بعض سپر سٹورز پر صرف عورتیں ہی ہوتیں ہیں ان سے خریدوفروخت کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكی لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۞ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ …..}[النور:30،31]ان آیات میں تمام مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں نگاہیں نیچی رکھیں ،اور دوسری جگہ ارشاد ہے:{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا……} [الإسراء: 32]زنا کے قریب مت جاؤ۔نا محرم کو دیکھنا ،ان سے معاملات کرنا اور بات چیت کرنا توزنا کے قریب لے جانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں،اور متعدد احادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اورسے آنکھوں کا زنا شمار کیا گیا ہےاوربد نظری کرنےکرانے والے اللہ کی لعنت کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں۔اور عورت کا بازار میں دکان لگانے اور لوگوں کےساتھ خریدوفروخت کرنے میں اس بات کا پایا جانا لازمی اوریقینی بات ہے جوکہ ناجائز اورحرام ہے۔
البتہ اگر کوئی سخت مجبوری ہوکہ والدین بوڑھے ہیں یابیوہ ہے اور کمانے والا کوئی نہیں تو اس سخت مجبوری کے تحت اگر مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچتے ہوئے مکمل پردے کا لحاظ رکھ کر کوئی آسان سا کسب معاش کیا جائے تو جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔

لما فی القرآن المجید
“قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۞ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ “.
[النور: 30، 31]
” وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا.” [الإسراء: 32]
“وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَالِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ.”
[الأحزاب: 53]
وکذافی ردالمحتار: (5 /228،رشیدیہ)
قال فی الھدایۃ:واما المتوفی عنھا زوجھا فلانہ لا نفقۃ لھا فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش وقدیمتد الی ان یھجم اللیل،ولا کذالک المطلقۃ،لان النفقۃ دارۃعلیھا من مال زوجھا.قال فی الفتح:والحاصل ان مدار حل خروجھابسبب قیام شغل المعیشۃ فیتقدر بقدرہ،فمتی انقضت حاجتھا لایحل لھا بعدذالک صرف الزمان خارج بیتھا
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(40/355،علوم اسلامیہ)
ذھب الحنفیۃ فی الصحیح والمالکیۃ والشافعیۃالی ان نظر المراۃ الی ای عضو من اعضاء الرجل الاجنبی یکون حراما اذاقصدت بہ التلذذ او علمت او غلبت علی ظنھا وقوع الشھوۃ او شکت فی ذالک،بان کان احتمال حدوث الشھوۃ وعدم حدوثھا متساویین لان النظر بشھوۃ الی من لا یحل بزوجیۃ او ملک یمین نوع زنا،وھو حرام عند جمیع الفقھاء.
وکذا فی الصحیح للبخاری:(2/450،رحمانیہ)
وکذا فی السنن الکبری:(7/159،دارالکتب)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(40/343،344،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(9/610،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/185،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/327،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/152،دارلمعرفہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/610،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ:(5/228،229،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(2/230،رشیدیہ)
وکذا فی کنزالعمال:(16/163،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:42

میری ایک کریانہ کی دکان ہے اس میں ،میں گولیاں جس سے بچے کھیلتے ہیں لا کربیچتا ہوں ،کیا یہ گولیاں بیچنا درست ہے ؟اور ان گولیوں سے کھیلنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

گولیاں کھیلنے میں چونکہ عموماً دونوں جانب سے شرط ہوتی ہے،اس لیے یہ قمار (جوا)ہونے کی وجہ سے حرام ہے ،اور چونکہ ان گولیوں کا اکثر استعمال جوے کے لیے ہی ہوتا ہے اس لیے ان کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے ،اگر جانبین سے شرط نہ ہو تو بھی بے فائدہ اور بے مقصد کھیل ہونے کی وجہ سے یہ کھیل کراہت سے خالی نہیں ۔

