ہمارے علاقے میں کپاس کی فیکٹریاں ہیں،وہ لوگ کہتے ہیں کہ کپاس فیکٹری میں پہنچا دو اور ایک ماہ کے بعد آنا جو ریٹ اس دن کپاس کا ہوا وہ آپ کو دے دیں گے۔کیا اس طرح کپاس کی بیع درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بیع کا یہ طریقہ نا جائز ہے،کپاس کی سپردگی کے دن ہی قیمت متعین کرنا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(9/358،دار إۛحیاء)
وفی (الأصل):إذا قال لغیرہ:أخذت ہذا منک بمثل ما یبیع الناس فہو فاسد.ولو قال بمثل من أخذ بہ فلان من الثمن فإن علما مقدار ذالک وقت البیع فالبیع جائز وإن لم یعلما فالعقد فاسد
وفی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
ولو قال بعت ھذا العبد بقیمتہ فالبیع فاسد لأنہ جعل ثمنہ قیمتہ وإنھا تختلف باختلاف تقویم المقومین فکان الثمن مجہولاً
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(13/7،دار المعرفة) وکذا فی فتح القدیر:(6/241،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(3/342،قدیمی) وکذا فی رد المحتار:(7/64،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/3444،رشیدیة) وکذا فی البحر الرائق:(5/459،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(15/34،علوم إسلامیة) وکذا فی مجمع الأنھر:(3/12،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/04/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:136

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو اپنا وکیل بنائے تو کیا مؤکل خود بھی اپنا وہ کام کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی کر سکتا ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/4116،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔کأن یؤکل انسان غیرہ ببیع شیئ ثم یبیعہ المؤکل فتنتہی الوکالۃ بالاتفاق لأن العقد یصبح حینئذ غیر ذی موضوع فینعزل الوکیل وإن لم یعلم بالعزل
وفی بدائع الصنائع:(5/45،رشیدیة)
ومنہا أن یتصرف المؤکل بنفسہ فیما وکل بہ قبل تصرف الوکیل نحو ما إذا وکلہ ببیع عبدہ فباعہ المؤکل۔۔۔۔۔۔۔لأن الوکیل عجز عن التصرف لزوال ملک المؤکل فینتہی حکم الوکالۃ
وکذا فی فتح القدیر:(8/154،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقیة:(45/114،علوم اسلامیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/289،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(7/324،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/447،الطارق)
وکذا فی الہدایة:(3/290،البشری)
وکذا فی التاتارخانیة:(12/413،فاروقیة)
وکذا فی الدر المختار:(8/325،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:179

ایک آدمی نے کسی سے قرض لیا اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کر دی جس کی وجہ سے اب قرض خواہ نے قرض دار پر جرمانہ لگا دیا۔پوچھنا یہ ہے کہ قرض خواہ کا جرمانہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

سود ہونے کی وجہ سے نا جائز اور حرام ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وأما الذی یرجع الی نفس القرض فہو أن لا یکون فیہ جرّ منفعۃ فإن کان لم یجز۔۔۔۔۔۔۔ لأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربو لأنہا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربو وشبہۃ الربو واجب
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/3739،رشیدیة)
ویجری [الربو ا]یضاً فی القرض:بأن یقرض شخص آخر مبلغاً من المال علی أن یرد لہ زیادۃ معینۃ أو یجری التعارف بالزیادۃ أو یشترط علیہ دفع فائدۃ شہریّۃ أو سنویّۃ علی مبلغ القرض
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/517،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/519،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی :(10/351،ادارة القرآن)
وکذا فی التاتارخانیة:(9/391،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(33/130،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(33/128،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة:(7/413،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(7/413،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(22/50،علوم اسلامیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:177

