میں نےگاڑی لی چودہ لاکھ روپےکی ایک سال کےادھارپر،کیامیں وہ گاڑی دس لاکھ کی بیچ سکتاہوں؟

الجواب حامداومصلیا

جی بیچ سکتےہیں۔

لمافی فتح القدیر:(7/199،رشیدیہ)
ان یبیع مایساوی عشرۃبخمسۃعشرالی اجل فیشتریہ المدیون ویبیعہ فی السوق بعشرۃحالۃ،ولابأس فی ھذا
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/225،الطارق)
وللبائع ان یبیع بضاعتہ بماشاءمن ثمن ولایجب علیہ ان یبیعہ بسعرالسوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولایمنع الشرع من ان یبیع المرأسلعتہ بثمن فی حالۃ،وبثمن آخرفی حالۃاخری
وکذافی التفسیرالمنیر:(3/38،امیرحمزہ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/152،احیاءالتراث)
وکذافی الفقہ البیوع:(1/556،معارف القرآن)
وکذافی ردالمحتار:(7/655،رشیدیہ)
وکذافی بحوث قضایافقہیةمعاصرة:(1/13،معارف القرآن)
وکذافی البحرالرائق:(5/429،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
5/7/1443/2022/2/7
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:121

میں اپنی سرکاری ملازمت سےریٹائرڈہوجانےکےبعدوصول ہونےوالی پنشن(جوتاحیات ملتی رہتی ہے)میں سےکچھ فی صدکےحساب سےپیشگی وصول کرناچاہتاہوں ایسی رقم کو(پنشن )کہتےہیں ۔میری ماہانہ پنشن بعدازریٹائرمنٹ تقریباً/93،000بنتی ہے،پنشن کی رقم مبلغ/2125000لینےکی صورت میں ماہانہ پنشن تقریباً/60،000روپےملےگی۔ حکومتی سالانہ اضافہ جوہرسال تقریباً٪10ملتاہے،ماہانہ پنشن کم ہونےکی صورت میں کم اورزیادہ ہونےکی صورت میں زیادہ ملے گا۔ سوال یہ ہےکہ اضافہ پنشن لیناجائزہے؟اورپنشن پوری کیےبغیرماہانہ پوری پنشن لینابہترہےیاکم پنشن /60،000اورایک بار/21،25000وصول کرنابہترہے؟

الجواب حامداومصلیا

اپنی ضرورت وسہولت کےمطابق دونوں میں سےکوئی بھی صورت اختیارکی جاسکتی ہے۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ)
واتفق الأئمۃعلی ان الھبۃتصح بالایجاب والقبول والقبض واجمعواعلی ان الوفابالوعدفی الخیرمطلوب
وفی الموسوعةالفقہیة:(15/77،علوم اسلامیہ)
الاصل اباحۃ الجائزۃعلی عمل مشروع،سواءأکان دینیااودنیویا،لانہ من باب الحث علی فعل الخیروالاعانۃ علیہ بالمال وھومن قبیل الھبۃ
وکذافیہ ایضاً:(15/78،علوم اسلامیہ)
وکذافی الہندیة:(4/396،رشیدیہ)
وکذافی بحوث قضایافقہیةمعاصرۃ:(2/155،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:182

ہم سنیاروں کے پاس سونےوچاندی کےتیارشدہ زیورات ہوتےہیں اوران میں کھوٹ بھی ہوتا ہے،اس کے بغیرزیورات تیار کرنابہت مشکل وتقریبا ناممکن ہے،فروخت کرتے وقت ہم گاہک کوشرح کھوٹ نہیں بتلاتےاورگاہک بھی ایک حدتک جانتاہےکہ اس میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ہوتا ہے، نیزسنیارےکی رسید پرواپس لینےسے متعلق یہ بات درج ہوتی ہےکہ ہم واپس خریدنے کی صورت میں اتنی شرح کھوٹ نکال کربقیہ خالص سونے کی قیمت دینے کے پابند ہوں گے،البتہ سنیارےاس زیورکی قیمت خالص سونے کے بھاؤ وصول کرتے ہیں اورزبان سے کسٹمر کے سامنے شرح کھوٹ بالکل نہیں بتلاتے البتہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں کھوٹ ہے،اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

گاہک پر شرح کھوٹ کی وضاحت کرناضروری ہےخواہ زبانی ہویارسیدپرلکھ کر،جسےوہ سمجھتا ہو۔
خریدارکےلیےشرح کھوٹ کی وضاحت کیےبغیرفروخت کرنا ناجائزہے۔

