مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:(1) ایک آ د می کسی دوسر ےشخص سے جس کی آ مد نی با لکل حلا ل ہے ، قر ض لیتا ہے اور پھر اس قرض کی اد ا ئیگی اپنی حرام کمائی سے کر تا ہے تو کیا ایسا کر نا در ست ہے؟(2) قر ض خو اہ کے لئے اس حر ا م ما ل سے قر ض و ا پس لینا جا ئز ہے؟(3) کیاقرض لینے وا لے کے لئے لیا ہو ا قر ض حلا ل ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حلال مال سے قرض لیا ہوا حرام مال سے لوٹا ناجائز نہیں بلکہ اس حرام مال کو تو صدقہ کر ناچاہیے۔(2) قر ض خوا ہ کو اگر معلو م ہو کہ ما ل حرا م ہے تو اس کے لئے لینا مکرو ہ ہے اور اگر معلو م نہ ہو تو لینا جا ئز ہے۔(3) قر ض لینے وا لے کے لئے لیا ہو اما ل حلا ل ہے۔

لما فی الھند یة :(5/367،رشید یة)
و لو کا ن الد ین لمسلم علی مسلم فبا ع المسلم خمرا و أخذ ثمنھا و قضا ہ صا حب الد ین کر ہ لہ أن یقبض ذ لک من د ینہ
وفی بد ائع الصنا ئع :(4/308،رشید یة)
مسلم با ع خمرا و أخذ ثمنھاوعلیہ د ین یکر ہ لصا حب الد ین أ ن یأ خذ ہ منہ …ووجہ الفر ق: أن بیع الخمر من المسلم باطل لأ نھا لیست بمتقو مۃ فی حق المسلم فلا یملک ثمنھا فبقی علی حکم ملک المشتر ی فلا یصح قضا ء الد ین بہ
وفی رد المحتا ر :(5/99،سعید)
فان علم عین الحر ام لا یحل لہ و یتصد ق بہ بنیۃصاحبہ و ان کا ن ما لا مختلطا مجتمعا من الحر ام و لا یعلم أ ربا بہ و لا شیاً منہ بعینہ حل لہ حکما ، و لأ حسن د یا نۃ التنز ہ عنہ
وکذافی البزا زیة:(5/125، رشید یة)
وکذا فی الفقہ الا سلا می واد لتہ:(4/2687، رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(4/352، رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق:(8/369،رشید یة)
وکذا فی فقہ البیوع :(2/1006،معارف القرآن )
وکذا فی التا تار خا نیة:(18/251،فا رو قیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:146

ایک مارکیٹ کے آغاز میں کپڑے کی دکان ہے، اور آخر میں کریانہ کی دکان ہے، کریانہ والے نے کپڑے والے سے کہا کہ تم گاہکوں کو میری دکان کے بارے میں بتایا کرو اور میری دکان پر بھیج دیاکرو میں تمہیں ہر گاہک پر کمیشن دیاکروں گا، یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ معاملہ شرعاً درست ہے، اس شرط کے ساتھ کہ کمیشن اس ملازم کی اجرت سے زیادہ نہ ہو جو اس کام کے لئے اجرت پر رکھا جاتا ہے۔

لما فی الشامیة:(4/560،سعید)
قولہ( یعتبر العرف) فتجب الدلالۃ علی البائع او المشتری بحسب العرف
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ :(5/3326،رشیدیہ)
السمسرۃ ھی الواسطۃ بین البائع و المشتری لاجراء البیع و السمسرۃ جائزۃ و الاجر الذی یاخذ السمسار حلال
وکذافی الشامیة:(6/48،سعید)
وکذافی الھندیة:(4/450،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(15/136،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
03/05/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:19

ایک شخص نے زمین غصب کرکے بیچ دی ۔ اب توبہ کرکے اس کی قیمت مالک کو لوٹانا چاہتاہے ، اب زمین کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے ، مالک آج کے ریٹ کے حساب سے قیمت کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ غاصب کہتا ہے جتنے کی میں نے بیچی تھی اتنے پیسے دوں گا۔ شرعاً کونسی قیمت لازم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں غصب کے دن کی قیمت لازم ہوگی ، لیکن آج کل غصب کے عام ہونے کی بناء پر ، اس جرم کے سدباب کے لیے اگر قاضی تعزیرا زمین کی موجودہ قیمت کا ضامن بنائے تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔

