سونے یا چاندی کے زیورات میں نگینے لگے ہوئے ہوں، تو ان کو سونے یا چاندی کے بھاؤ بیچنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگرگاہک کو معلوم ہے کہ دکاندار نگینے بھی سونے کی قیمت میں دےرہا ہے اور وہ رضامند ہو جاتا ہے تو پھر جائز ہے، ورنہ نہیں، اس لئے کہ یہ دھوکہ ہے۔

لمافی الآثار:(2 /733 ،دارالسلام)
” عن ابراہیم قال اذا کان الخاتم فضۃ و فیہ فص فاشترہ بما شئت ان قلیلا وان شئت کثیرا.
وفی رد المحتار :(5/238،ایچ۔ایم۔سعید)
“لا بأس ببیع المغشوش اذا بین غشہ او کان ظاہرا یری.
وکذافی المبسوط:(14/25،دار المعرفہ)
وکذافی قضایا فقہیة معاصرة :(1/13،معارف القرآن)
وکذافی شرح المجلة الاحکام:(3/201،عربیہ)
وکذافی الہندیہ:(3/215،رشیدیہ)
وکذافی الہدایة :(3/113،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1443،2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:6

خالص سونے وچاندی کی ادھار خرید و فروخت مارکیٹ ریٹ سے کم پر کرنسی کے بدلے جائز ہے یا نہیں؟ (2) سونے اور چاندی کو اگر مکس کر کے جس میں چاندی غالب ہو، مرد کے لیے ساڑھے چار ماشہ سے کم انگوٹھی پہننا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

(1)

سونے اور چاندی کی ادھار خرید وفروخت کرنسی کے بدلے جائز ہے ۔
(2)

مرد کے لیے ایسی انگوٹھی پہننا جس میں سونے کی ملاوٹ ہو جائز نہیں۔

لمافی المبسوط:(14/24،دارالمعرفہ)
واذا اشتری الرجل فلوسا بدراھم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز لان الفلوس الرائحۃ ثمن کالنقود وقد بینا ان حکم العقد فی الثمن وجوبھا ووجودھا معاً ولا یشترط قیامھا فی ملک بائعھا لصحۃ العقد کما لایشترط ذلک فی الدراھم والدنانیر
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/126،فاروقیہ)
وفی الجامع الصغیر لا یتختم الا بالفضۃ ھذا اللفظ بظاہرہ یقتضی ان التختم بالذھب والحدید والصفر والحجر والشبہ وما اشبہ ذلک حرم علی الرجال ۔۔۔۔لا بأس بمسمار الذھب یجعل فی الفص یرید بہ المسمار لیحفظ بہ الفص
وکذافی فتح القدیر:(7/147،رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/177،التجاریة)
وکذافی الشامیة:(7/433،دارالمعرفہ)
وکذافی الھندیہ:(3/242،رشیدیہ)
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(5/5،رشیدیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/128،دارالعلوم)
وکذافی الھندیہ:(5/335،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14،9،1443/2022،4،16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:140

خریدوفروخت کی ایک کمپنی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو کہتے ہیں آپ ہم سے 500 روپے کا کارڈ خریدو، پھر اسے کھولو، اس پر دو چیزوں کا نام لکھا ہوگا مثلا لیپ ٹاپ اور استری، تو آپ 6000 دے کر دونوں چیزیں لے لینا اور اور اگر کارڈ خالی ہو، اس پر کسی چیز کا نام لکھا ہوا نہ ہو تو آپ کو آپ کے 500 کے ساتھ اضافی 500 دیا جائے گا، اس قسم کی خریدوفروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

خریدوفروخت کی مندرجہ بالا صورت سود، دھوکہ، اور مشروط معاہدہ ہونے کی بناء پر ناجائز ہے، لہذا بہر صورت اس سے بچا جائے۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4 /86 ،طارق)
الغرر مایکون مجھول العاقبۃ لا یدری ا یکون ام لا …. فبیوع الغرر تنسحب علی بیع دخلہ الغرر بوجہ من الوجوہ وقد نھی النبی ﷺعن بیع الغرر
وفیہ ایضا:(4/233،طارق)
ہو بیع المال الربوی بجنسہ مع الزیادۃ فی احد العوضین، وسمی بھذا لوجود الفضل فی العقد وھو حرام وبعد صفحتین معتمد الفقہ جریان الربا فی الفلوس کالذھب و الفضۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(5/3700،رشیدیہ)
ربا الفضل الذی ہو بیع بانہ زیادۃ عین مال فی عقد بیع علی المعیار الشرعی (وہو الکیل و الوزن )عند اتحادالجنس…. فان الربا یتحقق بالزیادۃ المشروطۃ وغیر المشروطۃ فی البیع او فی القرض
وکذافی تکملة فتح الملھم :(1/322،دارالعلوم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلة :(5/3410،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(22/57،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/400،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443،2021/12/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:3