لمافی الموسوعةالفقھیة:(10 /152 ،علوم اسلامیہ)
“یحرم فی التجارۃ جمیع انواع الغش والخداع،وترویج السلعۃبالیمین الکاذبۃ۔”
وفی سنن ابی داؤد:(2/124،رحمانیہ)
“عن ابی ھریرۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیٰ عن بیع الغرر۔ “
وکذافیہ ایضاً:(2/133، رحمانیہ)
وکذافی الترمذی:(1/378،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری:(4/423،قدیمی)
وکذافی عون المعبود:(9/125،قدیمی)
وکذافی اعلاءالسنن:(14/58،ادارةالقرآن)
وکذافی عمدةالقاری:(11/233،داراحیاءالتراث)
وکذافی بذل المجھودفی حل ابی داؤد:(15/70،قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(3/88،المعارف للنشروالتوزیع)
وکذافی معالم السنن:(3/49،المعارف للنشروالتوزیع)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
117/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:73

ایک سنیارے نےدوسرےسنیارےسےہفتہ مدت کیلئےسوناقرض لیا،ادائیگی کےوقت پہلاسنیارکہتاہے سونامیرےپاس نہیں ہے،لہٰذا آپ مجھ سے قرض لینےکےدن کےمارکیٹ ریٹ کےحساب سےاس کی قیمت لےلیں دوسرا کہتاہےمیں آج کےدن کےمارکیٹ ریٹ کےحساب سےقیمت لوں گا،اس میں فیصلہ فرمادیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں سونا ہی اداکرناضروری ہے۔

لمافی الدرالمختار:(7 /408 ،دارالمعرفة)
“وکذاکل مایکال ویوزن،لمامرانہ مضمون بمثلہ فلاعبرۃبغلائہ ورخصہ”
وفی تنقیح الفتاویٰ الحامدیة:(1/502،قدیمی)
ویفہم منہ ان الدراہم الخالصۃ اوالمغلوبۃ الغش لیس حکمہاکذلک والذی یظہرانہااذاغلت اورخصت لایفسدالبیع قطعاولایجب الاردالمثل الذی وقع علیہ العقد
وکذافیہ ایضا :(1/504،قدیمی)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/517،رشیدیہ)
وکذافی الفتایٰ الہندیة:(3/202،الرشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3793،رشیدیہ)
وکذافی تنقیح الفتاویٰ الحامدیة:(1/500،قدیمی)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(9/394،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(33/119،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/219،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/354،داراحیاءالتراث)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(14/37،دارالمعرفة)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی(ترجمہ بہشتی زیور):(1/379،البشریٰ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدعمرفاروق بن عبدالمؤمن بہاولپور
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1443/2021/12/13
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:191

آج کل دھان کا موسم ہے اور کچھ لوگ دھان مکس کر کے بیچتے ہیں۔مثلاایک آدمی دھان کی ایک قسم “سپری “خریدتا ہے جسکی قیمت تقریبا۔/ 1450 روپے ہے اور دوسری طرف دھان کی دوسری قسم “1509”خرید لیتاہے،جس کی قیمت تقریبا ۔/2800روپے ہے۔اب وہ شخص دھان کی دونوں قسموں کوملا کررکھ لیتا ہے جس سے بالکل پتہ نہیں چلتا کہ دھان مکس ہے یا نہیں ۔ پھر وہ غلہ منڈی میں لاکر ڈھیری کردیتا ہے اور بولی ہوتی ہے اور بولی میں چونکہ بڑے بڑے خریدار ہوتے ہیں ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دھان میں خریدوں اور وہ دھان پھر۔/2800 روپے کے حساب سے سیل ہوجاتا ہے۔ جبکہ خریدار دھان کی سمجھ بوجھ ربھی کھتا ہے اور بعض اوقات پتہ نہیں چلتا اور نقصان خریداروں کا بھی نہیں ہوتا کیونکہ ملاوٹ کا بالکل پتہ نہیں چلتا۔اس طرح دھان جب فیکٹریوں میں جاتا ہے وہ بھی دھان کا چاول بنا کر ایک دو قسم ملا کر بیچتے ہیں تاکہ زیادہ نفع ہو۔اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ طریقہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔لیکن اگر خریدار کو ملاوٹ کا صاف صاف بتادیا جائےاور کسی طرح بھی جھوٹ،دھوکہ دہی اور غلط بیانی نہ کی جائے تو یہ معاملہ جائز ہوگا۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرّبرجل یبیع طعاما فسألہ کیف تبیع ،فاخبرہ فاوحی ٰ الیہ ان ادخل یدک فادخل یدہ فیہ ،فاذا ھو مبلول، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسل لیس منّا من غش
وفی الصحیح لمسلم:(3/13،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وعن بیع الغرر
وکذافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیہ) وکذافی سنن ابن ماجہ:(287،رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(2/665،رحمانیہ) وکذافی رد المحتار:(4/47،ایچ ایم سعید)
وکذافی الکتاب المصنف لابن ابی شیبة:(4/317،رار الکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:(4/96،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی معجم الاوسط للطبرانی:(3/239،مکتبة المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/5/1440/2021/212/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:58

