ایک سنار نے دوسرے سنار سے سونا یا چاندی مدت معینہ کے لئے بطور قرض لیا ،بعد میں دوسرا سنار کہتا ہےکہ آپ نے جو مجھ سے سونا یا چاندی بطور قرض لیا تھا ،مجھے اب فی الوقت(مدۃ معینہ)پر موجودہ مارکیٹ ریٹ پراسکی قیمت دیں۔میں اب سونانہیں لیتا کیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

باہمی رضامندی سےقرض دار کے لیے قرض خواہ کو سونے یا چاندی کی قیمت دینا بھی جائز ہےاور سونایاچاندی ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا

لما فی جامع الترمذی:(1/366،رحمانیہ)
عن ابن عمر قال کنت ابیع الابل بالبقیع فابیع بالدنانیر فاٰخذ مکانھا الورق وابیع بالورق فاٰخذمکانھا الدنانیر فاتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوجدتہ خارجا من بیت حفضۃ فسالتہ عن ذلک فقال لاباس بہ بالقیمۃ
وفی المحیط البرھانی:(10/360،داراحیاءتراث)
” رجل اقرض رجلا مائۃ درھم علی انھا جیاد فقبضھا ثم اشتراھا المستقرض من القرض بعشرۃ دنانیر صح. “
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/121،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(272،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(1/673،رحمانیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/145،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الکتاب المصنف ابن ابی شیبہ:(4/385،دار الکتب العلمیہ)
وکذافی السنن الکبریٰ للبیھقی:(5/466،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(9/397،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/12
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:184

سنار زیورات کی فروختگی کے وقت گاہک کو زیورات کے حقیقی وزن سے زائد کی رسید بناکر دیتے ہیں اور زائد وزن کی قیمت گاہک سے وصول کرتے ہیں ،حالانکہ زائد وزن زیورات میں بالکل نہیں ہوتا اب گاہک کے پوچھنے پر سنار کہتے ہیں کہ زیورات کی تیاری میں اتنا وزن کم ہوا ہےلہذا اس کی قیمت بھی آپ کے ذمہ ہے،اس کو خسارہ پالش کہتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ اس زائد وزن کی قیمت گاہک سے وصول کرناجائز ہے یا نہیں ؟ درحقیقت زیورات کی تیاری میں کچھ نہ کچھ سونا کم بھی ہوجاتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سونے کے زیور بنانے میں جس قدر وزن میں کمی واقع ہوئی ہے ،گاہک پر اس کی وضاحت کئے بغیر اس کی قیمت وصول کرنا درست نہیں ہے ،لیکن اگر اس کی وضاحت کردی تو پھر زائد قیمت وصول کرنا جائز ہے ۔اگر گاہک سونے کے وزن سے زائد قیمت ادا نہیں کرتا تو سنار اپنی کاریگری کی قیمت بڑھا کر گاہک سے زائد وصول کرسکتا ہے۔

لما فی:القرآن الکریم(سورة النساء،29)
” یاایھا الذین اٰمنو لاتاکلو اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارة عن تراض منکم. “
وفی صحیح البخاری:(1/377،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم البیعان بالخیار مالم یتفرقا فان صدقا وبینا بورک لھما وان کذبا وکتما محقت برکة بیعھما
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/13،معارف القرآن)
وللبائع ان یبیع بضاعة بماشاء من ثمن،ولا یجب علیہ ان یبیعہ بسعر السوق دائما،وللتجار ملاحظ مختلفة فی تعین الاثمان وتقدیرھا فربما تختلف اثمان البضاعة باختلاف الاحوال ولا یمنع الشرع من ان یبع المرء سلعة بثمن فی حالة وبثمن آخر فی حالة الاخریٰ
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(5/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/134،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(1/367،رحمانیہ)
وکذافی در الحکام شرح مجلة الاحکام:(3/201،العربیة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/6،الحسن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1444/2022/2/12
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:160

لیبارٹری کا مالک اپنےنفع کیلئےڈاکٹروں کوکمیشن دیتاہےاپنےنفع سے اورمریضوں سےاس کے بدلے زائد فیس وصول نہیں کرتاتوایساکرناجائزہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