لما فی الھندیة:(2/168،رشیدیہ)
الاصل فی وجوب التعزیر ان کل من ارتکب منکرا او آذی مسلما بغیر حق بقولہ او بفعلہ یجب التعزیر
وفیہ ایضاً:(5/128،رشیدیہ)
الغاصب اذا استھلک المغصوب وھو من ذوات القیم کان الرای للقاضی ، فیقضی علیہ بما کان انظر للمغصوب منہ کذا فی فتاوی قاضیخان
وکذافی الفقہ الاسلامی:(6/4803،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختارمع التنویر:(6/183،سعید)
وکذافی درالمحتار:(6/183،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(8/217،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(4/79،المنار)
وکذافی الھندیة:(5/119،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:63

زید نے عمر سے کہا مجھے کنٹرول شیڈ میں استعمال ہونے والا پرزہ دلوادیں ، عمر نے دوکاندار سے بات کی ، دوکاندار نے کہا ہم ویسے تو 60000 روپے کا بیچتے ہیں ، آپ کو 50000روپے کا دیں گے ، عمر نے دوکاندار سے کہا کہ زید خریدنا چاہتا ہے دوکاندار نے کہا، اگر آپ کہیں تو آپ کے لیے ہم مارجن رکھتے ہیں ، عمر نے کہا رکھ لیں، زید آیا اس نے پرزہ دیکھا ، دوکاندار سے 55000 روپے میں معاملہ طے ہوگیا ، دوکاندار نے وہ پرزہ زید کو 55000 کا بیچ کر 50000اپنے پاس رکھے اور 5000عمر کو دیدیے ، جبکہ زید کو اس بات کا علم نہیں ہے، اب جواب طلب بات یہ ہے کہ عمر کے لیے 5000لینا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں دوکاندار کی یہ پیش کش (بکر کو بتلائے بغیر ) قبول کرکے ،عمر نے بکر کے ساتھ خیانت کی ہے کیونکہ جو رعایت عمر کا واسطہ بننے کے سبب بکر کو حاصل ہونا تھی ، وہ عمر نے خود حاصل کرلی ہے ، جس کی خبر ہونے پر بکر کے اعتماد کو یقیناً ٹھیس پہنچے گی، اس لیے عمر کے لیےیہ رقم لینا جائز نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة/آیة،29)
یاایھاالذین آمنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض بینکم
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
واکل مال الغیر بالباطل…..ان یاکل بالربا والقمار والبخس والظلم…..وکذالک ا لاکل عندغیرہ اللھم الا ان یکون المراد الاکل عندغیرہ بغیر اذنہ
وفی الموسعة الفقھیة:(31/220،علوم اسلامیہ)
یقع الغش فی المعاملات کثیرا بصورۃ التدلیس القولی ، کالکذب فی سعر المبیع
وکذافی تفسیر المنیر:(3/33،امیرحمزہ)
وکذافی السنن الکبری:(3/493،بیروت)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/365،رحمانیہ)
وکذافی السنن الکبری:(3/486،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:20

زید کی زمین ہے اور عمر نے اس کو غصب کرلیا ہے ، کیا شریعت میں صلح، مصلحت اور عدالتی کاروائی کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے ؟یعنی زید اپنی زمین زبردستی واپس لے سکتا ہے یا نہیں اور شریعت میں کسی قسم کی گنجائش ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرزید واقتا مظلوم ہے تو اپنا حق وصول کرنے کے لیے ، قانون کی خلاف ورزی اور فتنہ وفساد سے بچتے ہوئے،مناسب کوشش وکاوش کرسکتا ہے