میں ایک سنار ہوں،ہماری دکان پرسونے چاندی کے جو زیورات برائے فروخت ہوتے ہیں،ان میں تھوڑا بہت کھوٹ ضرورہوتا ہے۔کھوٹ کی شرح بتائے بغیر ان کو بیچنا جائز ہےیا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کھوٹ عرف اور رواج کے مطابق ہو اور خریدار کو اس کا علم بھی ہو تو اس کی شرح بتائے بغیر بیچنا جائز ہےاور اگر خریدار کو کھوٹ کا علم نہیں یا عرف ورواج سے زیادہ ہو تو بتانا ضروری ہے ،ورنہ یہ دھوکہ ہوگا جو شرعانہایت قبیح عمل ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 2/124،رحمانیہ)
“ون ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع الغرر . “
وفی الفقہ الاسلام وادلتہ:(5/3307،رشیدیہ)
ان الغبن الفاحش فی الدنیا ممنوع باجماع الشرائع اذھو من باب الخدع المحرم شرعا فی کل ملۃ،لکن الیسر منہ الذی لایمکن احتراز عنہ لاحد امر جائز،اذلو حکمنا بردہ ما نفذ بیع ابدا
وکذافی الموسوعة الفقھیہ:( 31/221،علوم اسلامیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(8/304،فاروقیہ)
وکذافی حاشیہ ابن عابدین:(7/197،دارالمعرفة)
وکذا فی العالمکیریہ :(3/74،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :(10/91،داراحیاتراث)
وکذا فی درالاحکام شرح المجلہ :(1/364،العربیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: :(4/41،الطارق)
وکذا فی :مجمع الضمانات :(399،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقرمحمدعبداللہ غفرلہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:130

ایک کمپنی جو مون ٹوور اینڈ ٹریولز کے نام سے ہے،کمنپی اپنے انویسٹر کو 8 پرسینٹ سے 13 پرسینٹ تک پرافٹ مہیا کرتی ہے ۔(سائل سے تنقیح کرانے کے بعد معلوم ہواکہ کمپنی انویسٹر کو جو پرافٹ دیتی ہے،یہ انویسٹر کے سرمایہ کے اعتبار سے ہوتا ہے)۔ سائل کا سوال یہ ہے کہ یہ پرافٹ شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ نقصان کی صورت میں اگر کمپنی پھر بھی انویسٹر کو 8 پرسینٹ دے رہی ہے تو یہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کمپنی کا یہ طے کرنا کہ وہ انویسٹر کو اس کی انویسٹمنٹ کا 8 پرسینٹ سے 13 پرسینٹ تک نفع دے گی مثلا ایک لاکھ پر۔/ 8000 سے۔/ 13000 روپے تک نفع دے گی یہ صورت جائزنہیں بلکہ کمپنی کا کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین کرنا ضروری ہے ،مثلا کل نفع کا 8 پرسینٹ یا کم و بیش۔
نیز اگرکمپنی کی شرائط میں طے ہے کہ نقصان کی صورت میں بھی کمپنی اپنے انویسٹر کو 8 پرسینٹ دے گی تو یہ بھی جائز نہیں ہے ۔اگر کمپنی معاہدے میں خود نقصان برداشت کرنے کی شرط نہیں لگاتی بلکہ بغیر کسی شرط کے خود نقصان برداشت کرتی ہے تو یہ کمپنی کا احسان ہے اور کاروبار کے اصولوں کے بھی خلاف نہیں،اس لئے یہ جائز ہوگا۔

لما فی بدائع الصنائع للکاسانی:(5/77،رشیدیہ)
ان یکون الربح جزءاً شائعا فی الجملۃ لا معینا فان عینا عشرۃ أومائۃ أو نحو ذلک کانت الشرکۃ الفاسدۃ لأن العقد یقتضی تححقق الشرکۃ فی الربح والتعین یقطع الشرکۃ لجواز أن لا یحصل من الربح الا القدر المعین لأحدھما فلا یتحقق الشرکۃ فی الربح
وفی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(3/161،رشیدیہ)
ومنھا إذا شرط علی المضارب لأحدھما من الربح ما یقطع الشرکۃ نحو أن یجعل لہ دراھم مسماۃ مائۃ أو قل أو أکثر فسدت المضاربۃ
وکذافی رد المحتار:(8/501،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(4/287،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/544،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(18/126،داراحیاء تراث)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(346،البشریٰ)
وکذافی شرح المجلہ:(4/260،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر علی ھامش ملتقی الابحر:(2/544،المنار)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(2/352،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:169