لما فی المحیط البرھانی :(8/14،داراحیاءتراث)
فان شرطوا الجعل من الجانبین فھو حرام ۔۔۔وھذا ھو القمار بعینہ۔۔۔فاذا کان المال مشروطامن الجانبین کان قمارا والقمار حرام، ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر،وانہ لا یجوز
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
“فان شرطواالجعل من الجانبین فھوحرام،وصورۃ ذالک ……..ھذا ھوالقمار بعینہ والقمار حرام.”
وکذا فی مصنف لابن ابی شیبہ:(5/290،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/645،رشیدیہ)
وکذا فی المعجم الکبیرللطبرانی:(2/14،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی کنزالعمال:(15/98،رحمانیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(35/269،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/442،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/6/1440،2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:45

انٹر نیٹ پر ایک گیم ہے وہ گیم جیتنے پر آدمی کو کچھ ڈالر انعام کی صورت میں ملتا ہے ،جبکہ گیم کھیلنے والا کوئی رقم نہیں دیتا ،تو کیا یہ گیم کھیلنا اور انعام وغیرہ لینا جائز ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

آج کل متعدد آن لائن گیمیں چل رہی ہیں اورہرایک کی صورت حال دوسری سے عموما ًمختلف ہوتی ہے ،جبکہ سوال میں کوئی تفصیل مذکور نہیں اس لیے ایک اصولی جواب دیا جا رہا ہے کہ صورت مسئولہ میں اگر کھیلنے والے سے کسی قسم کی رقم وصول نہیں کی جاتی (عموما ً ایسی چیزوں میں اکاؤنٹ بنانے یا رجسٹریشن وغیرہ کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے)تو اس گیم پر ملنے والا انعام جائز ہے،کیونکہ اس میں ایک طرف سے شرط ہے،لہذا یہ سود اورقمار میں داخل نہیں۔لیکن اگر ایسی گیم میں کوئی خلاف شرع کام ہو ،مثلاً فحاشی و عریانی ،میوزک اورنا محرمو ں کو دیکھنا وغیرہ ،یا اس میں مشغولیت اور انہماک کی وجہ سے نمازوں میں غفلت وغیرہ، تو یہ گیم کھیلنا جائز نہ ہو گا ۔اگر ایسی کوئی بات نہ ہو تو بھی عموماً ایسی گیمیں وقت اور اچھی صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں ،اس لیےان سے احتراز کرنا چاہیے۔اور ایسے کھیلوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو جسمانی اور دماغی صحت میں معاون ثابت ہوں ۔

لما فی جامع الترمذی : (2/506 ،رحمانیہ)
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ
و فی تنویر الابصار وشرحہ علی رد المحتار :(9/664،665،رشیدیہ)
حل الجعل )وطاب ،لا انہ یصیر مستحقا .ذکرہ البرجندی وغیرہ،وعللہ البزازی بانہ لا یستحق بالشرط شیئ لعدم العقد والقبض ومفادہ :لزومہ بالعقد کما یقول الشافعیۃ،فتبصر (ان شرط المال )فی المسابقۃ (من جانب واحد وحرم لو شرط)فیھا (من الجانبین )لانہ یصیر قمارا (الا اذا ادخلا ثالثا)محللا (بینھما )
وفی کنز الدقائق : (9/359،360،رشیدیہ)
“وحرم شرط الجعل من الجانبین لا من احد الجانبین
وکذا فی الھندیہ:(6/545،رشیدیہ)
وکذا فی کنز العما ل:(15/12،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی:(2/14،دارالکتب )
وکذا فی المحیط البرھانی:( 8/14،دار احیاء تراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:( 5/442،الطارق)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(24/128،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المجمع الانھر:(4/216،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/227،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:176

میں نے ملتان کے ایک دکاندار ،مثلا :اکرم سے کوئی چیز خریدی ،جب کہ میں خود ڈیرہ غازی خان میں ہوں۔میں یہی چیز کسی دوسرے شخص مثلا ناصر کو فروخت کرناچاہتا ہوں،اورناصر ملتان والے دکاندار یعنی اکرم سے یہ چیز وصول کر لے گا ۔اگر میں اکرم کو اپنا وکیل بنادوں کہ وہ میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لے اورپھر مجھے اطلاع کر دے کہ اس نے میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لیا ہے ،پھر میری اجازت سے وہ چیز ناصر کو فروخت کر دے ۔تو یہ جائز ہے یانہیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ طریقہ نا جائز ہے ۔کیونکہ بیچنے والا ،خریدار کی طرف سے قبضہ کا وکیل نہیں بن سکتا ،اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ دوسرے خریدار یعنی ناصر کو پہلے اپنا وکیل بنا لیں کہ وہ آپ کی طرف سے اس چیز پر قبضہ کرلے ،اورپھر آپ کو اطلاع کر ے اب آپ وہ چیز ناصر کو فروخت کریں اور اس وقت ناصر اس چیز پر اپنے لیے قبضہ کر لے ۔