ایک شخص کے پاس بیل ہے، جس کو جفتی کے لیے اجرت پر دیتا ہے، کیا اس شخص کا اجرت لینا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جفتی کے لیے جانور اجرت پر دینا جائز نہیں، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی کچھ دے دے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لمافی الشامیة:(9/92،دار المعرفہ)
لا تصح الاجارۃ لعسب التیس و ھو نزوہ علی الاناث ولا لاجل المعاصی مثل الغناء والنوح والملاھی و لو اخذ بلا شرط یباح۔
وفی الموسو عة الفقہیة:(1/287،علوم اسلامیہ)
وفی اجارۃ الفحل للضراب خلاف فجمھور الفقہاء الحنفیۃ و ظاہر المذھب الشافعیۃ واصل المذھب الحنابلۃ علی منعہ لنہی النبیﷺ فی الحدیث المتفق علیہ من عسب الفحل۔۔۔۔ وقالوا ان أطرق انسان فحلہ بغیر اجارۃ ولا شرط، فاھدیت لہ ھدیۃ، فلا بأس۔
وکذافی مجمع الانھر:(3/532،منار)
وکذافی جامع الترمذی:(1/372،رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(3/427،بشری)
وکذافی المبسوط:(15/83،دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/33،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(399،بشری)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،9،1443/2022،4،23
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:200

ایک آدمی کسی دکاندار سے کوئی سامان خریدنے جاتا ہے جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتا ،یہ اس کو ایک اور دکاندار کے پاس بھیجتا ہے کہ وہ چیز فلاں دکاندار کے پاس ہے۔اور پہلا دکاندار دوسرے سے اس بات کا کمیشن طے کرتا ہے کہ میں آپ کے پاس گاہک بھیجا کروں گا،تو کیا اس کا یہ کمیشن لینا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صرف گاہک کی راہنمائی کرنے کی وجہ سے کمیشن کا مستحق نہ ہو گا،جب تک کہ کوئی عملی اقدام نہ کرے،مثلا اس گاہک کو دکان تک لے جائے۔

لمافی المحیط البرھانی:(11/352،داراحیاءتراث)
وفی نوادر ابن سماعۃ:عن ابی یوسف رحمہ اللہ: رجل ضل شیئا، فقال:من دلنی علیہ فلہ درھم،فدلہ انسان فلاشیئ لہ،لان الدلالۃوالاشارۃلیست بعمل یستحق بہ الاجر، ولوقال لانسان بعینہ :ان دللتنی علیہ فلک درھم،فان دلہ من غیر مشی معہ،فکذالک الجواب لایستحق بہ الاجر،وان مشی معہ ودلہ فلہ اجر مثلہ،لان ھذا عمل یقابل بالاجرعرفاوعادۃ،الاانہ غیرمقدر،ففسدالعقد،ووجب بہ اجرالمثل
وفی الفقہ الحنفی:(4/410،الطارق)
“فللاجیر المشترک ان یتقبل العمل من اشخاص،لان المعقودعلیہ فی حقہ ھوالعمل او اثرہ.
وکذا فی التاتارخانیہ:(15/138،فاروقیہ)
وکذا فی تنویرالابصارعلی ردالمحتار:(9/107،108،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5/3847،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/35،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(4/500،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(8/47،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:34

ہمارے علاقے میں زمین برابر کرنے کےلیے ٹریکٹر کرائے پر لیتے ہیں کہ فی گھنٹہ 1200روپے،اب اگر کام کے دوران ڈرائیور کا فون آجائے دو تین منٹ وہ فون سن لے یا دو تین دفعہ فون آجائے اور مالک مطالبہ کرے کہ جتنی دیر آپ نے فون سنا ہے اتنے پیسے کم کرو۔کیا یہ مطالبہ درست ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت میں مالک اس مطالبہ کا حق رکھتا ہے،لیکن اگر صرف دو یا تین منٹ کی بات ہو تو اخلاقاً در گزر کرلینا چاہیے۔

لما فی المجلہ:(مادہ :425،ص82،قدیمی)
الاجیر الخاص یستحق الاجرۃاذا کان فی مدۃالاجارۃ حاضرا للعمل ولایشترط عملہ بالفعل،ولکن لیس لہ ان یمتنع من العمل واذا امتنع فلایستحق الاجرۃ.
وفی دررالحکام:(1/459،العربیہ)
اماالاجیر الخاص اذا امتنع عن تسلیم نفسہ مدۃالاجارۃ لصیرورتہ عاجزا عن العمل،فلایستحق الاجرۃ
وکذا فی المجلہ:(مادہ:478،ص90،قدیمی)
وکذا فی دررالحکام:(1/546،547،العربیہ)
وکذا فی الھدایہ:(3/295،296،رحمانیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/23،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(4/413،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(5/3809،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(8/7،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:35