ہمارے ہاں سپیئر پارٹس کا کام ہے،اس کام میں کمیشن چلتا ہے،وہ اس طرح کہ مستری گاہک کو لاتا ہے،سامان خرید کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اس میں سے چار پانچ سو روپے دے دیے جائیں کیونکہ میں گاہک کو لایا ہوں۔ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کے بغیر آپ کا کاروبار نہیں چلے گا۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو سیل بہت کم ہوتی ہےکیا ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ100 والی چیز کو150 میں بیچ کر اس منافع میں سے کچھ مستری کو دے دیں؟شریعت اس بارے میں کیا فرماتی ہے کہ اس گاہک سے زیادہ تو وصول نہ کروں،ہاں اپنے منافع میں سے کچھ اس مستری کو دے دوں،کیا ایسا کرنا میرےلیے جائز ہو گا؟میں نے یہ بھی سنا ہے کہ شریعت میں منافع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے،کیا یہ بات درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ دکاندار اپنے مناسب نفع میں سے مشتری کو نفع دیتا ہے تو یہ جائز ہے،اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے تو خریدار کے علم میں لائے بغیر یہ اضافہ خریدار کے ساتھ خیانت اور ظلم ہے،ہاں اگر خریدار کو یہ علم ہو جائے کہ مستری کمیشن پر کام کر رہا ہے تو چیز کی قیمت میں مناسب اضافہ جائز ہے۔
واضع رہے کہ شریعت نے نفع کی کوئی حد تو مقرر نہیں کی لیکن واضح لوٹ مار اور ظلم وزیادتی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔مزید یہ کہ کمیشن متعین ہونا ضروری ہے،خواہ فیصد کی شکل میں یا کسی متعین رقم کی صورت میں۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء:29)
“یآیہا الذین اٰمنوالا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلاأن تکون تجارۃ عن تراض منکم.”
وفی صحیح البخاری:(1/62،رحمانیة)
“عن أنس عن النبیﷺقال لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ.”
وکذا فی مشکوة المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہﷺ ألا لا تظلموا ألا لایحل مال إمرء إلا بطیب نفس منہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3326،رشیدیة)
السمسرۃ ہی الوساطۃ بین البائع والمشتری لإجراء البیع والسمسرۃ جائزۃ والاجر الذی یأخذہ السمسار حلال لأنّہ أجر علی عمل وجہد معقول
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/592،دار الکتب)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(،علوم اسلامیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1178،معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2021/02/13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:146

ایک آدمی نے کسی سے20,000 روپے قرض لیے اس شرط پر کہ جب میری جنس مثلاً گندم آئے گی تو اس وقت گندم کا ریٹ مثلاً 13,00 روپے ہوا تو آپ12,00 روپے کے حساب سے گندم لے لینا اور اپنے پیسے پورے کر لینا۔لیکن جب گندم کا موسم آیا تو پھر وہ آدمی گندم نہیں دے سکا۔کچھ ماہ کے بعد جب قرض لینے والا واپس پیسوں کی ادائیگی کرنے لگا تو وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے25,000 روپے دو جبکہ قرض20,000 روپے لیے تھے،5,000 روپے اوپر اس لیے کہ رہا ہے کہ آپ نے گندم نہیں دی تھی،اگر گندم دیتے تو مجھے زیادہ پیسے ملتے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے اضافی5,000 روپے لینا جائز ہے؟جبکہ اصل رقم20,000 روپے تھی؟اور اسی طرح اس شرط پر قرض لینا کہ آپ کو ادائیگی کسی جنس وغیرہ کی صورت میں کروں گا،تو اس طرح قرض لینا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

1

۔صورت مسئولہ میں،20,000 روپے نقد کے بدلے میں ادھار گندم خریدی گئی ہے۔اس میں گندم کی مقدار اور ریٹ متعین نہیں کیا گیا،اس لیے نا جائز ہے۔2۔20,000 پر5,000 روپے زائد واپس لینا سود ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔3۔پیسے قرض دیتے وقت واپس وصولی کے لیے اگر اس جنس کی قسم،ریٹ اور سپردگی کی مدت طے کر لیں تو یہ صورت جائز ہو جائے گی اور یہ پیسے اس جنس کی پیشگی قیمت شمار ہوں گے۔