اگر کوئی بندہ کسی سے ایک ملین(دس)لاکھ اس شرط پر لے کہ میں آپکو ایک سال کے بعد آپ کے پیسے واپس کردونگا اور اس کو ٪5 نفع دے حالانکہ اس کو ٪10 نفع ہورہا ہو اور وہ اس بندے کو بتائے بھی نہیں تو اس صورت کاشرعی حکم کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سائل سے تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ قر ض دینے والا صرف نفع میں تو شریک ہونا چاہتا ہے، مگر نقصان میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔لہذا یہ خالصتا سود ی معاملہ ہےجوکہ شرعا ناجائز اور حرام ہے۔

لما فی بدائع الصنائع للکاسانی:(6/518،رشیدیہ)
 لما روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ نھی عن قرض جر نفعاولان الزیاةالمشروطۃ تشبہ الربا لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،رشیدیہ)
” القرض الذی جر منفعه: قال الحنفیۃ فی الراجح عندھم کل قرض جر نفعا حرام اذا کان مشروطا. “

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1444/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:159

حکومت کسی شخص کو ایک سال تک کسی شہر کے ٹول پلازہ کا ٹھیکہ دیتی ہے مثلا ایک سال کا دو کڑوڑ ٹھیکہ طے ہوا وہ شخص حکومت کو پہلے دو کڑوڑ ادا کردیتا ہے اور بعد میں ایک سال تک ٹول پلازہ کا ٹیکس وصول کرتا رہتا ہے،کیا حکومت سے یہ معاملہ کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/145،معارف القران)
” ان یکون العقد اجارۃ للشارع من قبل الحکومۃ التی تملکہ،فالجھۃ صاحبۃ الامتیاز تملک منفعۃ للشارع الی مدۃ معلومۃ ثم انھا تتقاضیٰ الرسوم من العربات ا لتی تنتفع بالمرور علیہ وتقاضی الرسوم فی ھذہ الحالۃیشبہ الاجارۃ من الباطن ،وھی جائزۃ عند المالکیۃ والشافعیۃ سواء کانت الاجرۃ فی الباطن زائدۃ علی الاجرۃ التی یدفعھا المستاجر الاول الی المالک،وھو المختار عند الحنابلۃ ،اما الحنفیۃ فذھبو الی ان الزیادۃ تطیب فی حالتین
الاولیٰ: ان ان تکون الاجرۃ التی یتقاضاھا المستاجر الاول بغیر جنس الاجرۃ التی یدفعھا الی المالک۔
والثانیۃ: ان یحدث فی العین الاجرۃ زیادۃ۔
وان اصحاب الامتیاز یحدثون فی الشارع زیادات کثیرۃ من اجل تشغیلہ فلو فعلو ذلک تطیب الزیادۃ لھم عند الحنفیۃ ایضا

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1444/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:133

پرندوں کا کاروبار کرنا حلال ہے؟اور کبوتر پالنا کیسا ہے؟اور گھر میں پرندے رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پرندوں کا کاروبار حلال ہےاور کبوتر ودیگر پرندوں کو پالنا اور گھروں میں رکھنا بھی درست ہے،بشرطیکہ خوراک ودانہ کا خیال رکھا جائے۔

لما فی صحیح البخاری:(2/443،رحمانیہ)
عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم احسن الناس خلقا وکان لی اخ یقال لہ ابوعمیر قال احسبہ فطیم وکان اذا جاء قال یا ابا عمیر ما فعل النغیر نغر کان یلعب بہ فربمّا حضر الصلوۃ وھو فی بیتنا فیأمر بالبساط الذی تحتہ فیکنس وینضح ثم یقوم ونقوم خلفہ فیصلی بنا
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(3/114،رشیدیہ)
والحمام اذاعلم عددھا ویمکن تسلیمھا جاز بیعھا وامّا اذا کانت فی بروجھا ومخارجھا مسدود فلا اشکال فی جواز بیعھا
کذافی الصحیح المسلم:(2/218،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(2/462،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(399،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/337،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(8/337،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/330،داراحیاء تراث)
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:(9/661،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:94