لما فی القرآن الکریم:( سورة النساء /آیة،59)
یا ایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعو االرسول واولی الامر منکم فان تنازعتم فی شیئ فردوہ الی اللہ والرسول
وفی الفقہ الاسلا می:(6/4837،رشیدیہ)
اذا اعتدی انسان علی غیرہ فی نفس او مال اوعرض….. فللمتدی علیہ ….ان یرد العدوان بقدراللازم لدفع الاعتداء
وفی الھدایة:(3/371،رشیدیہ)
وعلی الغاصب رد العین المغصوبۃ معناہ مادام قائما لقولہ علیہ السلام علی الید ما اخذت حتی تردہ
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(2/298،قدیمی)
وکذافی تفسیر المنیر:(3/132،امیر حمزہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(11/49،بیروت)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/262،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2020/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:107

حجامہ کی اجرت لینا جائز ہے یا ناجائز؟احادیث میں دونوں طرح کی باتیں ملتی ہیں ۔تفصیلی راہنمائی فرمائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بخاری مسلم و دیگر کتب حدیث میں اکثر روایات حجامہ کی اجرت کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ، اگر چہ بعض روایات میں ممانعت بھی آئی ہے ، تاہم ممانعت والی روایات کا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ اجازت والی روایات کی وجہ سے ممانعت منسوخ ہوگئی ہے۔ اور دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ روایات زمانہ جاہلیت والے طریقے کے بارے میں ہیں جس میں منہ سے خون چوسنا پڑتا تھا ۔ آج کل چونکہ حجامہ کے لیے ایسے جدید آلات میسر آچکے ہیں جن کے ذریعے حجامہ کرنے سے کسی طرح کی نجاست میں تلوث کا اندیشہ نہیں ہوتا ، اس لیے اب حجامہ کی اجرت بلاکراہت جائز ہے ۔ اوراگر اس سے عمدہ کاروبار باآسانی میسر ہوسکے تو اس کو ترجیح دے کر اختلاف سے بچنا بہتر ہے ۔

لما فی الصحیح للبخاری:(1/401،رحمانیہ)
عن ابن عباس قال احتجم النبی صلی اللہ علیہ وسلم واعطی الحجام اجرہ ولوعلم کراہیۃ لم یعطہ
وفی الصحیح للمسلم:(2/22،قدیمی)
عن حمید قال سمعت انسا یقول دعا النبی صلی اللہ علیہ وسلم غلاما لنا حجاما فحجمہ فامر لہ بصاع او مد او مدین وکلم فیہ فخفف عن ضریبتہ
وکذافی الھدایة:(3/305،رشیدیہ)
وکذافی العنایة:(9/97،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(15/7،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/350،بیروت)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/534،دارالعلوم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:168

عمر زید کے پاس کوئی چیز لینے گیا ، لیکن وہ چیز زید کے پاس نہیں تھی ۔ زید نے کہا میں لاہور سے منگوادیتا ہوں پھر دونوں اتفاقاً (اپنے اپنے کام سے)لاہور گئے ۔ وہاں دوکاندارسے زید نے معاملہ طے کیا ،عمر نے صرف چیز کو پسند کیا ، چیز کی قیمت کچھ عمر نے اور کچھ زید نے ادا کی ، دوکاندار نے زید کو کہا : میں نے آپ کا نفع رکھ کر بیچا ہے، لیکن عمر کو اس کا علم نہیں، البتہ اتنی بات عمر بھی جانتا ہے کہ زید معروف بالاجرۃ ہے ۔ کیا زید کے لیے یہ رقم رکھنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زید کے لیے یہ رقم رکھنا جائز ہے ، کیونکہ یہ دوکاندار کی طرف سے تبرع ہے ۔ اورزید کے معروف بالاجرۃ ہونے کی وجہ سے ، عمر کو اس کا علم نہ ہونا کوئی مضر نہیں ہے ۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
والسمسار اسم لمن یعمل للغیر بالاجرۃ بیعاً وشراءً و مقصودہ من ایراد الحدیث بیان جواز ذالک
وفی رد المحتار:(6/48،سعید)
اجارۃ السمسار والمنادی……. تجوز لماکان للناس حاجۃ ویطیب الاجر الماخوذ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3326،رشیدیہ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(4/448،قدیمی)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/303،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیة:(15/136،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:86