ایک آدمی آڑھتی کو گندم فروخت کرتا ہے لیکن قیمت طے نہیں کرتا بلکہ وہ یہ شرط لگاتا ہے کہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہو گی میں اس وقت لوں گا،اور جس دن پیسے لینے آؤں گا تو اس دن گندم کی جو قیمت بازار میں ہو گی اس حساب سے آپ مجھے پیسے دے دینا۔کیا یہ معاملہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بالا معاملے کا حاصل یہ ہے کہ ایک آدمی آڑھتی کوگندم قرض دیتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ بوقت ضرورت گندم یا اس دن کی قیمت وصول کر لوں گا،اگر گندم وصول کر لے یا اس کے بدلے میں پیسے وصول کر لے تو یہ جائز ہے۔

لما فی التاتارخانیہ:(9/385،فاروقیہ)
کل شیئ یکال او یوذن نحوالحنطۃ والشعیر والسمسم والتمروالزبیب جازاستقراضہ،……ذکرفی الاصل:اذااستقرض الدقیق وزنا لایردہ وزنا،ولکن یصطلحان علی القیمۃ،کما لو استقرض الحنطۃوزنا،وعن ابی یوسف فی روایۃ:یجوز استقراضہ وزنا استحسانا اذا تعارف الناس ذالک،وعلیہ الفتوی
وفی الفقہ الحنفی:(4/217،218،الطارق)
لواستقرض الطعام ببلد الطعام فیہ رخیص،……وعند الصاحبین علیہ قیمتہ.فقداتفقاعلی وجوب ردالقیمۃ دون المثل لانہ لما بطل وصف الثمنیۃ بالکساد تعذرردعینھا کما قبضھا فیجب ردقیمتھا.
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3789،3790،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(33/124،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویرالابصارعلی ردالمحتار:(7/409،410،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(7/392،393،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:36

دو آدمیوں نےسودا کیا ،مثلا سو کاٹن ،فی کاٹن ڈیڑھ سو کے حساب سے ،بائع نے سو کاٹن کی قیمت وصول کر لی ،اب خریدنےوالا وقتاًفوقتاًاپنا مال لے جا رہا ہے حتی کہ 3 ماہ تک مشتری غائب رہا مال لینے نہیں آیا تو بائع نے اس کے غائب ہونے کو موت سمجھا اس لیے کہ رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ،اور بقیہ مال تقریبا 40ً کاٹن اسی حساب سے دوسری جگہ فروخت کیا ،اس لیے کہ مال جہاں رکھا تھا اس گودام کا مالک گودام خالی کرنا چاہ رہا تھا ۔(نوٹ)جبکہ کسی ذریعے سے بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہی مشتری مارکیٹ آتا جاتا رہا لیکن بائع کے سامنے نہیں آیا اس لیے کہ اب مال سستا تھا اس نے بقیہ مال نہیں لینا چاہا۔پھر 3ماہ بعد مشتری آیا اور بائع سے کہا کہ میرا مال دو۔بائع نے کہا کہ آپ کا مال ہم نے بیچ دیا آپ آئے نہیں اور گودام کا مالک گودام خالی کرنے کا کہ رہا تھا ہم مجبور تھے۔آپ کے جو پیسے ہم نے لیے تھے جن کا مال آپ نہیں لے گئے اپنے مال کے وہ پیسے واپس لے لو ۔لیکن مشتری انکار کر رہا ہےکہ مجھے یا تو میرا وہ مال واپس دو یا اس کی جو قیمت آج کل ہے وہ دے دو (اس لیے کہ اب تو مہنگاہے)بائع اس کو کہ رہا ہے کہ یہ نا جائز ہے اور مشتری مطالبہ کر رہا ہے۔اب یہ وضاحت فرما دیں کہ مشتری کا یہ مطالبہ جائز ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بائع نے مشتری کا جو سامان بیچ دیا ہے اگر اس سامان کو واپس کرنا کسی طریقے سے ممکن ہو تو وہی سامان واپس کرنا ضروری ہو گا،ورنہ اس جیسا سامان خرید کر دےدے،اور اگر اس جیسا سامان بھی نہ ملتا ہو تو جتنے کا بیچا تھا اتنی رقم واپس کر دے۔