لما فی فقہ البیوع للشیخ محمد تقی العثمانی مد ظلہ: (1/182،معارف القرآن )
واشترط معظم الفقھاء لصحۃ البیع تعدد العاقدین ۔فلا یجوز ان یکون الشخص الواحد عاقدا من الجانبین۔وھذا انما یتصور ان کان اصیلافی جانب ،ونائبا عن الآخر فی جانب آخر ،فیتم الایجاب بصفتہ اصیلا،والقبول بصفتہ نائبا
ولما فی البدائع الصنائع : (2/489،رشیدیہ)
ولان حقوق البیع اذا کانت مقتصرۃ علی العاقد ،وللبیع احکام متضادۃ من التسلیم والقبض والمطالبۃ،فلو تولی طرفی العقد لصار الشخص الواحد مطالبا ومطلوبا ومسلما ومتسلما ،وھذا ممتنع.
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(12/268،269،فاروقیہ) وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/16،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:15/4،5،داراحیاء تراث) وکذافی مجلہ الاحکام العدلیہ:(59،قدیمی)
وکذافی فقہ البیوع :(2/1189،معارف القرآن ) وکذافی الھدایہ:(3/77،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/394،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:24

پرانی اینٹیں دے کر نئی اینٹیں خریدنا ، برابر سرابر یا کمی زیادتی کے ساتھ کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جائز ہے بشرطیکہ نقد معاملہ ہو یعنی دونوں طرف سے اسی وقت قبضہ ہو جائے ،ادھار نہ ہو ۔

لما فی الھدایہ لبرھان الدین المرغینانی رحمہ اللہ : (3/73،رحمانیہ )
قال واذاعدم الوصفان الجنس والمعنی المضموم الیہ حل التفاضل والنسالعدم العلۃ المحرمۃ ، والاصل فیہ الاباحۃ، واذا وجدا حرم التفاضل والنسا لوجودالعلۃ واذا وجد احدھما وعدم الاخر حل التفاضل وحرم النسا ،مثل ان یسلم ھرویا فی ھروی او حنطۃ فی شعیر فحرمۃ ربا الفضل بالو صفین وحرمۃ النسا باحدھما
وفی الموسوعہ الفقھیہ:(22/68،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ :ان علۃ تحریم الربا القدر مع الجنس فان وجدا حرم الفضل والنسا ، فلا یجوز بیع قفیز بر بقفیزین منہ ،ولا بیع قفیزبر بقفیز منہ واحدھما نسا،وان عدما ۔ای القدر والجنس ۔حل البیع،وان وجد احدھما ای القدر وحدہ کالحنطۃ بالشعیر اولجنس وحدہ کالثوب الھروی بھروی مثلہ حل الفضل وحر م النسا
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:(ردالمحتار 7/416،417،418،رشیدیہ
کذا فی رد المحتار:(7/418،رشیدیہ) (کذا فی فقہ البیوع :2/1174،معارف القرآن)
(کذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار:(3/107،رشیدیہ
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3700،3701،رشیدیہ
(کذا فی الفقہ الحنفی:(4/233،الطارق
(کذافی بدائع الصنائع :4/404،رشیدیہ
کذا فی المبسوط للسرخسی:(11/114،دار المعرفہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:25

بیمہ پالیسی لینا کیسا ہے؟ اور جس نے لی ہوئی ہو تو وہ اب کیا کرے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