جائز اور حلال کاروبار میں ہمارے ہاں تاجروں میں نفع کی کوئی حد متعین نہیں ہے،بعض زیادہ نفع لیتے ہیں بعض کم ،توشریعت میں اس کی کوئی حد متعین ہے ؟کہ کتنا نفع لے سکتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نفع کی کوئی حد تو شریعت نے متعین نہیں کی ،البتہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اور جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچتے ہوئےمناسب نفع لینا چاہیے جو خریداروں پر ظلم نہ بنے۔

لمافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیة)
عن أنس قال غلاالسعر علی عہد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فقالوا یا رسول اللہ سعّرلنا فقال ان اللہ ھوالمسعر القا بض الباسط الرزاق وانی لارجو ان القی ربی ولیس احد منکم یطلبنی بمظلمۃ فی دم ولا مال
وفی الصحیح لمسلم:(2/15،رحمانیة)
عن جابر قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم لایبیع حاضر لباد دعوالناس یرزق اللہ بعضہم من بعض غیر ان فی روایۃ یحیٰ یرزق
وفی الفقہ الاسلامی وادلته:(5/3307،رشیدیة)
أن الغبن الفاحش فی الد نیا ممنوع باجماع الشرائع ،أذ ھو من باب الخداع المحّرم شرعاًفی کل ملۃ،لکن الیسرمنہ الذی لا یمکن الاحتراز عنہ لأحد امر جائز،أذلو حکمنا بردہ ما نفذ بیع أبداً،لأنہ لا یخلو منہ بیع عادۃ ۔فأن کان الغبن کثیراًأمکن الأحتراز منہ،فوجب ردالبیع بہ ۔وقدر علماء المالکیۃ الغبن الکثیر بالثلث فأکثر؛لأنہ المشروع فی الوصیۃ وغیرہا ،فیکون الربح الطیب المبارک فیہ ما کان بقدر الثلث فأکثر
وفی الھدایة:(4/474،رحمانیة)
ولا ینبغی للسلطان ان یسعر علی الناس لقولہ علہ السلام لا تسعروفان اللہ ھو المسعر القابض الباسط الرازق ولان الثمن حق العاقد فالیہ تقدیرہ فلاینبغی للامام ان یتعرض لحقہ الا اذا تعلق بہ دفع ضررالعامہ
کذافی الفتاوی الھندیة:(3/161،رشیدیة)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1201،معارف القرآن)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/152،موسسة التاریخ)
وکذافی سنن إبی داؤد:(2/132،رحمانیة)
وکذافی سنن إبن ماجة:(276،رحمانیة)
وکذافی مجمع الزوائد:(4/124،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الفسیر المنیر:(3/33،امیرحمزة)
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:(5/568،دارالکتب العلمیة)
وکذافی البحر المحیط:(3/241،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:86

میں ایک کمپنی کاملازم ہوں اورکمپنی کی دوائی سیل کرتاہوں،اب میں اس کےساتھ اپناکاروبارکرناچاہتا ہوں،کمپنی جودوائی بناتی ہےاس پراس کی قیمت درج ہوتی ہے،مثلاً’’250‘‘روپے،جبکہ وہ دوائی’40‘یا’50‘روپےمیں تیارہوتی ہےاورمجھےاتنےہی کی ملتی ہے،اب میں کسی ڈسٹری بیوٹرکو٪10دےکراس کوسپلائی کرواتاہوں اورڈاکٹرحضرات سےاس دوائی کولکھنےکےلیےشرائط طےکی جاتی ہیں کہ آپ کواس پرکمیشن کی صورت میں 100روپےیا٪50 دیاجائےگا،یاکچھ اورشرائط طےکی جاتی ہیں تاکہ وہ صرف میری ہی دوائی لکھ کردے۔کیااس طرح کا کاروبارجائز ہے؟بہت سےلوگ یہ کام کررہےہیں،یااس کی کوئی صورت جودرست ہو،اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