لیبارٹری کےمالک کاڈاکٹرکوکمیشن دینااورڈاکٹرکالیبارٹری کےمالک سےکمیشن لیناچندشرائط کےساتھ جائزہے۔

1

۔کمیشن فیصدکےاعتبارسےیامتعین رقم کی صورت میں طےہو۔
2

۔اس کمیشن کےادا کرنےکی وجہ سےٹیسٹوں کےریٹ بڑھاکرمریض سےزائدرقم وصول نہ کی جائےبلکہ یہ کمیشن مالک اپنےحاصل شدہ نفع سےادا کرے۔
3

۔لیبارٹری والےمریض سےعلاج اورٹیسٹ کےسلسلےمیں کسی قسم کادھوکہ نہ کرتےہو۔

4

۔ڈاکٹرمریض کوصرف اسی لیبارٹری سےٹیسٹ کروانےپرمجبورنہ کرے۔
5

۔ڈاکٹرمحض کمیشن وصول کرنےکیلئےمریض کوبلاوجہ اورغیرضروری ٹیسٹ لکھ کرنہ دے۔
6

۔ڈاکٹراپنےفہم اورتجربہ کی روشنی میں مریض کواس لیبارٹری کی طرف بھیجنازیادہ مفیداورتسلی بخش سمجھتاہو

۔
ان شرائط کالحاظ رکھتےہوئےڈاکٹرکیلئےکمیشن لیناجائزہےلیکن اگران شرائط کالحاظ نہیں رکھاجاتاتوپھرلیبارٹری کےمالک کاڈاکٹرکوکمیشن دینااورڈاکٹرکیلئےکمیشن لیناجائزنہیں۔

لمافی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(5/40،رشیدیة)
لسمساروالمنادی والحمادی والصکاک ومالایقدرفیہ الوقت ولامقدارالعمل لماکان للناس بہ حاجةجازویطیب الاجرالماخوزلوقدراجرالمثل
وکذافی ردالمحتار:(5/39،داراحیاالتراث،بیروت)
قال فی التاتارخانیةوفی الدلال والسمساریجب اجرالمثل وماتواضعوعلیہ ان فی کل عشرةدنانیرکذافذاک حرام علیھم وفی الحاوی سئل محمدبن سلمۃعن اجرۃالسمسارفقال ارجوانہ لاباس بہ وان کان فی الاصل فاسدالکثرۃالتعامل وکثیرمن ھذاغیرجائزفجوزوہ لحاجۃالناس الیہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/368،الطارق)
وفی الدلال والسمساریجب اجرالمثل،وماتواضعوعلیہ ان فی کل عشرۃدنانیردینار،فذالک حرام علیھم۔وسئل محمدبن سلمۃ عن اجرۃالسمسارفقال :ارجوانہ لاباس بہ،وان کان فی الاصل فاسدا لکثرۃالتعامل،وکثیرمن ھذا غیر جائز، فجوزوہ لحاجۃالناس الیہ
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/39،فاروقیة)
وکذافی الولوالجیة:(3/344،الحرمین الشریفین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10-07-1443/2022-02-12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:176

سونےکےلین دین میں ٪100فیصدخالص سونامشکل ہوتا ہے،کچھ نہ کچھ مثلا٪0.50،٪0.75،٪1.00،٪1.50،٪2.00، فیصدملاوٹ ضرورہوتی ہے۔عرف زرگراں میں انہی صورتوں میں لین دین وخریدفروخت کوہلکاخالص سوناشمارکیاجاتاہے۔مذکورہ کیٹگری کےمطابق سوال یہ ہےکیاایسےسونےکوخالص سوناکہہ کرگاہک اور دکانداروں کےدرمیان خریدوفروخت کرناجائزہےیانہیں؟مذکورہ کیٹگریزکاجب بڑےصرافوں سےمعاملہ ہوتاہےتوان کےنزدیک بھی یہ خالص ہوتاہےمگرلین دین میں ریٹ میں کمی بیشی ہوتی ہےوضاحت یامتبادل فرمادیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عرف زرگراں کودیکھا جائے گاکہ وہ آپس میں معاملہ کرتے وقت ایسے سونے کو کیا شمار کرتے ہیں؟اگر معروف مقدار کےمطابق کھوٹ ہواور دکاندار اور گاہک اس کو”خالص سونا “شمار کرتے ہوں تو اس کو ”خالص سونا “کہہ کرفروخت کرنا درست ہےاور اگر معروف مقدارسے زائد کھوٹ ہو یا گاہک ناواقف ہو تو پھر اس کو خالص سونا کہہ کرفروخت کرنا جائز نہیں۔بلکہ کھوٹ کی مقدارکی وضاحت کرنا ضروری ہے۔