لما فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وأما الذی یرجع الی نفس القرض فھو أن لا یکون فیہ جرّ منفعۃ فإن کان لم یجز.نحو ما أذا أقرضہ دراہم غلۃ علی أن یرد علیہ صحاحاً أو أقرضہ وشرط شرطاً لہ فیہ منفعۃ لما روی عن رسول اللہﷺأنہ نھی عن قرض جرّ نفعاً.ولأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربا لأنھا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب.ھذا إذا کانت الزیادۃ مشروطۃ فی القرض۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الموسوعة الفقہیة:(22/58،علوم اسلامیة)
وسمی[الربا النسیئۃ]الربا الجلی،قال ابن القیم:الجلی:ربی النسیئۃ۔۔۔۔۔۔۔مثل أن یؤخر دینہ ویزیدہ فی المال، وکلما أخرہ زادہ فی المال حتی تصیر المئۃ عندہ اٰلافاً مؤلفۃ
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(7/479،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(7/412،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/351،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/179،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/203،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/259،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الابحر:(3/141،المنار)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/358،ادار ة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/500،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2021/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:140

اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک کمپنی جو کہ مون ٹوورز اینڈ ٹریولز کے نام سے مشہور ہے۔تو پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا جس میں صرف نفع ہی ہو،نقصان نہ ہو(جیسا کہ آج کل کمپنیاں اکثر نفع ہی کماتی ہیں)تو ایسی صورت میں تجارت کرنا کمپنی کے ساتھ شرعا کیسا ہے؟اور اس کا کیا حکم ہے؟کمپنی کے ساتھ معاہدہ کی تفصیل درج ذیل ہے:مثلاً کمپنی یوں کہتی ہے کہ اگر آپ ایک لاکھ مثلاً انویسٹ کریں گے تو کمپنی آپ کو لگائے ہوئے سرمائے کا آٹھ سے تیرہ فیصد تک دے گی(باقی ،کمپنی نفع و نقصان کی بات نہیں کرتی،اس بارے میں خاموشی ہے اور کبھی نقصان ہوا بھی نہیں ہے جیسا کہ اوپر سوال میں درج ہے)

الجواب حامداًومصلیاً

پہلی بات یہ ہے کہ اگر اس کاروبار میں کمپنی نے بھی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے تو یہ پارٹنرشپ  یعنی“ شرکت ”ہے،اگر اس میں خدانخواستہ نقصان ہوا ،تو اصول یہ ہے کہ ہر پارٹنر کو اپنی انویسٹمنٹ کے اعتبار سے نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ اگر کمپنی نے انویسٹمنٹ نہیں کی بلکہ وہ صرف کاروبار کرے گی تو یہ“ مضاربت ”ہے اس میں اگر نقصان ہوا تو اصول یہ ہے کہ سارا نقصان انویسٹر کا ہو گا۔لیکن دونوں صورتوں میں اگر کمپنی کسی شرط اور معاہدے کے بغیر خود نقصان برداشت کرتی ہے تو یہ کمپنی کا احسان ہے اور شرکت و مضاربت کے کسی اصول کے خلاف بھی نہیں ہے،اس لیے یہ جائز ہے۔
دوسری بات یہ کہ انویسمنٹ پر طے شدہ رقم دینا جائز نہیں،بلکہ کمپنی کو ہونے والے حقیقی اور کل نفع کا فیصدی حصہ طے کرنا ضروری ہے؛مثلاً کل نفع کا آٹھ فیصد یا کم و بیش دیا جائے گا۔
تیسری بات یہ کہ کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین ہونا بھی ضروری ہے۔پس،جواز کی یہی ایک صورت ہے کہ کمپنی انویسٹمنٹ پر مقررہ رقم دینے کی بجائے ہونے والے کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین کرے؛مثلاً،کمپنی کل حقیقی نفع کاآٹھ فیصد یا کم و بیش دے گی۔