دواءسازکمپنی کاڈاکٹرکوکمیشن دیناپھرڈاکٹرکااسی مخصوص کمپنی کی دواءمریض کولکھ کردینا،چندشرائط کےساتھ جائزہے۔(1) دواءسازکمپنی ڈاکٹرکودیےجانےوالےکمیشن کاخرچہ ادویات مہنگی کرکےمریض سےوصول نہ کرے۔(2) کمپنی کمیشن کی ادائیگی کاخرچہ وصول کرنےکےلیےادویات کےمعیارمیں کمی نہ کرے۔(3) محض کمیشن وصول کرنےکی خاطرڈاکٹرغیرمعیاری وغیرضروری اورمہنگی ادویات تجویز نہ کرے۔(4) کسی دوسری کمپنی کی دواءمریض کےلیےزیادہ مفیدسمجھنےکےباوجودخاص اس کمپنی ہی کی دواءتجویز نہ کرے۔(5) کمیشن فیصدکےاعتبارسےیامتعین رقم کی صورت میں طےہو۔
اگر ان شرائط کالحاظ نہیں کیاجاتاتوپھرکمپنی کاڈاکٹرکوکمیشن دینااورڈاکٹرکےلیےکمیشن وصول کرناجائزنہیں۔
(استفادہ از:جدیدمیڈیکل مسائل اور ان کاحل،
دارالافتاء:دارالعلوم کراچی،22،م:لدھیانوی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/8/1443/2022/3/15
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:183

ایسے اسلامی ممالک جن کی عدالتوں میں غیر اسلامی قانون رائج ہے،ان عدالتوں کے ججوں کو شرعی قاضی کہا جا سکتا ہے؟اگر کوئی تفصیل ہے تو راہنمائی فرمائیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

انہیں شرعی قاضی نہیں کہا جا سکتا ،شرعی قاضی ہونے کیلئے مکمل شرعی قانون کا ہونا ضروری ہے لیکن ان کے جو فیصلے شریعت کے مطابق ہوں گے وہ نافذ ہوں گے۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(3/307،رشیدیة)
حتی لو قلد الجاہل وقضی ہذا الجاہل بفتوی غیرہ یجوز۔۔۔۔۔۔لکن مع ہذا لا ینبغی ان یقلد الجاہل با الاحکام وکذالک العدالۃ عندنا لیست بشرط فی جواز التقلید لکنہا شرط الکمال فیجوز تقلید الفاسق وتنفذ قضایاہ اذا لم یجاوز فیہا حد الشرع لکن لا ینبغی ان یقلد الفاسق
وفی الدر المختار مع التنویروالرد:(8/31،رشیدیة)
وشرط اہلیتہا شرط اہلیتہ) فانّ کلا منہما من باب الولایۃ۔۔۔۔۔۔۔(والفاسق اہلہا[الشہادۃ] فیکون اہلہ[القضاء]لکنہ لا یقلد) وجوبا ویاثم مقلدہ کقابل شہادتہ بہ یفتی(وفی رد المحتار تحت قول التنویر:(والفاسق اہلہا)۔۔۔۔۔۔۔وافصح بہذہ الجملۃ دفعا لتوہم من قال:انّ الفاسق لیس باہل القضاء فلا یصح قضاءہ فانّہ لا یؤمن علیہ لفسقہ وہو قول الثلاثۃ واختارہ الطحاوی قال العینی وینبغی ان یفتی بہ فی ہذا الزمان.
اقول[العلامۃ الشامی]:لو اعتبر ہذا لانسد باب القضاء خصوصا فی زماننا فلذا کان ما جری علیہ المصنف ہو الاصح کما فی الخلاصہ وہو اصح الاقاویل کما فی العمادیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ والوجہ تنفیذ قضاء کل من ولّاہ سلطان ذو شوکۃ وان کان جاہلاً فاسقاً وہو ظاہر المذہب عندنا وحینئذ فیحکم بفتوی غیرہ
وکذا فی تقریرات الرافعی علی الردوالدر:(8/32،رشیدیة) وکذا فی الفقہ الحنفی:(3/131،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(12/145،دار احیاء) وکذا فی درر الحکام فی شرح مجلة الاحکام:(4/585،العربیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(4/5،حرمین شریفین) وکذافی الفتاوی السراجیة:(474،زمزم)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/439،رشیدیة) وکذا فی الفقہ الاسلامی:(8/6238،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:78