لما فی الھندیہ: ( 3/ 67 ، رشیدیة)
“قال القدوری فی کتابہ کل ما یوجب نقصانافی الثمن فی عادۃ التجارفھو عیب.”
وفی رد المحتارعلی الدرالمختار:(5/3،ایچ ایم سعید)
قولہ مایخلو عنہ اصل الفطرۃالسلیمۃ)زاد فی الفتح مما یجد بہ ناقصا ای لان ما لا ینقصہ لا یعد عیبا(علی الصفحۃ الاتیۃ)کذالا یرد اناءفضۃبرداءتہ بلا غش۔”
وکذا فی فتح القدیر:(6/329،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/544،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/81،بیروت)
وکذا فی شرح العینی:(2/21،ادارۃ القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3558،رشیدیة)
وکذا فی الھدایہ:(3/42،رحمانیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(9/117،فاروقیة)
وکذا فی شرح الوقایة:(29،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی:(1/364،رحمانیة)
وکذافی الصحیح المسلم:(2/13،رحمانیة)
وکذافی جامع الترمذی:(1/36،رحمانیة)
وکذافی تکملۃ فتح الملھم:(1/376،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
24-03-1443/2021-10-31
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:104

 

تراویح کی اجرت سےحاصل ہونےوالےپیسوں کامصرف کیاہے؟نادارآدمی خوداستعمال کرسکتا ہےیا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگراجرت دینےوالےمعلوم ہوتوان کوواپس کرناضروری ہےاوراگرمعلوم نہ ہوتوثواب کی نیت کےبغیرصدقہ کردے خوداستعمال کرناجائزنہیں۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2687،رشیدیة)
ولایحل للورثۃایضااخذالمیراث من کسب حرام،وعلیھم ردمااخذوہ علی اربابہ ان عرفوھم والاتصدقوابہ،لان سبیل الکسب الخبیث التصدق بہ اذاتعذرالردعلی صاحبہ.
وفی ردالمحتار:(9/95،بیروت)
فالحاصل:ان ماشاع فی زماننامن قراءۃالاجزاءبالاجرۃلایجوزلان فیہ الامربالقراءۃواعطاء الثواب للامروالقراءۃلاجل المال ،فاذالم یکن للقاری ثواب لعدم النیۃالصحیحۃفاین یصل الثواب الی المستاجرولولاالاجرۃماقرااحدلاحدفی ھذاالزمان بل جعلوالقرآن العظیم مکسباووسیلۃالی جمع الدنیا۔اناللہ واناالیہ راجعون
وکذافی الشرح الحموی:(2/297،ادارۃالقران)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1006،مکتبہ معارف القران)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/157،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20-05-1443/2021-12-25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:89

بندہ ایک سیکورٹی کمپنی میں مینجراکاؤنٹس کی حیثیت سےکام کررہا ہےہماری کمپنی مختلف اداروں کوجس میں سرکاری،غیرسرکاری اداروں کوسیکورٹی گارڈزفراہم کرتی ہے۔پاکستان پوسٹ کے ایک ریجن کا ہمیں کنٹریکٹ ملاجس میں ایک ذیلی ادارہ پوسٹل لائف انشورنس ہےجس میں ہم چارپانچ ماہ سےسیکورٹی گارڈزسروسزفراہم کررہےہیں۔بعدازاں ہمیں معلوم ہواکہ پوسٹل لائف انشورنس کےمعاملات پاکستان پوسٹ سے علیحدہ ہیں۔ہم نے اس سوال کے ساتھ اس کی کچھ تفصیل اٹیچ کی ہےبراہ کرم ہماری اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ پوسٹل لائف انشورنس میں سیکورٹی سروسزجاری رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