لما فی بدائع الصنائع:(5/77،رشیدیة)
أما الشرائط العامۃ فأنواع۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومنہا أن یکون الربح معلوم القدر فإن کان مجہولاً تفسد الشرط لأن الربح ہو المعقود علیہ وجہالتہ توجب فساد العقد۔۔۔۔۔۔۔۔ومنہا أن یکون الربح جزأ شائعاً فی الجملۃ لا معیناً
وفی کتاب الفقہ علی المذاہب الأربع:(3/35،حقانیة)
ویشترط لصحۃ المضاربۃ شروط: منہا أن یبین نصیب العامل من نصف أو ثلث أو نحوہما۔۔۔۔۔۔۔۔بأن یقال خذ المال مضاربۃ ولم یذکرنصیب العامل أو بینہ علی وجہ مبہم کأن قال لہ:خذہ ولک فی ربحہ جزء أو نصیب فإن المضاربۃ تکون فاسدۃً
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(2/319،رشیدیة)
وکذا فی شرح المجلة:(4/260،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/27،الطارق)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(8/502،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(3/44،حرمین شریفین)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/05/1443/2021/12/20
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:167

میں سونے چاندی کا کام کرتا ہوں اور میرے پاس سنار کام کرانے آتے ہیں اور میری دکان میں سونےا ور چاندی کے ذرات گرتے ہیں کام کرتے وقت؛پھر میں اپنی دکان کا گردو غبار،جھاڑ وغیرہ بیچتا ہوں اور پیسے خود رکھتا ہوں اور یہ چیز سناروں کے بھی علم میں ہے کیا میرے لیے وہ رقم جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی مشکوۃ المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ألا لا تظلمو،ألا لا یحل مال إمرإ إلا بطیب نفس منہ
وفی الفتاوی الہندیة:(3/227،رشیدیة)
ولیس ینبغی للصائغ أن یأکل من ثمن ما باع من تراب الصیاغۃ من قِبل أن ما فیہ متاع الناس إلا أن یکون قد زاد فی متاعھم حین أوفاھم بقدر ما سقط من مالہم فی التراب فإذا کان کذالک طاب لہ الأکل من ثمنہ
وکذا فی الدر المختار:(8/602،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/169،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(7/483،رشیدیة)
وکذا فی شرح العینی:(2/261،ادارۃ القران)
وکذا فی مجمع الانھرعلی ھامش ملتقی الابحر:(3/490،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(3/126،حرمین شریفین)
وکذا فی البنایة:(9/215،رشیدیة)
وکذا فی الھدایة:(3/288،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(9/33،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر :22

ایک سنیار دوسرےسنیار سے سونا،چاندی یاسونے،چاندی کے زیورات فروخت وغیرہ کے لیےقرض پر لے سکتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جی ہاں!لے سکتاہے۔

لمافی المو سوعة الفقھیة:(33/124،علوم اسلامیة)
وانہ لو استقرض شیئا من المکیلات والموزونات اوالمسکوکات من الذھب او الفضۃ فرخصت اسعار ھااو غلت فعلیہ مثلھااو لا عبرۃ برخصھاغلائھا۔۔۔۔۔۔الخ
وفی الہندیة:(3/202،رشیدیة)
“ویجوزاستقراض الذھب و الفضۃ وزناولایجوزعددا”
وکذافی التنویر:(5/162،سعید)
وکذافی الشامیة:(5/162،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(6/334،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3789،رشیدیة)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(299،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/349،دارالاحیاء)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،دارالاحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3-5-1443/8/12/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:192

ایک شخص دوسرے سے رہن لے کر قرض دیتا ہے ،مستقرض شئی مرھونہ کے استعمال کی اجازت دےدیتا ہے ،تو اس صورت میں رہن رکھی ہوئی چیز کو استعمال کرنا کیساہے؟اور شئی مرھونہ کی شرعی حیثیت رہن کی رہے گی یا تبدیل ہو جائے گی ؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

الجواب حامداومصلیا

اگر مرتہن کی جانب سے رہن کے استعمال کی شرط یا مطالبہ ہو یا رہن کا استعمال معروف ہو تو ناجائز اور حرام ہے ،لیکن اگر مرتہن کو کسی ضرورت کی وجہ سے مرھونہ شئ استعمال کرناپڑے توراہن کی دلی اجازت سے ایک آدھ بار استعمال کی گنجائش ہے ۔وہ چیز رہن ہی رہے گی ۔اگر ہلاک ہو گئی تو جتنی ہلاک ہوگی اس قدر قرض سے کمی ہو جائے گی اور استعمال کے دوران امانت ہوگی ،اگر بغیر تعدی کے ہلاک ہوگئی تو مرتہن کے ذمہ کچھ بھی نہ ہو گا۔