بیمہ پالیسی لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں سود ،دھوکہ اور جوا پائے جاتے ہیں، اگر یہ پالیسی لی ہوئی ہوتو اس کو ختم کرنا ضروری ہے، اصل رقم واپس لے اور اس پرملنے والا نفع سود ہے، لہذا اس کو بلانیت ثواب صدقہ کردے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3423،رشیدیہ)
أما التأمین التجاری اوالتأمین ذوالقسط الثابت فھو غیر جائز ، وھو رأياکثر الفقہاء العصر وھو ماقررہ المؤتمر العالمی الاولی للاقتصاد الاسلامی فی مکۃ المکرمۃ،وسبب عدم الجواز یکاد ینحصر فی امرین :ھما الغرر والربا ۔۔۔۔۔۔۔والربا واضح بین العاقدین : المؤمن والمستامن ،لانہ لاتعادل ولا مساواۃ بین الأقساط التأمین وعوض التأمین فما تدفعہ الشرکۃ قد یکون أقل او أکثر ،او مساویا للأقساط وھذا نادر
وکذ افی الفقہ البیوع:(2/1067، معارف القرآن)
أماالأقساط التأمین : فانھا حصلت علیھا الشرکۃ بعقد محظور ،فان کان العقد یلتزم ان توفر الشرکۃ للمؤمن لہ نقد ا یعوضہ عن الضرر المؤمن علیہ ۔۔۔۔۔۔۔فان ھذا العقد فیہ ربا ،لانہ لاتماثل بین الأقساط وبین مبلغ التأمین ،وعلی ھذا ،فانہ عقد باطل مثل الربا ،واقساط التأمین التی أخذت من اصحابھا کلھا حرام.
وکذا فی الدرالمختار:(4/17، سعید )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/63،الطارق)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4387، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440، 2019،4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:133

ایک آدمی نے کولڈ سٹور میں آلو کی بوریاں رکھی ہیں اور فی بو ری کرایہ 430 روپے طے ہوا ہے ،اس شرط پر کہ یہ کرایہ اس وقت تک ہے جب تک بوریاں سٹور میں ہیں ،یعنی ایک ماہ بعد نکلواؤں یا چھ ماہ بعد یا دس دن کے بعد ،کرایہ یہی ہو گا۔کیا یہ معاملہ درست ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

کولڈ سٹور میں آلو رکھنے کی مدت متعین ہونا ضروری ہے، ورنہ معاملہ درست نہیں ہو گا، مقررہ مدت سے پہلے اگر نکالنا چاہے تو کوئی حرج نہیں۔

لما فی المحیط البرھانی :(11/217،احیاء تراث العربی)
واما بیان شرطھا : فنقول یجب ان تکون الاجرۃ معلومۃ ،والعمل ان وردت الاجارۃعلی العمل والمنفعۃ ان وردت الاجارۃ علی المنفعۃ ،وھذ الان الاجرۃ معقود بہ والعمل او المنفعۃ معقودعلیہ واعلام المعقود علیہ شرط تحرزا عن المنازعۃ کما فی الباب البیع واعلام المنفعۃ ببیان الوقت ،وھو الاجل
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/ 24، رشیدیہ)
منھا ان یکون المعقود علیہ وھو المنفعۃ معلوما علما یمنع من المنازعۃ ،فان کان مجھولا لاینظر ان کانت تلک الجہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ تمنع صحۃ العقد والا فلا ،لان الجہالۃ المفضیۃ الی المنازعۃ تمنع من التسلیم والتسلم فلا یحصل المقصود
وکذا فی البحر الرائق:(4/24،رشیدیہ) وکذا فی الدر المختار :(9/9،دارا المعرفہ)
وکذا فی کتاب الفقہ :(3/78،الحقانیہ) وکذا فی فتاوی المنازل:(375،الحقانیہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ:(4/411،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3812،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
2، 8، 1440،2019، 4، 8
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:192