سوال کے ساتھ منسلک تفصیل سےتو یہ سمجھ آرہا ہےکہ یہ ادارہ ”انشورنس “کرتا ہےاگر یہ بات ٹھیک ہے توجواب یہ ہےکہ مروجہ انشورنس چونکہ حرام ہے اس لیےاس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہےاور یہ لوگ اسی حرام آمدن میں سے آپ کے واجبات ادا کرینگےلہذاان کوسیکورٹی گارڈز مہیا کرنا جائز نہیں۔

لمافی القرآن الکریم:(المائدۃ،2)
ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان
وفی احکام القرآن للجصاص(2/429،قدیمی)
وقولہ تعالی:(ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان)نھی عن معاونۃ غیرناعلی معاصی اللہ تعالی
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3817،رشیدیة)
“لایجوزاستئجار علی المعاصی کاستئجارالانسان للعب واللھوالمحرم …..لانہ استئجارعلی المعصیۃ،والمعصیۃلاتستحق بالعقد.”
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(16/511،فاروقیة)
وفی الذخیرۃ :قال شمس الائمۃ:ھذہ المسئلۃ ذکرھشام بتمامھافی نوادرہ عن محمدرحمہ اللہ(1)احدوجوھھاان یشتری شیئابعین الدراھم فیھا خبث،ویضیف العقدالیھاوینقدمنھا،ففی ھذاالوجہ المشتری لایحل لہ
وکذافی المبسوط:(16/37،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(3/429،بشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/39،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/346،بیروت)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/92،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(8/35،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16-04-1443/2021-11-22
جلدنمبر 25 فتوی نمبر:117

ہم سناروں کےپاس کسٹمرسونےکازیورفروخت کرنے کیلئےلاتے ہیں۔ اس میں کھوٹ ہوتا ہےہم اندازہ لگا کروہ خریدتےہیں بسااوقات کھوٹ اندازےسے کم نکلتا ہے،بسااوقات اندازے کےبقدراور بسااوقات اندازےسےزائدبھی نکلتا ہے۔نتیجےمیں کبھی بچت زیادہ ہوتی ہے،کبھی معاملہ برابرہوجاتاہےاورکبھی نقصان بھی ہوجاتا ہے۔یہ جائزہےیا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

جائز ہے۔

لمافی المبسوط:(14/25،بیروت)
وان اشتری خاتم فضۃاوخاتم ذھب فیہ فص او لیس فیہ فص بکذافلوسا،ولیست الفلوس عندہ فھوجائزان تقابضاقبل التفرق اولم یتقابضالان ھذابیع ولیس بصرف
وفی الھندیة:(3/224،رشیدیة)
وان اشتری خاتم فضۃاوخاتم ذھب فیہ فص او لیس فیہ فص بکذافلوسا،ولیست الفلوس عندہ فھو جائز ان تقابضا قبل التفرق اولم یتقابضالان ھذابیع ولیس بصرف
وکذافی عمدۃالرعایةعلی ھامش شرح الوقایة:(88،رحمانیة)
وکذافی فقہ البیوع:(2/762،مکتبةمعارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26-07-1443/2022-02-28
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:15

کسان اپنی اجناس مثلاکپاس وغیرہ بیچنےکیلئےجاتےہیں توآڑھتی سےریٹ طےہوجانےکےبعدان میں سے ایک من سےایک کلواضافی لیتے ہیں توکیاآڑھتیوں کا ایک کلوزائدلیناجائزہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

خریدوفروخت کی یہ صورت منڈیوں میں رائج اورمعروف ہےاوربیچنےوالا اور خریداردونوں اس طرح معاملہ کرنےپرمتفق اورراضی ہوتےہیں لہذایہ معاملہ جائزہے۔

