ھاشیہ الطحطاوی: (4 /361 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (9 /640 ،دار المعرفہ ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (22 /69 ،علوم اسلامیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-07-1440، 23-06-2019
جلد نمبر:18 فتوی نمبر :53

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے سے زائد رقم رکھوانے پرجو فری منٹ ملتے ہیں وہ تو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔ لیکن اگر کسی نے اپنی سہولت کے لیے اس غرض سے اکاؤنٹ کھلوایا ہے کہ بوقت ضروررت ایزی لوڈ اور بل وغیرہ ادا کر سکوں اور ایک ہزار روپے سے کم رقم رکھتا ہے تاکہ فری منٹ نہ ملیں۔ اب ایک شخص امانت کے طور پر اس شخص کے اکاؤنٹ میں ایک ہزار سے زائد رقم رکھوا دیتاہے یا اکاؤنٹ ہولڈر نے کسی سے رقم لینی تھی اور وہ رقم اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہے ۔ تو اب اس کے لیے وہ دیے جانے والے منٹ استعمال کرنا کیسا ہے؟ جبکہ اس نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہوئی ہے کہ میری رقم ایک ہزار سے زائد نہ ہو نے پائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اکاؤنٹ میں رقم ہونے پر ملنے والے منٹس سود ہیں، ان کا استعمال بہر حال حرام ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (6 / 4429 ، رشیدیہ)
اتفق الأئمة على تحريم ما فيه شبهة الربا، فكل قرض جر نفعاً فهو ربا حرام، وعملاً بمبدأ سد الذرائع المتفق عليه بين الأئمة، وإن اختلفوا في مداه وتطبيقاته.
وکذا فی الشامیہ: (7 /413 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (4 /229 ،الطارق )
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ : (22 /57 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4 /400 ،رشیدیہ )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم : ( 2/27 ،قدیمی )
وکذا فی تبیین الحقائق: (4 /85 ، امدادیہ-،ملتان)
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 3/117 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-09-1440، 2019-05-9
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :43

ایک آدمی نے درزی کو سوٹ دیا سینے کے لیے، چند دن بعد وہ لینے گیا تو درزی سوٹ کا ہی منکر ہو گیا اور پھر بعد میں اس نے وہی سوٹ سلا سلایا لا کر اس شخص کو دے دیا ۔آیا اب وہ شرعا اس بات کا حق رکھتا ہے یا نہیں کہ اسے اس کی مزدوری دی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر درزی نے انکار سے پہلے سوٹ سی دیا تھا تو وہ اجرت کا حق دار ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ : ( 2/338 ،رشیدیہ )
القصار اذا انکر ان یکون عندہ ثوب ھذاالرجل ثم اقر وقد قصرہ قالوا ان قصرہ قبل الجحود کان لہ الاجر وان قصرہ بعد الجحود لا اجر لہ لانہ لما جحد صار غاصبا فتبطل الاجارۃ فاذا قصر بعد ذلک فقد قصر بغیر عقد فلا یستوجب الاجر
وفی الاشباہ والنظائر مع شرح الحموی: (3 /366،365 ،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
الأولى: قصار جحد الثوب وجاء به مقصورا، هل يستحق الأجر أم لا؟ فأجاب أبو يوسف رحمه الله: يستحق الأجر.فقال له الرجل: أخطأت ،فقال: لا يستحق ،فقال: أخطأت، ثم قال له الرجل: إن كانت القصارة قبل الجحود استحق، وإلا لا
وکذافی درر الحکام: (1 /708 ،المکتبہ العربیہ )
وکذا فی التنویر و شرحہ مع ر د المحتار : (9 /299،298 ،دار المعرفہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ : ( 1/298 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-08-1440، 2019-04-9
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :21

بعض لوگ کولڈ سٹور میں آلو رکھواتے ہیں اس شرط پر کہ فی بوری 400روپے ہم دیں گے ،لیکن اگر ریٹ کم ہو گیا مثلا 300یا200فی بوری تو پھر ہم کرایہ نہیں دیں گے بلکہ جو آپ سے آلو اٹھائے یا جس کو آپ دیں اس سے کرایہ لے لیں آپ کو اختیار ہے کرایہ کم لیں یا زیادہ کیایہ معاملہ درست ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ معاملہ درست نہیں ۔

لمافی بدائع الصنائع:(4 /48، رشیدیۃ)
“ولو استأجر دارا بأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها أو تعليق باب عليها أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر فالإجارة فاسدة؛ لأن المشروط يصير أجرة وهو مجهول فتصير الأجرة مجهولة”۔
و فی الھدایۃ:(3 /303،رحمانیۃ)
الاجارۃ تفسد ھا الشروط کما تفسد البیع لانہ بمنزلتہ ۔۔۔۔۔۔والواجب فی الاجارۃ الفاسدۃ اجر المثل لا یجاوز بہ المسمی
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 3/384،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:7/530(رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(4 442/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:(9 /77،رشیدیۃ)
وکذافی دررالحکام :(1/503،العربیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440،2019/4/1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:103