لما فی البحرالرائق:(8/198،199،رشیدیہ)
“ویجب رد عینہ فی مکان غصبہ او مثلہ ان ھلک وھو مثلی،وان انصرم المثلی فقیمتہ یوم الخصومۃ وما لا مثل لہ فقیمتہ یوم غصبہ.
وفی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(8/536،537،رشیدیہ)
وکذا لو خلطھا المودع)بجنسھا او بغیرہ(بمالہ)اومال آخر.ابن کمال (بغیر اذن)المالک(بحیث لاتتمیز)الا بکلفۃ کحنطۃ بشعیر ودراھم جیاد بزیوف.مجتبی(ضمنھا)لاستھلاکہ بالخلط لکن لا یباح تناولھاقبل اداء الضمان،……..(ولو انفق بعضھا فرد مثلہ فخلطہ بالباقی)خلطا لا یتمیز معہ(ضمن)الکل لخلط مالہ بھا.
وکذا فی البحرالرائق:(7/469،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن:(16/65،ادارہ القرآن)
وکذا فی الھدایہ:(3/271،رشیدیہ)
وکذا فی القدوری:(143،144،الخلیل)
وکذا فی اللباب:(2/111،112،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/471،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/316،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/182،183،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:37

ہمارا یہ زمانہ مادیت پسندی کا زمانہ ہے ہر شخص مادی چیزوں میں اپنے کو دوسروں پر بڑا جتلانے کی کوشش کرتا ہے،خاص طور پر شادی بیاہ اوردوسری تقریبات کے اندر اس کا مشاہدہ عام ہے۔ایسے حالات میں بہت سارا ”پرائمری کلاس “طبقہ اپنی عزت بچانے اور نام بنانے کےلیے شادی بیاہ کی تقریبات میں دلہا اور دلہن کےلیے فاخرہ جوڑے کرائے پر حاصل کرتا ہے،اسی طرح دلہن کے زیورات جو کہ کبھی سونے کے ہوتے ہیں اور کبھی بناوٹی(آرٹی فیشل)بھی کرائے پر لیتے ہیں،تو کیا یہ زیورات اور کپڑے کرائے پر لینا اور ان کا دینا درست ہے یا نہیں؟شرعی حکم سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

یہ چیزیں کرائے پر لینا دینا جائز ہے،لیکن تکبر،دکھلاوا،دھوکہ اور فضول خرچی کےلیے ان کا استعمال جائز نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(5/3838،رشیدیہ)
أحکام إجارۃ المنافع: إجارۃ المنافع کإجارۃالدور والمنازل والحوانیت والضیاع،والدواب للرکوب والحمل،والثیاب والحلی للبس،والأوانی والظروف للإستعمال،ویجوز العقد علی المنافع المباحۃ.
وفی المحیط البرھانی:(11/392،داراحیاءتراث)
“إذا إستاجرالرجل ثوبا لیلبسہ الی اللیل بأجر معلوم،فھو جائز.”
وکذا فی ردالمحتار:(9/589،580،رشیدیہ) وکذا فی البحرالرائق:(7/522،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/504،داراحیاءتراث) وکذا فی بدائع الصنائع:(4/16،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ التاتارخانیہ:(18/112،فاروقیہ) وکذا فی التاتارخانیہ:(18/122،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/177،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/354،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/7/1440-2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:143

ایک ڈرائیور کی مزدوری متعین ہے اور اس متعین مزدوری کے علاوہ 150،100،رکھ لے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جو مزدوری اورتنخواہ مالک کی طرف سےمتعین ہے وہ لینا جائز ہے،اور جو پیسے مالک کی اجازت کے بغیر دھوکہ دے کر اور چوری رکھ لے تو وہ پیسے اس کے لیے حرام ہیں،انہیں واپس کرنا ضروری ہے۔

لما فی السنن الکبری:(6/130،دارالکتب)
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:یقول اللہ عزوجل: انا ثالث الشریکین ما لم یخن احدھما صاحبہ فاذا خان خرجت من بینھما
وفیہ ایضا:(6/152،دارالکتب)
قال عبداللہ ھوابن عمر:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حجۃ الوداع……… قال:فان اللہ حرم علیکم دمائکم واموالکم واعراضکم الا بحقھا کحرمۃ یومی ھذا فی بلدکم ھذا
وکذافی الھدایہ:(3/295،296،رحمانیہ)
وکذا فی تنویر الابصار :(9/103،117،رحمانیہ)
وکذا فی السنن الکبری:(6/198،دارالکتب)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/217،داراحیاءتراث)
وکذا فی القدوری:(2/28،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(15/302،فاروقیہ)
وکذا فی کنزالدقائق علی البحر:(8/4،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/47،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:46