لمافی دررالحکام شرح مجلةالحکام:(1/46،المکتبةالعربیة)
“والحاصل ان استعمال الناس غیرمخالف للشرع وللنص الفقھاءیعدحجۃ.”
وکذافی شرح المجلة:(1/101،رشیدیة)
“المعروف بین التجارکالمشروط بینھم…فمایقع بین التجارمن المعاملات التجاریةاوبین غیرھم من العقودوالمعاملات التی ھی من نوع التجاریةینصرف عندالاطلاق الی العرف والعادة…..ولایتوھم من ھذہ المادۃقصرالعمل بالعرف فی الامور التجاریةعلی مایجری بین التجارفقط،بل المرادان کل عمل ھو من نوع التجارۃاذاسکت فیہ عن قید،فالمرجع فی ذلک العرف الجاری بین التجار․”
وکذافی اصول الافتاءوآدابہ:(262،مکتبةمعارف القرآن)
وکذافی رسائل ابن عابدین:(2/116،محمودیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2022-02-14/12-07-1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:13

احساس کفالت پروگرام کے تحت بیوہ خواتین کے لیے حکومت کی طرف سے 12000 روپے منظور ہوئے ہیں ،لیکن مقامی سینٹرز پر جو لوگ ہیں وہ ان پیسوں میں سے 500،1000 کی کٹوتی کرتے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں ہے، تو ان ملازمین کے لیے یہ کٹوتی کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر واقعتا حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے،تو یہ کٹوتی جائز نہیں ہے۔

لما فی سورة النساء:(آیت:29)
“یایھاالذین اٰمنوا لا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃعن تراض منکم۔”
وکذا فی السنن الکبرٰی:(6/166،دارالکتب العلمیہ)
عن عبداللہ بن السائب بن یزید عن ابیہ ن جدہ عن النبیﷺقال:لا یأخذ احدکم متاع اخیہ لاعبا ولا جادّا فاذا أخذ أحدکم عصا أخیہ فلیردھا ألیہ
وکذا فی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
“قال رسول اللہﷺ :الا لاتظلموا الا لایحل مال امریٔ الا بطیب نفس منہ۔”
وکذا فی التفسیر المظہری:(2/79،رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1005،معارف القرآن)
وکذا فی التفسیر الکبیر:(4/56،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/351،الطارق)
وکذا فی التفسیرالمنیر:(3/32،کتب خانہ امیر حمزہ)
وکذا فی الکشاف :(1/502،من منشورات البلاغہ)
وکذا فی الشرح المجلہ:(1/143،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/207،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
29،4،1443/21،12،5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:147

ایک کمپنی ایک لاکھ روپے کے بدلے8000سے لیکر13،000تک اپنے انوسٹرز کو منافع دیتی ہے اور بندۂ ناچیز کی منشاء یہ ہے کہ یہ پرافٹ جائز نہیں،بلکہ ہمیں ایک لاکھ کے پیچھے جتنا نفع ہوا ہے،اس حساب سے پرافٹ دیں،تواس مسئلہ کے بارہ میں شریعت کاکیا حکم ہے ؟مہربانی فرما کر رہنمائی فرمادیں۔

الجواب حامداومصلیا

کمپنی کااس طرح متعین رقم کی صورت میں نفع دینا جائز نہیں ہے،بلکہ درست طریقہ یہ ہے کہ کل نفع میں سے متعین فیصد کے اعتبار سے نفع دیا جائے ۔مثلاکل نفع کا چالیس فیصد دیا جائے گا۔

لمافی البحرالرائق:(5/296،رشیدیہ)
وتفسدأن شرط لأحدھما دراھم مسماۃ من الربح لانہ شرط یوجب انقطاع حق الشرکۃ فعساہ لایخرج إلاالقدر المسمی لأحدھما
وکذافی بدائع الصنائع:(5/77،رشیدیہ)
ومنھا:أن یکون الربح جزء شائعا فی الجملۃ لامعینا،فإن عینا عشرۃأو مائۃأونحو ذلک کانت الشرکۃ فاسدۃ،لأن العقد یقتضی تحقق الشرکۃ فی الربح والتعین یقطع الشرکۃ لجوازان لایحصل من الربح الاالقدرالمعین لاحدھما فلا یتحقق الشرکۃ فی الربح
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(385،البشری)
وکذافی مجمع الانھر:(2/544،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3940،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(3/161،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(4/287،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(15/395،فاروقیہ)
وکذافی الدر:(8/501،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
13،5،1443/2021،12،18
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:168