ميں نے كافی عرصہ پہلے پرائز بانڈ خریدے تھے، مقصد یہ تھا کہ رقم محفوظ ہو جائے، ان ميں سے ايك بانڈ پر انعام نكل آيا ہے، تو انعام کی یہ رقم لینا کیسا ہے ۔؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جتنی رقم آپ نے لگائی تھی صرف وہی لے سکتے ہیں، انعام کی رقم سود ہے، اس کا ستعمال کرنا آپ کے لیے جائز نہیں، بلا نیت ثواب صدقہ کر دیں۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرۃ : ( 2/160،معارف القرآن )
فلان الحکومۃ تلتزم بتوزیع الجوائز علی حملۃ السند فالزیادۃ علی مبلغ القرض وان لم تکن مشروطۃ لکل واحد من المقرضین ولکنھا مشروطۃ تجاہ مجموعۃ المقرضین ۔۔۔۔۔۔انھا زیادۃ غیر مشروطۃ فی العقد ، وکلما اشتر طت الزیادۃفی عقد القرض صارت ربا
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ ا لجدید: (4/235،الطارق )
“وھو الرباالتاخیراوالزیادۃالمشروطۃالمقابلۃللاجل وھوالربا الذی کان معروفالاھل الجاھلیۃ من دفعھم المال مؤجلا الی مدۃ علی ان یدفع الآخذ قدر امعینا کل شھر مثلا ویکون راس المال باقیا”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3698،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی العالمكیرية:(3/117،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعةالفقھية:(22/57،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی القاموس الفقھی:(143،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی کنز الدقائق:(248،حقانیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/400،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/207،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
12، 6، 1440،2019، 2، 18
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:162

سود کی تعریف بحوالہ بتا دیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

کسی شخص کو دی ہوئی رقم پر طے کرکے کسی بھی قسم کی زیادتی کا مطالبہ کرنا ،یا دو ہم جنس اشیاء کے تبادلے کے وقت مشروط اضافے کا مطالبہ “سود” کہلاتا ہے۔

لما فی المعجم الوسیط:(326،دارالدعوہ)
الربا فی الشرع فضل خال عن عوض شرط لاحد المتعاقدین وفی علم الاقتصاد المبلغ یؤدیہ المقترض زیادۃ علی ما اقترض تبعا لشروط خاصۃ
وکذافی القاموس الفقھی :(143، ادارۃ القرآن )
الربا : الفضل والزیادۃ ۔۔۔۔۔۔۔ شرعا ، ھو فضل خال عن عوض بمعیار شرعی مشروط لاحد المتعاقدین فی معاوضۃ
وکذا فی معجم لغة الفقہاء:(218،علوم الاسلامیہ )
“الربا بکسر الراء من ربا الشیئ یربو ربوا : اذازاد کل زیادۃ مشروطۃ فی العقد خالیۃ عن عوض مشروع “
وکذا فی رد المختار: (7/417، دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (3/ 117، رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (6/207، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: (22/50، علوم الاسلامیہ)
وکذا فی کنز الدقائق : (248،حقانیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (5/ 3698، رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/ 400، رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع: (2/661،معارف القرآن )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15، 5، 1440/ 2019، 1، 22
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:144

ایک شخص اپنے ملازم کو کہتا ہے، کہ یہ چیز ہزار روپے میں فروخت کرو، لیکن ملازم چرب لسانی کے استعمال سے اسے ہزار سے زیادہ میں فروخت کرتا ہے تو کیا یہ زائد رقم اس کے لیے حلال ہے ؟

الجوا ب باسم ملھم الصواب

یہ زائد رقم بھی مالک کی ہے اس لیے مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ۔

لما فی الفتاوی التاتار خانیہ: (12 /377، فاروقیہ )
“ولو وکلہ بالبیع بالف ثم زاد المشتری فی الثمن خمسمائۃ فالزیادۃ للآمر”
وکذا فی الموسوعةالفقھیة: (45/46، علوم الاسلامیہ )
“اذا باع الوکیل باکثر من الثمن المحدد لہ وکانت الزیادۃ من جنس الثمن فان البیع یکون صحیحا عند الجمہور الفقہاء “
وکذافی مجمع الانھر : 3/324،مکتبةالمنار )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:4/ 328، الحرمین )
وکذافی البحر الرائق : (7/282،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریة:(3/ 592، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :15/ 101،احیاء تراث العربی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة: (45/ 42، علوم الاسلامیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ : 5/ 4019، رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع : (5/26، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16، 5، 1440/ 2019، 1، 23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:142