ایک آدمی نے دو بھینسیں فروخت کیں ،جن کی مالیت سوا تین لاکھ روپے ہے ،اس کے بعد اس نے وہ رقم اپنی بیٹی کی شادی میں صرف کر دی ،تو اب اس پر حج فرض ہو ا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حج فرض نہیں ہوا ۔کیونکہ آج کل مذکورہ رقم حج کےتمام اخراجات اوراہل وعیال کے نفقہ کے لیے ناکافی ہے ۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/ 297، رشیدیۃ)
“وأما تفسير الزاد والراحلة فهو أن يملك من المال مقدارمايبلغه إلى مكة ذاهباوجائياراكبالاماشيابنفقةوسط لا إسراف فيها ولا تقتير،فاضلاعن مسكنه وخادمه وفرسه وسلاحه وثيابه وأثاثه ونفقةعياله وخدمه وكسوتهم، وقضاء ديونه.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 3/ 2082، رشیدیۃ)
“قال الحنفية: الاستطاعة أنواع ثلاثة: بدنية ومالية وأمنية، أما الاستطاعة البدنية: فهي صحة البدن۔۔۔۔۔۔ وأما الاستطاعة المالية: فهي ملك الزاد والراحلة، بأن يقدر على الزاد ذهاباً وإياباً، وعلى الراحلة ۔۔۔۔۔۔وزائداً أيضاً عن نفقة عياله الذين تلزمه نفقاتهم إلى حين عودته.”
وکذافی البحر الرائق : ( 2/ 546،رشیدیۃ ) وکذا فی تبیین الحقائق: ( 2/4 ،امدادیۃ )
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)3 /472،فاروقیۃ) وکذا فی فتح القدیر:(2 /415، رشیدیۃ)
وفی کتاب التجنیس والمزید:(2/463،ادارۃ القرآن) وکذا فی الھندیۃ:(1 /218،رشیدیۃ)
وکذافی الشامیۃ:(3/524تا529، رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر 56

ایک آدمی نے گاڑی لی دو ہزار ایک دن کی اجرت پر ایک دن کے بعد گاڑی واپس کر دی اور اجرت نہیں دی اب مستاجر اسے دو ہزار کے بدلے کوئی اور چیز دے ،مثلاسائیکل یا گندم قیمت کے اعتبار سے دو ہزار سے کم ہو یا زیادہ اور موجراس پر راضی ہو جائےتوکیا یہ معاملہ درست ہے۔

الجواب باسم ملہم الصواب

سوال میں مذکور معاملہ درست ہے۔

وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(6/4344،رشیدیۃ)
“ان کان بدل الصلح عین مال معلوم جاز الصلح ،ویکون العقد بمنزلۃ العقد بیع الدین بالعین ۔”
وفی الفتاوی الھندیۃ:(4/231،رشیدیۃ)
“اذا وقع الصلح علی دین فحکمہ حکم الثمن فی البیع وان وقع علی عین فحکمہ حکم المبیع فما یصلح ثمنا فی البیع او مبیعا یصلح بدلا فی الصلح۔”
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:3/184،الطارق
وکذا فی مجمع الانہر:3/434،مکتبۃ المنار
وکذافی بدائع الصنائع:(5/57، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:7/436،رشیدیۃ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلد نمبر :18 فتوی نمبر 129

زید نامی شخص کو اپنے باپ کی وراثت میں سے زمین ملی زید نے اسی وراثت والی زمین میں سےہر ایک بیٹے کو اس کا حصہ دے دیا اور بیٹیوں میں سے ہرایک بیٹی کو بھی حصہ دینا چاہتا تھا لیکن بیٹیوں نے اپنا حصہ لینے سے انکار کر دیاہے کہ ہمیں زمین نہیں چاہیے۔زید نے کچھ زمین اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے اب وہ چاہتا ہے کہ اپنی قبضہ شدہ زمین کوبیچ کرحج کرونگا یا غریبوں کی امداد کروں، لیکن جیسے ہی اس کی ساری اولاد بیٹے بیٹیوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے باپ زید کو روکا کہ ہم آپ کو یہ زمین نہیں بیچنے دیں گے ، کیونکہ یہ زمین آپ کوہمارے دادا جی کی طرف سے وراثت میں ملی تھی ،لہذا یہ زمین وراثت در وراثت چلے گی ،یہاں تک کہ اولاد نے باپ پر کیس کر دیا ،کہ ہمارا باپ زمین بیچ رہا ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ باپ اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے یا نہیں ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

 

الجواب باسم ملھم الصواب

زید اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے ،اگر زید پر حج فرض ہے تو اسے حج ضرور کرنا چاہیے،اگر اس پر حج فرض نہیں ہے اور بچے ضرورت مند ہوں تو ان کو دے ،ورنہ کسی بھی کار خیر میں صرف کر سکتا ہے۔

لمافی العنایۃ مع فتح القدیر:(6/230،رشیدیۃ)
و شرطہ من جھۃالعاقدین العقد والتمییز ،ومن جھۃ المحل کونہ مالا متقوما مقدور التسلیم ۔وحکمہ افادۃ الملک وھو القدرۃ علی التصرف فی المحل شرعا ۔
وفی بدائع الصنائع :(5/281،رشیدیۃ)
اما الاراضی المملوکۃ العامرۃ فلیس لاحد ان یتصرف فیھامن غیر اذن صاحبھا لان عصمۃ الملک تمنع من ذالک ۔۔۔۔۔حتی یجوز بیعھا وھبتھاواجارتھا وتصیر میراثا اذا مات صاحبھا۔
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃ البقرۃ :275)
وکذافی الشامیۃ:(7/14،13،رشیدیۃ)
وکذافی البحر الرائق:(5/433،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326،رشیدیۃ)
وکذافی التاتار خانیۃ:(8/212،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3320،م:رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(4/16،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1440،2019/1/19
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 94