ولمافی الموسوعةالفقہیة:(23/184،علوم اسلامیة)
“وفی قول عندہم :لایجوز الانتفاع للمرتہن ولو باذن الراہن لانہ ربا وفی قول ان شرطہ فی العقد کان ربا والاجاز انتفاعہ باذن الراہن “
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(6/429،رشیدیة)
واذااذن الراھن للمرتہن فی الانتفاع بالمرھون جاز مطلقا عند بعض الحنفیۃ و منھم من منعہ مطلقا لانہ ربا او فیہ شبہۃ الربا و الاذن او الرضا لایحل الربا ولا شبھتہ ومنھم من فصل فقال ان شرط الانتفاع علی الراھن فی العقد فھو حرام لانہ ربا وان لم یشرط فی العقد فجائز لانہ تبرع من الراھن للمرتہن
وفی الشامیة:(5/310،ایم سعید )
قولہ یضمن بالتعدی )فلو رھن ثوبا یساوی عشرین درھما لعشرۃفلبسہ المرتھن باذن الراھن فانقص ستۃثم لبس بلا اذن فانتقص اربعۃ ثم ھلک وقیمتہ عشرۃ یر جع المرتھن علی الراھن بدرھم واحد من دینہ ویسقط تسعۃ لان الثو ب یو م الرھن کان نصفہ مضمونا بالدین و نصفہ اما نۃ وما انتقص بلبسہ بالاذن وھو ستۃ لایضمن وماانتقص بلا اذن وھو اربعۃیضمن ویصیر قصاصا بقدرہ من الدین ۔۔۔۔۔۔الخ
وکذافی مجمع الانہر :(4/273،المکتبةالمنار )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(5/42،الحرمین الشریفین )
وکذا فی التنویر مع الدر :(6/482،ایم سعید )
وکذافی الدرالمنتقی فی شرح الملتقی :(4/273،المنار)
وکذافی البحر الرائق :(8/439،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجدید :(4/453،الطارق)
وکذا فی الہدایہ مع فتح القدیر :(10/169،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:178

ایک شخص دوسرےسےکچھ رقم قرض لیتاہےاورادائیگی کےوقت رقم میں اضافہ کرکےدیتاہےقرض دینےوالااضافی رقم لینےسےانکارکرتا،لیکن وہ قبول کرنےپراصرارکرتاہےپھرقرض دینےالالےلیتاہے،تواس طرح اضافہ کر کے دینااورقبول کرناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگریہ زیادتی قرض میں مشروط نہ ہوبلکہ مقروض اپنی مکمل خوش دلی سے دیتاہےتوجائزہے۔

لمافی البدائع:(6 /518، رشیدیہ)
اذااقرضہ دراہم غلۃ علی ان یردعلیہ صحاحا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لان الزیادۃالمشروطۃتشبہ الربالانھافضل لایقابلہ عوض ، والحرز عن حقیقۃ الرباوعن شبہۃ الرباواجب،ھذااذاکانت الزیادۃمشروطۃ فی القرض،فامااذاکانت غیرمشروطۃ فیہ ،لکن المستقرض اعطاہ اجودھمافلابأس بذالک،لان الربااسم لزیادۃ مشروطۃ فی العقد،ولم توجد،بل ھذامن باب حسن القضاءوامرمندوب الیہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:( 5/3793،رشیدیہ)
قال الحنفیۃ فی الراجح عندہم:کل قرض جرنفعافھوحرام اذاکان مشروطا،فان لم یکن النفع مشروطااومتعارفاعلیہ فی القرض ،فلابأس بہ ۔۔۔۔۔۔۔۔وکذالک حکم الھدیۃ للمقرض ان کان بشرط کرہ ای:تحریما۔والافلا
وکذافی ردالمحتار:(7 /413،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4 /222،الطارق)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1 /420،رحمانیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:( 299،ایچ ،ایم)
وکذافی السنن ابی داوٗد:(2/120،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(33/125،علوم اسلامیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(9/391،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:57